Topics

ہم اللہ کی عطا کردہ نعمت سے محروم کیوں ہیں؟

 

قرآن پاک اللہ تعالیٰ کی صفات پر مشتمل علوم کی دستاویز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جن تجلیات و انوارات پر کائنات تخلیق کی اس کا علم قرآن کریم میں بیان فرمایا ہے۔ ان تخلیقی قوانین اور فارمولوں میں تسخیر کائنات کا علم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کتاب اور حکمت کو اپنی نعمت بتایا اور اس نعمت کی تکمیل سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام پر کی ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام حکمت کی یہ نعمت عالمین میں تقسیم فرما رہے ہیں۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

 درحقیقت اہلِ ایمان پر اللہ تعالیٰ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک پیغمبر بھیجا جو اُس کی آیات تلاوت کرتے ہیں ، اُن کی زندگیوں کو سنوارتے ہیں اور ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتے ہیں، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح (کھلی) گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔ (۳۔۱۶۴)

اس کا مفہوم یہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کے چار مقاصد تھے۔

۱۔      تلاوت آیات

۲۔     تزکیہ نفس

۳۔     تعلیم ِ کتاب

۴۔     تعلیمِ حکمت

تلاوت کے معانی ” پڑھنااور مطالعہ“ کرنا ہیں۔ مفہوم یہ ہے کہ ”حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام اللہ تعالیٰ کا پیغام لوگوں تک اس طرح پہنچا دیں کہ عملی زندگی قرآن کے مطابق ہو جائے۔ کسی نے حضرت عائشہ ؓ سے پوچھا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کاخلقِ عظیم کیا ہے؟

انہوں نے فرمایا   ” کیا تم نے قرآن نہیں پڑھا؟ جو کچھ قرآن میں ہے وہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا خلقِ عظیم ہے۔“

پیغام کی موثر ترسیل اس وقت ممکن ہے جب پڑھنے والا خود پیغام سے واقف ہو۔ اس میں پوشیدہ مخفی راز اس کے سامنے عیاں ہوں۔ اس کا دل کدورت سے پاک ہو۔ زندگی کا  مقصد اللہ تعالی اور اس کے پیغمبر محمد ﷺ کی محبت کا حصول اور اللہ کی مخلوق کی فلاح ہو۔

یہ اسی وقت ممکن ہے جب قرآنی آیات کو سمجھ کر غور و فکر کے ساتھ پڑھا جائے، معنی اور مفہوم پر غور کیا جائے اور پھر اس پر عمل کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں اپنے بندوں سے وعدہ کیا ہے کہ جو اس کی راہوں میں جدو جہد کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنی راہیں کھول دیں گے۔ بندہ جب قرآن پڑھتا ہے ، معنی و مفہوم پر غور کرتا ہے تو اللہ کے وعدے کے مطابق اس کے اندر روحانی صلاحیتیں بیدار ہو جاتی ہیں ، دماغ کے کروڑوں خلیے (سیلز) کھل جاتے ہیں اور انسان باطنی دنیا کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے۔ جب کوئی بندہ غور و فکر کے ساتھ قرآنی آیات پڑھتا ہے تو اس کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم ہو جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

” اور ہم نے قرآن کو سمجھنا آسان کر دیا ہے ، کوئی ہے سمجھنے والا؟“    (۱۷:۵۴)

قرآن کریم کی ابتدائی آیات غارِ حرا میں نازل ہوئیں جہاں حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام فطرت کی نشانیوں اور حقیقت کی تلاش میں غورو فکر فرمایا کرتے تھے۔ آیات الٰہی پر تفکر انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی امت کی حیثیت سے امت  مسلمہ پر لازم ہے کہ غور و فکر کی تعلیمات اور سنت پر عمل پیرا ہو کر شعوری ارتقا اور ذہنی وسعت حاصل کرے۔ غارِ حرا کی سنت سمت مسلمہ کے لیے اس بات کا پیغام ہے کہ باطن میں موجود انوارات اور روشنیوں کوتلاش کر کے ان کے اندر تفکر کیا جائے۔

قرآن پاک کا دعویٰ ہے کہ دین مکمل کر دیا گیا ہے یعنی نوع ِ انسانی کی معاشرتی ، علمی، اخلاقی اور روحانی ترقی کے اصول و قواعد واضح طور پر بیان کر دیئے گئے ہیں۔ قرآن پاک نوع انسانی کا ورثہ ہے۔ یہ کسی ایک قوم کے لئے مخصوص نہیں ہے۔ نوعِ انسانی میں جو قوم اس ورثہ سے فائدہ اٹھانا چاہتی ہے ، قرآن اس کی رہنمائی کرتا ہے۔ سورۃ القلم میں ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے :

”حالانکہ یہ تو سارے عالمین کے لئے ایک نسیحت ہے۔“  (۵۲:۶۸)

سورۃ البقرہ کی ابتدائی آیات میں اللہ تعالی فرماتے ہیں:

”  یہ اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اس میں کوئی شک نہیں ۔ ہدایت ہے متقیوں کے لئے۔“       (۲:۲)

