Topics

روحانی ورثہ تصنیفات:

                         

v     رباعیات قلندر بابا اولیاءؒ:          علم و عرفان کا سمندر

امور ہا ئے تصوف اور نظام کائنات کے متعلق شاعری کی تصنیف آپ کے وصال کے بعد شائع ہوئی۔

v     لوح  و قلم:                          اسرار و رموز کا خزانہ

لوح محفوظ اور کائنات سے متعلقہ قوانین پر مشتمل  یہ جامع تصنیف آپ کے وصال کے بعد شائع ہوئی۔

v     تذکرہ تاج الدین بابا: ماورائی علوم کا  بحر بے کراں

کشف و کرامات اور ماورائی علوم کی توجیہات پر یہ تصنیف آپ کی حیات میں ہی شائع ہوئی

v     قدرت کی اسپیس:     کائناتی فارمولوں کا ریکارڈ

آپ کی حیات میں پہلی بار گجراتی زبان میں شائع ہوئی بعد میں خالد نیاز نے اس کا اردو ترجمہ کیا ،یہ دوبارہ آپ کے وصال کے بعد جنوری ۱۹۹۲ء  میں اردو زبان میں شائع ہوئی، اس کی آمدنی مزار کے لیے وقف ہے۔

Topics


Sharah Rubaiyat

خواجہ شمس الدین عظیمی

ختمی مرتبت ، سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی  ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔

لوح و قلم اور رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ  و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی  سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار  ہوتے رہیں گے۔