Topics

بچپن

حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب ۱۷ ،اکتوبر ۱۹۲۷ بروز پیر قصبہ پیر زادگان ضلع سہارن پور(یو۔پی) ہندوستان میں پیدا ہوئے۔ جس وقت آپ پیدا ہوئے اس وقت فجر کی اذان ہو رہی تھی۔

روحانی اولاد

آپ کے والد الحاج انیس احمد انصاری صاحب نے آپ کی پیدائش سے پہلے خواب میں دیکھاکہ تہجد کا وقت ہے اور آسمان ستاروں سے بھرا ہوا ہے ۔ ذوق و شوق سے آسمان میں لٹکی ہوئی قندیلوں کو دیکھ ہے تھے کہ ایک ستارہ آسمان سے ٹوٹا اور حاجی صاحب نے اپنا دامن پھیلا لیا۔ یہ ستارہ ان کے دامن میں آگیا۔ اگلے روز شیخ الحدیث مولانا زکر یا صاحب سے خواب بیان کیا تو انہوں نے فرمایا،حاجی صاحب !مبارک ہو ، آپ کی اولاد میں ایک اولا د روحانی ہوگی اور اس سے سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا مشن فروغ پائے گا۔

ماں کی تربیت

دادی اماں نے آپ کا نام ’’ شمس الدین انصاری ‘‘ رکھا اور اس وقت کی ایک نہایت بلند شخصیت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے کھجور چبا کر منہ میں ڈالی ۔ آپ کے گھر کا مزاج مذہبی تھا لیکن اس میں تعصب یا دوسرے مذہب کے لوگوں سے نفرت نہیں تھی۔ والدصاحب تو درس و تدریس سے والہانہ لگاؤ رکھتے ہی تھے ، والدہ صاحبہ نے بھی بچوں کی تعلیم و تربیت پر پوری توجہ دی ۔

آپ کی والدہ صاحبہ نہایت پاکیزہ طبیعت ،متقی اور پرہیزگارتھیں۔بچوں کو ہمیشہ صاف ستھرے کپڑے پہنا تیں، میلے کپڑوں کے متعلق نصیحت تھی کہ میلے کپڑے اتارو تو انہیں تہہ کرکے رکھو۔ جو لوگ میلے کپڑے یونہی اتا ر کر پھینک دیتے ہیں وہ ناشکرے لوگ ہوتے ہیں اور وہ اپنی چیزوں کی حفاظت نہیں کرسکتے ۔ رات کو سلاتے وقت ہمیشہ سیدھی کروٹ لٹاتیں۔ صبح سویرے بیدار کرکے فرماتیں،اٹھو!صبح ہوگئی ہے۔ کلمہ پڑھو، لاَ اِلَہَ اِلاَّ اﷲ مُحَمَّدُ رَّسُوْل اﷲ عظیمی صاحب فرماتے ہیں اب بھی صبح کو جب میں اٹھتا ہوں غیر اختیاری طور پرکلمہ زبان پر آجاتا ہے۔ والد صاحب نو،دس سال کی عمر میں فجر کی نماز کے لئے اپنے ہمراہ مسجد میں لے جاتے تھے۔ عظیمی صاحب کو بچپن میں اذان دینے کا بہت شوق تھا۔ صبح سویرے پہلے آپ اذان دیتے اور پھر موذن اذان دیتا تھا۔

حافظ جی

عظیمی صاحب کے مزاج میں جو رواداری اور فراخدلی ہے اس میں بھی گھر کے ماحول اور تربیت کا اثرہے ۔ آپ کو اپنے اسلاف سے یہ عمل ورثہ میں ملا ہے کہ آدمی اپنے دنیاوی معاملات میں پوری پوری کوشش کرے۔ پوری جدوجہد اور کوشش کے بعد بھی حسب منشاء نتیجہ مرتب نہ تو اس سارے معاملے کو اللہ کے اوپر چھوڑ دے۔

