Topics

جوئی چیا ۔۔۔کنفیوشس

 

 

چین کا شمار دنیا کے قدیم ترین ممالک میں ہوتا ہے اور یہ حکمت و دانش کا مرکز رہا ہے۔ چین میں تین مذاہب خاص طور پر مروج رہے ہیں جن میں دو چین میں ظہور پذیر ہوئے۔

۱۔      تاؤازم

۲۔     کنفیوشس ازم

۳۔     بدھ ازم

یہ تینوں مذاہب آپس میں اس قدر مخلوط اور مدغم ہو گئے ہیں کہ ایک ہی شخص بیک وقت تینوں مذاہب کا پیروکار ہو سکتا ہے ، حتیٰ کہ مردم شماری میں اہلِ چین کو ان مذاہب کی بنا پر مختلف گروہوں میں شمار کرنا محال ہے۔ مذہبی تعصب کے فقدان اور مذہبی رواداری کی وجہ سے چین کی تاریخ میں کوئی قتل و غارت کا واقعہ نہیں ملتا۔ ان تینوں مذاہب میں زیادہ مقبولیت جس کو حاصل رہی ہے وہ مذہب کنفیوشس ہے۔ اس کا یہ نیا نام عیسائی مشنریوں نے دیا ہے ورنہ خود اہل چین اسے “Ju-Chia” کے نام سے موسوم کرتے ہیں، جس کے معنی ہیں ” علما ء کی تنظیم“ کنفیوشس کو چھٹی صدی قبل مسیح کا سب سے بڑا  مصلح مانا جاتا ہے۔

کنفیوشس ریاست لُو (موجودہ نام شن ٹنگ) کے ایک گاؤں ”سو“ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد فنکثو 'سو' کے مضافات میں ایک فوجی عہد یدار تھے۔ فنکثو صاحب نے پچاس سال کی عمر میں دوسری شادی کی تھی جس سے کنفیوشس پیدا ہوئے تھے۔ چناچہ پیدائش کے وقت کنفیوشس کی نو سوتیلی بہنیں اور ایک سوتیلا اپاہج بھائی موجود تھے۔ ماں کا نام چنگ سائی تھا جوین نامی قبیلے کے ایک معزز سردار کی بیٹی تھی۔

کنفیوشس  کا خاندانی نام “Kung” تھا۔ کنفیوشس دراصل(Kung-fu-tze) کی لاطینی صورت ہے جس کے معنی ”ماسٹر کنگ“ کے ہیں۔ جو بعد میں بگڑ کر کنفیوشس بن گیا۔

کنفیوشس کی پیدائش کے وقت ملک چین چھوٹی چھوٹی جاگیروں میں بٹا ہوا تھا۔ جن کے نواب خود غرض اور لٹیرے تھے۔ ملک میں چوری ، ڈاکہ، لوٹ مار اور زنا عام تھے۔ عجیب اتفاق ہے کہ جس زمانے میں کنفیوشس پیدا ہوئے تو اسی عہد میں یروشلم میں پیغمبر دانیال۔۔۔ ، ہندوستان میں مہا تما بدھ۔۔۔، یونان میں فیثا غورث ( ماہر ریاضی)۔۔۔ اور چین میں ایک اور مذہبی مبلغ لیوذے موجود تھے۔

اس زمانے کا ایک یونانی شاعر فوسنلکھتا ہے:

” اے فلک! اب ہمیں تیرے ستاروں کی ضرورت نہیں رہی کیونکہ زمین پر اب کئی ستارے ایک ساتھ چمک رہے ہیں۔“

کنفیوشس کی عمر تین سال کی تھی کہ والدہ کا انتقال ہو گیا طفولیت کا زمانہ مصیبتوں اور پریشانیوں میں گزرا کچھ عرصہ بعد جس ریاست میں یہ پیدا ہوئے تھے یعنی لُو (Lu) کے نواب نے ان کی غیر معمولی ذہانت اور تعلیمی ذوق کو دیکھتے ہوئے ان کی سر پرستی اور تربیت اپنے ذمہ لے لی۔

