Topics
حق یہ ہے کہ موت زندگی سے بہتر
البتہ عدم کے راز ہیں سربستہ
لیکن یہ کمی ہے ہر کمی سے بہتر
دنیا میں ہر وقت اللہ کے ایسے
بندے موجود رہتے ہیں جو شہود اور باطنی
نعمت سے مالا مال ہوتے ہیں، جب وہ دنیا
میں اکثریت کے طرز عمل کا تجزیہ کرتے ہیں تو انہیں یہ دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ
لوگ چند روزہ زندگی کو اصل زندگی سمجھے ہوئے ہیں ، لیکن جلد ہی اس کی وجہ بھی نظر
آجاتی ہے، اور وہ حضور قلندربابا اولیاء کی طرح پکار اٹھتے ہیں:
سچ تو یہ ہے کہ بے خودی خودی سے اور موت زندگی سے اعلی تر ہے، لیکن دنیا کے
باسیوں پر عدم کا یہ راز روشن نہیں ہے کہ اصل زندگی وہی ہے جو مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے۔ اس راز کا
پوشیدہ ہونا دنیا میں آدم کی دل چسپی قائم رکھنے کا سبب ہے،
اگر ہر شخص پر دنیا کی بے ثباتی روشن ہوجائے تو عارضی زندگی اور دنیا سے
کون جی لگائے۔ یہ اخفاء اللہ تعالی کی حکمت عملی کا زبردست جزو ہے۔[1]
مزید تشریح ! ایک پہچان یہ ہے کہ گوشت پوست کے بنے ہوئے ہیں اور ساری زندگی
گوشت پوست کے جسم کے مادی تقاضوں میں ردوبدل ہوتے رہتے ہیں۔ ہر ہر سانس پر اور ہر
ہر قدم پرہماری توانائیاں اس جسمانی نظام کو بنانے اور سنوارنے میں صرف ہوتی ہیں،
اور ہم بھول جاتے ہیں کہ جسمانی نظام خواہ آدمی کا ہو مکان ہویا دوسرے وسائل کا ہو،
ایک دن ختم ہوجاتا ہے۔
قلندربابااولیاءؒ فرماتے ہیں!
جسمانی ہستی )خودی( کی پہچان کے مقام میں حقیقی وجود
کو پہچاننا زیادہ بہتر ہے۔ حقیقی وجود ایک راز ہے، جب یہ راز ظاہر ہو جاتا ہے تو
عدم میں موجود وجود )خودی(
کا سراغ مل جاتا ہے۔ یہ راز ظاہر زندگی کا افضل ترین کارنامہ ہے۔قدرت بھی مادی وجود کو عدم )مرجاؤ مرنے سے پہلے( یعنی مرنے سے پہلے ، مرنے کے بعد کی زندگی دیکھ اس سے مانوس ہوجاؤ۔
حق یہ ہے کہ بے خودی خودی سے بہتر
حق یہ ہے کہ موت زندگی سے بہتر
البتہ عدم کے راز ہیں سربستہ
لیکن یہ کمی ہے ہر کمی سے بہتر
مزید تشریح! عرف عام میں جس کو
مرنا یا مردہ ہوجانا کہتے ہیں، اس کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ انسان مرنے کے
بعد اپنی صلاحیتیں کھو بیٹھتا ہے، حالانکہ ایسا
نہیں ہے، واقعہ یہ ہے کہ انسان کی وہ صلاحیتیں جن کی وجہ سے وہ اشرف
المخلوقات ہے، موت کی زندگی سے متعارف ہونے کے بعد متحرک ہوتی ہیں۔ موت باہر بھیانک ، لیکن باطن
میں اس قدر خوش نمااور حسین ہے اس کے ا وپر ہزار جانیں قربان کی جاسکتی ہیں، انسانی زندگی میں موت سے تعارف
ہی ایسا عمل ہے جسے حاصل زندگی قرار دیا جاسکتا ہے، مرنے کے بعد زندگی میں داخل ہوکر انسان زمان و
مکان کی قید وبند سے آزاد ہوکر تصور اور خیال کی رفتار سے سفر کرتا ہے، اس کو نہ
ہوائی جہاز کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ اسپیس شپ کی۔ انسانی زندگی یہ وصف جس کا نام
موت ہے سب کا سب غیب ہے۔ یہ وصف انسان کو زمانی اور مکانی قید سے آزاد کرکے ایسی
کیفیات سے روشناس کرتا ہے جہاں انسان کا ارادہ حکم کی حیثیت رکھتا ہے، اگر انسان
کی خواہش یہ ہے کہ وہ سیب کھائے تو اس کے لیے صر ف سیب کھانے کا ارادہ کرلینا ہی
سیب کی موجودگی کا باعث بن جاتا ہے، عالم قید وبند (دنیا) میں کوئی انسان وسائل کے پابندی کے بغیر سیب
نہیں کھا سکتا ۔
قلندر بابااولیاءؒ نے اس رباعی میں اسی نکتے کو بیان کیا ہے، نوع انسانی کی عادت ہے کہ وہ اکثریت کے تجربات کی روشنی میں فیصلہ کرتی ہے، اور جو اکثر یت کا فیصلہ ہوتا ہے وہی حق قرار دپاتا ہے، یہی معاملہ موت اور بے خودی کا بھی ہے، اکثریت موت کے عمل اور موت کے تذکرے سے خائف رہتی ہے، اور اس کو اپنی خودی یا انا کا خاتمہ تصور کرتی ہے، یہی معاملہ خودی اور بے خودی کا ہے، لیکن وہ لوگ جو اس زندگی میں رہتے ہوئے موت کے بعد کی زندگی میں سفر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ ہ زندگی آزاد اور خوشی سے معمور ہے، اگر مرنے سے پہلے موت کے بعد کیزندگی روشن ہوجائے تو کوئی شخص اس دنیا میں رہنا پسند نہیں کرے گا اور اس مادی دنیا پر ویرانی چھا جائے گی، اس لئےنوع انسانی موت کے بعد کی دنیا سے واقف ہونا نہیں چاہتی۔ اس ناواقفیت کو ایک خامی یا کمی کے باوجود ایسی کمی نہیں کہا جاسکتا جو زندگی میں بہت بڑی کمی ہے۔[2]
خواجہ شمس الدین عظیمی
ختمی مرتبت ، سرور
کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ
عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی
ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم
تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں
آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور
شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے
دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔
لوح و قلم اور
رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ
و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس
سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار ہوتے رہیں گے۔