Topics
سائنسی
تجربات سے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ نباتات و جمادات حیوانات اور انسانی زندگی ایک
برقی نظام کے تحت رواں دواں ہے۔ انسانی جسم سے حاصل ہونے والی بجلی کی طاقت ایک
ٹارچ یا جیبی ریڈیو چلانے کے لئے کافی ہے۔ تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ کسی درخت کے
پتے پر مکھی بیٹھ کر اس کے ریشوں کو حرکت دیتی ہے تو اس پتے میں برقی رو دوڑنے
لگتی ہے۔
تار پیڈو(Torpedo) مچھلی اپنی برقی قوت سے
انسان کو چونکا سکتی ہے۔ اپنی خوراک حاصل کرنے کے لئے ریت میں چھپ جاتی ہے اور جب
مچھلیاں پاس آتی ہیں تو اپنے اندر کام کرنے والی برقی رو سے انہیں بیہوش کر دیتی
ہے۔
افریقہ کے مشہور
سیاح کا بیان ہے کہ انہوں نے غصہ میں ایک نیگرو کو مارنا شروع کر دیا تو دیکھا کہ
جہاں جہاں کوڑا اس کے جسم پر لگا تو وہاں وہاں سے بجلی کے شرارے نکلے۔ یہ بھی ثابت
ہو چکا ہے کہ انسان کے جسم میں سوئی چبھونے اور گرم و سرد پانی میں بھگونے سے ایک ہلکی
برقی رو پیدا ہوتی ہے۔ معمولی آواز روشنی ذائقہ اور بو کے احساسات سے بھی انسانی
جسم میں برقی رو پیدا ہوتی ہے۔
قدرت کا یہ عجیب
سربستہ راز ہے کہ انسان کے اندر بجلی پیدا ہوتی رہتی ہے اور پورے جسم میں سے دوڑ
کر پیروں کے ذریعے ارتھ ہو جاتی ہے۔
نماز کے لئے وضو
کرنا ضروری ہے اس کی وجہ یہ یہ کہ جب کوئی بندہ وضو کی نیت کرتا ہے تو روشنیوں کا
بہاؤ ایک عام ڈگر سے ہٹ کر اپنی راہ تبدیل
کر لیتا ہے۔ وضو کرنے کے ساتھ ساتھ ہمارے اعضاء میں سے برقیے نکلتے رہتے ہیں اور
اس عمل سے اعضائے جسمانی کو ایک نئی طاقت اور قوت حاصل ہوتی ہے۔
جب ہم وضو کرنے کے
لئے ہاتھوں کو دھوتے ہیں تو انگلیوں کے پوروں میں سے نکلنے والی شعاعیں ایک ایسا
حلقہ بنا لیتی ہیں جس کے نتیجے میں ہمارے اندر دور کرنے والا برقی نظام تیز ہو
جاتا ہے اور برقی رو ایک حد تک ہاتھوں میں سمٹ آتی ہے۔ اس عمل سے ہاتھ خوبصورت ہو
جاتے ہیں۔ صحیح طریقہ پر وضو کرنے سے انگلیوں میں ایسی لچک پیدا ہو جاتی ہے جس سے
آدمی کے اندر تخلیقی صلاحیتوں کو کاغذ یا کینوس پر منتقل کرنے کی خفتہ صلاحیتیں
پیدا ہو جاتی ہیں۔
ہاتھ دھونے کے بعد
ہم کلی کرتے ہیں۔ کلی کرنے سے جہاں منہ کی صفائی ہوتی ہے وہاں دانتوں کی بیماریوں
سے نجات ملتی ہے۔ جبڑے مضبوط ہو جاتے ہیں اور دانتوں میں چمک دمک پیدا ہو جاتی ہے۔
قوت ذائقہ بڑھ جاتی ہے اور آدمی ٹانسلز کی بیماری سے محفوظ رہتا ہے۔
وضو کرتے وقت
حضورﷺ نے مسواک کی تاکید فرمائی ہے۔ آنحضرتﷺ کا ارشاد ہے کہ:
’’مسواک منہ کو صاف
اور بینائی کو تیز کرتی ہے۔ مسواک آدمی کے اندر فصاحت پیدا کرتی ہے۔‘‘
کلی کرنے کے بعد
ناک میں پانی ڈالا جاتا ہے۔ ناک انسانی جسم میں ایک نہایت اہم اور قابل توجہ عضو
