Topics

شرارتی بچے

 

انسانی ذہن اور اس میں چھپی دنیا کا الفاظ کے ذریعے احاطہ اتنا ہی مشکل ہے جتنا کہ سمندر کی گہرائی کا، آپ تیرتے چلے جائیں گے لیکن نہ سمندر ختم ہوگا اور نہ خیالات کا سلسلہ۔ دماغ میں انے والے خیالات کی یہ دنیا دراصل امکانات کی دنیا ہے۔ امکانات کی یہ دنیا کتنی وسیع ہے اور مزید کتنے خزانوں کے سراغ کا پتہ دیتی ہے یہ انسان کے تجسس پر منحصر ہے۔

بچے کی نفسیات کا بغور مطالعہ کریں ، اس کی حرکات پر توجہ دیں تو معلوم ہوگا کہ وہ ہر نئی چیز کو ہاتھ لگانا اور اٹھانا چاہتا ہے۔ وہ ایسا کیوں کرتا ہے؟

بچہ ماحول میں موجود چیزوں کو جاننے کی خواہش رکھتا ہے۔ اس کے دماغ میں انے والے خیالات اسے تجسس اور تلاش کی طرف راغب کرتے ہیں کہ یہ کیا ہے اور کیوں ہے۔ اس کا زہن خیالات کی آماجگاہ  ہے۔ ذہن ان خیالات کو قبول کر کے اس میں معنی پہناتا ہے اور کوئی نتیجہ اخذ کرنے کی کوشش کرتا ہے۔۔۔۔ دماغ کے اندر جو لہریں کام کر رہی ہیں جب وہ دماغ  کے تیسرے حصے میں منتقل ہوتی ہیں تو جو حصہ ان کو یاد رکھتا ہے اس کا نام حافظہ ہے۔ بچہ لائٹ کے سوئچ ، الماری کے دروازے ، اسٹور اور دوسری رکھی ہوئی چیزوں کو تلاش کر کے ان کو سمجھنے، سوچنے اور ان کی کھوج لگانے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی کوشش دراصل ارتقاء ہے۔ اس لیے وہ کسی بھاری چیز کو اٹھانے کی کوشش کرتا ہے، سیڑھی چڑھتا ہے کہ دیکھے آخر یہ راستہ کہاں جاتا ہے چھوٹی چیزوں کی بڑی چیزوں میں پھنسانے کی کوشش کرتا ہے اور بڑی چیزوں کو چھوٹی چیزوں میں ڈالنا چاہتا ہے۔ ہر نئی شے کو دیکھ کر وہ آپ سے سوال کرتا ہے۔ جیسے ہی آپ کا جواب ختم ہوتا ہے اس کے پاس ایک نیا سوال ہوتا ہے۔

ہندوستان کے بادشاہ شہنشاہ اکبر کے وزیر کا نام بیربل تھا۔ ایک روز وہ اپنے چھوٹے بچے کو دربار میں لے آیا۔ بچے نئ کسی بات پر ضد کی۔ جب اس کی ضد پوری نہیں ہوئی تو باپ نے پیار سے سمجھایا اور پھر اس کو ڈانٹ دیا۔ اکبر کہا جاتا ہے کہ بہت ذہین بادشاہ تھا۔ اتنا ذہین کہ اس نے اپنا ایک دین بھی بنا لیا تھا۔ بادشاہ نے عرض کیا ” بادشاہ بچوں میں ضد پوری نہیں ہوتی۔“ بادشاہ بولا ” نہیں ، ضد پوری ہو جاتی ہے۔“ بیربل نے با ادب سر جھکا کر بادشاہ کے حضور عرض کیا۔” جہاں پناہ میں بچہ بن جاتا ہوں آپ میری ضد پوری کر دیں۔“ ہندوستان کے بادشاہ نے کہا” ہاں بیان کرو۔“ بیربل کھڑے کھڑے بچہ بن کر زمین پر بیٹھ گیا۔ پہلے اس نے بچوں جیسی حرکتیں کیں اور پھر بادشاہ سے کہا ۔ ” مجھے کلیا چاہیے، کلیا چاہیے، کلیا چاہیے۔ ہندوستان کے بادشاہ نے حکم دیا کہ کلیا حاضر کی جائے۔ کہنے کی دیر تھی کہ کلیا یعنی مٹی کی بچوں کے کھیلنے کے لیے ہندیا حاضر کر دی گئی، بچہ پہلے خوش ہوا۔ تھوڑی دیر اس کے ساتھ کھیلا اور پھر کہا ” اونٹ چاہیے۔“ بادشاہ نے حکم دیا اونٹ حاضر کیا جائے۔ تھوڑی ہی دیر گزری کہ اونٹ حاضر کر دیا گیا۔ اب بچے نے بادشاہ سے کہا اونٹ کو اس کلیے میں بٹھاؤ۔ بچے نے بضد ہو کر کہا میں تو اس کلیے میں اونٹ کو بٹھاؤں گا۔ بادشاہ نے سمجھایا اور بالآخر بچے کو ڈانٹ دیا۔

