Topics
جو کچھ کہ گزر گیا ہے اسے یاد نہ کر
دو چار نفس عمر ملی
ہے تجھ کو
دوچار نفس عمر کو
برباد نہ کر
مزید تشریح! دنیا
کی ہر چیز ایک ڈگر پر چل رہی ہے، نہ یہاں کوئی چیز اچھی ہے نہ بری ہے۔ ایک بات جو
کسی کے لیے خوشی کاباعث ہے، وہی دوسرے کے لیے پریشانی اور اضمحلال کا سبب بن جاتی ہے، یہ دنیا معانی اور مفہوم کی
دنیا ہے، جو جیسے معانی پہنا دیتا ہے اس کے اوپر ویسے اثرات مرتب ہوجاتے ہیں، پھر
کیوں دنیا کے جھمیلوں میں پڑ کر وقت کو برباد کیا جائے، یہ جو دو چار سانس کی زندگی ہے اسے ضائع نہ کر۔ ہر
بات کو اللہ تعالی کی طرف سے سمجھ۔ پروردگار عالم فرماتا ہے۔۔۔۔۔۔اور وہ لوگ جو
راسخ فی العلم ہیں کہتے ہیں کہ ہر چیز
ہمارے رب کی طرف سے ہے۔[1]
خواجہ شمس الدین عظیمی
ختمی مرتبت ، سرور
کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ
عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی
ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم
تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں
آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور
شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے
دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔
لوح و قلم اور
رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ
و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس
سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار ہوتے رہیں گے۔