ہے۔ ناک کی زبردست صلاحیت یہ ہے کہ آواز میں گہرائی اور سہانا پن پیدا کرتی
ہے۔ناک کے اندر پردے آواز کی خوبصورتی میں ایک مخصوص کردار ادا کرتے ہیں۔ کاسہ سر
کو روشنی فراہم کرتے ہیں۔ ناک کے خاص فرائض میں صفائی کے کام کو بڑا دخل ہے۔ یہ
پھیپھڑوں کے لئے ہوا کو صاف مرطوب گرم اور موزوں بناتی ہے۔ ہر آدمی کے اندر
روزانہ تقریباً پانچ سو مکعب فٹ ہوا ناک کے ذریعے داخل ہوتی ہے۔ ہوا کی اتنی بڑی
مقدار سے ایک بڑا کمرہ بھرا جا سکتا ہے۔ برف باری کے موسم میں منجمد اور خشک دن
آپ برف پوش میدان میں اسکیٹنگ (Skating) شروع
کردیں لیکن آپ کے پھیپھڑے خشک ہوا سے کوئی دلچسپی نہیں رکھتے۔ وہ اس کی ایک رمق
قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتے۔ انہیں اس وقت بھی ایسی ہوا کی ضرورت ہوتی ہے جو گرم
اور مرطوب فضا میں ملتی ہے یعنی وہ ہوا جس میں اسی فیصد رطوبت ہو اور جس کا درجہ
حرارت نوے درجہ فارن ہائیٹ سے زیادہ ہو۔
پھیپھڑے جراثیم سے
پاک‘ دھوئیں یا گرد و غبار اور آلودگیوں سے مصفا ہوا طلب کرتے ہیں۔ ایسی ہوا
فراہم کرنے والا معمولی ائیر کنڈیشنر(Air Conditioner) ایک
چھوٹے ٹرنک کے برابر ہوتا ہے لیکن ناک کے اندر نظام قدرت نے اس کو اتنا مختصر اور
مجتمع (Integrated) کر
دیا ہے کہ وہ صرف چند انچ لمبا ہے۔
ناک ہوا کو مرطوب
بنانے کے لئے تقریباً چوتھائی گیلن نمی روزانہ پیدا کرتی ہے۔ صفائی اور دوسرے سخت
کام نتھوں کے بال سر انجام دیتے ہیں۔ ناک کے اندر ایک خوردبینی جھاڑو ہے اس جھاڑو
کے اندر غیر مرئی روئیں ہوتے ہیں جو ہوا کے ذریعے معدہ کے اندر پہنچنے والے مضر جراثیم
کو ہلاک کر دیتے ہیں۔ جراثیم کو اپنے مشینی انداز میں پکڑنے کے علاوہ ان غیر مرئی
روؤ ں کے پاس ایک اور دفاعی ذریعہ ہے جسے انگریزی میں
Lysozlumکہتے ہیں۔ اس دفاعی ذریعہ سے ناک آنکھوں
کو Infectionسے
بچاتی ہے۔
جب کوئی نمازی وضو
کرتے وقت ناک کے اندر پانی ڈالتا ہے تو پانی کے اندر کام کرنے والی برقی رو ان غیر
مرئی روؤ ں کی کارکردگی کو تقویت پہنچاتی ہے جس کے نتیجے میں وہ بے شمار پیچیدہ
بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔
چہرہ دھونے میں یہ
حکمت پوشیدہ ہے کہ اس سے عضلات میں لچک اور چہرہ کی جلد میں نرمی اور لطافت پیدا
ہو جاتی ہے۔ گرد و غبار سے بند مسامات کھل جاتے ہیں چہرہ با رونق پر کشش اور بارعب
ہو جاتا ہے۔ دوران خون کم یا زیادہ ہو تو اس کے اندر اعتدال پیدا ہو جاتا ہے۔ منہ
دھوتے وقت جب پانی آنکھوں میں جاتا ہے تو اس سے آنکھوں کے عضلات کو تقویت پہنچتی
ہے ڈھیلے میں سفیدی اور پتلی میں چمک غالب آ جاتی ہے۔ وضو کرنے والے بندے کی
آنکھیں پرکشش خوبصورت اور پرخمار ہو جاتی ہیں۔ چہرہ پر تین بار ہاتھ پھیرنے سے
دماغ پر سکون ہو جاتا ہے۔
