Topics
ممکن ہو تو پڑھ آج جبیں کی تحریر
معذور سمجھ واعظ ناداں
ہیں بادہ و جام سب مشیت کی لکیر
اپنی بعض رباعیات میں قلندر بابا اولیاءؒ
نے بڑے گہرے روحانی قوانین بیان
کیے ہیں، مندرجہ بالا رباعی کی تمثیلی
زبان میں وہ فرماتے ہیں کہ روز اول میں لوح محفوظ پر تمام مخلوقات کی تقدیر کا خاکہ
تیار کر لیا گیاتھا، اسی کا عکس
انسان کے ذہن پر پڑتا ہے، اور یہی عکس
انسا ن کے ماتھے کی لکیروں میں
نمایاں ہوجاتا ہے ، اسی عکس کی بدولت
انسان زندگی میں اس راستے کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، جس پر اسے چلنا ہوتا ہے۔
ہر کسے راہبر کارے ساختند
میل آن اندریش انداختند
یہ، اور بہت سارے راستے اکثر آپس میں
متصادم ہوجاتے ہیں اور ظاہر میں لوگوں کو شک میں مبتلا کر دیتے ہیں، لیکن ایک روحانی انسان جوقانون ازل سے آشنا
ہوتا ہے اسے اللہ تعالی ہی کی طرف سےسمجھتا ہے، اور اس مشاہدے سے اس کا ایما ن اور
بھی مستحکم ہوجاتا ہے، کیوں کہ یہ مشاہدہ
ازل کے ریکارڈ کی تصدیق کرتاہے۔[1]
مزید تشریح! حضور قلندر ؒ بابا کی رباعیات میں دوموضوع خاص طور پر نمایاں
ہیں۔۔۔۔اول تخلیق آدم میں مٹی کی معجز نمائی اور دوسرے بادہ وساغر کا تذکرہ، کہیں
کہیں یہ دونوں موضوع کچھ اس طرح گھل مل جاتے ہیں
کہ ایک دوسرے کا تتمہ اور لازمی نتیجہ ہیں، زیر نظر رباعی میں بادہ وجام کا ذکر ایک
منفردطرز فکر میں پیش کیا گیا ہے، یہ ایک اچھوتا اور نہایت دلنشیں انداز بیان ہے۔
فرماتے ہیں کہ روز ازل جب خالق کائنات نے ہر مخلوق کی تقدیر رقم کی اور ساتھ ہی اپنی خالقیت اور ربوبیت کا اقرار
لینے کے لیے ان سب ایک مرکز پر جمع کیا تو ہر ایک نے اس حقیقت کی گواہی دی، ساری
مخلوق گویا اس اقرار شہادت کے ذہنی طور پر فارغ ہوگئی، کہ روز حساب تو دور ہے
مگر "پردۂ الست" سے اٹھنے والی
تجلی شاعر (حضورقلندرباباؒ) کے قلب و نظر کو برما گئی۔
چشم ساقی سے نگہ اٹھی کہ اک موج شراب
خاک دل کا ذرہ ذرہ جام و مینا ہوگیا
روز ازل اسی تجلی کی عکس اندازی تھی کہ آج تک شاعر مئے الست سے سرشار ہے، اسی
کا نام مظاہراتی دنیا میں شغل بادہ ہ جام ہے، یہی رند خرابات کی تقدیر ہے، اور اسی شراب معرفت کے نور سے شاعر
کی جبین حیات روشن ہے، فی الحقیقت ، حضور
قلندر باباؒ کی حیات مبارک کی اسی تجلی ازل سے منور و معمور تھی جس کو آپ نے
شاعراہ طرز فکر میں لظیف اور اثر انگیز طریقہ پر پیس کیا ہے، مگر یہ تمام امور
وحقائق ظاہر بین نگاہوں سے پوشیدہ ہیں۔ جن
میں واعظ ناداں پیش پیش ہے، اسے کیا خبر کہ بادہ وجام کے خطوط میں مشیت کی کون سی
تحریر پوشیدہ ہے، حافظ شیرارزی نے اسی حقیقت کو شیخ "پاک دامن" کے سامنے معذرت خواہانہ
انداز میں پیش کیا ہے۔
حافظ نخود بپوشید ایں خرقۂ مے آلود
اے شیخ پاک دامن معذور دار مارا
حافظ نے یہ شراب میں ڈوبا خرقہ از خود نہیں پہن لیا ہے (یہ تو مشیت کا اشارہ
ہے) اےشیخ پاک دامن مجھے معذور سمجھ۔ مگر حضور قلندر بابا کے ہاں اس فعل بادہ و
جام میں والہانہ انبساط ہے۔ اس کو مشیت کا اشارہ کرکے ایک شان بے نیازی اور جذبۂ
امتنان بھی ہے۔[2]
خواجہ شمس الدین عظیمی
ختمی مرتبت ، سرور
کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ
عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی
ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم
تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں
آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور
شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے
دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔
لوح و قلم اور
رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ
و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس
سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار ہوتے رہیں گے۔