انیس برس کی عمر میں معزز گھرانے کی ایک لڑکی سے شادی کر دی گئی۔ اس رشتے سے ایک لڑکی اور دو لڑکے پیدا ہوئے۔ شادی کے کچھ عرصہ بعد نواب لو نے ان کو تعلقہ سو کے گوداموں کا دراوغہ بنا دیا۔ ان کی صلاحیتوں کو دیکھتے ہوئے انہیں قربانی کے جانوروں کا نگراں اعلیٰ مقرر کر دیا گیا۔ ان کی دانئی اور فراست کی بنا پر جانوروں کی تعداد دوگنی ہو گئی۔

انیس برس کی عمر میں ” دانش قدیم“ کے ماہر تسلیم کئے جانے لگے۔ کنفیوشس نے ” چی“ جا کر اس زمانے کے مشہور موسیقی کے ماہر سیانگ سے تعلیم حاصل کی۔

۲۳ برس کی عمر میں انہوں نے تعلیم و تدریس کے میدان میں قدم رکھا اور ایک معلم کی حیثیت سے لوگوں کو تعلیم دینے لگے۔ چناچہ ان کے زمانے کی مقتدر  شخصیتیں حاضر ہو کر ان سے رہنمائی حاصل کرتی تھیں اور ان کے شاگردوں کی تعداد تین ہزار ہو گئی۔ وہ پندرہ برس تک تدریس میں مصروف رہے اور اپنے فلسفیانہ افکار سے لوگوں کو بہرہور کرتے رہے۔

نوجوانی  کی عمر میں ان کو ماہر استاد کا خطاب ملا۔ ان کی درس گاہ میں کند ذہن طالب علموں کے لئے جگہ نہ تھی۔ وہ شاگردوں سے کہتے تھے کہ ” میں مسئلے کے ایک چوتھائی حصے پر بحث کروں گا باقی تین چوتھائی حصہ طالب علم خود سمجھیں۔“

۵۲۴ قبل مسیح میں ایک سازش کا شکار ہو کر انہیں اپنے چند شاگردوں کے ساتھ وطن سے نکلنا پڑا۔ وطن سے نکل کر وہ در بدر گھومتے اور چین کے قدیم مذاہب اور رسومات کا تحقیقی مطالعہ کرتے رہے۔ ملک بدری کے زمانے میں ایک دن کوہِ تائے سے گزر رہے تھے کہ ایک عورت کے رونے کی آواز آئی۔ آپ نے ایک شاگرد کو بھیجا کہ معلوم کرے۔ معلوم ہوا کہ عورت کے شوہر اور بیٹے کو شیر نے کھا لیا ہے۔ کنفیوشس نے عورت سے کہا کہ وہ یہ جگہ چھوڑ دے مبادا شیر اس کو بھی نقصان پہنچا دے۔ عورت نے جواب دیا  کہ ” مجھے کہیں چین نہیں ملے گا کیونکہ حکومت جابر اور ظالم ہے۔“

کنفیوشس نے متاثر ہو کر اپنے شاگردوں سے کہا۔” انسان شیر سے اتنا نہیں ڈرتا جتنا جابر حکومت سے ڈرتا ہے۔“

وہ کئی سال تک در بدر کی ٹھوکریں کھاتے رہے جوان کی تعلیم قبول کر لیتا اس ک زندگی یکسر بدل جاتی لوگ انہیں ”جو“ ( عالم دین ، پرہیز) پکارتے تھے۔ عوام میں ان کی تعلیم ایک تحریک بن گئی۔

 کنفیوشس کو “Chungtoo” کا مجسٹریٹ بنا دیا گیا۔ ان کی اصلاحات اس قدر موثر ثابت ہوئیں کہ انہیں اور اعلیٰ عہدوں کے لئے منتخب کیا جاتا رہا بالآخر انہیں وزیر انصاف مقرر کر دیا گیا۔

