Topics
میں ایک پتلا تھا۔ پتلے میں خلاء تھا۔ خلاء میں کل پرزے تھے۔ ہر کل دوسری کل سے جڑی ہوئی تھی اور ہر پرزہ دوسرے پرزے میں پیوست تھا اس طرح کہ کہیں بھی کوئی حرکت ہوتو سارے کل پرزے متحرک ہو جاتے تھے۔ کل پرزوں سے بنی مشین کو چلانے کے لئے پتلے میں چابی بھر دی گئی تو پتلا چلنے پھرنے لگا۔ چلنے پھرنے‘ اچھلنے کودنے اور محسوس کرنے کے عمل سے پتلے میں ’’میں‘‘ پیدا ہو گئی۔ ’’میں‘‘ جانتی ہے کہ چابی ختم ہو جائے گی۔ ’’میں‘‘ کا وجود عدم ہو جائے گا اور پتلا باقی رہ جائے گا۔
لوگ اس ’’میں‘‘ کو ایک فرد مانتے ہیں۔ ’’میں‘‘ کو ایک ہستی تسلیم کرتے ہیں……یہ بات ہے بھی سچی میں ایک فرد ہوں میری ایک ذات ہے۔
میری ذات‘میری انا‘ میری ہستی کیوں ہے۔ کوئی نہیں جانتا۔ ’’میں‘‘ بھی نہیں جانتی۔
جب میں خود کو فرد کے روپ میں دیکھتا ہوں تو ظاہر الوجود نظر آتا ہوں اور جب خود کو ہڈیوں‘پٹھوں اور کھال میں منڈھے ہوئے صندوق کے اندر تلاش کرتا ہوں تو مجھے اپنی ذات نظر نہیں آتی۔ البتہ باطن الوجود آنکھ دیکھتی ہے۔ عالم ایک نہیں‘ بے شمار عالمین ہیں اور ان عالمین میں لاکھوں کہکشائیں جھماکوں کے ساتھ قائم ہیں۔ لگتا ہے ساری کائنات Sparklingکا مسلسل اور متواتر عمل ہے‘ لیزر بیم سے لطیف روشنی کی کرن ہے جس سے اندرونی دنیا بندھی ہوئی ہے اور اس اندرونی دنیا میں وہ کچھ ہے‘ظاہر الوجود آنکھ جسے دیکھ نہیں سکتی۔ شعور ادراک نہیں کر سکتا۔ عقل کی وہاں تک رسائی نہیں۔
میری اصل باطن الوجود ہے اور ظاہر الوجود باطن الوجود کا عکس یا فوٹو اسٹیٹ کاپی ہے۔
میں اس وقت ’’میں‘‘ ہے جب زمین پر موجود ہوں لیکن تماشہ یہ ہے کہ زمین بھی ایک نہیں ہے یعنی زمین بھی ظاہر الوجود اور باطن الوجود کے غلاف میں بند ہے۔ زمین جب ظاہر الوجود ہے تو ٹھوس ہے اور زمین جب باطن الوجود ہے تو خلاء ہے۔ ظاہر الوجود زمین کشش ثقل ہے اور باطن الوجود روشنی ہے۔ زمین بھی عقل و شعور رکھتی ہے۔ نہ صرف عقل و شعور رکھتی ہے وہ ادراک بالحواس بھی ہے۔ زمین یہ جانتی ہے کہ انار کے درخت میں امرود نہیں لگیں گے اور امرود کے درخت میں انار نہیں لگے گا۔ وہ مٹھاس‘کھٹاس‘ تلخ اور شیریں سے بھی واقف ہے۔ اس کے علم میں یہ بات بھی ہے کہ کانٹے بھرے پودے میں پھول زیادہ حسیں لگتا ہے۔ کانٹوں سے بغیر پودے میں پھول کتنا ہی خوش رنگ ہو‘ پھول میں کتنے رنگوں کا امتزاج ہو لیکن پھول کی قیمت وہ نہیں ہو گی جو کانٹوں کے ساتھ لگے پھول میں ہوتی ہے۔ زمین اس بات کا بھی علم رکھتی ہے کہ اس کی کوکھ میں رنگ رنگ‘ قسم قسم بیجوں کی نشوونما ہوتی ہے۔ زمین جہاں بے شمار رنگوں سے مزین پھول پیدا کرتی ہے‘ تلخ و شیریں پھل اگاتی ہے‘ پرندوں‘چوپایوں کی تخلیق کرتی ہے وہاں اپنی حرکت کو متوازن رکھنے کے لئے پہاڑ بھی بناتی ہے لیکن یہ میلوں میل طویل اور آسمان سے باتیں کرتے بلند و بالا پہاڑ جب ظاہر الوجود زمین پر نظر آتے ہیں تو جمے ہوئے نظر آتے ہیں اور جب باطن الوجود پہاڑ دیکھے جاتے ہین تو اڑتے ہوئے بادل دکھائی دیتے ہیں۔