کہنیوں تک ہاتھ
دھونے میں یہ مصلحت پوشیدہ ہے کہ اس عمل سے آدمی کا تعلق براہ راست سینے کے اندر
ذخیرہ شدہ روشنیوں سے قائم ہو جاتا ہے اور روشنیوں کا ہجوم ایک بہاؤ کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ اس عمل سے ہاتھوں کے
عضلات مضبوط اور طاقت ور ہو جاتے ہیں۔
کاسہ سر کے اوپر
بال آدمی کے اندر انٹینا (Antenna)کا
کام کرتے ہیں۔ یہ بات ہر با شعور شخص جانتا ہے کہ آدمی اطلاعات کے ذخیرے کا نام
ہے۔ جب تک اسے کسی عمل کے بارے میں اطلاع نہ ملے وہ کوئی کام نہیں کر سکتا۔ مثلاً
کھانا ہم اس وقت کھاتے ہیں جب ہمیں بھوک لگتی ہے‘ پانی اس وقت پیتے ہیں جب ہمارے
اندر پیاس کا تقاضاہوتا ہے‘ سونے کے لئے بستر پر اس وقت لیٹتے ہیں جب ہمیں یہ
اطلاع ملتی ہے کہ اب ہمارے اعصاب کو آرام کی ضرورت ہے۔ خوشی کے جذبات و احساسات
ہمارے اوپر اس وقت مظہر بنتے ہیں جب ہمیں خوشی سے متعلق کوئی اطلاع فراہم کی جاتی
ہے۔ اسی طرح غیظ و غضب کی حالت کا انحصار بھی اطلاع پر ہے۔
اللہ تعالیٰ کا
ارشاد ہے ’’میں تمہاری رگ جان سے زیادہ قریب ہوں۔‘‘ یہ رگ جان (حبل الورید) سر اور
گردن کے درمیان میں واقع ہے۔ جس کا تعلق ریڑھ کے اندر حرام مغز اور تمام جسمانی
جوڑوں سے ہے۔ جب کوئی نمازی گردن کا مسح کرتا ہے تو ہاتھوں کے ذریعے برقی رو نکل
کر ریڑھ کی ہڈی کو اپنی گزرگاہ بناتے ہوئے جسم کے پورے اعصابی نظام میں پھیل جاتی
ہے جس کے ذریعے اعصابی نظام کو توانائی ملتی ہے۔
جیسا کہ ہم بتا
چکے ہیں کہ دماغ اطلاعات قبول کرتا ہے اور یہ اطلاعات لہروں کے ذریعے منتقل ہوتی
ہیں اطلاع کی ہر لہر ایک وجود رکھتی ہے۔ وجود کا مطلب متحرک رہنا ہے۔ قانون یہ ہے
کہ روشنی ہو یا پانی اس کے لئے بہاؤ ضروری
ہے اور بہاؤ کے لئے ضروری ہے کہ اس کا
کوئی مظہر بنے اور وہ خرچ ہو۔ جب کوئی بندہ پیر دھوتا ہے تو زائد روشنیوں کا ہجوم (Posion) پیروں کے ذریعے ارتھ(Earth) ہو جاتا ہے اور جسم
انسانی زہریلے مادوں سے محفوظ رہتا ہے۔
دماغ میں کھربوں
خلیے کام کرتے ہیں اور خلیوں میں برقی رو دوڑتی رہتی ہے۔ اس برقی رو کے ذریعے
خیالات شعور اور تحت الشعور سے گزرتے ہیں‘ اس سے بہت زیادہ لاشعور میں۔ دماغ میں
کھربوں خلیوں کی طرح کھربوں خانے بھی ہوتے ہیں۔ دماغ کا ایک خانہ وہ ہے جس میں
برقی رو فوٹو لیتی رہتی ہے اور تقسیم کرتی رہتی ہے۔ یہ فوٹو بہت ہی زیادہ تاریک
ہوتا ہے یا بہت زیادہ چمکدار۔ ایک دوسرا خانہ ہے جس میں کچھ اہم باتیں ہوتی ہیں ان
اہم باتوں میں وہ باتیں بھی ہوتی ہیں جن کو شعور نے نظر انداز کر دیا ہے اور جن کو
ہم روحانی صلاحیت کا نام دے سکتے ہیں۔ نمازی جب ہاتھ اٹھا کر سر کے دونوں طرف
کانوں کی جڑمیں انگوٹھے رکھ کر نیت باندھتا ہے تو ایک مخصوص برقی رو نہایت باریک
