Topics

ہر شے کی موت دوسری شے کی زندگی ہے اور زندگی موت ہے

 

موت اور زندگی ایک فارمولا (Equation) ہے۔

زمین اللہ کی ہے۔ کسان کو بھی اللہ نے پیدا کیا۔ کسان نے زمین میں جو بیج بویا وہ بیج بھی اللہ کی تخلیق ہے۔ بیج کی نشو نما کے لیے آسمان سے برسنے والے پانی کا خالق بھی اللہ ہے۔ اللہ کے حکم سے یہ بیج زمین سے نمودار ہو کر پورے یا فصل کی شکل اختیار کرتا ہے۔ دن میں سورج کی روشنی اور رات میں چاند کی کرنیں اس فصل کی تمام ضروریات کو پورا کرتی ہیں۔ سورج اور چاند بھی اللہ کی مخلوق اور اس کے حکم کے تابع ہیں۔ فصل تیار ہوتی ہیں اور ہماری خوراک کا حصہ بنتی ہے۔ درمیان میں جو مرا حل آئے وہ بھی اللہ کے حکم سے خالی نہیں۔

آدمی محنت کرتا ہے۔ محنت کے لیے صحت و قوت اور روزگار کے ذرائع عطا کرنے والی ذات بھی اللہ پاک کی ہے۔ جسم کو زندہ اور متحرک رکھنے کے لیے نظامِ تنفس اور رگوں میں دوڑتا خون بھی خالق کے حکم کا محتاج ہے۔ اناج کی تخلیق سے لے کر خوراک  کے جسم سے خارج ہونے تک کے سارے عمل کو خدمت اور محبت کے علاوہ کچھ نام نہیں دیا جا سکتا جس میں خالق کائنات اور اس کا بنایا ہوا نظام دن رات مصروف ہے۔

جڑی بوٹیاں ، پھل پھول  اور پودے بھی اللہ کی مخلوق ہیں جس طرح انسان کی پیدا ئش مرحلہ وار عمل کے تحت ہوتی ہے ۔ اسی طرح نباتات ، جمادات اور حیوانات بھی پیدا ہوتے ہیں۔ سب کو رزق دینے والا اللہ ہے۔ کائنات کی تخلیق اس طرح کی گئی ہے کہ ہر ذرہ دوسرے ذرے کا نیاز مند ہے۔ ہر مخلوق قدرت کے بنائے گئے Mechanism  کے تحت ایک دوسرے کی خدمت میں مصروف ہے۔

وجود کے دو رخ ہیں۔ وجود کا ایک رخ Conscious ہے اور وجود کا دوسرا رخ Subconscious ہے۔ کوئی وجود چاہے وہ مرئی ( مادی ) ہو یا غیر مرئی ، دو رخوں کا محتاج ہے۔ دونوں رخ ایسی مقداروں پر تخلیق ہوئے ہیں جو اس قانون سے باہر نہیں۔ جب تک دو رخ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر کے ایک دوسرے کو قبول نہیں کرتے یعنی ایک دوسرے میں جذب نہیں ہوتے تیسرا وجود ظاہر نہیں ہوگا۔ اور یہ وہ قانون ہے جو تمام آسمانی صحیفوں اور کتابوں میں مختلف زاویوں سے بیان کیا گیا ہے۔

اس کی واضح مثال اندھیرا ، روشنی ، روشنی اندھیرا ، گرم ٹھنڈا ، کڑوا پھیکا، گرمی  سردی ، بھوک پیاس ، سونا جاگنا ، کسی کو چاہنا اور یہ طلب کہ کوئی اسے چاہے۔۔۔جتنا آپ زندگی کا تجزیہ کریں اتنا ہی یہ معمہ حل ہوتا چلا جائے گا ۔ یہاں تک کہ ایسے نقطے پر پہنچ جائیں گے جہاں دوسرے رخ کا تذکرہ ممکن نہ ہو۔

