Topics

آدم کا کوئی نقش نہیں ہے بیکار

 

اس خاک کی تخلیق میں جلوے ہیں ہزار

دستہ جو ہے کوزہ کو اٹھانے کے لیے

یہ ساعد سمیں سے بناتا ہے کمہار

مزید تشریح!        مٹی کی ہر مورت ایک جلوہ ہے، اس طرح جلوؤں کی الگ الگ ہزار صورتیں ہیں اور ہر ہر تصویر میں ایک نیاجلوہ ظاہر ہورہا ہے، محبوب کے پرگوشت خوب صورت پنڈلی کی زندگی میں داخل ہوکر مٹی بنی تو کمہار اس مٹی سے ساغر کا دستہ بنا دیا تاکہ مے خوار و اداس سیمیں بدن کے جلوؤں سے سرشار ہوتے رہیں۔[1]



[1]روحانی ڈائجسٹ: اکتوبر ۸۴

Topics


Sharah Rubaiyat

خواجہ شمس الدین عظیمی

ختمی مرتبت ، سرور کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی  ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔

لوح و قلم اور رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ  و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی  سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار  ہوتے رہیں گے۔