Topics
” وہ جس نے آسمانوں اور زمین اور
ان کے اندر کی چیزوں کو چھ دن میں پیدا کیا۔ پھر عرش پر قرار پکڑا وہ رحمٰن ہے۔ تو
اس کو کسی خبردار سے پوچھ ۔“ ( ۲۵ : ۵۹)
الف اللہ چنبے
دی بُوٹی
مرشد من وچ لائی ہو
نفی اثبات دا پانی ملیا
ہر رگے ہرجائی
ہو
اندر بوٹی مشک مچایا
جاں پھلن تے آئی ہو
چر جگ جیوے مرشد باہو
جے اے بوٹی مَن لائی ہو
الف …… یہ پہلا حرف ہے جو بچہ اسکول میں سیکھتا ہے۔ انگلش میں A ، ریاضی میں 1 اور اردو میں الف سے تدریسی عمل کی ابتدا ہوتی ہے۔ الف کے بعد ب سکھایا جاتا ہے
کہ تین مختلف سمتوں میں الف بنانے سے ب بنتا ہے۔ انگریزی میں b کی بھی یہی کہانی ہے۔ فرق یہ ہے کہ b اور ب کو مخصوص شکل دینے کے لیے الف کے آخری حصے کو Curve کر دیا جاتا ہے۔ اور یوں الف مختلف صورتوں میں ڈھلتے ڈھلتے اردو
میں ے اور انگلش میں Z
پر ختم ہوتا ہے۔ ختم کا لفظ اس لیے استعمال ہوا کہ ذکر مادی علم کا ہے۔ مادی علم
محدود ہے ، جس کی بالآخر حد مقرر ہے۔ لیکن اس بات سے انکار ممکن نہیں کہ حرف ب ہو
، ج ، د یا پھر ے… اسی طرح B ہو K,Qیا Z ۔۔۔ سب کی بنیاد الف ہے۔ سب الف سے شروع ہوتے ہیں ، الف ان میں
ربط قائم کرتا ہے اور الف پر یہ ختم ہو جاتے ہیں۔ قاعدہ یہ بنا کہ یہاں جو کچھ ہے
وہ الف ہے اور الف مختلف صورتوں میں اپنا مظاہرہ کر رہا ہے۔
قارئین
! قلم اٹھایے اور مشق کیجیے۔ اردو کے حروف تحریر کیجیے ، اس طرح کہ کہیں بھی الف
کو موڑا نہ جائے۔ جب آپ الف سے ے تک حروف تہجی لکھیں گے تو بات سمجھ میں آ جائے گی۔ اس قاعدے کو لکھنے میں تھوڑی
مدد ہم آپ کی کر دیتے ہیں ، اسے مکمل آپ کیجیے۔
²²²²
کائنات میں ہر شے شکل و صورت رکھتی ہے کیونکہ مخلوق کی تعریف یہ ہے کہ مخلوق کی شکل و صورت ہو۔ شکل و صورت سے مراد خدو خال ۔ حدود ، ضابطے اور قاعدے کا تعین ہے مخلوق جس کی پابند ہے۔ صرف اللہ وحدہ لا شریک کی ذات شکل و صورت سے ماورا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: ” سو تم جس طرف منہ کرو ، وہاں اللہ ہے۔“ ( ۱۱۵:۲) اللہ کی روشنی ہے آسمانوں کی اور زمین کی۔ کہاوت اس روشنی کی ، جیسے ایک طاق اس میں ایک چراغ ، چراغ ایک شیشے میں۔ شیشہ جیسے ایک تارا ہے چمکتا ، تیل جلتا ہے اس میں ایک درخت برکت کے سے ۔ وہ زیتون ہے ، نہ سورج نکلنے کی طرف نہ ڈوبنے کی طرف ، لگتا ہے اس کا تیل کہ سلگ اٹھے گوابھی نہ لگی ہو اس میں آگ ۔ روشنی پر روشنی ، اللہ راہ دیتا ہے اپنی روشنی کی جس کو چاہے اور بتاتا ہے اللہ مثالیں لوگوں کو۔ اور اللہ سب چیز جانتا ہے ۔“ ( ۳۵:۲۴) ۱۔ اللہ ۲۔ روشنی ۳۔ آسمان ۴۔ زمین ۵۔ مثال یہ ہے کہ طاق ۶۔ طاق میں قندیل ۷۔ قندیل میں چراغ ۸۔ قندیل ایسی جیسے چمکتا ہوا ستارا ۹۔ زیتون کا تیل (زیتون کے تیل میں دھواں نہیں ہوتا) ۱۰۔ سمت ، مشرق نہ مغرب ۱۱۔ روشن ایسا جیسے بھڑکتی آگ ۱۲ ۔ تہہ در تہہ روشنی ۱۳ ۔ اللہ جس کو چاہتا ہے اس کو ہدایت دیتا ہے ۱۴۔ اور مثالیں دے کر فارمولے بیان کرتا ہے ۱۵۔ اور اصل حقیقت کیا ہے ۔۔۔ یہ اللہ جانتا ہے۔ ایک بار پھر حروف تہجی کی طرف آیئے۔ حرف سے لفظ ، لفظ سے جملے سے مضمون بنتا ہے۔ حروف کی مشق آپ کر چکے ہیں۔ اب ان حروف سے لفظ بنایئے جیسے کہ درخت ۔ ہمیں معلوم ہے کہ کائنات میں مخلوق کی پہچان شکل وصوورت کی بنیاد پر ہے۔ لفظ ہو ، جذبہ یا ارادہ ، سب شکل و صورت رکھتے ہیں۔ لفظ درخت سنتے ہی دماغ میں درخت کی تصویر بن جاتی ہے بالکل ایسے جیسے لفظ محبت سن کر نرمی ، شفقت اور تحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ غصہ یا نفرت جیسے الفاظ جب سماعت سے ٹکراتے ہیں تو بندہ ان کی شدت محسوس کرتا ہے۔ اس لیے کہ یہ سب مخصوص خدو خال رکھتے ہیں۔ جب ہم درخت کی بات کرتے ہیں تو ہم جانتے ہیں کہ درخت کے تمام حروف الف کی تبدیل شدہ شکل ہیں۔ یعنی حروف تہجی کی طرح درخت میں الف کے سوا کچھ نہیں ۔ لیکن ہمیں تو درخت میں الف کے سوا سب کچھ نظر آتا ہے۔ جبکہ الف کا قاعدہ بتاتا ہے کہ درخت الف کے سوا کچھ نہیں۔۔ قارئین! ہم کیا دیکھ رہے ہیں اور ہمیں کیا نظر آرہا ہے۔۔؟ ہم دیکھتے ہوئے بھی کچھ نہیں دیکھ رہے۔ سڑک پر اس پانی کی طرح جو سورج کی روشنی کی وجہ سے دور سے نظر آتا ہے لیکن قریب جا کر معلوم ہوتا ہے کہ سڑک تو شروع سے لے کر آخر تک خشک ہے، جو دیکھا محض نظر کا دھوکہ (Illusion) تھا۔ ” کیوں بھلا جو لوگ علم رکھتے ہیں اور جو نہیں رکھتے دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟ نصیحت تو وہی پکڑتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔ “ (۳۹: ۹) مادیت (Materialism) کے خول میں بند زندگی حقیقت کا سراغ نہیں دے سکتی ۔ حقیقت تک پہنچنے کے لیے بنیاد کو تلاش کرنا اور اس سے واقف ہونا ہے۔ قرآن کریم سورۃ نور میں اس بنیاد کو نور کہتا ہے۔ سائنس دان بھی یہ بات مانتے ہیں کہ کائنات میں ہر چیز روشنی کے غلاف میں بند ہے۔ یہ روشنی تصورات کو مادے میں تبدیل کرتی ہے اور ہمیں آدمی ، جانور ، نباتات سمیت مختلف شکلیں نظر آنا شروع ہو جاتی ہیں۔ عظیمی صاحب اپنی کتاب نظریہ رنگ و نور میں لکھتے ہیں کہ یک ذات (آدمی) اور کل ذات (بنیاد) کے درمیان روشنی ایک پردہ ہے۔ اس روشنی کے ذریعے کل ذات کے تصورات یک ذات کو موصول ہوتے ہیں۔ کل ذات جو اطلاعات یک ذات کو دیتی ہے ان اطلاعات کو روشنی رنگ و روپ اور Dimension ( نقش و نگار ) دے کر یک ذات تک پہنچاتی ہے۔ یعنی بندہ اگر روشنی سے واقف ہو جائے تو پردہ ختم ہو جائے گا اور وہ تخلیقی فارمولوں سے واقف ہو جائے گا۔ اس روشنی سے واقف ہونے کے لیے ہر شے میں الف کو دیکھیے۔ اب زاویہ نگاہ ہونا چاہیے کہ درخت میں الف کی ایک شکل ہے۔ درخت کو غور سے دیکھیے۔ تنے سے لے کر شاخوں اور پتوں تک ۔ انتہا یہ کہ پتوں پر بنی ہوئی لکیروں میں بھی الف موجود ہے۔۔ ہمارے ہاتھوں کی لکیروں کی طرح جو سوائے الف کے کچھ نہیں کہتیں۔ اولیا ء اللہ حضور ؐ کے روحانی علوم کے وارث ہیں۔ آپ ؐ کے پیغام کا پرچار کرتے ہیں اور اللہ کی خوشنودی کے لیے جیتے مرتے ہیں۔اللہ کے ان دوستوں کا یقین ہے کہ ہر چیز میں اللہ کا نور ہے۔ اللہ کے ایک دوست اپنے شاگرد کو نفی اثبات کے رموز کا قانون سکھا رہے تھے۔ جب وہ بزرگ فرماتے ” لا الٰہ“ تو یہ کہتے ہی وہ بزرگ ، جس مکان میں تھے وہ مکان غائب ہو جاتا ہے ۔ اور جب وہ کہتے ” الا اللہ“ تو سب آ موجود ہوتا۔ ( کتاب تربیتہ العشاق)۔ ایسا اس لیے کہ اللہ کے دوست ہر شے میں اللہ کے نور کو گردش کرتا دیکھتے ہیں۔ یہی نور خدوخال تخلیق کرتا ہے، خدوخال میں حرکت پیدا کرتا ہے اور جب اس نور کا تعلق جسم سے ٹوٹتا ہے تو حرکت ختم ہو جاتی ہے اور بندہ مٹی کے سوا کچھ نہیں رہتا۔ ایسی مٹی جو قرآن کریم کے مطابق کھنکھناتی ہوئی اور بجنی ہے۔ جس میں خلا ہے۔ اس خلا میں موجود اللہ کا نور زندگی کو قائم رکھتا ہے۔ زندگی کا تجزیہ کیجیے۔ اس میں موجود اسباب ووسائل کو ذہن میں لایئے اور کائنات اور خالق کے ربط پر غور کیجیے۔ ذہن کے دریچے کھلیں گے اور یہ امر روشن ہوگا کہ یہ نور ماں کی محبت میں اور بچے کی ہنسی میں ہے۔ آنکھوں کے نور میں اور دلوں کےسرور میں ہے۔ دھڑکنوں میں اور سانس کی روانی میں ہے۔ پرندوں کی بولیوں میں۔ ہرے بھرے پتوں میں اور رنگ رنگ پھولوں میں ہے ۔ پھولوں کی خوشبو میں اور پھولوں کی مٹھاس میں ہے۔ رات کی خاموشی اور صبح کی تازگی میں۔ چاند کی ٹھنڈک میں اور سورج کی حدت میں ہے۔ سمندر کے سکوت میں اور طغیانی میں بھی ہے۔ ہر سُر اور ہرتال میں ہے۔ ہواؤں کی سنسناہٹ اور پتوں کی سر سراہٹ میں ۔ ہر ادنی اور ہر اعلیٰ میں ، ہر پست اور ہر بالا میں ہے۔ خشکی میں ہے تری میں ہے۔ بحر میں ہے اور بر میں ہے۔ جگمگ کرتے ستاروں اور فلک کے اجرام میں ہے خزاں اور بہار میں ہے ، آندھیوں کے غبار میں ہے۔ تنہائی میں ہے رفاقت میں ہے۔ گردشِ لیل و نہار میں ہے۔ بلند و بالا کوہساروں میں ہے۔ ذرے ذرے میں چمکتا ہے ، اسی کا نور دمکتا ہے ۔ وہی سماعت ہے، وہی بصارت ہے ، وہی لمس ہے ، وہی شامہ ہے اور وہی گویائی ہے۔ ہر ذرے میں ہے اور پوری کائنات اللہ کے اندر ہے۔ کائنات حوض کی مانند ہے۔ تجربہ کیجیے اور کسی حوض میں کنکر پھینکیے۔ آپ کو اور جتنے لوگ وہاں موجود ہیں سب کو بہت چھوٹے۔۔۔چھوٹے۔۔۔ بڑے اور بہت بڑے دائرے نظر آئیں گے۔ یہ دائرے مرکز سے شروع ہو کر تالاب کے کناروں تک پھیل جائیں گے۔ انھیں دائرے کہا جائے یا لہریں۔ تالاب میں ابھرنے والی ہر لہر یا دائرہ ایک نوع ہے۔ تالاب میں دائروں کا متحرک ہونا اس راز کا اظہار ہے کہ دائروں کا وجود تالاب کے اندر موجود تھا ۔ کنکر پھینکنے سے یہ وجود سطح تک پہنچا۔ ” اور (اللہ) وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ۔ اور جب وہ کہتا ہے کہ ہو جا تو وہ ہوجاتا ہے۔“ ( ۷۳:۶) اس بات کو اس طرح سمجھئے کہ ایک تالاب ہے۔ اس تالاب میں پانی ہے یعنی علوم کے ذخائر ہیں۔ تفکر جب مظہر بنتا ہے تو تالاب میں حرکت پیدا ہوتی ہے۔ دائرہ در دائرہ۔۔۔ دائرے بنتے ہیں اور پانی کی مخفی صلاحیت ظاہر ہوئی ہے اگر ہر دائرہ کو تخلیقی عملی سمجھ لیا جائے تو ان شاء اللہ بات واضح ہو جائے گی۔ ” ہرچیز اللہ کی طرف سے ہے اور اللہ کی طرف لوٹ رہی ہے۔“ (۱۵۶:۲) دائرے بن رہے ہیں ، چھپ رہے ہیں۔ دائرہ ، زیرو یا نقطہ ایک ہی صورت کے مختلف نام ہیں۔ دائرہ کی بساط بھی الف ہے اور یہ الفاللہ کا نور ہے۔ یعنی دائرہ بھی اپنے وجود اور تعارف کے لیے الف کا محتاج ہے۔ ” زمین پر جو کچھ ہے فنا ہونے والا ہے۔ اور باقی رہے صاحب عظمت احسان کرنے والے تیرے رب کی ذات ۔“ (۵۵( شام کو ٹہلتے ہوئے جب میں زمین پر بکھرےپتوں کے ڈھیر پر بیٹھے بگلوں کو دیکھتی ہوں تو بظاہر یہ بگلے ساکت نظر آتے ہیں لیکن در حقیقت یہ سر جھکائے ارد گرد سے بے خبر نہایت عاجزی سے خالق کے حضور اپنی کم مائیگی کا اعتراف کرتے ہیں اور اس کی رحمت کے طلب گار ہوتے ہیں۔ کنارے سڑک پر پودوں کی ترنگ نرالی ہے ہر پتا ہنستا ہے ، غمگین ہوتا ہے ، پیدا ہوتا ہے اور مرتا ہے۔ سرخ اور پیلے پھولوں سے شوخی جھلکتی ہے۔ جھکی ٹہنیوں اور آشیانوں پر بیٹھے پرندے سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔ ٹھنڈی تازہ ہوا جب ان درختوں ، پھولوں اور پرندوں سے ٹکراتی ہے تو انھیں مسرور کر دیتی ہے جیسے نوید دے رہی ہو کہ رب ذوالجلال نے ان کی بندگی قبول کو کر لیا ہے۔ اور یہ خوشی سے سرشار ہو کر پھر اللہ کی یاد میں محو ہو جاتے ہیں ۔ اللہ کو فطرت کے نظاروں میں تلاش کرتے ایک شاعر ڈاکٹر شانتی سروپ بھٹنا گر اپنی حمد میں لکھتے ہیں: پہنچ کے نیچر کی کارگہ میں جو میں نے یہ اہتمام دیکھا گلوں کو نظارہ کوش موجِ نسیم کو ہم کلام دیکھا خدا کے جلووں میں غرق ذروں کو رشکِ ماہِ تمام دیکھا ہر ایک شے پہ ہے جس کی، نظر ہے جس پر ہر ایک شے کی اسی کو روحِ خواص پایا اسی کو جانِ عوام دیکھا میں ہو کے بے خود پکار اٹھا خدا یہیں ہے خدا یہیں ہے زندگی میں جو عمل انسان کو استحکام بخشتا ہے وہ اللہ سے تعلق ہے۔ بچوں کی تربیت اس نہج پر کیجیے کہ وہ صاحب یقین بنیں۔ ضروری ہے کہ اللہ سے تعلق مستحکم ہو پورا پورا بھروسہ ہو ، قناعت ہو۔۔۔۔بچے وہ کرتے ہیں جو ماں باپ کرتے ہیں زبان ماں باپ کی بولتے ہیں کیونکہ وہ ایسے زون میں داخل ہو جاتا ہے جہاں الف سے واقف ہو کر زندگی بندگی بن جاتی ہے۔ الف اللہ چنبے دی بُوٹی مرشد من وچ لائی ہو نفی اثبات دا پانی ملیا ہر رگے ہرجائی ہو اندر بوٹی مشک مچایا جاں پھلن تے آئی ہو چر جگ جیوے مرشد باہو جے اے بوٹی مَن لائی ہو بقول جوش بدایونی : اس کی رحمت جہاں ہے جس پر ہے وہی تقدیر کا سکندر ہے خالق کائنات کون و مکاں معرفت ہو تو دل کے اندر ہے عکس وحدت ہے رنگ کثرت میں بے حجابی ، حجاب پرور ہے ہے وہی قادر حیات و ممات انحصارِ نجات اس پر ہے حمد کرنا خدائے برحق کی یہ بھی فیضِ خدائے برتر ہے کشتی ناتواں ہے عمر رواں زندگی کرب کا سمندر ہے جوش! کیا خوف مجھ کو طوفان کا ناخدا جب خدائے برتر ہے