Topics

وصال

 

 ۱۹۷۷ سے پیشتر حضور قلندر بابا اولیاء ؒ نے آٹھ ماہ تک چوبیس گھنٹے میں صیرف ایک پیالہ دودھ پر گزارا کیا، تین روز پہلے کھانا اور پینا بالکل چھوڑ دیا ، ایک ہفتہ پہلے ہی اس بات کا اعلان فرمادیا کہ اب میں زیادہ سے زیادہ ایک ہفتے کا مہمان ہوں، جس روز انتقال ہوا اس روز اپنے داماد محمد جمیل صاحب سے فرمایا کہ آج تم کہیں نہ جانا میرا کچھ پتہ  نہیں، وصال والی رات دس بجے ، خانوادہ سلسہ عظیمیہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیم صاحب کو طلب کیا، عظیمی صاحب بیان کرتے ہیں، کہ حضور قلندر بابا اولیاء ؒ وصال سے قبل مجھے مخاطب کرکے فرمایا تھا " خواجہ صاحب ! مشن کو پھیلانے والے لوگ دیوانے ہوتے ہیں" پھر مجھ سے فرمایا  آپ میری بات سمجھ گئے۔ میں نے عرض کیا " حضور میں آپ کی منشا اور آپ کی ہدایت کو سامنے رکھ کر سلسلے کی پیش رفت میں ان شاء اللہ دیوانہ وار کام کروں گا"، حضور خوش ہوئے اور میرے سر پر ہاتھ رکھا، پھر پیشانی پر انگلیوں کے پوروں سے دائرے بناتے رہے، اور پھونک مار کر فرمایا ،" اللہ تمہارا حامی و ناصر ہو"، رات ایک بج کر دس منٹ پر آپ اپنے خالق حقیقی کے حضور مسقل حاضری میں چلے گئے۔

حضرت عظیمی صاحب بیان کرتے ہیں کہ!

"آپ کی نماز جنازہ میں ہزاروں انسانوں کے علاوہ لاکھوں فرشتے بھی صف بستہ تھے۔سید الانبیاء سرور کونین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم، عاشق رسول حضرت اویس قرنی، سرتاج الاولیاء حضرت غوث اعظم اپنے معزز فرزند سعید کے استقبال کے لئے موجود تھے۔ حد نظر تک اولیاء اللہ کی ارواح کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر تھا۔"

Topics


Sharah Rubaiyat

خواجہ شمس الدین عظیمی

ختمی مرتبت ، سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی  ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔

لوح و قلم اور رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ  و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی  سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار  ہوتے رہیں گے۔