Topics

ہر شے سایہ ہے

 

سایہ کیا ہے اور سائے کی مساوات کیا ہے؟ عرصہ دراز سے جواب کی جستجو میں ہوں۔ دیوار اور زمین پر بننے والے سایوں کو دیکھتی ہوں۔ یہ دن کی روشنی  میں چھوٹے اور گہرے ہوتے ہیں، رات کی روشنی میں دراز اور مدہم نظر آتے ہیں۔ دن میں ایک سے زیادہ سائے بنتے ہیںلیکن تیز روشنی کی وجہ سے کم تعداد میں نظر آتے ہیں۔ رات میں بھی تعداد ایک سے زیادہ ہوتی ہے اور ترتیب سے ہر سائے کا سایہ نظر آتا ہے۔ سائے کی طوالت کا  تعلق سورج کے زمین سے قریب دور ہونے سے ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ سور قریب ہو یا دور ، ہر چھوٹی بڑی تخلیق کا سایہ ہمہ وقت زمین پر موجود رہتا ہے اور گھٹتا  بڑھتا ہے۔

زمین اور دیوار پر بننے والے سیاوں پر غور کیا تو دلچسپ مشاہدات ہوئے۔ سائے اجسام کی حرکت کے تابع تھے جیسے درخت کی شاخیں لہلہانے سے زمین پر ان کا سایہ لہلہایا۔ شاخ پر بیٹھا پرندہ اڑا تو اس کے سائے نے بھی پرواز کی۔ دو آدمی دھوپ میں کھڑےبات کر رہے  تھے۔ ان کے سائے پر نظر ٹھہری تو فریب نے جال بنا کہ آدمی نہیں ، ان کے سائے بول رہے ہیں اور ہاتھ ہلا رہے ہیں۔ نقوش واضح نہ ہو سکے لیکن جسمانی خاکہ نمایاں تھا جس سے علم ہوا کہ کون بول رہا ہے اور کون خاموش  ہے۔

طویل اور مختصر سفر کے دوران گاڑی اور موٹر سائیکل سواروں کے سڑک پر بننے والے سائے دیکھے۔ ہر سایہ پوری حرکات کے ساتھ مجسم تھا۔ یاد نہیں رہا کہ میں سایہ دیکھ رہی ہوں ۔ جب نظر مظاہرے پر ہو ، جہاں سے اطلاع آرہی ہے ، وہاں نہ ہو تو ہم سائے کو اصل سمجھ کر گمان  کرتے ہیں کہ سایہ حرکت کرتا ہے جبکہ سایہ محض عکس ہے جو کہیں سے آنے والی اطلاع کا مظاہرہ ہے۔ اس نکتے کی روشنی میں اطلاع اور مظاہرے کو مشاہداتی طرزوں میں سمجھا جا سکتا ہے۔

تجربہ  :  دن کی روشنی میں بیٹری سے چلنے والا ہر دن فرش پر رکھا تو کچھ فاصلےپر پیچھے کی طرف دیوار پر ہرن کا سایہ بنا۔ سائے کو دیکھنے سے دماغ کی اسکرین پر تصویر بنی اور نظر آیا کہ ہرن کھڑا ہے۔ ہرن نے پہلے دائیں بائیں دیکھا ، چند قدم لیے اور قلانچیں بھریں۔ بیٹری میں توانائی کی مقدار صفر پر پہنچتے ہی ہرن ساکت ہو گیا۔

یہ حقیقت کا مشاہدہ تھا، فریب کا یا حقیقت سے واقف ہونے کا، فیصلہ قارئین کریں۔

نظر اب تک دیوار پر تھی کیونکہ انتظار تھا کہ ہرن دوبارہ حرکت کب کرے گا۔ بھول گئی کہ جس ہرن (سایہ) کو میں دیکھ رہی ہوں ، وہ اطلاع کا مظاہرہ ہے۔ حرکت اطلاع میں ہے، مظاہرے میں نہیں ہے۔ اطلاع حرکت کرتی ہے۔ مظاہرہ حرکت کو ظاہر کرتا ہے۔

جس ہرن (سایہ) کو میں دیکھ رہی تھی جب اُس نے گردن گھمائی تو یہ اُس ہرن نے گردن نہیں گھمائی جسے میں دیکھ رہی تھی۔۔۔ گردن قریب موجود بیٹری سے چلنے والے ہرن نے گھمائی تھی جس کی اطلاع کچھ فاسلے پر پیچھے کی طرف نظر آنے والے ہرن (سایہ) تک پہنچی۔ ایسے میں بیٹری سے چلنے والے ہرن کی حیثیت اطلاع کی ہے۔ بیٹری کو کہاں سے تحریک ملتی ہے ، اس کی وضاحت مضمون میں موجود ہے۔