انہوں نے اپنے لائق شاگردوں کی مدد سے صوبہ لُو (Lu) کی سلطنت کو قابل رشک مثالی ریاست بنا دیا لیکن کنفیوشس کی اصلاحات زمانہ کا ساتھ نہ دے سکیں۔ خود غرض لوگوں نے کنفیوشس کے دیگر معاملات میں رکاوٹیں ڈالنا شروع کر دیں۔ ہمسایہ ریاستوں نے کنفیوشس کے لیے سازشوں کا جال بچھایا۔

تاریخ بتاتی ہے کہ “Chi” کےحکمران نے حاکم لُو(Lu) کو 80 رقائیں اور 120 عمدہ گھوڑے بھجوائے اور ساتھ سفارش کی کہ کنفیوشس کو معزول کر دیا جائے۔ حاکم لُو (Lu) نے ان تحائف کو قبول کر لیا اور کنفیوشس کو معزول کر دیا۔

کنفیوشس کی آرزو تھی کہ اسے کوئی سلطنت مل جائے جہاں وہ اپنے اصولوں کو نافذ کر کے ایک مثالی ریاست بنا دے۔

اگرچہ سب ہی حکمران کنفیوشس سے خطرہ محسوس کرتے تھے مگر دل میں ان کی عظمت اور دانائی کے معترف تھے۔ ایک دفعہ ریاست ”پو“ کے وزیر نے جو کنفیوشس کا معتقد تھا ان کو اپنے ہاں مہمان رکھا نواب پو کو معلوم ہوا تو اس نے آپ کو وزیر اور شاگردوں سمیت نظر بند کر دیا۔ آپ نے شاگردوں کے اتفاق رائے سے فوج سے مقابلہ کیا ۔ اہلِ ”پو“ پسپا ہونے لگے تو انہوں نے کنفیوشس کو چھوڑنا منظور کر لیا۔

۴۹۱ قبل مسیح میں کنفیوشس ہر طرف سے مایوس ہو کر صرف علمی اور تدریسی کاموں میں مشغول ہو گئے تھے ان کی درسگاہ میں طلباء کی تعداد تین ہزار تک پہنچ گئی تھی انہوں نے چھ فنون کو کورس میں شامل کیا:

۱۔      عقیدہ اور مذہب

۲۔     موسیقی

۳۔     حساب

۴۔     تیر اندازی

۵۔     کوچ بانی

۶۔     تعمیر شخصیت

ان مضامین سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے شاگردوں میں نظریاتی سے زیادہ علمی استعداد پیدا کرنا چاہتےتھے۔

زیما شین نے لکھا ہے کہ وہ طلباء میں چار چیزوں کا بالخصوص بڑا خیال رکھتے تھے۔ ادب ، سیرت ، شخصی محاسبہ اور دیانتداری۔۔۔۔ اور چار چیزیں انہیں سخت ناپسند تھیں کند زہنی ، فیصلے میں تذبذب، تنگ نظری اور منجمد کرنے والی تقلید۔

وہ نئے امید وار سے بطور آزمائش اشارتاً  کوئی رمز کہتے۔ اگر وہ رمز پہچان  جاتا تو وہ خوش ہوتے اسے درسگاہ میں شامل کر لیتے لیکن اکثر امید وار اس امتحان میں ناکام ہو کر واپس لوٹ جاتے۔

۱۸۴ قبل مسیح میں کنفیوشس کا عزیز شاگرد ” ین ہوئی“ مر گیا اس کی موت پر آپ نے کہا”خدا نہیں چاہتا کہ میرا مشن پورا ہو۔“ اسی سال انہوں نے بہار و خزاں کے نام سے ایک ضخیم کتاب مرتب کی۔ جس میں تاریخی مثالوں کی مدد سے ایک عالمگیر نظام حکومت پیش کیا اس کتاب کے حافظ آج بھی چین میں موجود ہیں اس کتاب کو کنفیوشس نے اپنا مکمل سرمایہ حیات کہا ہے۔۴۸۹ قب مسیح میں ان کا ایک اور لائق شاگرد ”سیلو“ مر گیا اس کے گم سے کنفیوشس خود بھی بیمار پڑ گئے۔ خواب میں دیکھا کہ وہ خود بھی اس دنیا سے رخصت ہوگئے ہیں۔ خواب کی صحیح تعبیر سات دن بعد پوری ہوگئی۔۔۔ ۴۸۹ قبل مسیح میں ۷۳ سال کی عمر میں کنفیوشس نے وفات پائی۔ انتقال کے وقت کوئی اولاد زندہ نہیں تھی۔ کنفیوشس کو احترام کے ساتھ دفن کیا گیا اور ”کیوفو“ میں ان کا مقبرہ آج بھی قومی زیارت گاہ ہے۔

