Topics

روحانی بندہ

 

ابدالِ حق قلندر بابا اولیا ء ؒ 1898ء میں قصبہ خورجہ ، ضلع بلند شہر ، یوپی ، بھارت میں پیدا ہوئے۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم کے دوران اپنے نانا شہنشاہ ہفت اقلیم بابا تاج الدین ناگپوری ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ انہوں نے اپنے پاس روک لیا اور روحانی تربیت فرمائی۔ تقسیم ِ ہند کے بعد آپ مع اہل و عیال کراچی تشریف لائے۔ حضرت ابو الفیض قلندر علی سہروردی ؒ سے ملاقات ہوئی جنہوں قطب ارشاد کی تعلیمات تین ہفتے میں پوری کر کے خلافت عطا فرمائی پھر شیخ نجم الدین کبری ؒ کی روح پُر فتوح نے تعلیم دی۔

یہ سلسلہ یہاں تک پہنچا کہ خاتم النبین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے براہ راست علمِ لدنی عطا فرمایا اور سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ہمت و نسبت کے ساتھ بار گاہ ربِ العزت میں حاضری ہوئی اور اسرار و رموز کا علم عطا ہوا۔

قلندر بابا اولیاء ؒ بچپن سے انتہائی ذہین تھے ۔ والدہ حضرت سعیدہ بی بی ؒ اور والد حضرت حسین مہدی بدیع الدین شیر دل ؒ کی تربیت کا اثر تھا کہ آپ چھوٹی عمر سے بادب تھے۔ اچھے برے کی تمیز تھی۔ پڑھائی کے وقت توجہ سے پڑھتے اور ساتھیوں کے ساتھ محبت سے پیش آتے تھے۔

 بلند شہر میں ہائی اسکول تک تعلیم حاصل کرنے کے  بعد علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ علی گڑھ میں قیام کے دوران طبیعت میں درویشی کی طرف زیادہ میلان بڑھا تو مولانا کابلی ؒ کے حجرے میں وقت گزارنے لگے۔ اسی اثنا میں نانا تاج الدین ؒ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ نانا تاج الدین ؒ نے اپنے پاس ناگپور میں روک لیا۔

 والد صاحب کو علم ہوا تو وہ ناگپور آئے اور بابا تاج الدین ؒ سے عرض کیا کہ اس کی تعلیم نامکمل رہ جائے گی، اسے واپس علی گرھ بھیج دیجیے۔

استادوں کے استاد ، واقف اسرار و رموز ، حاملِ علم لدنی بابا تاک الدین ؒ نے فرمایا،

” اس کو اگر اس سے زیادہ پڑھایا گیا جتنا یہ  اب تک پڑھ چکا ہے تو یہ میرے کسی کام کا نہیں رہے گا۔“

والد صاحب نے مشفق باپ کی طرح بیٹے کو سمجھایا اور جب دیکھا کہ بیٹے کا میلانِ طبع فقر کی طرف مائل ہے تو فرمایا،

”بیٹے ! تم خود سمجھ دار ہو، جس طرح سے چاہو ، اپنا مستقبل تعمیر کرو۔“          

نانا تاج الدین ؒ نے نو سال نواسے کی روحانی تربیت فرمائی اور رموز کی علمی توجیہ سمجھائی۔ تربیت کے زمانے کت واقعات میں سے چند کا تذکرہ ابدالِ حق نے کتاب ” تذکرہ تاج الدین باباؒ “ میں کیا ہے۔ نانا تاج الدینؒ کے بارے میں فرماتے ہیں،

” وہ صرف خصوصی مسائل ہی نہیں بلکہ عام حالات میں بھی اپنی گفتگو کے اندر ایسے مرکزی نقطے بیان کر جاتے تھے جو براہ راست قانونِ قدرت کی گہرائیوں سے ہم رشتہ ہیں۔ بعض اوقات اشاروں اشاروں ہی میں وہ ایسی بات کہہ جاتے جس میں کرامتوں کی علمی توجیہ ہوتی اور سننے والوں کی آنکھوں میں یکبارگی کرامت کے اصولوں کا نقشہ آجاتا۔ کبھی کبھی ایسا معلوم ہوتا کہ ان کے ذہن سے تسلسل کے ساتھ سننے والوں کے ذہن میں روشنی کی لہریں منتقل ہو رہی ہیں اور ایسا بھی ہوتا کہ وہ بالکل خاموش بیٹھے ہیں اور حاضرین من و عن ہر وہ بات اپنے ذہن میں سمجھتے اور محسوس کرتے لے جاتے ہیں جو نانا ؒ کے زہن میں اس وقت گشت کر رہی ہے۔ بغیر توجہ دیئے بھی ان کی غیر ارادی توجہ لوگوں کے اوپر عمل کرتی رہتی تھی۔ بعض لوگ یہ کہا کرتے کہ ہم نے بابا صاحبؒ کے اس طرز ِ ذہن سے بہت فیضا ن حاصل کیا ہے۔ یہ بات تو بالکل عام تھی کہ چند آدمیں کے ذہن میں کوئی بات آئی اور یکایک ناناؒ نے اس کا جواب دے دیا۔“