آپ نے ابتدائی تعلیم انبہٹہ میں ایک مدرسے میں حاصل کی اور قرآن پاک حفظ کیا۔ چونکہ سبق جلدی یاد ہوجاتا تھا اس لئے کلاس میں شرارتیں کرتے تھے۔حافظ جی مسواک یا شہتوت کی قمچیوں سے مارتے تھے یا سر کو گھٹنے میں دبا لیتے اور کمر پر کہنی سے مارتے تھے۔ایک روز کسی نے پوچھا،حافظ جی آپ بچوں کو مارتے کیوں ہیں۔حافظ جی نے جواب دیا اس لئے کہ ہمارے استادوں نے بھی ہمیں مارا ہے۔

جنت دوزخ

جب آپ کی عمر تقریبا چار پانچ سال کی ہوئی تو دیگر کھیل کود کے ساتھ ساتھ ایک مشغلہ یہ بھی تھا کہ گھر میں تین چارپائیاں کھڑی کرکے دو فرضی کمرے بناتے تھے۔ ایک میں سفید چادر بچھاکر پھول اور چینی رکھ دیتے ۔دوسرے حصہ میں کوئلے ، لکڑیاں اور کانٹے وغیرہ رکھ دیتے۔ آپ کے خیال میں صاف ستھرا کمرہ جنت اور کاٹھ کباڑوالا، دوزخ تھا۔

ایک دن آپ گھوڑی پر سوارتھے ۔جب رفتار تیز ہوگئی توگھوڑی کی پیٹھ پر کاٹھی نہ ہونے کے باعث زمین پر گر گئے ۔ آپ کے نیچے گرتے ہی گھوڑی کا فوری رد عمل یہ تھا کہ وہ آپ کے اوپر اس طرح سے کھڑی ہوگئی کہ اس نے اپنی ٹانگوں کی مدد سے آپ کے گرد حفاظتی حصار قائم کردیااور یہ حصار اس وقت تک برقرار رکھا ، جب تک کہ کوئی فرد آپ کی مدد کے لئے نہیں پہنچ گیا۔ جب کسی چیز کی شدید ضرورت ہوتی تو اللہ تعالیٰ غیب سے مدد فرماتے تھے اور ضرورت پوری ہوجاتی تھی۔

بچپن کے خواب

بچپن میں خواب بہت نظر آتے تھے جن میں زیادہ تر چاند اور ستارے نظر آتے تھے۔ سمندر ، دریاؤں کے اوپریا ایک پہاڑ سے دوسرے پر اڑتے تھے، یاکسی کنویں یا دریا پر نہاتے ہوئے خود کو دیکھتے تھے۔ انبہٹہ میں ایک جگہ اتنے درخت تھے کہ دن میں زمین پر دھوپ نہیں آتی تھی ۔ عموماً خواب میں آپ دیکھتے کہ سڑک کے ایک کنارے پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کھڑے ہیں اور دوسرے کنارے پروہ خودکھڑے ہیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام ان کے ساتھ گیند بلا کھیلتے تھے۔

آپ نے نو، دس سال کی عمر میں خواب میں دیکھا کہ گھپ اندھیرا ہے ، آسمان ہے ، ستارے جھلملارہے ہیں ۔ ستاروں کی جھلملاہٹ نے دل میں نور بھردیا اور دل اتنا بے تاب ہوا کہ پسلیاں ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئیں۔ جسم تپ گیا کہ تیز بخار کا گمان ہوا۔ گلا رندھنے لگا۔ آنکھیں پتھر اگئیں۔ یکایک آسمان میں ایک روزن کھلا اور اس سے پانسے کی طرح کا ایک نورانی پتھر نیچے لڑھک گیا۔ اس ہشت پہلو پتھر پر ہر طرف ’’اللہ‘‘ لکھا ہوا تھا۔ یہ نور علیٰ نو ر ’’سنگ ‘‘آپ کے سینہ پر دل کے مقام پر آگرا اور آپ چیخ مار کر بے ہوش ہوگئے۔

