Topics

مختصر سوانح حیات حضور قلندر بابا اولیاء

 

 تحریروتحقیق یاسر ذیشان عظیمی                                   

بحوالہ روحانی ڈائجسٹ قلندر بابا اولیا نمبر جنوری 2000  ٍٍٍ    ٍٍصفحہ  261 تا 272    

یہ تمام تواریخ انتہائی احتیاط سے مرتب کی گئی ہیں اور اس سلسلہ میں حتی المقدور کوشش کی گئی ہے کہ ان تواریخ سے متعلق باقاعدہ مکمل ریکارڈ بھی حاصل کیا جائے۔ لیکن کچھ اہم ریکارڈ کی عدم دست یابی کی بناء پر قریب ترین عرصہ کا اندراج کیا گیا ہے۔ لہذا یہ امر لازم ہے کہ کسی واقعہ سے متعلق تاریخ میں اختلاف ہو۔تاہم اس صورت میں یہ اختلاف معمولی اور قابل نظر انداز ہی ہوگا۔

۱۸۹۸                  ولادت:                  بمقام قصبہ  خورد ضلع بلندشہر صوبہ یوپی بھارت

۱۹۰۲                   ابتدائی تعلیم             قصبہ خواجہ کے مکتب میں داخلہ لیا

۱۹۱۲                   میٹرک                 ہائی اسکول بلند شہر سے کیا

۱۹۱۳                   انٹرمیڈیٹ             علی گڑھ یونیورسٹی میں داخلہ لیا

۱۹۱۳۔۱۴              ابتدائی تربیت            علی گڑھ قیام کے دوران دور اندیشی کی طرف میلان بڑھ گیا ۔زیادہ وقت قبرستان کے پاس مولانا کاہلی                                   کے حجرے میں گزارتے رات تشریف لے جاتے تو صبح سے واپس آتے۔

۱۹۱۵ سے ۱۹۱۴                                  تاج الاولیاء بابا تاج الدین ناگپوری کے پاس حاضری

۱۹۱۴ سے ۱۹۲۲                                 تاج الاولیاء بابا تاج الدین ناگپوری کے پاس 9 سال تک قیام

بابا تاج الدین نے روحانی تربیت فرمائی

۱۹۲۲ قبل از                والدہ کی وفات             زمانہ تربیت میں ہی حضور قلندر بابا اولیاء کی والدہ ماجدہ سعیدہ بی بی چار بیٹیوں اور دو بیٹوں کو چھوڑ کر عالم

 بقا میں چلی گئیں، ایک ہمیشرہ کے علاوہ سارے  بچے حضور قلندر بابا اولیاء سے چھوٹے تھے، کوئی بھی

 باشعور نہ تھا، آپ بہن بھائیوں کی تربیت کے لیے کمر بستہ ہو گئے۔

۲۴ -۱۹۲۳             شادی اور دہلی میں قیام    بابا تاج الدین کے ارشاد کے مطابق آپ کی شادی دہلی میں ان کے عقیدت مند کی صاحبزادی سے

ہوگئی، شادی کے بعد دہلی میں قیام پذیر ہو گئے۔

۱۹۲۵                  صحافت شاعری          دہلی میں قیام کے دوران  میں رسائل و جرائد کی صحافت اور شعرا کے دواوین کی اصلاح اور تربیت کا کام کرتے رہے۔دن کو صوفی منش لوگ آتے،  اور تصوف کی محفلیں  ہوتیں ،  جب کہ رات کو شاعر ادیب اور اہل ذوق حضرات آپ سے فیض یاب ہوتے۔

۱۷ اگست ۱۹۲۵                        تاج الاولیاء بابا تاج الدین ناگپوری وصال فرما گئے۔

۱۹۲۶                 ناگ پور  کو چھوڑ دیا     وصال سے قبل بابا تاج الدین نے فرمایا تھا کہ میرے بعد یہاں قیام نہ کرنا چناں چہ  نانا

صاحب کے وصال کے بعد ناگپور آ جانا ترک کر دیا۔

۱۹۳۶:            پہلی ملازمت         برطانوی ہندوستانی فوج میں ایک سال ملازمت کی

۱۹۳۷                برما روانگی           فوجی ملازمت کے دوران برما روانگی اور زخمی ہونے پر اسپتال داخل

 ۱۹۳۷             بڑے صاحبزادے   محترم آفتاب( مرحوم) کی ولادت ہوئی

۱۹۴۲              شاعری                 اگرچہ قیام دہلی سے شعراء کے دیوانوں کے اصلاح کیا کرتے تھے تاہم دستیاب ریکارڈ