قلندر بابا ؒ کے اس قول میں نانا تاج الدین ؒ کے کائناتی ذہن اور اُس  ماحول کی جھلک ہے جس میں نو سال ان کی تربیت ہوئی یہاں تک کہ اپنے ناناؒ کا ذہن (روحانی ورثہ) منتقل ہوا۔

 بمبئی کے ایک سیٹھ نے نانا صاحب ؒ کم خواب کا قیمتی لباس ازراہِ عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے سیٹھ کے سامنے لباس پہن لیا اور کچھ دیر تک اس کی دلجمعی کے لئے جھونپڑی میں ٹہلتے رہے۔ سیٹھ کے جانے کے بعد جھونپڑی کی کچی زمین کی گیلی مٹی کو جو کیچڑ بن گئی تھی ، ہاتھ میں لے کر قیمتی لباس پر جگہ جگہ ملنا شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ یہ کہتے جاتے کہ کیا میں اس کپڑے کی خاطر اپنی زندگی خرچ(ضائع) کر دوں؟

 یہ تربیت کا ایک انداز تھا کہ دینے والے کا دل رکھا اور نواسے پر بھی اس حقیقت کو ظاہر کیا کہ اس دنیا کی قیمتی سے قیمتی شے بھی مٹی ہے۔

قلندر بابا ؒ  فرماتے ہیں کہ اس دن سے میری نظر میں قیمتی اشیا کی حیثیت ختم ہو گئی۔

قربت سے ذہن (طرزِ فکر) منتقل ہوتا ہے۔ قلندر بابا ؒ کی زندگی اپنے نانا ؒ کی قربت کا آئینہ اور گفتگو معنوی نکات کا بیش بہا خزینہ ہے۔

قلندر بابا ؒ کے ایک شاگرد پروفیسر شیخ فقیر محمد فرماتے ہیں کہ تمام حاضرین ِ مجلس بابا صاحبؒ کی گفتگو سنتے تھے یا پڑھنے والے پڑھتے تھے مگر ان کا ادراک و فہم آفرینی ان کو میسر آئی جن کا ذہن قلندر بابا ؒ کے قرب ِ زہنی سے ہم آہنگ ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ واشگاف انداز میں فرمایا،

” ہم آپ کا مطلب سمجھ گئے تھے۔ ہم ذہن پڑھتے ہیں ، الفاظ اور ان کے معانی ہمارے سامنے نہیں ہوتے۔ مرشد کریم نے ہمیں خلافت یونہی نہیں دے دی تھی۔“

باطنی علوم کے بحرِ ذخّار اور عشق و محبت کے روز دار قلندر بابا اولیا ؒ علم شے کے امین ہیں ۔ وہ انسان کی صلاحیتوں کے بارے میں فرماتے ہیں،

”انسانی طبیعت میں ہر شے کا علم موجود ہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنی روح کے اندر روحانی انسان بھی ہے اور یہی روحانی انسان ان تمام صلاحیتوں کا حامل ہے جو نیابت کے منصب پر فائز ہونے کے لئے ضروری ہیں۔“

ابدالِ حق نے اپنا روحانی ورثہ شاگردِ رشید ، محترم عظیمی صاحب کو منتقل کیا۔ 16 سال شب وروز ان کے ساتھ قیام کیا اور تربیت و اصلاح فرمائی۔ تربیت کے دوران شعور کی مزاحمت بڑھی تو پیر و مرشد نے ایک دن بٹھا کر فرمایا۔

” یاد رکھئے! انسان کو جس فطرت پر پیدا کیا ہے، وہ فطرت خود مختار نہیں ہے۔ انسان کی ساخت ہی اس بنیاد پر کی گئی ہے کہ یہ پابند ہو کر زندگی گزارے لہذا ضروری ہے کہ خود مختار زندگی سے آپ کنارہ کش ہو جائیں اور اپنے آپ کو اللہ کے سپرد کر دیں۔ آپ کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہے کہ آپ کسی کو اپنا بنا لیں۔ آپ کے اندر یہ صلاحیت بردرجہ اتم موجود ہے کہ آپ دوسرے کے بن جائیں۔“

