Topics
زمین پر انسان کی پیدائش سے قبل
جنات آباد تھے۔۔۔ جنات بھی اچھے اور بُرے کام کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اللہ
تعالیٰ نے اچھے کاموں کا حکم اور بُرے کاموں سے منع فرمایا ہے۔۔۔ اللہ تعالیٰ کی
نافرمانی ، سر کشی ، جھوٹ ، لڑائی، فساد، قتل اور خون خرابہ یہ سب بُرے کام ہیں۔
آہستہ آہستہ جنات میں بُرے کام
زیادہ ہونے لگے جس سے اللہ تعالیٰ نا خوش ہوئے اور کئی مرتبہ جنات کو سزا دی گئی
لیکن وہ نافرمانی سے باز نہ آئے۔۔ جب زمین پر جنات کی سر کشی ، نافرمانی اور فساد
زیادہ ہو گیا تب اللہ تعالی ٰ نے انسان کو تخلیق کیا اور اُسے اپنی صفات کا علم
سکھایا۔ انسان کو زمین پر بھیجا گیا اور حکم دیا گیا کہ اچھے اور بُرے کام کے
درمیان فرق کرو۔ ہم تمہیں سیدھا راستہ دکھائیں گے ہمارے پیغمبر اولاد کو نیک اور
اچھے کاموں کا حکم پہنچائیں گے۔ جو شخص سیدھا راستہ اختیار کر کے نیک کام کرے گا
اس کے لیے خوف اور غم نہیں ہوگا جو شخص پیغمبروں کی بات نہیں مانے گا وہ زمین پر
شکر گزار بندوں کی طرح رہو اور نیک عمل سے دوسرے انسانوں کی خدمت اور خیر خواہی
کرو۔۔ اس طرح تم وہ نعمتیں دوبارہ حاصل کر لو گے جو جنت میں حاصل تھیں۔ شیطان
تمہارا کھلا دشمن ہے۔۔ جو کوئی شیطان کے دھوکے میں آ کر دنیا کی مختصر زندگی
کےآرام و آسائش کے لیے نافرمانی کرے گا اور برے کاموں سے
دوسرے لوگوں کو تکلیف پہنچائے گا وہ شیطان کا دوست اور ساتھی بن کر جہنم میں جائے
گا۔
اللہ
تعالیٰ نے اچھائی اور بُرائی کا فرق سمجھانے کے لئے پیغمبر اس دنیا میں بھیجے۔
” یہ سارے
رسول خوش خبری سنانے والے اور آگاہ کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہیں تاکہ ان کو
مبعوث کر دینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے اور اللہ
بہرحال غالب رہنے والا اور حکیم و دانا ہے۔“
(۴:
۱۶۵)
حضرت
آدم ؑ ، حضرت نوحؑ ، حضرت ابراہیم ؑ ، حضرت
اسماعیل ؑ ، حضرت اسحاق ؑ ، حضرت موسیٰ ؑ ، حضرت عیسیٰ ؑ اور آخری پیغمبر
حضرت محمد ﷺ اور دوسرے تمام پیغمبران علیہم السلام نے توحید کے ساتھ ساتھ رواداری
کی تعلیمات دی ہیں۔
رواداری
کیا ہے؟ بندہ یہ جان لے کہ ہم مخلوق ہیں ہمارا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور ہمارا خالق
چاہتا ہے کہ مخلوق خوش رہے پوری نوعِ
انسانی پُرسکون اور پُر امن زندگی گزارے۔ سب ایک دوسرے سے محبت کریں، ایک دوسرے کو
نقصان نہ پہنچائیں۔ بزرگ خواتین و حضرات کا ادب کریں۔ والدین کا احترام کریں۔ بچوں
سے شفقت سے پیش آئیں۔ بلا تفریق رنگ و نسل ، مذہب و ملت اور ذات و قوم ایک دوسرے
کی عزت اور جان و مال کا احترام کریں۔
ہر انسان کے دو وجود یا دو جسم ہیں
اور کائنات میں موجود ہر مخلوق کے بھی دو وجود یا دو رخ ہیں۔ اسی طرح زمین بھی
مخلوق ہے۔۔۔ اس کے بھی دو وجود یا دو جسم ہیں۔ جس طرح مادی وجود میں مختلف گیسز کا
عمل دخل ہے یا مادی وجود کی وریدوں اور شریانوں میں خون دوڑ رہا ہے۔۔۔ اسی طرح
زمین کے مادی وجود میں بھی گیسز کا براہ راست عمل دخل ہے اور زمین کی وریدوں اور
شریانوں میں بھی انرجی ، توانائی اور پانی دوڑ رہا ہے۔۔۔ زمین کے اوپر جو آبادیاں
ہیں۔۔۔ ہر وقت ان میں تغیر ہوتا رہتا ہے۔
زمین مسلسل محوری اور طولانی گردش
میں سفر کر رہی ہے۔۔۔۔ اس گردش کو پہاڑ کنٹرول کرتے ہیں۔۔ یہ پہاڑ میخوں کی طرح
زمین میں گڑے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
” ہم نے زمین کو فرش بنایا اور
پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑ دیا۔“ (
۷۸ :
۶ ۔ ۷)
زمین کو اداس دیکھ کر ایک صاحب دل
اللہ تعالیٰ کے بندے نے زمین سے پوچھا !