خالق ِ کائنات اللہ آسمانی کتابوں اور آخری آسمانی کتاب قرآن کریم میں جگہ جگہ ارشاد فرماتے ہیں کہ  تخلیق ِ کائنات پر غور کرو۔۔۔ زمین سے نمودار ہونے والے رنگ رنگ پھل ، مخمل کی طرح ملائم خوشبو سے معطر  پھول ، اور زمین کے اندر موجود ظاہر ہونے والی معدنیات اور گیسز وغیرہ پر جب ” اولی الالباب“ ( صاحب ) اللہ کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ تفکر کرتے ہیں تو وہ یہ مشاہدہ کر لیتے ہیں کہ خالق کائنات کی تخلیق میں دو وجود زیرِ بحث اتے ہیں۔ جب تک وجود نہیں ملتے تیسرا وجود مظہر نہیں بنتا۔ اور جب تیسرا وجود  مظہر بنتا ہے اس کے بھی دو رخ ہیں یہ ایسا مسلسل عمل ہے جو تخلیقی فارمولا ہے۔ اور اس  علم کو آسمانی کتابوں کے مطابق نوعِ انسانی کے وہ افراد حاصل کر سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی آیات یعنی نشانیوںمیں تفکر کرتے ہیں ، ریسرچ کرتے ہیں ، کھوج لگاتے ہیں۔شے کی کنہ تک پہنچنے کی جدو جہد کرتے ہیں، غلاف در غلاف تخلیق میں بند پردوں کو اللہ کی دی ہوئی توفیق کے ساتھ کھول دیتے ہیں۔ یہ ایسا معمہ نہیں ہے جو سمجھ نہ آئے۔ ہر شخص اس پر تفکر (ریسرچ) کر کے ، غور کر کے ۔ عقل و دانائی کے ساتھ بڑی آسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ آسمانی کتاب قرآن میں جو اللہ نے اپنے آخری پیغمبر پر نازل فرمائی ہے واضح ارشاد :

” اور ہم نے اس قرآن کو سمجھنا آسان کر دیا ہے۔ ہے کوئی سمجھنے والا۔؟“       (۵۴۔۱۷)

بندہ جب اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ” اولی الالباب“ کے گروہ میں شامل ہو کر قدرت نے جو مشاہدات میں منظر کشی کی ہے مثلاً چاند ، سورج ، ستارے رنگ رنگ پہاڑ ، رنگ رنگ سمندر اور رنگ رنگ پرندوں کے پر اور رنگ رنگ پھول اور پودوں پر تفکر کرتا ہے تو دماغ میں ایسے در کھل جاتے ہیں ( یعنی خلیے چارج ہو جاتے ہیں) کہ آدمی کی نظر محدودیت کے دائرہ کار سے نکل کر لامحدود حدوں سے آگے نکل جاتی ہے۔ یہ وہ عمل ہے جسے تمام پیغمبروں نے تفکر کا نام دیا ہے۔

جب ہم تفکر کرتے ہیں تو ہمارے اندر ضمیر جو نورِ باطن ہے ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ اس تفکر کے ذریعے زمین اور سات آسمان اور اس کے اوپر کے مقامات ہماری ان آنکھوں کے سامنے آجاتے ہیں جو خواب کے حواس میں کام کرتی ہیں۔

اس علم کو کیسے حاصل کیا جائے۔۔۔ کیسے پردہ کشائی ہو۔ حقیقت تک رسائی کیسے ممکن ہے۔۔۔اس کا جواب آسان ہے۔

مادی وجود چاہے نہ چاہے دوسری مخلوق کی خدمت میں مصروف ہے ۔ زمین اپنی کوکھ میں جب نطفہ ( نطفہ سے مراد تخم) اپنے رحم میں محفوظ کر لیتی ہے تو اس کی نشونما کرتی ہے اور اس نشونما میں جتنے عناصر ہیں ان کو عناصر اربعہ کہتے ہیں یعنی آگ ، ہوا ، مٹی اور پانی ہاتھ باندھے غلام کی طرح خدمت میں مصروف ہیں۔

( ہر شے دوسری شے کے لیے موت کے منہ میں جا رہی ہے۔ وہ شے جو موت میں منتقل ہو رہی ہے کسی دوسری شے کے لیے حیات بن رہی ہے۔ رات موت کے منہ میں جاتی ہے تو سحر ہوتی ہے ۔ دن پر موت وارد ہوتی ہے تو رات نظروں کے سامنے آ جاتی ہے۔ اسی طرح گندم ہم کھاتے ہیں۔)