ظاہر الوجود پتلا نہیں تھا تب بھی زمین تھی۔ ظاہر الوجود پتلا نہیں ہو گا تب بھی زمین رہے گی۔ ظاہر الوجود پتلا ایک ذرہ تھا۔ ذرے میں دوسرا ذرہ شامل ہوا تو ایک سے دو ذرات ہوئے اور ذرات کی تعداد اتنی بڑھی کہ ایک وجود بن گیا۔
قلندر دو حروف جانتا ہے اور وہ دو حروف یہ ہیں۔
کوئی نہیں‘ کچھ نہیں……
دانشور‘ سائنسدان‘ علامہ‘مفتی‘مشائخ کہتے ہیں لفظ دو ہیں۔
نفی‘ اثبات……
قلندر کہتا ہے‘ اثبات نہیں‘ صرف نفی ہے اور نفی ہی مادے کی اصل ہے۔
آیئے! تجزیہ کریں تا کہ تجربہ مشاہدہ بن جائے۔ یہ سامنے مٹی کا ایک ڈھیلا رکھا ہوا ہے۔ اس کا وزن دو کلو ہے اس دو کلو وزنی ڈھیلے کو اس آدمی کی کمر پر مارا جائے تو چوٹ لگے گی۔
مٹی کے ڈھیلے کو کوٹ کر‘ پیش کر‘ آٹے کی طرح کر لیں۔
سوال یہ ہے کہ دو کلو وزن کدھر گیا۔ کیا اس پسے ہوئے ڈھیلے کے ذرات کو اگر کسی آدمی کی پشت پر مارا جائے تو چوٹ لگے گی؟
تجربہ شاہد ہے کہ چوٹ نہیں لگے گی۔ مشاہدہ یہ بھی ہے کہ مٹی کے ڈھیلے کو کتنا ہی پیس لیا جائے ذرات موجود رہیں گے اور کسی طریقے پر ان ذرات کو پھر ایک جگہ کر دیا جائے اور کسی آدمی کی پشت پر مارا جائے تو چوٹ لگے گی۔ حقیقت یہ منکشف ہوئی کہ بہت زیادہ ذرات کا ایک جگہ جمع ہو جانا ایک دوسرے کے ساتھ پیوست ہو جانا یا باہم دیگر ہم آغوش ہو جانا کشش ثقل یعنی اثبات ہے اور یہ ظاہر الوجود ہے……ظاہر الوجود تو ہے مگر ظاہر الوجود کی اصل یا بنیاد فنا ہے۔
قلندر جب فنائیت کا تذکرہ کرتا ہے تو وہ ظاہر الوجود کی نفی کرتا ہے۔ کیوں نفی کرتاہے اس لئے کہ اس کی نظر باطن الوجود کے علاوہ کچھ نہیں دیکھتی۔
علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا ہے۔
قلندر بجز دو حرف لا الہ کچھ نہیں رکھتا
فقیہہ شہر قارون ہے لغت ہائے حجاری کا
آج چھٹا روزہ ہے۔ فجر کی نماز کے بعد مراقبے میں دیکھا کہ روزہ دراصل ترک اور نفی ہے۔ یعنی ظاہر الوجود انسان باطن الوجود انسان کے لئے خود کو نفی کرتا ہے۔ جیسے جیسے نفی کا عمل آگے بڑھتا ہے ظاہر الوجود انسان باطن الوجود انسان میں داخل ہوتا رہتا ہے۔ جب کوئی انسان باطن الوجود بن جاتا ہے اور خود کو باطن الوجود دیکھ لیتا ہے تو مادی دنیا سے نکل کر نور کی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ وہ سراغ پا لیتا ہے۔ پتلا ظاہر الوجود ہے اور پتلے کے اندر چابی باطن الوجود ہے……چابی ہو گی تو پتلا حرکت کرے گا چابی نہیں ہو گی تو پتلا حرکت نہیں کرے گا۔
تیس دن تیس راتوں کے ترک سے انسان ایسے حواس میں داخل ہو جاتا ہے جن کی رفتار ظاہر الوجود کے حواس سے ساٹھ ہزار گنا زیادہ ہے۔ یہی وہ حواس ہیں جو غیب کی دنیا میں وسیلہ سفر بنتے ہیں۔ غیب کی دنیا کے مشاہدے کے بعد انسان کے اوپر کیف چھا جاتا ہے اور یہ سرور و کیف ہی تقریب عید ہے۔
مبارک کے مستحق ہیں وہ سعید بچے اور بزرگ جنہوں نے رمضان کے پروگرام ترک کو اپنایا، ظاہر الوجود حواس کی نفی کے لئے جدوجہد اور کوشش کی۔ اعتکاف کی برکتوں سے مستفیض ہوئے اور اپنے دلوں کو نورانی دنیا کے انوار سے منور کیا۔
اے
واعظو!