کے مطابق 5 دسمبر 1942 کو" زار نزار" میں آپ کی غزل "میرا سفر رہی میرا کاشانہ

ہے"  شائع ہوئی۔

 

۴ جولائی۱۹۴۷       اعلان پاکستان        تقسیم سے قبل ہی بذریعہ خط اظہار خوشی اور مبارک باد

۱۹۴۷ :           پاکستان تشریف آوری                      مہاجرین کے ساتھ پاکستان آئے

۱۹۴۸ اوائل        ابتدائی رہائش       کراچی میں لی مارکیٹ کے محلہ عثمان آباد میں رہائش

۹۴۸ ابتدائی وسط    باقاعدہ روزگار کا آغاز پاکستان آکر روزگار کے سلسلہ میں کراچی کے لارنس روڈ کی فٹ پاتھ پر بجلی کے فیوز

لگانے کا کام کیا۔

 

۱۹۴۸  اختتام تا وسط ۱۹۵۱۱۹۴۸   باقاعدہ ملازمت کا آغاز ڈان اخبار میں دو سال تک ملازمت کی سب ایڈیٹر کے عہدے پر فائز ہوئے

۱۹۵۰              درون خانہ           بڑی صاحبزادی کی شادی کی جمیل صاحب سے ہوئی

۱۹۵۰             پیر اور مرشد کی پہلی ملاقات خواجہ شمس الدین عظیمی اور حضور قلندر بابا اولیاء کی پہلی ملاقات اردو ڈان

کے دفتر میں ہوئی حضور قلندر بابا اولیاء نے اس موقع پر آپ کو کھانے کے لیے پان دیا۔

 

۱۹۵۳              دوسری ملاقات      خواجہ شمس الدین عظیمی اور حضور قلندر بابا اولیاء کی دوسری اور اہم ترین ملاقات اس

ملاقات کے بارے میں خواجہ شمس الدین عظیمی فرماتے ہیں اور ہم دونوں ایک دوسرے کے ہو گئے

۱۹۵۴ قبل از        نظام تکوین؛           تکوینی نظام میں انتظامی ذمہ داری کا آغاز ہو چکا تھا

۱۹۵۴ وسط تک       تکوینی ملاقات        حضرت بو علی شاہ قلندر اور حضرت خواجہ معین الدین چشتی کی آمد اہم تک تکوینی ملاقات

۱۹۵۴              دوسری ملازمت     رسالہ نقاد میں کام

۱۹۵۶              باقاعدہ بیعت        حضرت ابو الفیض قلندر علی سہروردی کے ہاتھ پر

۱۹۵۶              تفصیلات بیعت      حضرت ابو الفیض قلندر علی سہروردی کے ہاتھ پر بیعت کی۔ حضرت ابو الفیض قلندر علی سہروردی نے ت سخت سردیوں میں گرانڈ ہوٹل کراچی میں رات تین بجے بلایا حضور قلندر بابا اولیاء رات ٹھیک دو بجے ہوٹل کی سیڑھیوں پر جا کر بیٹھ گئے ۔تین بجے حضرت ابو الفیض قلندر علی سہروردی نے دروازہ کھولا، اندر بلایا اور سامنے بٹھا کر حضور بابا صاحب کی پیشانی مبارک پر تین پھونکیں ماریں۔ پہلی پھونک  میں عالم ارواح منکشف ہوگی۔ا دوسری پھونک  میں عالم ملکوت و جبروت سامنے آگیا۔ تیسری پھونک میں حضور بابا صاحب نے  عرش معلیٰ کا مشاہدہ کیا۔اس کے بعد حضرت ابو الفیض علی قلندر علی سہروردی نے  قطب ارشاد کی تعلیمات تین ہفتوں میں پوری کرکے خلافت عطا فرمائی ۔

۱۹۵۷ قبل از          ناظم آباد میں  سکونت 1D  1/7ناظم آباد میں مستقل سکونت اختیار کرلی

۱۹۵۷              لوح و قلم             لوح و قلم کا مسودہ خواجہ شمس الدین سے لکھوانا شروع کیا۔

۱۹۵۸     دربار رسالت مآب      دربار رسالت مآب صلی اللہ وسلم میں حاضری کا آغاز ہو چکا تھا

 ۱۹۵۹             لوح و قلم           قلم کا مسودہ مکمل ہوگیا ۔

 ۱۹۵۹             نام کی مقبولیت       زبان خلق پر حضور بھائی صاحب کے نام سے مقبولیت حاصل کی

۱۹۶۰              خانوادہ             ۹ روحانی سلاسل کا خانوادہ بن کر مکمل ہو چکا تھا۔

 ۱۹۶۰   سلسلہ عالیہ عظیمیہ کا قیام         دربار رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے سلسلہ عظیمیہ کے قیام کی منظوری حاصل کی