اس کا یہ مطلب  نہیں کہ گندم ہمارے اندر دفن ہو جاتا ہے بلکہ گندم جسم میں جانے کے بعد اپنی انرجی سے ہمیں پروان چڑھاتا ہے اور خود فضلہ بن کر جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ جب ہوا آکسیجن بن کر جسم میں تحلیل ہوئی تو کیا اس پر موت وارد نہیں ہوئی؟ اس کا مطلب یہ ہے کہ موت زندگی اور زندگی موت ہے موت اور زندگی ملتے ہیں تو حیات بنتی ہے۔ حیات سے مراد تیسرے وجود کی تخلیق ہے۔ یہ ایسا سلسلہ ہے جو اللہ نے اپنی مخلوق کی نشو نما ، تحفظ ، آرام اور راحت کے لیے قائم کیا ہے اور انھیں زمین پر ہمارا خادم بنایا ہے۔

اگر زمین ہماری خادم ہے تو ہم بھی نافرمان نہیں۔ ہم بھی زمین کی خدمت کر رہے ہیں۔ اگر زمین کے ذرّات ایثار کر کے ہمیں وجود بخشتے ہیں تو اسی طرح ہم بھی ایثار کر کے زمین کے ذرات کو وجود بخش رہے ہیں۔ کیا یہ ہمارا مشاہدہ نہیں کہ جسم جب مٹی میں چھپا دیا جاتا ہے تو وہاں جو بھی پروسیس ہو، پورا جسم ، گوشت، پوست پھیپھڑے ، آنتیں یا وہ صورتیں جو پسندیدہ اور نا پسندیدہ ہیں۔۔۔ وہ سب مٹی میں تبدیل نہیں ہو جاتے؟ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ زمین کے ذرات سے بننے والے وجود جو عارضی اور فکشن ہے وہ دوبارہ زمین کے ذرات میں تبدیل ہو جاتا ہے۔

معروف روحانی سائنسدان حضور قلندر بابا اولیاءؒ اس حقیقت کو اپنی رباعی میں بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

آدم    کا       کوئی     نقش    نہیں    ہے     بیکار

اس             خاک        کی   تخلیق   میں            جلوے             ہیں                                 ہزار

دستہ    جو          ہے             کوزے                    کو                اٹھانے               کے              لیے

یہ            ساعد             سیمیں                    سے                    بناتا                                    ہے                 کمہار

آدم کا کوئی نقش بے کار نہیں ہر نقش گوشت پوست ، ہڈی ، دل ، گردے وغیرہ مٹی میں دفن ہو کر مٹی بن جاتے ہیں۔ کمہار جاتا ہے اس مٹی کو اٹھا لاتا ہے اور اس سے کوزہ بناتا ہے۔ اور نازنین ماہ جبین کی خوبصورت کلائی کی مٹی سے کوزہ میں دستہ لگا دیتا ہے اور اس میں مشروب پیا جاتا ہے۔ شربت ہو ، پانی ہو یا شراب۔

ہر تخلیق مٹی کا مرکب نظر آتی ہے۔ لیکن یہ مٹی دراصل ہے کیا؟ مختلف تخلیقات کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے؟

روحانیت کی زبان میں مٹی کا مطلب صرف مٹی نہیں بلکہ یہ ایک ایسا مظہر ہے ، ایسا Mechanism ہے جس میں تخلیقی فارمولے متحرک ہیں اور اس میں چھپی ہوئی مقدراوں سے نئی نئی تخلیق ظاہر ہو رہی ہے۔ یہ فارمولے جن کی بنیاد اللہ کا نور ہے، خالق کائنات کی صناعی کا مظہر ہیں۔ اور اللہ کی سناعی کے راز ا ن لوگوں پر روشن ہوتے ہیں جو خالص اس کی راہ میں جدو جہد کرتے ہیں ۔ تفکر کرتے ہیں۔ سوچتے ہیں۔ تحقیق و تلاش کی جستجو رکھتے ہیں۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے:

”جو لوگ میرے لئے جدو جہد کرتے ہیں میں ان کے کے لیے اپنی راہیں کھول دیتا ہوں۔“   (۲۹:  ۶۹)