ان کے مقبرہ پر ” بہترین حکیم۔ قدیم ترین معلم“ کے الفاظ کندہ ہیں۔

کنفیوشس اپنے متعلق کہتے ہیں۔۔۔

میں روزانہ اپنے آپ سے تین سوال پوچھتا ہوں کیا میں نے اپنی بہترین صلاحیتوں سے دوسروں کی کوئی خدمت کی ہے؟ کیا میں اپنے کام اور گفتگو سے مخلص ہوں؟ کیا میں جو نصیحت دوسروں کو کرتا ہوں، خود بھی اس پر عمل کرتا ہوں؟

میں پندرہ سال کی عمر میں اپنے آپ کو مطالعہ کے لیے وقف کر دیا تیس سال کی عمر میں نیکی کی فطرت کو پا لیا چالیس سال کی عمر میں میرے شکوک رفع ہو گئے۔ پچاس سال کی عمر میں، میں نے قسمت کی حقیقت کو سمجھ لیا۔ ساٹھ سال کی عمر میں، کان میری زندگی سے ہم آہنگ ہو گئے۔ ستر سال کی عمر میں، تمام بری خواہشات سے چھٹکارا حاصل کر لیا۔

کنفیوشس کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ اس نے لائق شاگردوں کا ایک گروہ تیار کر لیا جس نے دانش قدیم کو پرکھا اور انہیں مرتب کیا۔ مگر کسی معتقد نے اس کی تعلیمات میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ منگ تاذو(Meng Tzu) جو عام طور پر مین شس کے نام سے مشہور ہیں وہ ان کی موت سے ایک صدی بعد پیدا ہوئے۔ مین شس نے کنفیوشی مذہب کی خدمت کی، کنفیوشی تعلیمات کی شرح و تفسیر میں بڑا اہم کردار ادا کیا اور کنفیوشس کی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں کو ترقی دی۔

”ہن“ خاندان کے دورِ اقتدار میں کنفیوشی مذہب کو سرکاری سر پرستی حاصل ہوئی فیصلہ ہوا کہ ہر شہر میں کنفیوشی عبادت گاہیں تعمیر کی جائیں ، جہاں پر قربانی موسیقی اور مذہبی رسوم کے ذریعہ کنفیوشس کو خراج عقیدت پیش کیا جائے۔ یہ عبادت در حقیقت کنفیوشس کی پرستش نہیں تھی نہ انہیں ابھی دیوتا کا مقام حاصل ہوا تھا اور نہ حاجت روائی کے لیے دعائیں مانگی جاتیں تھیں البتہ ”ہن“ خاندان کے آخری سالوں میں ان کی مورتی کنفیوشی عبادت گاہوں کی زینت بنا دی گئی اس کے کئی سو سال بعد ان کے چیدہ چیدہ معتقدوں کی مورتیاں بھی کنفیوشس کی مورتی کے ساتھ شامل کر دی گئیں۔ سولہویں صدی عیسوی میں ان مورتیوں کی جگہ لکڑی کی تختیوں پر کندہ کنفیوشی تعلیمات نے لے لی۔

