Topics
پتھر میں ہے اس دور کی زندہ تصویر
پتھر کے زمانے میں
جو انساں تھا عظیمؔ
وہ بھی تھا ہماری ہی
طرح کا دل گیر
مزید تشریح! پتھر کا زمانہ ہو یا ارتقائی منازل سے گزر
کر سائنسی دور ہو، وسائل کی کمی ہو یا
وسائل کی فراوانی آدم زاد ہر دور میں مصیبتوں اور پریشانیوں میں مبتلا رہتا ہے۔نہ
چاہتے ہوئے بھی غمناک زندگی اسے دیمک کی طرح
چاٹتی رہتی ہے۔ وہ زندہ رہنے کی تدبیریں کرتا ہے لیکن ہر ہر قدم زندگی اس
سے روٹھی رہتی ہے۔ وہ صحت مند رہنا چاہتا ہے مگر علالت و امراض کا طوفان اسے غر ق
کرنے پر بضد ہوتا ہے۔ وہ خوش رہنا چاہتا ہے لیکن اسے محسوس ہوتا ہے کہ ناخوشی اور
عدم تحفظ اس کا مقدر بن گیا ہے۔
آج کی یہ صورت حال
ماضی میں بھی تھی ، غاروں اور پہاڑوں میں کھدی
ہوئی انسانی تصاویر اور زندگی کے کردار اس کے شاہد ہیں ۔ قدیم ترین زمانے
میں بھی آدم زاد آج ہی کی طرح دل گیر تھا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدم زاد نے اس
حقیقت کو تلاش نہیں کیا جس کے اوپر ساری کائنات کی تعمیر کھڑی ہے اور وہ حقیقت ہے
ایک ماوراہستی کی ذات جو رنج و آلام سے ماورائی ہے۔ ماورائی اس نظام سے براہ راست متصل ہو جانے سے
انسان رنج و ملال لئے آزاد ہوسکتا ہے۔[1]
خواجہ شمس الدین عظیمی
ختمی مرتبت ، سرور
کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ
عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی
ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم
تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں
آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور
شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے
دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔
لوح و قلم اور
رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ
و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس
سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار ہوتے رہیں گے۔