اللہ رب العالمین ہے۔ اس کی رحمتیں اور برکتیں بلا تفریق مذہب و ملت منکر تابع سب کے لیے ہیں۔ چاند ، سورج ، ستارے ، باش ، زمین وغیرہ ہر مخلوق کو اللہ کے حکم سے فیض پہنچارہے ہیں۔ اسی طرح ازل میں حضرت آدم ؒ کو دیا گیا علم بھی نوعِ انسانی کا ورثہ ہے۔ ایک شخص چاہے جو بھی عقیدہ رکھتا ہو اگر کائنات میں تفکر کو اپنا شعار بنا لیتا ہے تو الٰہی قانون کے مطابق اس پر حقائق منکشف ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

مسلمانوں نے جب تفکر کو اپنایا تو ہر شعبہ میں عروج حاصل کیا۔ وقت معلوم کرنے کے لیے دھوپ گھڑی (Sundial) کا موجد احمد بن محمد کثیر فرغانی تھا جبکہ گھڑی مسلم سائنسدان احمد بن موسیٰ  شاکر نے ۸۵۳ عیسوی میں ایجاد کی۔ جابر بن سنان البطانی نے شمسی سال پر تحقیق کی اور دریافت کیا کہ ایک سال ۳۶۵ دن ، پانچ گھنٹے ، چالیس منٹ اور چوبیس سیکنڈ طویل ہوتا ہے۔ ابراہیم ابن سنان نے سورج کی ظاہری حرکات اور شمسی ساعتیں (Solar Hours) معلوم کیں۔ ابو سعید احمد بحتانی نے ۱۰۲۴ ء میں زمین کی گردش کا نظریہ پیش کیا۔ ابو جعفر محمد بن ابن موسیٰ الخوارزمی ماہر فلکیات ، ریاضی دان اور تاریخ کے علم کا ماہر تھا۔ موجودہ دور کی تمام ترقی اس کی تحقیقی علوم کی بدولت ہے۔ انسانی تاریخ کا پہلا باضابطہ کیمیادان جابر بن حیان تھا۔ ثابت بن قرۃ نے طب میں علم تشریح یعنیanatomy کی طرف خاص توجہ کی اور انسانی اعضا کے متعلق جدید معلومات حاصل کر کے کتابیں تحریر کیں۔ ریاضی میں جیومیٹری کی اشکال کے متعلق ایسے مسائل اور کلیات دریافت کیے جو اس سے پہلے معلوم نہ تھے۔ دنیا کی سب سے پہلی انسائیکلو پیڈیا دسویں صدی عیسوی میں مسلمانوں کی ایک جماعت ” اخوان الصفا“ نے مرتب کی۔ مسلم موسیقار امیر خسرو نے موسیقی کو نت نئے ساز اور آلات دیئے۔ صرف یہی نہیں مسلم سائنس دانوں کی ایجادات کی فہرست طویل ہے اور ہمارے صفحات کم ہیں۔

جب تحقیق و تلاش کا یہ سلسلہ رکا تو مسلمانوں کا زوال شروع ہوا جو آج بھی جاری ہے۔ مغرب نے مسلمانوں کی ریسرچ سے استفادہ کیا اور مسلم دانشوروں اور سائنس دانوں کی کتب کا ترجمہ کر کے اپنے نصاب میں شامل کیا۔ یہی وجہ ہے کہ تحقیق و تلاش اور ترقی کا سورج کو کبھی مشرق میں روشن تھا آج مغرب کو منور کر رہا ہے۔

قوموں کے عروج و زوال کا انحصار تفکر پر ہے۔ قرآن ۷۵۰ مقامات پر نوع انسانی کو اللہ کی نشانیوں پر غور کرنے کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ موجودہ سائنس ٹائم اینڈ اسپیس کو تسخیر کرنے کی کھوج میں ہے اور اس کا فارمولا آخری کتاب قرآن میں ہے۔

قرآن کی صورت میں علوم کا ذخیرہ ہمارے اپنے گھروں میں موجود ہے۔۔۔ لیکن خوبصورت غلافوں میں  بند۔۔۔ جو وقت ادر اُدھر کی باتوں اور گلے شکووں میں ضائع ہوتا ہے وہ ذہن کو انتشار ، کڑھنے اور حسد کے سوا کچھ نہیں دیتا۔ غیر ضروری باتوں میں الجھے بغیرہم روزانہ تھوڑی دیر قرآن کو پڑھیں اور سمجھنے کی کوشش کریں تو نہ صرف خود آگہی ملے گی بلکہ ذہن میں موجود کائنات کی لامحدود وسعتیں بھی سامنے آئیں گی۔۔