متقی لوگ کون ہیں۔۔۔؟

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

”جو غیب پر ایمان لاتے ہیں۔“

غیب پر ایمان کا مطلب ہے یقین اور یقین مشاہدے کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ متقی کی دوسری نشانی بتاتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے :

” نماز قائم کرتے ہیں جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔“  (۳:۲)

نماز قائم کرنے کا مطلب ہے ان کا اللہ تعالیٰ سے تعلق قائم ہوتا اور رزق خرچ کرنے سے مراد ہے کہ ان کا ایمان ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ خرچ کر رہے ہیں یہ ہمارا نہیں بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے۔ جتنے بھی وسائل ہمارے لئے موجود ہیں جیسے ماں باپ ، بیوی بچے ، کاروبار ، پیدائش ، موت یہ سب اللہ تعالیٰ کی عنایت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا ہے۔

جب یہ صفات کسی انسان کے اندر آجائیں گی اس کو قرآن کریم سے ہدایت ملے گی اور اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔

قرآن پاک بلا تفریق ہر مذہب و ملت کے لیے رہنمائی ہے۔ جس نے بھی اس کتاب کی آیات کو اپنا قاعدہ بنایا ، اللہ کے قانون کے مطابق اس پر انعامات کے دروازے کھل گئے۔

قرآن ہمارا ہے اور قرآن واشگاف الفاظ میں کہتا ہے کہ لوہے میں انسانوں کے لیے بے شمار فائدے موجود ہیں۔ اس ارشاد کا مطلب یہ ہوا کہ قرآن پاک یہ کہہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو فائدے لوہے کے اندر محفوظ کر دیے ہیں انہیں تلاش کرو اور جب تم انہیں  تلاش کرلو گے تو ان سے اللہ کی مخلوق کو فائدہ پہنچے گا اور اللہ کی مخلوق میں تمہاری عزت و توقیر ہوگی۔

اہلِ یورپ لوہے ، تانبے اور زمین کے اندر خزانوں کی تلاش میں جب سرگرداں ہوئے تو قانونِ قدرت کے مطابق ان کے اوپر زمین کے خزانوں نے خود ہی اپنی افادیت ظاہر کرنا شروع کر دی اور انہوں نے  لوہے ، تانبے اور دیگر دھاتوں کے مرکب سے ایسی ایجادات مین کامیابی حاصل کر لی کہ وہ اقوام عالم میں ممتاز ہوگئے۔ ہواؤں میں اڑنا زندگی کا معمول بن گیا ہے سمندروں اور دریا کی سطح پر تیرنا اور ہزاروں لاکھوں ٹن سامان اِدھر سے اُدھر پہنچانا ایک عام بات بن گئی۔ ان کی ذہنی کاوشوں سے زمین کے فاصلے سمٹ گئے۔ دنیا کی خبریں اس کونے سے اُس کونے تک پہنچنے لگیں۔ اسٹیم اور بھاپ کی دریافت سے ریل گاریوں کا نظام قائم ہو۔ زمین کے اندر سے گیس اور پٹرول نکلا تو موٹر کاریں زمین پر دوڑنے لگیں نظام کے تحت دور دراز رہنے والے ، رشتہ دار، پیارے دوست ایک دوسرے کے قریب آگئے۔ انہوں نے بادوباراں کے نظام سے باخبر ہو کر ایسے انکشافات کئے کہ جن سے اللہ تعالیٰ کی مخلوق آسمانی بلاؤں اور مصائب سے محفوظ رہ سکے۔

یہ سب اس لئے ہوا کہ ان مفکرین اور دانشوروں نے صحیفہ کائنات کے مطالعہ کے بعد اس کے قوانین اور ایات کو اپنی اور نوع انسانی کی بہتری کے لئے استعمال کیا۔

ایجادات و ترقی اور علم و ہنر کا سورج آج جو مغرب میں روشن ہے کبھی مشرق میں چمکتا تھا اور جب مشرقی اقوام نے بالعموم اور مسلمانوں نے با لخصوص علم و ہنر کے اس سورج سے اپنا رشتہ منقطع کر لیا تو علم و ہنر نے بھی مسلمانوں سے اپنا رشتہ توڑ لیا۔

سورۃ الرعد میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

” اللہ  کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔“ (۱۱:۱۳)

ہم جب قرآن اور حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی سیرت مبارکہ کو پڑھتے ہیں اور مسلمانوں کی حالت پر نظر ڈالتے ہیں تو سوائے افسوس کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ اس لیے کہ قرآن کی حقیقی تعلیم اور مسلمانوں کے عمل میں بہت بڑا تضاد واقع ہو چکا ہے۔ قرآن جس راہ کا تعین کرتا ہے اور مسلمان جس راستے پر چل رہا ہے یہ دونوں ایسی لکیریں ہیں جو آپس میں نہیں ملتیں۔