رگ کو اپنا کنڈنسر بنا کر دماغ میں لے جاتی ہے اور دماغ کے اندر اس خانے کے خلیوں(Cells) کو چارج کر دیتی ہے جس کو
شعور نے نظر انداز کر دیا تھا۔ یہ خلیے چارج ہوتے ہیں تو دماغ میں روشنی کا ایک
جھماکا ہوتا ہے اور اس جھماکے سے تمام اعصاب متاثر ہو کر اس خانے کی طرف متوجہ ہو
جاتے ہیں جس میں روحانی صلاحیتیں مخفی ہیں۔ ساتھ ہی ساتھ ہاتھ کے اندر ایک تیز
برقی رو دماغ میں سے منتقل ہو جاتی ہے جب کانوں سے ہاتھ ہٹا کر ناف کے اوپر اللہ
اکبر کہہ کر باندھے جاتے ہیں تو ہاتھوں کے کنڈنسر سے ناف(ذیلی جنریٹر) میں بجلی کا
ذخیرہ ہو جاتا ہے۔
خواتین نیت کے بعد
جب سینہ پر ہاتھ باندھتی ہیں تو دل کے اندر صحت بخش حرارت منتقل ہوتی ہے اور وہ
غدود نشوونما پاتے ہیں جن کے اوپر بچوں کی غذا کا انحصار ہے۔ نماز قائم کرنے والی
ماؤ ں کے دودھ میں یہ تاثیر پیدا ہو جاتی ہے کہ بچوں کے اندر براہ راست انوار کا
ذخیرہ ہوتا رہتا ہے جس سے ان کے اندر ایسا پیٹرن(Pattern)
بن جاتا ہے جو بچوں کے شعور کو خوش رہنے کی عادت ڈالتی
ہے۔ نمازی ماؤ ں کے بچوں کے اندر گہرائی میں تفکر کرنے اور لطیف سے لطیف تر معانی
پہنانے اور سمجھ بوجھ کی صلاحیتیں روشن ہو جاتی ہیں۔
نمازی جب رکوع میں
جھکتا ہے تو حسیں(Senses) بنانے
کا فارمولا الٹ جاتا ہے یعنی حواس براہ راست دماغ کے اندر رخ کے تابع ہو جاتے ہیں
اور دماغ یک سو ہو کر ایک نقطہ پر اپنی لہریں منعکس کرنا شروع کر دیتا ہے۔ رکوع کے
بعد جب نمازی قیام کرتا ہے تو دماغ کے اندر کی روشنیاں دوبارہ پورے اعصاب میں
تقسیم ہو جاتی ہیں جس سے انسان سراپا نور بن جاتا ہے۔
رکوع میں اس قدر
جھکیں کہ سر اور ریڑھ کی ہڈی متوازی رہے‘ نگاہیں پیر کے انگوٹھوں کے ناخن پر مرکوز
رہیں‘ ہاتھ دونوں گھٹنوں پر اس طرح رکھیں کہ ٹانگوں میں تناؤ رہے۔ سبحان ربی العظیم تین بار‘ پانچ بار یا سات
بار کہہ کر اس طرح کھڑے ہوں جیسے کوئی فوجی اٹینشن(Attention)
ہوتا ہے۔
رکوع میں نمازی
ہاتھ کی انگلیوں سے جب گھٹنوں کو پکڑتا ہے تو ہتھیلیوں اور انگلیوں کے اندر کام
کرنے والی بجلی گھنٹوں میں جذب ہو جاتی ہے جس کی وجہ سے گھٹنوں کے اندر صحت مند
لعاب برقرار رہتا ہے اور ایسے لوگ گھٹنوں اور جوڑوں کے درد سے محفوظ رہتے ہیں۔
روشنی ایک لاکھ
چھیاسی ہزار دو سو بیاسی(۲۸۲‘۸۶‘۱)
میل فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرتی ہے اور زمین کے گرد
ایک سیکنڈ میں آٹھ دفعہ گھوم جاتی ہے۔ جب نمازی سجدہ کی حالت میں زمین پر سر
رکھتا ہے تو اس کے دماغ کے اندر کی روشنیوں کا تعلق زمین سے مل جاتا ہے اور ذہن کی
رفتار ایک لاکھ چھیاسی ہزار دو سو بیاسی میل فی سیکنڈ ہو جاتی ہے۔ دوسری صورت یہ
واقع ہوتی ہے کہ دماغ کے اندر زائد خیالات پیدا کرنے والی بجلی براہ راست زمین میں