سوال یہ ہے کہ بچہ چیزوں کو خاموشی سے قبول  کیوں نہیں کر رہا جیسے ہم اور آپ کرتے ہیں؟ اس لیے کہ بچہ دینِ فطرت پر پیدا ہوا ہے۔ فطرت کے تقاضے کی ایک وضاحت اللہ کی آخری کتاب قرآن شریف میں موجود ہے:

” اور جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمیں میں ہے اس سب کو اپنی طرف سے تمہارا مسخر کر دیا۔“

بے شک اس میں ان لوگوں کے لیے جو سوچتے ہیں نشانیاں ہیں۔“   (۴۵ : ۱۳)

بچے میں کھوج اور ہر چیز کو سمجھنے کی خواہش اس کا غورو فکر کی ابتداء تجسس سے ہوتی ہے اور تجسس بچے کو کیا اور کیوں جیسے سوالات کی طرف مائل کرتا ہے۔ یہ تجسس دراصل تلاش ہے۔ اس کے پرانے کھلونوں کے درمیا نیا کھلونا رکھیے، آپ دیکھیں گے کہ اس کی  پہلی نظر نئے کھلونے پر پڑ ے گی۔ یعنی وہ اپنے ارد گرد سے باخبر ہے اور ماحول میں تبدیلی کو فوراً محسوس کر لیتا ہے۔ وہ گائے  ، بھینس اور بکری کی طرح زندگی نہیں گزارنا چاہتا۔

جب ہر بچہ تجسس کی صلاحیت رکھتا ہے تو عمر کے ساتھ ساتھ اس صلاحیت میں کمی کیوں ہوتی جاتی ہے۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ یہ صلاحیت مکمل طور پر دب جاتی ہے ، اب وہ لکیر کا فقیر بن کر زندگی گزارنا شروع کر دیتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے؟ اس لیے کہ یہ والدین پر منحصر ہے آیا وہ اس صلاحیت کو پروان چڑھائیں یا دبا دیں۔ بہت سے والدین یہ ادراک ہی نہیں رکھتے کہ وہ خود اپنے ہاتھوں بچوں کے تجسس کا گلا گھونٹ رہے ہیں۔ اس کے ہر وقت حرکت میں رہنے اور باتیں کرنے کو شرارت کا نام دیتے ہیں۔ اس کی ذہنی اور جسمانی صلاحیتوں کو ضائع کر کے اس کے ذہن کو محدود کر دیتے ہیں۔

جیسا کہ والدین بچے کو پہلا لفظ ” اللہ“ کہنا سکھاتے ہیں لیکن اسے اللہ سے محبت کرنا نہیں سکھاتے۔ اس کے گرد کھلونوں کا ڈھیر لگا دیتے ہیں لیکن اسے یہ نہیں  بتاتے کہ ان کھلونوں کے لیے ماں باپ کو وسائل اللہ تعالیٰ نے فراہم کیے۔ جب ہم اسے چیزیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان چیزوں کی معلومات اور سورس بھی بتائیں گے تو اس کا تجسس بڑھے گا۔ اسے چیزوں کی اہمیت کا اندازہ ہوگا۔ وہ سولات پوچھے گا۔ سوچے گا۔ اس کے دماغ میں نئے سولات ائیں گے اور والدین ، اساتذہ اور ماحول کے بڑوں کو ان کے جوابات کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

والدین بچوں کے سولات ، چیزوں کو ہاتھ لگانے اور توڑ پھوڑ سے بیزار نظر آتے ہیں۔ وہ ان کے تجسس کی تسکین نہیں کرتے بلکہ ان چیزوں کو بچے  کی پہنچ سے دور رکھ دیتے ہیں۔ یوں اس کے ذہن میں ایک گرہ پر جاتی ہے۔ بہتر یہ ہے کہ بچہ جس چیز کو ہاتھ لگانا چاہتا ہے اگر اس سے بچے کو کسی نقصان کا خطرہ نہیں تو اسے ہاتھ میں لینے دیں اور اسے بتائیں کہ یہ کیا ہے اور اس سے کیا کام لیا جاتا ہے۔ ہاتھ میں لے کر تھوڑی دیر بعد وہ خود ہی ایک طرف رکھ دے گا۔ اس کو ایسی کہانیاں پڑھ کر سنائیں جن میں ڈر اور خوف نہ ہو بلکہ خوشی اور امید ہو۔ اس سے باتیں کریں۔ اس سے پوچھیں کہ آج اسکول میں کیا ہوا؟ اس کے دوست کیسے ہیں؟ اسے کیا اچھا لگتا ہے اور کیوں؟ وہ کیا بننا چاہتا اور کیسے؟ اسے کون سا کارٹون پسند ہے؟ اس طرح وہ جواب دینا سیکھے گا۔

