Topics
اس خاک کی تخلیق میں
جلوے ہیں ہزار
دستہ جو ہے کوزہ کو
اٹھانے کے لیے
یہ ساعد سمیں سے
بناتا ہے کمہار
تشریح! آدم کی تخلیق میں اللہ تعالی نے رنگا
رنگ روشنیاں بھر دی ہیں، اس خاک کی تخلیق میں اللہ تعالی کی صناعی کے ہزاروں جلوے
پنہاں ہیں، بظاہر یہ تخلیق مٹی (روحانیت کی زبان میں مٹی مطلب صرف مٹی نہیں بلکہ
یہ ایسا مظہر ہے جس میں تخلیقی فارمولے بر سرعمل ہیں اور رد وبدل ہوکر مختلف
تخلیقات کا روپ اختیار کرلیتےہیں) سے مرکب نظر آتی ہیں لیکن اس کے پس پردوہ جو
روشنیاں اور فارمولے کام کررہے ہیں وہ احسن تقویم کا مظہر ہیں۔ لیکن افسوس اس بات
کا ہے کہ آدم اپنے آپ سے بے خبر ہے، وہ خود کو نہیں جانتا۔ اگر وہ خود کو جان لے
، دیکھ لے تو اللہ تعالی کی صفت ربانیت کو پہچاننا بالکل آسان ہے۔ اس لیے کہ اس
کی تخلیق صفت ربانیت کا مظہر ہے۔ یہ رباعی حضور اکرم ﷺ کے فرمان "من عرف نفسہ فقد عرف ربہ" کی تشریح
ہے۔[1]
خواجہ شمس الدین عظیمی
ختمی مرتبت ، سرور
کائنات فخر موجودات صلی اللہ علیہ وسلم کے نور نظر ، حامل لدنی ، پیشوائے سلسۂ
عظیمیہ ابدال حق حضور قلندر بابا اولیاء ؒ کی
ذات بابرکات نوع انسانی کے لیے علم و عرفان کا ایک ایسا خزانہ ہے جب ہم
تفکر کرتے ہیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیا ں ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالی نے جہاں
آپ تخلیقی فارمولوں اور اسرار و رموز کے علم سے منور کیا ہے وہاں علوم و ادب اور
شعرو سخن سے بہرور کیا ہے۔ اسی طرح حضوور بابا جی ؒ کے رخ جمال (ظاہر و باطن) کے
دونوں پہلو روشن اور منور ہیں۔
لوح و قلم اور
رباعیات جیسی فصیح و بلیغ تحریریں اس بات کا زندہ
و جاوید ثبوت ہیں کہ حضور بابا قلندر بابا اولیاءؒ کی ذات گرامی سے شراب عرفانی ایک ایسا چشمہ پھوٹ نکلا ہے جس
سے رہروان سلوک تشنۂ توحیدی میں مست و بے خود ہونے کے لیے ہمیشہ سرشار ہوتے رہیں گے۔