اے منبر نشینو!
اے قوم کے دانشورو!
برائے خدا سوتی
قوم کو جگاؤ اور بتاؤ کہ بے عمل قومیں غلام بن جاتی ہیں۔
٭ آدمی جب اپنی روح
کا عرفان حاصل کرلیتا ہے تواس کی رفتار کے آگے بجلی کی رفتار صفر ہو جاتی ہے۔
ہزاروں لاکھوں سال پہلے کی باتیں اس کے سامنے آ جاتی ہیں۔
٭ کوئی چیز براہ
راست ہم سے ہم رشتہ نہیں ہے بلکہ ہر رشتہ میں اللہ کی صفت کا عمل دخل ہے۔
٭ من سے دوستی کا
رشتہ مستحکم کرنے کے لئے ہمارا اِنر(Inner) ہمیں
راستہ دکھاتا ہے اور وہ راستہ یہ ہے کہ یہاں ہمارا کوئی دشمن ہے نہ کوئی دوست ہے۔
ہم خود ہی اپنے دوست ہیں اور خود ہی اپنے دشمن ہیں۔
٭ روح رہنمائی کرتی
ہے کہ ساری کائنات ایک ڈرامہ کی طرح ہے۔ کوئی باپ ہے کوئی ماں ہے کوئی بچہ ہے کوئی
دوست ہے کوئی دشمن ہے کوئی گنہگار ہے کوئی پاکباز ہے۔ دراصل یہ اسٹیج پر کام کرنے
والے کرداروں کے مختلف روپ ہیں۔ جب ڈراپ سین ہو جاتا ہے تو کوئی کچھ نہیں رہتا۔
٭ فتح کی آنکھ
دیکھتی ہے کہ اللہ کی ساری مخلوق ایک نقطہ میں بند ہے۔ جس طرح ٹھہرے ہوئے پانی میں
جھانکنے سے پانی کے اندر اپنی شکل نظر آتی ہے اسی طرح اس نقطہ کے اندر دیکھنے سے
کائنات کے سارے افراد فرشتے جنات انسان اور دوسری تخلیقات باہم دیگر جڑے ہوئے ملے
ہوئے اور ایک دوسرے کے ساتھ پیوست نظر آتے ہیں۔
٭ حقیقی مسرت سے ہم
آغوش ہونے کے لئے انسان کو سب سے پہلے یہ جاننا چاہئے کہ زندگی کا دارومدار صرف
جسم پر نہیں ہے بلکہ اس حقیقت پر ہے جس حقیقت نے خود اپنے لئے جسم کو لباس بنا لیا
ہے۔
٭ ہم جب یہ کہتے ہیں
کہ فلاں آدمی مر گیا تو دراصل کہنا یہ چاہتے ہیں کہ فلاں آدمی کا کردار فلاں
آدمی کی زندگی یا فلاں آدمی کی آواز ایک دستاویزی ریکارڈ بن گئی ہے۔
٭ جب تک آدمی کے
یقین میں یہ بات رہتی ہے کہ چیزوں کا موجود ہونا یا چیزوں کا عدم میں چلے جانا
اللہ کی طرف سے ہے اس وقت تک ذہن کی مرکزیت قائم رہتی ہے اور جب یہ یقین غیر
مستحکم ہو کر ٹوٹ جاتا ہے تو آدمی ایسے عقیدے اور ایسے وسوسوں میں گرفتار ہو جاتا
ہے جس کا نتیجہ ذہنی انتشار ہوتا ہے پریشانی ہوتی ہے غم اور خوف ہوتا ہے۔ ٹوٹ پھوٹ
کا شکار انسان روزانہ مرتا ہے اور روزانہ جینے کے بعد پھر مر جاتا ہے۔
٭ روح اور جسم کے
مشترک نظام سے جب کوئی بندہ واقف ہو جاتا ہے تو وہ خود کو خوش اور ایثار کے جذبہ
میں ڈوبا ہوا محسوس کرتا ہے۔ وہ ہر فرد کو اس نظر سے دیکھتا ہے جس نظر سے ماں اپنے
بچوں کو دیکھتی ہے۔
٭ سکون ایک حقیقت
ہے۔ ایسی حقیقت جس سے پوری کائنات بندھی ہوئی ہے۔ حقیقت فکشن نہیں ہوتی۔ اب دیکھنا
یہ ہے کہ بندے کے اندر وہ کون سی طاقت ہے جو ٹوٹ پھوٹ اور گھٹنے بڑھنے سے محفوظ