۱۹۶۴    تکوینی مصروفیات              تکوینی نظام میں بہت زیادہ مصروفیات بڑھ گئیں۔

۱۴ اپریل ۱۹۶۴ء       بڑے صاحبزادے کی وفات آفتاب احمد گاڑی کے حادثے میں وفات ہو گئے گئے

۱۹۶۵ قبل از          خواجہ صاحب       خواجہ صاحب کے ہاں تشریف آوری کا آغاز ہو چکا تھا

۱۹۶۷ قبل از         خانوادہ             11روحانی سلاسل کا خانوادبننا مکمل ہوگیا

۱۹۷۰بعد از عظیمیہ  فاؤنڈیشن کا قیام        عظیمیہ  ٹرسٹ فاؤنڈیشن کا قیام آپ کی حیات میں ہی ہو چکا تھا

۱۹۷۷    بیماری کا آغاز                    آپ کی صحت خراب ہونا شروع ہوگئی

۱۹۷۸    بیماری میں اضافہ               بیماری نےطول  پکڑنا شروع کر دیا علاج معالجہ سے بھی فرق نہ پڑا

۱۹۷۸بعد از وسط  صحت کی شدیدکمزوری بیماری کے باعث صحت بہت کمزور ہو گئی حتی کہ زیادہ وقت لیٹے ہی رہتے آخری دنوں

                                      میں خرابی صحت کے باعث ہلنے بھی تک ہلنے میں بھی تکلیف پیش آنے لگی

یکم دسمبر ۱۹۷۸ روحانی ڈائجسٹ کا اجرا      روحانی ڈائجسٹ کا پہلا شمارہ آپ کی زیر سرپرستی میں چھپا.

۱۹۷۸    اللہ سے درخواست             جب بیماری سے بڑھ گئی اور کوئی علاج و معالجہ بھی کارگر ثابت نہ ہوا تو آپ کے قریبی عقیدت مند سراج صاحب نے آپ کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ اس بیماری کو روحانی قوتوں سے ختم فرمائیں۔

اس پر بابا صاحب نے فرمایا:

"میں نے اللہ تعالی سے درخواست کی تھی کہ اللہ تعالی نے مجھے یہ ہدایت کی ہے کہ میں عوام کی طرح دنیا میں رہوں،  اور عوام کی طرح علاج کراؤں اور عوام ہی کی طرح  نقل مکانی کروں۔"

یکم جنوری ۱۹۷۹  روحانی ڈائجسٹ روحانی ڈائجسٹ کا دوسرا شمارہ آپ کی زیر سرپرستی شفا اس کے بعد آپ کا وصال ہوگیا اور یوں آپ کی حیات میں ڈائجسٹ دو مرتبہ چھپا۔

۲۷ جنوری  ۱۹۷۹    روحانی ڈائجسٹ      روحانی ڈائجسٹ کا تیسرا شمارہ پر تیار ہو چکا تھا کہ حضور قلندر بابا اولیاء کے وصال کی خبر آگئی ڈائجسٹ وائی ہنگامی طور پر روک دی گئی اور یہ خبراندرون  ٹائٹل شائع ہوئی انا للہ وانا الیہ راجعون۔

۲۷ جنوری ۱۹۷۹ء     اخبارات  حضور قلندر بابا اولیاء کے وصال کی خبر روزنامہ جنگ روزنامہ جسارت اور روزنامہ ملت گجراتی نے  نمایاں طور پر شائع کی۔

۲۷ جنوری ۱۹۷۹ء   وصال     رات ایک بج کر دس منٹ بروز ہفتہ آپ اپنے  خالق حقیقی کے حضور حاضر ہوگئے،  اس وقت  ڈائجسٹ کا تیسرا شمارہ تیار ہو چکا تھا جسے ہنگامی حالت میں روک کر ٹائٹل پر آپ کے وصال کی خبر ان الفاظ میں شائع کی گئ:

آہ قلندر بابا اولیاءؒ!

واحسرتاہ کہ  آج دنیا وجود سرمدی سے خالی ہو گئی جس کے بارے میں اللہ تعالی کا ارشاد ہے میں اپنے بندوں کو دوست  رکھتا ہوں اور میں ان کے کان آنکھ اور زبان بن جاتا ہوں پھر وہ میرے ذریعے سنتے ہی میرے ذریعہ بولتے ہیں اور میرے ذریعہ چیزیں پکڑتے ہیں۔

Topics


Sharah Rubaiyat

خواجہ شمس الدین عظیمی

ختمی مرتبت ، سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی  ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔

لوح و قلم اور رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ  و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی  سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار  ہوتے رہیں گے۔