Topics
یہ مضمون ہر
اُس فرد کے لئے ہے جس نے اسکول کی پہلی کلاس میں ریاضی پڑھی ہے۔
ریاضی کے چار بنیادی افعالØ ہیں۔
۱۔ جمع ۲۔
تفریق
۳۔ضرب
۴۔تقسیم
ریاضی کا قاعدہ ہے،
ایک میں سے ایک کم ہو تو صفر ہے۔
1 - 1 = 0
ایک جمع ایک کا جواب دو ہے۔
1 + 1 = 2
ایک سے ایک ضرب کا حاصل 1ہے
1 x 1 = 1
ایک کی ایک سے تقسیم کا جواب 1 ہے۔
1 ÷ 1 = 1
کیا آپ اس قاعدے سے متفق ہیں؟
جب کہ میں متفق نہیں۔وجہ جاننے کے لئے آگے پڑھیئے۔
اسکول میں
ذہن کچا تھا۔ مس نے بلیک بورڈ پر جو لکھا، میں نے قبول کر کے طوطے کی طرح یاد کر
لیا۔ برسوں گزرنے کے بعد آج ذہن کشمکش میں ہے اور سوال کرتا ہے کہ ٹھیک ہے، ایک
میں سے ایک کم ہوا تو صفر(0) ہوگیا یعنی دونوں کی نفی ہو گئی لیکن جب ایک میں ایک
جمع کیا تو یہ دو کیسے ہو گئے۔۔۔؟
چیز جمع ہونے سے ایک ہوتی ہے۔ اگر ایک
نہیں ہوتی تو اس کا مطلب ہے کہ وہ جمع نہیں ہوئی پھر ایک جمع ایک دو کیسے بنے؟
Ø افعال (operation) ۱۔Addition ۲۔Subtraction ۳۔ Multiplication ۴۔Division
پانی اور
چینی ملنے سے شربت بنتا ہے۔ شربت بظاہر دو چیزوں سے مل کر بنا ہے۔ دو چیزوں کی
آمیزش کو ہم دو نہیں سمجھتے، شربت کہہ کر ایک وجود تسلیم کرتے ہیں لیکن جمع کے اس
اصول کا اطلاق ریاضی میں نہیں کرتے۔
مٹی کا تیل
پانی میں حل نہیں ہوتا، لاکھ کوشش کی جائے، ان کو یکجا نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ
ان کی مقداریں مختلف ہیں۔
کائناتی
نظام کے تحت جمع کے کلیہ کی بہترین مثال پانی ہے۔ پانی سے پانی ملتا ہے تو کوئی
اسے دو پانی نہیں کہتا۔ دریا سمندر میں جمع ہوتے ہیں۔ دیکھنے والا سمندر میں مختلف
دریاؤں کے پانی کی نشاندہی نہیں کرتا ۔ اگر پانی کی نوعیت دوسرے پانی سے مختلف ہو
تو ساتھ بہتے ہیں لیکن جمع نہیں ہوتے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے،
”دو
سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ باہم مل جائیں پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ
حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔“ (الرحمٰن : ۱۹۔۲۰)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کچھ لوگ
کہتے ہیں کہ جمع کا مطلب یکجا ہونا ہے۔ لغت میں یکجا کے معانی تلاش کئے جائیں تو
اکٹھا ، جمع اور شامل جیسے الفاظ ملتے ہیں۔
دو گلاس
قریب رکھ کر کوئی کہے کہ یہ یکجا ہے تو زبان کے لحاظ سے بھی یہ کلیہ درست
نہیں۔یکجا کا مطلب ایک جگہ ہے جب کہ دونوں گلاسوں نے الگ الگ جگہ گھیری ہوئی
ہے۔مختلف یا ایک طرح کی چیزوں کو ساتھ رکھنا ”جمع“ کی تعریف میں نہیں آتا۔ اگر جمع
کی جگہ ”اضافے “ کا لفظ استعمال کیا جائے تو بھی بات نہیں بنتی۔ شے میں ایک اور شے
کا اضافہ کر دیا جائے تو وہ دو نظر نہیں آتی ، ایک ہو جاتی ہے۔
اگر یہ
جملے پڑھتے ہوئے دماغ میں کھانا پکانے کی تصویر بنتی ہے تو اس کلیے کو بھی سمجھ
لیجیئے۔ کھانے میں متعدد اجزا شامل کیے جاتے ہیں جو ذائقے کے لحاظ سے کسی حد تک
ایک ہو جاتے ہیں مگر شکل و صورت (ساخت) کے اعتبار سے ان کی پہچان برقرار رہتی ہے۔
کچھ مسالا جات اور اجزا سالم نہیں رہتے، پکانے کے دوران حل ہو جاتے ہیں۔ وجہ یہ ہے
کہ ان کو پیس کر ڈالا جاتا ہے یا وہ پکنے کے دوران گَل جاتے ہیں یعنی ان کی ساخت
کا تشخص ختم ہو جاتا ہے۔
یہ منطق
نہیں بلکہ ریاضی کے بنیادی قاعدے کو کائناتی نظام کے تناظر میں سمجھنے کی کوشش ہے۔
جمع کے حقیقی معانی شے کا شے میں داخل ہو نا ہے۔ ایک ، ایک میں داخل ہوگیا تو وہ