فارمولا یہ ہے ،

ایک اطلاع ہے ۔ ایک مظاہرہ ہے۔                                                  

اطلاع بھی ہرن ہے اور مظاہرہ بھی

لیکن مظاہرہ اطلاع کا سایہ (عکس) ہے

حرکت اطلاع میں ہے ، سائے میں نہیں

سایہ اطلاع کو ظاہر کرنے کا وسیلہ ہے۔

ایک بیٹری والا ہرن ہے، دوسرا سایہ ہے ۔ سایہ مظاہرہ ہے اور بیٹری والا ہرن سائے کے لئے اطلاع ہے۔


 

تحقیق و تلاش ( سائنس) کہتی ہے کہ سایہ تاریک یا دھندلا حصہ ہے جو روشنی کے راستے میں رکاوٹ کی وجہ سے بنتا ہے۔ روشنی ہر لمحہ سفر میں ہے۔ روشنی کے درمیان میں کوئی جسم آتا ہے تو روشنی کا کچھ حصہ آگے بڑھنے سے رک جاتا ہے اور جسمانی ہیولے کے مطابق تاریکی کو ظاہر کرتا ہے جسے ” سایہ“ کہتے ہیں۔ تاریک حصہ آس پاس روشنی بکھرنے اور انعکاس کی وجہ سے مکمل تاریک  نہیں ہوتا بلکہ نسبتاً کم روشن ہوتا ہے ۔ سائنس یہ کہتی ہے کہ سایہ دن یعنی روشنی کی موجودگی میں بنتا ہے، رات میں سائے نہیں بنتے۔

سائنس ایسا کیوں کہتی ہے ، اس سے قطع نظر علمائے روحانیت فرماتے ہیں کہ رات، دن کی طرح روشن ہے۔ رات کے رنگوں سے گیر مانوسیت کو ” اندھیرا“ کہہ دیا گیا ہے۔

”راز“ یہ ہے کہ ہمیں سورج سے منعکس شدہ روشنی میں دیکھنے کی عادت ہے۔ ہم براہ راست نہیں دیکھتے۔ بالواسطہ دیکھنا یہ ہے کہ جب تک روشنی یا لہر کسی چیز سے ٹکرا کر واپس مظاہرہ نہیں بنتی ، ہم نہیں دیکھتے۔ ہم رکاوٹ کے دیکھنے کو دیکھتے ہیں جس کو reflection یا عکس کہتے ہیں ۔ یہ دیکھنے کی ناقص طرز ہے۔

دن اور رات کیا ہیں۔۔۔؟ جب لاشعور سے انے والی روشن لہروں کے درمیان خلا بڑھتا ہے تو یہ دن ہے اور جب شعاعوں کے درمیان خلا سمٹتا ہے تو اس مظہر کا نام رات ہے۔ ہم خلا کے دیکھنے کو دیکھتے ہیں۔

سائے کا موضوع اتنا وسیع ہے کہ بات سے بات نکلے گی اور زمین کا محیط بشمول رنگوں کا نظام زیرِ بحث   آجاتا ہے۔ اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ سایہ اصل کی نقل ہے۔۔ نقل۔۔۔ اصل سے دوری کو ظاہر کرتی ہے۔ سوالیہ نشان یہ ہے کہ قرب اور دوری کیا ہے؟

گفتگو میں مصروف دو آدمیوں کے سایوں پر نگاہ مرکوز کرنے سے ذہن کھلا کہ جسم کے ساتھ بولنے والے کی آواز بھی سائے میں موجود ہوتی ہے۔ جس طرح سراب زمین پر، فضا میں اور پانی پر بنتا ہے، اسی طرح صوتی سائے بننے کے ایک سے زیادہ میکانزم ہیں۔ آواز (صوت) کے فضا میں بننے والے سائے کو ہم باز گشت یعنی echo کہتے ہیں۔ بازگشت کو ہم ایک خاص فاسلے تک سنتے ہیں ، سماعتی حد محدود ہونے سے بعد ازاں اسے غائب سمجھ لیتے ہیں۔

اگرچہ سایہ پوری جسمانی حرکات ، جذبات اور آواز کے ساتھ ریکارڈ ہوتا ہے لیکن زمین پر بننے والے سائے میں بولنے والے کے چہرے کے زاویے ظاہر ہوتے ہیں ، آواز  سنائی نہیں دیتی۔تفکر نشاندہی کرتا ہے کہ آواز کی لہریں جسم کے مقابلے میں لطیف ہیں۔ یہ زمین یا دیوار میں جذب ہو کر بہت مدہم ہو جاتی ہیں جس کی وجہ سے ہم اسے سننے سے قاصر ہیں لیکن ہم سن سکتے ہیں۔

