Topics

جان نثار دوست۔ایک درخت

درخت نے کہا۔

میں جنگل میں اپنے بھائی درختوں کے ساتھ رہتا تھا۔ جنگل میں پیدا ہوا اور جنگل میں جوان ہو گیا۔ جوان ہونے کے بعد میری نسل کا سلسلہ شروع ہوا۔ آدمی کی نسل تو ایک ایک کر کے پھیلتی ہے مگر میری نسل ایک وقت میں ہزاروں ہوتی ہے۔

آدمی کے اندر ریڑھ کی ہڈی دراصل تنے کی طرح ہے۔ اور تنا درخت میں ریڑھ کی ہڈی ہے۔ جوانی میں جب تناور درخت بنا تو سینکڑوں شاخوں پر لاکھوں پتے نکل آئے۔ جیسے انسانوں کے چہرے اور جسم پر بال نکلتے ہیں۔ شاخوں پر پھل آ گئے، پھل لگ گئے تو چڑیوں کیلئے راشن کا بندوبست ہو گیا۔ نہیں معلوم کہاں کہاں سے پرندے آتے اور میرے دسترخوان پر سے خوب سیر ہو کر کھاتے اور اڑ جاتے تھے۔

ایک دن من موہنی چھوٹی سی چڑیا آئی۔ اس نے خوب پیٹ بھر کر گولر کھائے اور پھر سے اُڑ گئی۔ ہوا میں اُڑتی رہی اور دور جا کر اسے آدمی کی طرح رفع حاجت کی ضرورت پیش آئی۔ اس کی بیٹ (پوٹی) جب زمین پر گری تو اس میں گولر کا بیج تھا۔ زمین نے گولر کے بیج کو اپنی گود میں سمیٹ لیا۔

زمین کی گود میں حرارت و برودت (گرمی اور سردی) سے بیج میں ایک نئی زندگی دوڑ گئی اور بالکل اسی طرح جس طرح آدمی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے، میں نے بھی زمین کی کوکھ سے جنم لیا لیکن فرق یہ تھا کہ آدمی کی ماں اپنے بچے کو سردی، گرمی، بھوک پیاس سے محفوظ رکھتی ہے مگر میری ماں کے پاس سردی گرمی سے بچاؤ کیلئے کپڑے نہیں تھے۔ بھوک پیاس رفع کرنے کیلئے دودھ نہیں تھا۔

مجھے بھوک پیاس کا تقاضا پورا کرنے اور سردی گرمی سے حفاظت کیلئے خود ہی انتظام کرنا تھا۔ میں نے یہ بات جان لی تھی کہ درخت کی ماں صرف بیج پیدا کرنے تک ماں ہوتی ہے۔ پیدائش کے مراحل سے گزر کر درخت کو خود اپنے ایک پیر پر کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ میں نے مردانہ وار نہیں درختانہ وار بارش، آندھی، طوفان کا مقابلہ کیا اور ایک درخت بن گیا۔ جس کے نیچے ایک دو دس بیس نہیں پچاس آدمی دھوپ کی تمازت سے بچنے کیلئے میرے سائے میں ٹھہرتے تھے اور آرام کرتے تھے۔

میں خوش تھا کہ میں اس حیثیت سے آدمیوں میں افضل ہوں کہ کوئی درخت کسی آدمی کے سائے میں نہیں رہتا۔ میں نے ابھی جوانی کی پوری بہاریں بھی نہ دیکھی تھیں کہ ایک دن مکروہ شکل آدمی آیا اور بغیر قصور کے پے در پے میرے اوپر کلہاڑی کے وار کئے، میں بہت رویا اور چیخا۔

میں نے کہا:

’’اے میرے دوستآدمی! میں نے آندھیوں اور طوفان کا مقابلہ کر کے خود کو اس قابل بنایا ہے کہ تو اور تیری اولاد، میرے سائے میں رہے اور تو میرے خون (جسے تو پانی کے برابر بھی نہیں سمجھتا) سے بنے ہوئے پھل کھائے اور ان کے رس سے اپنی توانائی میں اضافہ کرے۔‘‘

لیکن اس ظالم آدمی نے میری کسی التجا پر کان نہیں دھرا، میری کوئی بات نہیں سنی۔ میرے اندر کلہاڑی سے پڑنے والے گھاؤ میں سے رسنے والے خون سے وہ اتنا بھی متاثر نہیں ہوا کہ اس کی آنکھ سے ایک آنسو ہی ٹپک جائے۔