اے میری ماں ! تو کیوں بے قرار ہے؟
کیوں اداس ہے اور کیوں پریشان ہے؟
زمین کی آنکھیں پانی بن گئیں زمین
لرزتے ہوئے اور روتے ہوئے بولی ! میرے بچے !
” میں بھی تمہاری طرح کا ایک وجود
ہوں۔۔۔ جس طرح تمہارے دو وجود ہیں اسی طرح میرے بھی دو وجود ہیں۔۔۔ جس طرح تمہارے
جسم پر پھوڑے پھنسیاں نکلتی ہیں اور جس طرح تمہارے جسم میں سڑاند پھیل جاتی ہے اور
جس طرح تمہارے جسم زہریلے ہو جاتے ہیں۔ ۔۔
اسی طرح میرے ظاہر وجود میں بھی تمہارے بُرے اعمال سے ۔۔۔خود غرضی سے ۔۔ حق تلفی
سے۔۔ دولت پرستی سے۔۔ اور اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے رسول علیہ الصلوٰۃ
والسلام کی نافرمانی سے داغ پڑ گئے ہیں۔۔ زخم ناسور بن گئے ہیں۔۔۔“
زمین نے انکشاف کیا کہ میرے بچے
جانتے ہیں کہ زمین پر موجود ہر وجود حرکت پر قائم ہیں۔ حرکت انسان میں بھی ہے۔۔
حرکت فرشتوں میں بھی ہے۔۔ پہاڑ بھی حرکت کے محتاج ہیں۔۔۔ اور زمین بھی حرکت کی
پابند ہے۔
حرکت میں اعتدال ہوتا ہے تو ہر چیز
ٹھیک ہے اور جب حرکت میں خلل واقع ہو تو توازن بگڑ جاتا ہے۔۔۔ حرکت ضرورت سے زیادہ
کم ہو جائے تو جمود طاری ہو جاتا ہے۔۔۔ حرکت ضرورت سے زیادہ بڑھ جائے تو تباہی
پھیل جاتی ہے۔
ابھی حال میں آزاد کشمیر میں شدید
زلزلہ آیا تھا۔ زلزلہ سے زمین ہلنے لگی
اور پہاڑ اپنی جگہ سے ہٹ کر پیچھے وادی (Valley) کی طرف آگئے ، کئی جگہ گھر ہلتے ہلتے ٹوٹ کر زمین بوس ہو گئے۔
یہ بھی حرکت کا وہ عمل ہے جس میں
عارضی طور پر توازن نہیں رہا ایسا معلوم ہوتا ہے کہ زمین اتنی دکھی ہے کہ وہ آہ
وازری کے ساتھ لرز رہی ہے ۔ زمین کا بحال ہونا اور لرزنے سے حرکت کا متوازن
نہ رہا زلزلہ ہے یہ سب اس وقت ہوتا ہے جب
آدم زاد اس مقصد کو بھول جاتا ہے جس کے تحت اللہ نے اس کے لیے زمین کو پیدا کیا۔
زمین کو متوازن رکھنے کے لیے میخوں
کو قائم مقام بنایا۔ پانی کو متوازن رکھنے کے لیے برف پوش پہاڑ تخلیق کئے حیات و
ممات کو متوازن رکھنے اور اس دنیا سے اُس دنیا سے تیسری دنیا میں سفر کرنے کا
ذریعہ بنایا لیکن جب آدمی انسانیت کا جامہ اتار کر مادر پدر آزاد ہو جاتا ہے۔ اللہ
کے دوست اللہ کے پیغمبر علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بتائے ہوئے راستے سے بھٹک جاتا ہے اور صراطِ مستقیم سے منہ