جذب(earth) ہو
جاتی ہے اور بندہ لاشعوری طور پر کشش ثقل
(Gravity) سے آزاد ہو جاتا ہے اور اس کا براہ راست
تعلق خالق کائنات سے ہو جاتا ہے۔ روحانی قوتیں اس حد تک بحال ہو جاتی ہیں کہ
آنکھوں کے سامنے سے پردہ ہٹ کر اس کے سامنے غیب کی دنیاآجاتی ہے۔
جب نمازی فضا اور
ہوا کے اندر سے روشنیاں لیتا ہوا سر ناک گھٹنوں ہاتھوں اور پیروں کی بیس انگلیاں
قبلہ رخ زمین سے ملا دیتا ہے یعنی سجدے میں چلا جاتا ہے تو جسم اعلیٰ کا خون دماغ
میں آ جاتا ہے اور دماغ کو تغذیہ فراہم کرتا ہے۔ کیمیائی تبدیلیاں پیدا ہو کر
انتقال خیال (Telepathy) کی
صلاحیتیں اجاگر ہو جاتی ہیں۔
نبی کریمﷺ کا
ارشاد گرامی ہے:
’’تم میں سے جس شخص
کو دعا مانگنے کی توفیق مل گئی تو یوں سمجھو گویا اس کے اوپر رحمت کے دروازے کھل
گئے۔‘‘
’’دعا کے سوا کوئی
چیز تقدیر کے فیصلے میں ترمیم نہیں کراسکتی اور نیکی کے سوا کوئی چیز عمر کو نہیں
بڑھاتی۔‘‘
’’دعا عبادت کا مغز
ہے‘ مومن کا ہتھیار ہے‘ دین کا ستون ہے اور آسمان و زمین کا نور ہے۔‘‘
نماز کے بعد دعا
کرتے وقت اس بات کا مراقبہ(تصور قائم) کریں کہ میں عرش کے نیچے اپنے خالق کے آگے
ہاتھ پھیلائے ہوئے ہوں جو اتنا بڑا اور عظیم ہے کہ اگر اس سے روزانہ ایک لاکھ
خواہشیں بھی کی جائیں تو وہ انہیں پوری کرنے پر قدرت رکھتا ہے۔ دعاؤ ں کو بار بار
دہرانے سے دل میں گداز پیدا ہوتا ہے‘ ایسا گداز جو آنکھوں کے راستے بہہ نکلتا ہے
اور اللہ رب العزت کو اپنے بندوں کے آنسو بہت عزیز ہیں۔
خواجہ شمس الدین عظیمی
خانوادہ سلسلہ عظیمیہ جناب خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب ایک معروف صوفی بزرگ اور بین الاقوامی اسکالر ہیں ۔نوع انسانی کے اندربے چینی اوربے سکونی ختم کرنے انہیں سکون اورتحمل کی دولت سے بہرورکرنے ، روحانی اوراخلاقی اقدار کے فروغ لئے آپ کی کاوشیں ناقابل فراموش ہیں ۔آپ نے موجودہ دورکے شعوری ارتقاء کو سامنے رکھتے ہوئے روحانی وماورائی علوم اورتصوف کو جدید دورکے تقاضوں کے مطابق پیش کیا ۔آپ نے تصوف ، روحانیت ، پیراسائیکالوجی ،سیرت طیبہ ﷺ، اخلاقیات ، معاشرتی مسائل اورعلاج معالجہ سے متعلق 80 سے زائد نصابی اورغیر نصابی کتب اور80کتابچے تحریر فرمائے ہیں۔آپ کی 19کتب کے تراجم دنیا کی مختلف زبانوں میں شائع ہوچکے ہیں جن میں انگریزی، عربی،روسی ، تھائی، فارسی،سندھی، پشتو،ہندی ، اسپینش اورملائی زبانیں شامل ہیں ۔ دنیا بھرمیں روحانی علوم کے متلاشی لاکھوں مداح آپ کی تحریروں سے گزشتہ نصف صدی سے استفادہ حاصل کررہے ہیں۔ عظیمی صاحب کا طرز تحریر بہت سادہ اوردل نشین ہے ۔ان کی تحریرکی سادگی اوربے ساختہ پن قاری کے دل پر اثر کرتاہے ۔
کتاب" قوس وقزح"روحانی وماورائی علوم پر تحریرکردہ آپ کے 14کتابچوں کا مجموعہ ہے ۔