Topics

عنوان مشیت کہیں ٹل سکتا ہے؟

 

عنوان مشیت کہیں ٹل سکتا ہے؟

تو لوح کی تحریر بدل سکتا ہے؟

استاد قلم نے لکھ دیا جو لکھا

کیا اسے خلاف بھی کوئی چل سکتا ہے

تشریح !            اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ لوح محفوظ میں ہر چیز لکھ دی گئی ہے، رسول اللہ ﷺ کا ارشاد عالی مقام ہے قلم لکھ کر خشک ہوگیا، اے انسان تو اپنی زندگی پر غور کر اگر تجھ سے پوچھا جاتا کہ تجھے کہاں پیدا کیا جائے؟ تو یہی چاہتا کہ تو کسی بادشاہ کا ولی عہد بنے، لیکن ایسا نہیں ہے۔ پیدائش کا معاملہ در دست اللہ احکم الحاکمین کا اپنا فیصلہ ہے، جہاں اللہ چاہتا ہے انسان وہیں پیدا ہوتا ہے، غریب کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ اللہ چاہے تو بادشاہ بن جاتا تا ہے، اور بادشاہ کے گھر میں پیدا ہونے والا بچہ بھکاری بن جاتا ہے، یہ جو ذات برادریاں غرور و تکبر سے معمور لوگوں نے بنا لی ہیں ۔ اس کا تعلق پیدائش سے نہیں ہے، جب اللہ کی طرف سے کسی سائل کو وسائل مل جاتے ہیں تو وہ کبر و نخوت  کا پیکر بن جاتے ہیں ۔ جب وسائل روٹھ جاتے ہیں تو انسان زمین پر ایڑیاں رگڑنے لگتا ہے۔ کبرونخو کے بڑے بڑے بت زمین بوس ہوجاتے ہیں۔کے بڑے بڑے بت زمیں بوس ہوجاتے ہیں۔

اللہ تعالی فرماتا ہے اور ہم نے جو قبیلے بنائے ہیں وہ اس لیے بنائے ہیں تاکہ تم ایک دوسرے کا تعارف حاصل کرو، اور اللہ کے نزدیک وہی لوگ صاحب عزت ہیں جنہوں نے تقوی اختیار کیا ہے، متقی کی تعریف اللہ تعالی یہ بیان کرتےہیں کہ متقی لوگ غیب کا مشاہدہ کرتے ہیں، یعنی غیب  کو دیکھتے ہیں ، متقی لوگ وہ ہیں جن کا اللہ کے ساتھ رابطہ قائم ہوتا ہے، جب وہ رکوع کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ہم اللہ کے سامنے جھکے ہوئے ہیں جب وہ سجدہ کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ ہم اللہ احکم الحاکمین کو سجدہ کر رہے ہیں وہ اپنے مال میں سے خرچ کرتے ہیں ، انہیں اس بات کا یقین ہوتا ہے ہم جو کچھ خرچ کرہے ہیں ،وہ اللہ کا دیا ہوا اس دنیا میں کوئی شے ہماری ملکیت نہیں ہے، وہ اللہ کی نشانیوں پر غور کرتے ہیں یقین ان کی راہنمائی کرتا ہے کہ زمین جس پر ہم چلتے پھرتے ہیں وہ ہماری ملکیت نہیں ہے، ملکیت اللہ کی ہے ہم خرید و فروخت میں لگے ہوتے ہیں۔جس پانی سے زمین سیراب ہوتی ہے ، اورجو پانی رس دار پھل بن جاتا ہے،  اور جو پانی پھول بن جاتا ہےاور پھول میں مہک بھر دیتا ہے، اور جوپانی ہماری زندگی میں نشو و نما کا باعث بنتا ہے، اس کی تخلیق  میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہے، یہ سب ہمارے اوپر اللہ کا انعام ہے، جو اللہ نے ہمیں مفت فراہم کیا ہے۔

عنوان مشیت یہ ہے  کہ جو اللہ تعالی  نے بنا دیا بن گیا ۔ جو اللہ  تعالی نے چاہا وہ ہو گیا، اللہ  جس کو چاہے عزت دے، جس کو چاہے ذلت دے، اللہ جس کو چاہے  ملک دے،                                    جس سے چاہے ملک چھین لے، اللہ کے قانون  کے نزدیک بڑائی صرف اسے زیب دیتی ہے جو اللہ کے احکامات کے تحت دئے ہوئے اختیارات کو صحیح طریقے پر استعمال کرتا ہے، لوح محفوظ میں  یہ قانون لکھ دیا گیا ہے کہ عمل خیر کا ایک ذرہ  ضائع نہیں ہوگا، اس کا اجر دیا جائے گا، اور عمل شر کا ایک ذرہ ضائع نہیں ہوگا اس کی سزا ہے۔ اللہ تعالی نے جو کچھ لکھ دیا ہے اسے کوئی بدل نہیں سکتا،  لیکن اللہ قادر مطلق ہے، وہ اپنے مقرب بندوں کی دعائیں سنتے ہیں ان کی دعاؤں کی قبولیت کے نتیجے میں اللہ  تعالی نے انسان کے لیے بڑی بڑی تبدیلیاں کردیتے ہیں۔[1]



[1] روحانی ڈائجسٹ: اپریل  2003

Topics


Sharah Rubaiyat

خواجہ شمس الدین عظیمی

ختمی مرتبت ، سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی  ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔

لوح و قلم اور رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ  و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی  سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار  ہوتے رہیں گے۔