Topics
تجہیزو تکفین ۲۷ جنوری ۱۹۷۹ بہ مطابق ۲۷ صفر ۱۳۹۹
کفن آب زم زم میں ڈوبا ہوا بڑی پھوپھو جنڈو صاحبہ
تولیا احرام طاہر بھائی صاحب
سامان غسل شمشاد احمد صاحب
غسل بھائی علی اللہ
نماز جنازہ بعد عصر مسجد مولوی خلیل الرحمٰن صاحب
نے پڑھائی
قبر کی جگہ حاتم جیون جی ARCHITECT نے محل وقوع کا
انتخاب کیا
اندر کی اینٹیں جمیل صاحب
سلیب خواجہ
شمس الدین عظیمی
سیمنٹ علی اللہ صاحب
قبر کی لمبائی
سات فٹ اندر کی طرف 8
فٹ صندوق تعویذ
قبر کی چوڑائی چار فٹ اندر سے
قبر میں اتارا علی اللہ سراج اندر اتر شمشاد
خارج قادری وقار یوسف صاحب اوپر رہے
تلقین سرہانے
کی جانب خواجہ شمس الدین عظیمی
پائے مبارک کی جانب مولوی خلیل اللہ صاحب
لحد مبارک اس وقت مٹی جا رہی تھی اس وقت
مغرب کی اذان ہو رہی تھی۔
آپ کو آپ کی وصیت کے مطابق عظیمیہ ٹرسٹ فاؤنڈیشن
کے شمالی حصہ میں سپرد خاک کیا گیا۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
ختمی مرتبت ، سرور
کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ
عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی
ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم
تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں
آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور
شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے
دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔
لوح و قلم اور
رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ
و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس
سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار ہوتے رہیں گے۔