چین میں سب سے زیادہ پیروکار کنفوشس ازم کے ہیں۔ کنفیوشی مت مذہب نہیں کیونکہ اس میں نہ کوئی مذہبی اجارہ داری ہے اور نہ خانقاہیں جیسا کہ بدھ مت اور تاؤ مت میں ہیں پھر بھی یہ مذہب بقائے باہمی کے اصول پر چین میں مدتوں زندہ رہا۔ دراصل کنفیوشس نے کہا کہ میں اسلاف کا سرمایہ آگے منتقل کرنے والاہوں۔ خود کچھ بنانے والا نہیں ہوں مجھے اسلاف سے محبت ہے اور عقیدت بھی۔ میں جانتا ہوں میرے الفاظ میں فراست ہے کیونکہ میں قدیم عارفوں کی فراست کو دہرا رہا ہوں۔

کتان”Doctrine of means” جو  کنفیوشس کے پوتے کی طرف منسوب ہے میں لکھا ہے کہ : کنفیوشس نے ”پاؤ” اور ”رشن“ کے اصولوں کی ترویج کی گویا وہ ان کے اسلاف تھے اور ”ون“ اور ”ؤ“ کے احکام کو نافذ کیا جن کو انہوں نے اپنے سامنے بطور نمونہ رکھا۔

کنفیوشس نے اچھی حکومت کے لیے تین اصول بتائے ہیں۔ خوراک کی افراط ، فوجی ساز و سامان کی فراہمی اور حاکم پر عوام کا اعتماد۔ ایک شخص نے پوچھا کہ ان میں سے کسی ایک کو چھوڑنا پڑے تو کیسے چھوڑیں جواب دیا فوجی ساز و سامان کو پھر سائل نے پوچھا کہ اگر باقی دو میں سے کسی  ایک کو ترک کرنا ہو تو وہ بولا خوراک کو ترک کر دو۔ مرنا تو ایک دن ہے ہی لیکن جب حاکم پر سے اعتماد اٹھ جائے گا تو ملک تباہ ہو جائے گا ۔ کنفیوشس کے اصول و ضوابط کے مطابق ضروری ہے کہ حکمران اعلیٰ اخلاق کا حامل ہو کیونکہ عوام ہمیشہ حکام کی تقلید کرتے ہیں حاکم کا اخلاق اچھا ہوگا تو عوام بھی اچھی ہوگی۔ کنفیوشس فطرت انسانی کا بہت علمدار تھا اور کہا کرتا تھا کہ میں نے ایک شخص بھی ایسا نہیں دیکھا جو نیکی کا بھی اتنا ہی خواہاں ہو جتنا وہ حسن و جمال کا شیدائی ہوتا ہے۔ ان کا عقیدہ تھا کہ مناسب تربیت سے انسان کی مخفی تعمیری صلاحیتوں کو بروئے کار لایا جا سکتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے :

”علم حاصل کرو خواہ تمہیں چین جانا پڑے۔“

خواجہ شمس الدین عظیمی  صاحب نے کتاب ”محمد رسول اللہ ﷺ (جلد سوئم) “ میں چینی قوم کے بارے میں لکھا ہے کہ۔۔۔

اہل تکوین ترغیبی پروگرام بناتے ہیں۔

جنوری ۱۹۶۰ء میں ایک مجلس میں حضور قلندر بابا اولیاءؒ نے فرمایا۔

” چینی قوم کے لئے ایک لاکھ ترغیبی پروگرام انسپائر کئے جاتے ہیں  یہ محب قوم ایک پروگرام بھی رد نہیں کرتی سب کی سب انسپائریشن قبول کر لیتی ہے“

چین کے قبائل یا جوج ، ما جوج کی ذریت ہیں وقت آئے گا کہ چین پوری دنیا پر حکمراں ہو جائے گا ٹیکنا لوجی اور اقتصادی ترقی کی بنا پر اقوام عالم چین کے زیر تصرف آجائیں گی۔

کنفیوشس کے اقوال۔۔

٭      نیک زندگی ، لمبی زندگی سے بہتر ہوتی ہے۔

٭     تیز اور بلیغ زبان شک پر مبنی ہے ایسی زبان دوسروں میں غصے کے جذبات پیدا کر سکتی ہے۔

٭     جب آپ دیکھتے ہیں کہ آپ نے غلطی کی ہے تو  کیا اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں؟ کیا آپ اس