ہے۔ وہ طاقت ہر بندے کی‘ اس کی اپنی روح ہے۔ نسلی اعتبار سے اگر ہم اپنے بچوں کو
ان کے اندر موجود روح سے آشنا کر دیں تو وہ مذہب سے دور نہیں ہونگے۔
٭ اس رنگ و بو کی
دنیا کی ہر طرح ایک اور دنیا بھی ہے جو
مرنے کے بعد ہمارے اوپر روشن ہوتی ہے۔ ہم کتنے بدنصیب ہیں کہ ہم نے کبھی اس نادیدہ
دنیا کی طرف سفر نہیں کیا۔ اگر ہم اس دنیا سے روشناسی حاصل کر لیں تو اس بات کی
توقع کی جا سکتی ہے کہ ناشاد و نامراد زندگی کو مسرت و شادمانی میسر آ جائے گی۔
٭ یہاں ہر چیز لہروں
کے دوش پر رواں دواں ہے۔ یہ لہریں جہاں زندگی کو خوش آرام بناتی ہیں۔ مصیبت و
ابتلا میں بھی مبتلا کر دیتی ہیں۔ نور کے قلم سے نکلتی ہوئی ہر لکیر نور ہے اور
نور جب مظہر بنتا ہے تو روشنی بن جاتا ہے۔ روشنی کم ہو جائے تو اندھیرا ہو جاتا
ہے۔ آدم نے اس اندھیری دنیا میں قید ہونے کو سب کچھ سمجھ لیا ہے۔
٭ انسانی نگاہ کے
سامنے جتنے مناظر ہیں وہ شعور کی بنائی ہوئی مختلف تصویریں ہیں……اس لئے اس کے
مشاہدات و تجربات بھی مفروضہ ہیں۔ ایک چیز کے بارے میں مختلف لوگوں کی سینکڑوں
مختلف آراء ہوتی ہیں۔ حالانکہ حقیقت ایک اور صرف ایک ہوتی ہے……عام مشاہدہ ہے کہ
ہماری نگاہ کے سامنے مظاہر میں ہر وقت تغیر ہوتا رہتا ہے۔ آبادی ویرانہ میں اور
ویرانہ آبادی میں بدل جاتا ہے……
یہ متغیر دنیا کس
طرح حقیقی ہے؟
جب کہ حقیقت میں
تغیر نہیں ہوتا۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
خانوادہ سلسلہ عظیمیہ جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب ایک معروف صوفی بزرگ اور بین الاقوامی اسکالر ہیں ۔نوع انسانی کے اندربے چینی اوربے سکونی ختم کرنے انہیں سکون اورتحمل کی دولت سے بہرورکرنے ، روحانی اوراخلاقی اقدار کے فروغ لئے آپ کی کاوشیں ناقابل فراموش ہیں ۔آپ نے موجودہ دورکے شعوری ارتقاء کو سامنے رکھتے ہوئے روحانی وماورائی علوم اورتصوف کو جدید دورکے تقاضوں کے مطابق پیش کیا ۔آپ نے تصوف ، روحانیت ، پیراسائیکالوجی ،سیرت طیبہ ﷺ، اخلاقیات ، معاشرتی مسائل اورعلاج معالجہ سے متعلق 80 سے زائد نصابی اورغیر نصابی کتب اور80کتابچے تحریر فرمائے ہیں۔آپ کی 19کتب کے تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں جن میں انگریزی، عربی،روسی ، تھائی، فارسی،سندھی، پشتو،ہندی ، اسپینش اورملائی زبانیں شامل ہیں ۔ دنیا بھرمیں روحانی علوم کے متلاشی لاکھوں مداح آپ کی تحریروں سے گزشتہ نصف صدی سے استفادہ حاصل کررہے ہیں۔ عظیمی صاحب کا طرز تحریر بہت سادہ اوردل نشین ہے ۔ان کی تحریرکی سادگی اوربے ساختہ پن قاری کے دل پر اثر کرتاہے ۔
کتاب" قوس وقزح"روحانی وماورائی علوم پر تحریرکردہ آپ کے 14کتابچوں کا مجموعہ ہے ۔