صاحب خدمت بزرگ

خوابوں کی وجہ سے روحانیت کی طرف بہت زیادہ میلان ہوگیاتھا۔ عظیمی صاحب کواگر پتا چل جاتا کہ کوئی بزرگ آئے ہوئے ہیں تو آپ وہاں ضرور پہنچ جاتے ۔ جب بھی کسی بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوتے وہ بزرگ آپ سے مل کر بہت خوش ہوتے ۔محلہ میں ایک بزرگ آیا کرتے تھے جو صرف آپ کے گھر یا آپ کی تائی اماں کے گھر روٹی کا سوال کیا کرتے تھے۔ وہ سالن نہیں کھاتے تھے۔ ان کے پاس پیاز ہوتا تھا، پیاز کے ساتھ روٹی کھاتے تھے۔ ان کی ناک طوطے کی طرح تھی اور محلے کے بچے انہیں میاں مٹھوکہتے تھے۔ ایک دن عظیمی صاحب نے بھی انہیں میاں مٹھو کہہ دیا۔ وہ جلال میں آگئے اور مارا پیٹا ۔کہتے تھے،تو بھی کہے گا۔۔۔تو بھی کہے گا۔ عظیمی صاحب روتے ہوئے گھر گئے اوراپنی اماں سے شکایت کی ۔اماں نے فرمایا کہ تونے ضرور چھیڑا ہوگا، اسی لئے انہوں نے تجھے سزا دی ہے ۔ اس واقعہ کے بعد وہ بزرگ نظر نہیں آئے ۔جب آپ نے اس واقعہ کا تذکرہ حضور قلندر بابا اولیاء رحمتہ علیہ سے کیا تو انہوں نے فرمایا، وہ صاحب خدمت بزرگ تھے اور آپ پر ان کی ڈیوٹی لگی ہوئی تھی ۔ انہوں نے آپ کو سزا اس لئے دی کہ آئندہ آپ کسی فقیر کی شان میں گستاخی نہ کریں۔

پیشانی پر بوسہ

ایک مرتبہ دلی میں مولانا حسین احمد مدنی صاحب تشریف لائے۔ انہیں لینے کے لئے ریلوے اسٹیشن پر بہت سارے لوگ آئے ہوئے تھے۔ حضرت عظیمی صاحب وہاں مجمع سے الگ کچھ دور کھڑے تھے۔ جب مولانا مدنی ریل سے اتر ے اور ان کی نظر عظیمی صاحب پر پڑی تو وہ مجمع سے نکل کر آپ کے پاس آئے اور آپ کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ دلی ہی میں قصاب پورہ مسجد میں ایک بزرگ حافظ فخرالدین صاحب عصر کی نماز پڑھنے آیا کرتے تھے اور عظیمی صاحب کی پیشانی پر بوسہ دے کر چلے جاتے تھے۔

ایک روز آپ مسجد نہیں گئے تو انہوں نے مسجد کے متولی سے کہا کہ اس سے کہنا کہ جمعرات کو مجھے سے ملے۔ جمعرات کو آپ مسجد گئے تو انہوں نے عظیمی صاحب کو حسب معمول گلے لگایا، پیشانی پر بوسہ دیا اور فرمایا، تجھے پتا نہیں ہے کہ میں صرف تیرے لئے پیدل چل کر یہاں آتا ہوں۔ اس کے بعد آپ نے عصر کی نماز کی بڑی پابندی فرمائی اور ایک سال سے زائد عرصہ تک حافظ صاحب کا یہ معمول رہا کہ وہ ہر جمعرات کو تشریف لاتے اور آپ کو پیار کرکے چلے جاتے۔ 


Tazkira Khwaja Shamsuddin Azeemi

خواجہ شمس الدین عظیمی

ایسالگتا ہے کہ جیسے کل کی بات ہو، جون ۱۹۹۶ء میں مرکزی لائبریری۔ مرکزی مراقبہ ہال کی کتب کی فہرست مرتب کرنے کے دوران میرے ذہن میں مرشد کریم کا ہمہ جہتی تعارف ، الٰہی مشن کی ترویج اور حالات زندگی سے متعلق ضروری معلومات کی پیشکش اور ریکارڈ کی غرض سے شعبہ حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی قائم کرنے کا خیال آیا۔