غلطی سے سبق سیکھ کر اپنے اپ کو تبدیل کرتے ہیں؟ تاکہ آپ ایسی غلطی دوبارہ نہ کریں اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو یہ بہت غیر معمولی بات ہے۔

٭     تم اگر معمولی قسم کے چاول اعلیٰ قسم کے چاول  سمجھ کر کھاتے ہو یا پانی کو شراب سمجھ کر پیتے ہو تو اس میں خوئی خاص بات نہیں اصل بات یہ ہے کہ جو کچھ تم نے کھایا یا پیا ہے اس کو تم نے ایمانداری اور محنت سے حاصل کیا ہو۔

٭     اہل عقل معمولی معاملات میں لچکدار ہوتے ہیں لیکن زندگی گزارنے کے لیے سخت اصول اپناتے ہیں۔

٭     موسموں کو دیکھو اور مشاہدہ کرو کہ زندگی کس طرح وجود میں آتی اور چلی جاتی ہے ۔۔۔ تم عقل مند ہو جاؤ گے۔

٭     کچھ لوگ حوصلے کو اعلیٰ ترین صلاحیت قرار دیتے لیکن عقل مند لوگ اخلاق کو اعلیٰ ترین صلاحیت قرار دیتے ہیں۔

٭     سخاوت اور فیاضی آگ اور پانی سے زیادہ ”حیات بخش“ ہے۔ آگ سے لوگ جل کر مر جاتے ہیں ، پانی میں لوگ ڈوب کر مر جاتے ہیں لیکن سخاوت اور فیاضی لوگوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتی۔

٭     شریف لوگوں کی نشانی ہے کہ وہ تحمل مزاج ہوتے ہیں وہ ان لوگوں سے انتقام نہیں لیتے جو انہیں مناتے ہیں۔

٭     فیاض بن کر دوسروں سے محبت کرو۔ عقل مند بن کر دوسرے لوگوں کو سمجھو۔ ایک اچھا حکمران اچھے لوگوں کو محاسبہ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ اچھے دوست بن کر دوسروں کو عقل مندی کی نصیحت کرو۔ ان کی رہنمائی اپنی بصیرت سے کرو اگر لوگوں پر آپ نصیحت کا اثر نہیں ہوتا تو انہیں کچھ مت کہا۔

٭     اگر تم کسی کو ملازم رکھو تو تمہارا فرض ہے کہ اس ملازم کی حوصلہ افزائی کرو۔ حوصلہ افزائی کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ان کے ساتھ مل کر کام کرو ان کو سست نہ کہو۔

٭     اگر تم دوسروں پر حکمرانی کرتے ہو تو ان کی چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز کرو اور قابلیت اور صلاحیت کے مطابق ان کو ترقی دو۔

٭     اگر تم دولت مند ہو جاؤ تو تمہیں اپنی دولت پر اترانا نہیں چاہئے ایک گھر ، گھر ہی ہوتا ہے یہ کوئی محل ہو یا جھونپڑی، کھانا ، کھانا ہی ہے یہ کسی شاندار دعوت میں کھایا جائے یا سادگی سے کھایا جائے۔

٭     عقل مند لوگوں میں شرافت اور خودداری ہوتی ہے حوصلہ اور رحم ہوتا ہے یہی خصوصیات ان کی پہچان ہیں۔

٭     جب کوئی تمہارے ساتھ غلط برتاؤ کرے تو اپنی قوت ارادی سے اس کے خلاف مزاحمت کرو اگر کوئی تمہاری بہت زیادہ عزت کرے جس کے تم حق دار نہ ہو تو اس شخص کے شر سے بچ کے رہو۔

٭     تمہیں اچھا کام کرتے ہوئے زخمی بھی ہونا پڑے تو کوئی بات نہیں لیکن دیانتداری کو زخمی نہیں ہونا چاہئے۔

٭     تمہارے الفاظ میں دیانتداری ہو اور تمہارے اعمال مخلص ہوں تو تمہارے دشمن بھی تمہاری عزت کریں گے۔۔