وہ دیوانہ وار میرے وجود کو تیز دھار کلہاڑی سے زخمی کرتا رہا۔ یہاں تک کہ میں روتا بلکتا زمین پر گر گیا۔ آدم زاد نے اس پر بھی بس نہیں کی میری بڑی بڑی شاخوں کو جو میرے جسم میں ہڈیوں کے قائم مقام تھیں اس آدمی نے الگ الگ کر کے چولہے میں جھونک دیا اور مجھے جلا کر خاک کر دیا۔

میری اولاد زندہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ انسان سے انتقام نہیں لے گی۔ اس لئے کہ انتقام جیسی بری عادت تو آدمی کو زیب دیتی ہے۔

میں ایک درخت ہوں۔ میرا اصل مسکن جنگل ہے جہاں درندے بھی رہتے ہیں۔ میں نے نہیں دیکھا کہ کسی درندے نے کسی درندے کو بلا وجہ قتل کیا ہو۔ یہ بدنمائی آدم زاد کے حصے میں آئی ہے کہ وہ اپنے بھائی آدم کو قتل کر دیتا ہے۔ جب آدم خود اپنا قاتل بن گیا ہے تو اس سے شکوہ کرنے کا کیا فائدہ۔۔۔۔۔۔اور شکوہ بھی کون کرے؟

درخت کا کام خدمت کرنا ہے اور انسانوں کو فائدہ پہنچانا ہے، میرے بچے درخت اس وصف کو قائم رکھیں گے۔ اے اشرف المخلوقات انسان!

یاد رکھو!

* محبت زندگی ہے۔

* انتقام عقوبت اور عذاب ہے۔

* ظلم ہلاکت ہے۔

* حُلم، بردباری اور نرم دلی عافیت اور امن ہے۔

* قتل گناہ اور بزدلی ہے۔

* معاف کر دینا بہادری ہے۔

فقط

آدمیوں کا جاں نثار دوست

ایک درخت

 


Hamarey Bachey (2)

خواجہ شمس الدین عظیمی

پیارے بچو!

آ پ نے کتاب ’’ہمارے بچے‘‘ کی پہلی سیریل پڑھی اور اس میں لکھی ہوئی باتوں کو قبول کیا اور ان پر عمل کیا۔

کتاب ’’ہمارے بچے‘‘ میں آپ ن ے تین باتیں پڑھی تھیں:

۱۔ بچے اور والدین یعنی بچے اور ماں باپ

۲۔ انسان اور حیوان

۳۔ ہم دنیا میں آنے سے پلے کہاں رہتے تھے؟ اور اس دنیا سے جانے کے بعد کہاں رہتے ہیں؟

میں نے آپ کے لئے دوسری کتاب لکھی ہے۔ اس کتاب میں ’’اولیاء اللہ‘‘ یعنی اللہ کے دوستوں کے واقعات ہیں۔

بچو!

کیا آپ کو پتہ ہے کہ دوست کون ہوتا ہے؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوست وہ ہوتا ہے جسے آپ پسند کرتے ہیں۔ جس کی عادتیں آپ جیسی ہوتی ہیں۔ ’’اولیاء اللہ‘‘ یعنی اللہ کے دوست بچپن ہی سے اللہ تعالیٰ کی فرمائی ہوئی باتوں پر عمل کرتے ہیں، ہر کام اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کرتے ہیں۔ اللہ کے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ و سلم سے محبت کرتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے، کسی کو تکلیف نہیں پہنچاتے، درخت لگا کر خوش ہوتے ہیں، پڑھتے ہیں، لکھتے ہیں، استاد کا ادب کرتے ہیں اور جو کچھ استاد پڑھاتے ہیں اسے یاد رکھتے ہیں۔ اماں ابا کا کہنا مانتے ہیں اور ان سے پیار کرتے ہیں، بہن بھائیوں کا خیال رکھتے ہیں، بڑوں کو سلام کرتے ہیں اور چھوٹوں سے محبت کرتے ہیں۔ ایسے بچے اللہ تعالیٰ کے دوست ہوتے ہیں۔

 

 

پیارے بچو!

اپنے دوستوں کے لئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’میں ان کے ہاتھ بن جاتا ہوں وہ میرے ذریعے چیزیں پکڑتے ہیں، میں ان کی زبان بن جاتا ہوں وہ میرے ذریعے بولتے ہیں۔‘‘

اب آپ ’’ہمارے بچے‘‘ کی دوسری کتاب پڑھیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ سے خوش ہوں۔ (آمین)

 

آپ کا دوست

خواجہ شمس الدین عظیمی