دو کیسے بنا؟ آیا دونوں ایک ہو جاتے ہیں یا دونوں کی انفرادیت ختم ہو جاتی ہے ۔
پھر ایک جمع ایک دو کیسے ہوئے۔۔؟
ریاضی کا تیسرا فعل ضرب ہے۔
ضرب کا مطلب دہرانا ہے۔
ایک کا ہندسہ موجود ہے۔ کہاں سے آیا، کسی کو نہیں پتہ۔ ایک
سے پہلے صفر ہے مگر ماہرین گنتی صفر سے شروع نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ صفر کی
اپنی کوئی قدر (value) نہیں، یہ دوسرے
ہندسوں سے مل کر قابلِ قدر بنتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر صفر کی قدر
نہیں تو اس کی بنا پر باقی ہندسوں کی قدر کیسے بڑھ جاتی ہے؟
شہنشاہ ہفت
اقلیم نانا تاج الدین ناگپوری ؒ نے ایک دو ہے میں صفر کی اہمیت بیان کی ہے،
مانس
ہے سب آتما ، مانس ہے سب راکھ
بِندی کی گنتی نہیں
، بِدی میں سو لاکھ
ضرب کا
مطلب دہرانا ہے۔ ایک موجود ہے، دہرانے پر ایک سے دو ہونا چاہیئے لیکن ریاضی کے
قاعدے کے مطابق 1x1کا جواب 1 ہے۔ بچپن میں پہاڑے یاد کئے۔ دو کا پہاڑا ہے،
اک دونی دو
دو
دونی چار
دو
تیا چھ
دو
چوک آٹھ
دو پنجے دس
دو کو دو
مرتبہ دہرانے سے چار ، تین کو تین مرتبہ دہرانے سے نو اور چار کو چار سے ضرب دینے
سے 16 بنتے پھر ایک کو ایک مرتبہ دہرانے کا حاصل دو کیوں نہیں؟
اماں بیٹے
سے کہتی ہے کہ سبق یاد کرو۔
جب وہ یاد
کر لیتا ہے تو کہتی ہے کہ اسے ایک مرتبہ دہراؤ۔ وہ دہراتا ہے۔
پوچھتی ہیں
کہ سبق کتنی مرتبہ دہرایا۔
وہ کہتا
ہے۔۔۔ ایک سے زائد مرتبہ
بچے کا
جواب درست ہے ۔ بتایئے کیسے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ریاضی کا
آخری فعل تقسیم ہے۔
قاعدہ یہ
ہے کہ
ایک کو صفر
میں جمع کرنے سے ایک بنتا ہے۔
1 + 0 = 1
ایک اور
صفر کی تفریق سے ایک باقی رہتا ہے،
1 – 0 = 1
ایک کے صفر
سے ضرب کا جواب صفر ہے۔
1 x 0 = 0
مگر ایک
صفر سے تقسیم نہیں ہوتا۔
1 ÷ 0 = 1
ایک ۔۔۔۔۔
ایک سے بھی تقسیم نہیں ہوتا۔
ریاضی میں
تقسیم کا قاعدہ دو سے شروع ہوتا ہے ۔ دو کہاں سے آتا۔۔۔؟
ایک دو سے
تقسیم ہو کر 0.5 بن جاتا ہے
لیکن دو کا ہندسہ ایک سے تقسیم ہو کر ایک رہتا ہے۔
1 ÷ 2 = 0.5
2 ÷ 1 = 2
تین ، چار
اور پانچ کا ہندسہ بھی ایک سے تقسیم نہیں ہوتا۔ تین ، چار اور پانچ رہتا ہے۔
سوال یہ ہے
کہ جب ایک ، ایک سے تقسیم نہیں ہوتا تو دو کہاں سے آتا ہے؟ وہی ایک، دو سے کس طرح
تقسیم ہو جاتا ہے اور دو ایک سے تقسیم ہو
کر دو کیوں رہتا ہے؟
اگر ایک کے
ہندسے میں تقسیم کی صلاحیت نہیں ہے تو پھر اس میں جمع ، تفریق اور ضرب کی صلاحیت
کس طرح ہے؟
دلیل دی جا
سکتی ہے کہ شے کی ذات تقسیم نہیں ہوتی، اسی طرح ایک کا ہندسہ بھی تقسیم نہیں ہوتا۔
پلیٹ میں آم ہے۔ اس کے ٹکڑے کئے جائیں تو وہ اپنی ذات کے اندر رہتے ہوئے تقسیم ہوتا ہے یعنی تقسیم
ہونے سے ایک آم دو نہیں ہو جاتا۔ سب کہتے ہیں کہ یہ ایک آم کے کئی ٹکڑے ہیں۔ جب
ایک ، ایک سے تقسیم نہیں ہوتا تو دو، تین اور چار کہاں سے آئے؟ یہ کس کے جمع ،
تفریق اور ضرب سے بنے؟
اگر آپ
ریاضی کے چاروں افعال میں ایک اور ایک کی
ایکویشن کو سامنے رکھیں جیسا کہ مضمون کے پہلے صفحے پر ہے تو جو گزارشات پیش کی
گئی ، ان کو سمجھنا آسان ہوگا۔
ہو سکتا ہے
کہ قاری بالخصوص ریاضی کا طالب علم مضمون میں سوالات سے متفق نہ ہو۔ ٹھیک ہے، حق
رائے دہی سب کے لئے ہے مگر سوال یہ ہے کہ رائے چاہے اختلاف میں ہو یا تائید میں ،
کسی بنیاد پر قائم ہوتی ہے۔
ریاضی جمع،
تفریق ، ضرب اور تقسیم پر قائم ہے۔ یہ اصول کس بنیاد پر متعین کئے گئے ہیں؟ اگر بنیاد فرضی ہے تو پھر
ریاضی کیا ہے؟