سایہ ہماری طرح رنگین ہے لیکن تاریک نظر آتا ہے۔ وجہ یہ ہے کہ یہ مٹی کے جسم سے الگ ایک وجود ہے اور اس کا تعلق ایسے نظام سے ہے جس کے رنگ دیکھنے کے لئے آدمی کی بصیرت اور بصارت محدود ہے۔

دستک :     تفکر کے دوران ایک سے زیادہ بننے والے سایوں نے بار بار دستکدی۔ ذہن متوجہ ہوا کہ ہر سائے کا سایہ ہے جو روشنی سے دور ہونے کی وجہ سے بتدریج ہلکا ہوتا جاتا۔ تعدادپر تفکر سے بند ذہن کھلا کہ زمین پر ہر شے سایہ ہے۔ آدمی یا ہرن کا سایہ فرش یا دیوار پر بنتا ہے تو اس اعتبار سے آدمی بھی کہیں سے  آیا ہےاور کہیں جا رہا ہے۔  وہ کائنات ریکارڈ میں موجود اپنے کردار کا زمین پر سایہ ہے۔

فہم   :        لاشعور سے روشنی آتی ہے اور کہکشانی نظاموں مین پھیلتی ہے۔ روشنی میں پوری کائنات کی اطلاعات ہیں۔ پروجیکٹر پر فلم کے فیتے کی طرح جس میں پوری فلم ریکارڈ ہے، جب فیتے پر سے روشنی گزرتی ہے تو اس پر نقش تصاویر کے سایوں کو اسکرین پر بکھیر دیتی ہے۔ 1908ء تک یہ سائے بلیک اینڈ وائٹ تھے۔ جب محقق نے اس علم میں تفکر کیا تو فیتے پر ریکارڈ تصاویر کے رنگین سایوں کو اسکرین پر رنگین ظاہر کرنے کا علم دریافت کر لیا ۔

سوال : فہم کی رُو سے آدمی سمیت زمین پر مخلوقات کی حیثیت کیا ہوئی۔۔؟

لاشعور سے روشنی آتی ہے۔ اس کی راہ میں جتنے سیارے یا نظام آتے ہیں، روشنی کائناتی فیتے پر موجود اطلاعات کا عکس (سایہ) ان نظاموں میں بکھیر دیتی ہے۔ سمجھنے کے لیے مضمون میں دی گئی ہرن کی مثال دوبارہ پڑھئے۔

سائے کی حقیقت کیا ہے، میں نہیں جانتی۔ اب تک سائے کو سورج سے منعکس شدہ روشنی میں دیکھا ہے یا بلب کی روشنی میں، براہ راست نہیں دیکھا لیکن تفکر کے ذوق نے سائے سے انسیت پیدا کی ہے۔ میں سائے کی تلاش میں تھی، جانے بغیر کہ میں خود ایک سایہ ہوں جس کا ریکارڈ لاشعور میں نقش ہے۔ میرا ریکارڈ کسی اور مقام پر حرکت میں ہے اور میں ریکارڈ کے زمین پر ظاہر ہونے کاایک میڈیم ہوں۔

یہ خیال کہ میں کون ہوں اور سایہ کیا ہے، سائے میں پیدا نہیں ہوا۔ یہ تقاضہ وہاں  موجود ہے جہاں سے میرے ہونے کی اطلاعات زمین پر ظاہر ہورہی ہیں۔ اپنے ہونے  کا احساس جب زمین پر میرے سائے میں منتقل ہوتا ہے تو میں ہرن کی طرح متحرک کھلونا بن جاتی ہوں۔

سایوں کی تعداد نے اشارہ کیا کہ آدمی کے لاشمار پرت ہیں۔ ہر پرت اپنے سے پہلے پرت کا سایہ ہے۔  جتنے سائے ہیں ، دوسری دنیاؤں میں آدمی کی موجودگی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ہلکے اور گہرے تمام سائے کسی نہ کسی زمین پر فرد ہیں۔ جو سایہ کائنات کی جس زمین سے مناسبت رکھتا ہے، یہاں پر موجود آدمی شعوری طور پر اس زمین پر متحرک ہو سکتا ہے بشر طیکہ وہ حرکت کے ” محرک“ سے واقف ہو جائے۔

” کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارا رب کیسے سائے کو دراز کر دیتا ہے؟ اگر وہ چاہتا تو اسے ضرور ساکن کر دیتا پھر ہم (اللہ) نے سورج کو سائے پر دلیل بنایا ہے۔ پھر ہم اس سائے کو بتدریج اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔“

(الفرقان : ۴۵۔۴۶)