اللہ کا قانون اپنی جگہ برحق ہے۔ جب لوگوں نے لوہے کی سلاحیتوں کو تلاش کیا وہ لوگ قومی اعتبار سے عزت دار ہو گئے اور ہم نے قرآن کی تعلیمات کو نظر انداز کیا، ہم ذلیل و خوار ہو گئے۔ نماز ، روزہ ، حج، زکوٰۃ اپنی جگہ اہم ہیں ، فرض ہیں ، ضروری ہیں، اس لیے کہ ان ارکان کی ادائیگی سے روح کو تقویت ملتی ہے، روحانی صلاحیتیں متحرک اور بیدار ہوتی ہیں۔ لیکن یہاں معاملہ بالکل الٹا اور برعکس ہے کہ یہ پتہ ہی نہیں چلتا کہ روح کی صلاحیتیں ہمارے اندر موجود  بھی ہیں یا نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے انسان کواپنا نائب بنایا ہے۔ اسے اپنی صفات کا علم دیا ہے۔

نائب کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ اگر مملکت کا صدر اپنے اختیارات کو استعمال کرنے میں کاغذ قلم کا محتاج نہ ہو تو اس نائب اختیارات استعمال کرنے میں کاغذ قلم کا محتاج ہو۔

اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں فرماتے ہیں کہ ہم نے زمین ، آسمان اور اس کے اندر کو کچھ سب کا سب تمہارے تابع فرمان کر دیا ہے ، تمہارے لیے سورج کو مسخر کر دیا ہے ، تمہارے لیے چاند کو مسخر کر دیا ہے، تمہارے لیے ستاروں کو مسخر کر دیا ہے اور اس حاکمیت کو حاصل کرنے کے طریقے بھی بتا دئے ہیں لیکن ہم نے اس تسخیری عمل کو کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا اور اپنے آپ کو عذاب و ثواب کے چکر میں محدود کر لیا ہے۔

مسلمان کے پاس قرآن پاک کی صورت میں ماورائی علوم کا جتنا بڑا سرمایہ موجود ہے ، وہ اسی مناسبت سے مفلوک  الحال ہے۔ مسلمان کے اسلاف نے اس کے لیے حاکمیت اورتر تسخیر کائنات کے بڑے بڑے خزانے ترکہ میں چھوڑے ہیں لیکن وہ بد نصیب قوم ہے جس نے ہیرے کو پتھر سمجھ کر قدر نہیں کی اور خزانے سے مستفیض ہونے کی صلاحیتوں کو استعمال نہیں کیا یہ سب کچھ اس لئے ہے کہ مسلمان نے تفکر (research) کی راہ چھوڑ دی ہے۔

 کتنی مضحکہ خیز ہے یہ بات کہ قرآن کائنات پر ہماری حاکمیت اور سرداری تسلیم کر رہا ہے ، ہمارے اوپر حاکمیت اور سرداری کے دروازے کھول رہا ہے اور ہم قرآن کو محض برکت کی کتاب سمجھ کر طاقوں میں سجائے رکھتے ہیں اور قرآن پر صحیح طرح عمل نہیں کرتے۔ جب کوئی دنیاوی افتاد پڑتی ہے تو اس کی آیات تلاوت  کر کے مصائب سے نجات کی دعائیں مانگتے ہیں لیکن جس مقصد کے لیے قرآن نازل ہوا اس طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ ہم اعمال کے ظاہری پہلو کو تو اہمیت دیتے  ہیں مگر باطن میں بہتے ہوئے سمندر میں سے ایک قطرہ آب بھی نہیں پیتے۔ قرآن میں تفکر اگر ہمارا شعار بن جائے اور ہم اس تفکر کے نتیجے میں میدان عمل میں اترآئیں تو ساری کائنات پر ہماری سرداری مسلم ہے۔

افسوس کہ ہم ان خزانوں کو نظر انداز کر کے دوسروں کے دست نگر بنے ہوئےہیں ۔ بڑی ستم ظریفی ہے کہ ہم جب یہ دیکھتے ہیں کہ موجودہ سائنس کی ترقی میں وہ تمام فارمولے کام کر رہے ہیں جو ہمارے اسلاف نے چھوڑے ہیں اور جو فی الواقع ہمارا ورثہ ہیں لیکن چونکہ ہم نے اس ورثےکو کوئی اہمیت نہیں دی ، اس لیے دوسرے لوگوں نے اس سے فائدہ اٹھایا اور ہم ایک پس ماندہ اور بھکاری قوم بن گئے۔

تسخیر کائنات کے فارمولوں کے ماہر حضرت شیخ عبد القادر جیلانی ؒ فرماتے ہیں:

اے منافقو!

کلامِ نبوت سنو!

آخرت کو دنیا کے عوض فروخت کرنے والو!

حق کو مخلوق کے عوض بیچنے والو!

باقی کو فانی کے بدلے کاروبار کرنے والو!

تمہارا بیو پار سراسر خسارے کا سودا ہے، تمہارا سرمایہ تمہیں بربادی کے گڑھے میں دھکیل رہا ہے افسوس تم پر تم اللہ تعالیٰ کے غضب کا ہدف بن رہے ہو۔۔