موڑ لیتا ہے تو زمین لرزنے لگتی ہے، سمندر ، دریا ، ندی ، نالے بے قرار ہو کر اپنی
مقداروں کا توازن قائم نہیں رکھ سکتے تو
بادل برستے ہیں ، ہوائیں طوفان بن جاتی ہیں ، آدمی غلطیوں کوتاہیوں اور گناہوں کے
نتیجے میں اللہ کے عذاب کو دیکھتا ہے اور طوفان اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ آتش فشاں پھٹ
پڑتے ہیں زمین ہلنے لگتی ہے اور عدم توازن اتنا زیادہ ہو جاتا ہے کہ زمین پر موجود
وجود صفحہ ہستی سے غائب ہو جاتا ہے۔
جب کوئی قوم اپنی زمین اور اپنے
وطن سے محبت نہیں کرتی تو دراصل وہ زمین کے تحفظات سے خود کو دور کرتی ہے۔۔۔ اور
اللہ تعالیٰ کا بنایا ہوا قانون ایسے لوگوں کی مدد نہیں کرتا۔ جب کوئی قوم اللہ کے
بنائے ہوئے قانون پر عمل نہیں کرتی تو دراصل و قدرت کے کاموں دخل اندازی کرتی ہے۔
قدرت اس کو سسٹم سے باہر پھینک دیتی ہے۔۔۔ زمین تو موجود رہتی ہے ۔۔۔ لیکن آدم زاد
ہلاکت کے گہرے گڑھوں میں دفن ہو جاتا ہے۔ موجودہ صورت حال یہ ہے کہ مادی استحکام
کے لیے انسانی قدریں پامال ہو رہی ہیں۔۔۔ ہر فنا ہو جانے والی چیز پر بھروسہ کر
لیا گیا ہے۔۔۔ عارضی آسائش و آرام اور زر پرستی زندگی کا مقصد بن گیا ہے۔
انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی
تعلیمات سے اختلاف ۔۔۔ تفرقے بازی ۔۔۔ ملاوٹ ۔۔۔ قتل و غارت۔۔۔ زمین پر فساد ۔۔۔
قدرت سے انحراف ہے۔ قدرت سے انحراف کا مطلب یہ ہے کہ آدمی قدرت کا تعاون نہیں
چاہتا۔۔۔ اس وقت بھی نوعِ انسانی مستقبل کے خوف ناک تصادم کی زد میں ہے۔ زمین اپنی
بقا کی تلاش میں لرز رہی ہے ۔ آندھیاں چل رہی ہیں ، سمندری طوفان آر رہے ہیں۔۔۔ کیونکہ انسان قدرت سے انحراف کر رہا ہے۔
ہر طرف مذہبی ، لسانی اور علاقائی
تعصب کے الاؤ جل رہے ہیں۔ خود غرضی اضطراب اور بے چینی کے ساتھ عام ہو گئی ہے۔۔
واعظوں نے اللہ تعالیٰ کی آیتوں کو کاروبار بنا لیا ہے۔۔۔ ہر آدمی نصیحت کرنے والا
بن گیا ہے۔۔۔ لیکن کسی کو اپنی اصلاح کی فکر نہیں ہے۔۔۔ کھانے پینے کی چیزوں میں
ملاوٹ سے معاشرہ زہر ناک بن گیا ہے۔۔۔ ترقی کے فسوں میں آدمی بیمار ہے ۔۔۔ لوٹ کا
بازار گرم ہے۔