بچوں کو قریبی پارک میں لے جایئے ۔ اسے درخت ، پھول ، تتلیاں ، پھل اور پرندے دکھایئے۔ چڑیا گھر لے جائیے تاکہ وہ مختلف جانور دیکھے۔ چاند ستاروں کی طرف متوجہ کیجیے۔ رنگ بھرنے کو دیجیے اور کھلونوں میں بلاکس بھی شامل کیجیے۔ اب بلاکس(Blocks)کا کیا کرنا ہے اور  یہ کیسے بنتے ہیں یہ اسے مت بتائیے، تجسس خود اس کی رہنمائی کرے گا۔ اگر وہ کپ سے پانی گرانا چاہتا ہے تو کپ اس سے دور کرنے کی بجائے اسے کچن میں لے  کر جایئے یا پھر باتھ ٹب یا کسی ایسی جگہ جہاں وہ پانی گرا سکے۔اس سے نہ صرف وہ پانی کا تجربہ کرے گا بلکہ اس میں مسائل کے حل کی صلاحیت بھی پیدا ہوتی جائے گی۔

خاموش رہو اور مجھے تنگ مت کرو جیسے جواب بچے کے تجسس کو ختم کرنے لگتے ہیں جھڑکنے کے بجائے اس کی عمر کے مطابق تسلی بخش جواب دیں یا اسے بتایئے کہ آپ اس وقت مصروف ہیں۔ اگر آپ کو جواب نہیں معلوم تو اسے جھڑکیے نہیں، اس کا ذہن کسی اور طرف لگا دیجیے اور سو سوال اپنے بڑوں سے پوچھیے اور مناسب وقت میں جواب بچے کے ذہن میں نشین کرایئے۔

تجسس بچے کے ذہن کے لیے ایندھن ہے۔ گاڑی میں ایندھن ڈالیں گے تو گاڑی چلے گی بصورت ِ دیگر اس گاڑی کی حیثیت پرزوں سے زیادہ نہیں ۔ اسی طرح اگر ذہن کا ستعمال نہ ہو تو اسے زنگ لگ جائے گا۔

قدرت نے آپ کو ایک صحت مند بچہ عطا کیا ہے۔

اس کی دنیاوی اور روحانی تربیت آپ کی زمہ داری ہے۔ بچے کا ذہن ایک شفاف کینوس کی مانند ہے کہ جس میں ابتدائی طور پر جو رنگ بھر دیئے جائیں وہ اس کی زندگی کی کامیابی و ناکامی کا تعین کرتے ہیں۔ اس کینوس میں تجسس اور غور و فکر کے رنگ بھریئے۔ بچوں کو سوچنا سکھائیے۔ انہیں ماحول اور ان کے استعمال میں انے والی ہر شے سے متعلق معلومات فراہم کیجیے اور پھر بچے کی فکری پرواز دیکھئے۔

یاد رکھیے ! جن بچوں کو غور و فکر کی عادت نہیں ہوتی وہ زندگی بھر کوئی نیا کام نہیں کر سکتے۔ جسمانی طور پر وہ سلامت سہی لیکن فکری طور پر وہ مفلوج ہوتے ہیں۔ تجسس س تلاش ، تلاش سے دریافت ، دریافت سے مسرت ، مسرت سے تکرار ، تکرار سے مہارت ، مہارت سے نیا فن ، نئے فن سے اعتماد ، اعتماد سے تحفظ  کا احساس اور اس احساس کے بعد ایک نئی دریافت اس کی منتظر رہتی ہے۔

بچے کی کامیابی آپ کے اپنے ہاتھ میں ہے اور تجسس جیسی نعمت قدرت کی طرف سے آپ کے لئے ایک بہت بڑا انعام اور مدد ہے۔ اگر یہ تجسس مثبت سمت میں پروان چڑھے تو عمر کے ساتھ ساتھ بچے کے ذہن کو اس قدر وسیع کر دیتی ہے کہ وہ ہر شے کی گہرائی تک پہنچ جاتا ہے اور پھر قدرت کی تخلیق پر غور کرتے کرتے ایک وقت ایسا اتا ہے کہ وہ کائنات کے سر بستہ رازوں سے واقف ہو کر خالقِ کائنات کو جان لیتا ہے۔