تعمیل حکم سے استاد کی شخصیت شاگرد کے اندر میں نقش ہو گئی۔

محترم عظیمی صاحب فرماتے ہیں،

” دوپہر تھی ۔۔۔ میں مرشد کریم کے پاس تھا۔ فرمایا خواجہ صاحب ! کیسی اندھیری رات ہے؟ یک بیک نگاہوں کے سامنے سے پردہ ہٹا اور میں نے دیکھا کہ ہر سو اندھیرا ہے۔ تھوڑی دیر بعد انہوں نے فر مایا، اوہ ! یہ تو دن ہے۔ میرا ذہن پیر و مرشد کے ذہن میں جذب ہے لہذا دیکھا کہ دن کی روشنی ہر طرف پھیل چکی ہے۔ غور کیا تو دو باتیں سمجھ میں آئیں۔ ایک یہ کہ مرشد کریم قلندر بابا اولیاؒ بیک وقت کئی عالمین میں مصروف رہتے تھے۔ بہت ممکن ہے کہ جس وقت انہوں نے یہ بات کہی  کہ کیسی اندھیری رات ہے۔۔۔ اس وقت وہ کسی ایسے عالم میں موجود ہوں جہاں رات کا وقت ہو۔ دوسری بات ذہن میں آئی کہ انہوں نے دیکھنا چاہا ہو کہ میرا یہ مرشد میرا تصرف کس حد تک قبول کرتا ہے اوتر انہوں نے ارادتاً یہ بات کہی ہو جس کا میں نے کھلی آنکھوں سے مشاہدہ کیا۔“

بے ثبات دنیا کی حقیقت سمجھاتے ہوئے ایک روز ابدالِ حق نے فرمایا،

” خواجہ صاحب ! اس دنیا سے جب بھی کوئی جاتا ہے تو کچھ بھی ساتھ نہیں لے جاتا۔ وہاں جو چیز ساتھ جاتی ہے ، وہ خوشی ہے۔  اگر آپ اس دنیا میں خوش ہیں تو وہاں بھی خوشی آپ کا استقبال کرے گی۔ خوشی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب آدمی ہر حال میں اللہ کا شکرادا کرے۔ جو حاصل ہے ، اس پر صبر و شکر کے ساتھ قناعت کرے اور جو چیز میسر نہیں ، اس کا شکوہ نہ کرے۔ اللہ کی نعمتوں کے حصول کے لئے بھر پور جدو جہد کرے۔ ہر حالت میں خوش رہنے سے بندہ راضی برضا ہو جاتا ہے۔“

اولیاء اللہ کی زندگی علم و اخلاق سے عبارت ہے کیونکہ اخلاق کے بغیر علم مکمل نہیں ہوتا۔ قلندر بابا ؒ خلیق و ملنسار تھے۔ ایک صاحب نے تحفے میں سویٹر پیش کیا جو ان کی جسامت سے بڑا تھا۔ شاگرد رشید نے ان کی جانب دیکھا  تو انہوں نے نے خاموش رہنے  کا اشارہ کیا اور ان صاحب کے جانے کے بعد فرمایا،

”خواجہ صاحب ! ان صاحب کے زہن میں جو میرا امیج تھاا، وہ اس امیج کے مطابق سویٹر لے ائے۔ اگر آپ کچھ کہہ دیتے تو ان کا دل ٹوٹ جاتا۔ اب جب کہ انہوں نے مجھے دیکھ لیا ہے تب بھی ان کے زہن میں یہ بات نہیں ائی کہ یہ سویٹر میری جسامت کے لحاظ سے بڑا ہے وہ اسی امیج کے زیرِ اثر رہے۔“

اونچی آواز میں بات کرنا سخت ناپسند تھا۔ وہ فرماتے تھے، ”ارے بھئی ، اہستہ بولا کرو ، بلا وجہ کیا بلڈ پریشر ہائی کرنا۔“

کوئی کہتا کہ عادت ہو گئی ہے تو فرماتے ، ”کیا عادت بن گئی ہے؟ بنالی ہے، صحیح کر لو۔“

ان کی نصیحت ہے کہ بات اتنی آواز میں کی جائے کہ آواز  کمرے سے باہر نہ جائے۔

چیزیں ترتیب سے مقررہ جگہ پر رکھتے تھے۔ جوتے اتارنے کے بعد جھاڑ کر برابر رکھتے۔ جوتے غیر متوازن رکھنا پسند نہیں تھا۔

عیب گوئی اور راز افشا کرنا انتہائی غیر اخلاقی عمل ہے۔ ابدالِ حق نے شاگردوں کو تلقین کی ، ” کسی کے راز یا خامی سے واقف ہو جائیں تو بیان نہ کریں اور نہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔“

ایک اور موقع پر فرمایا ،

” آدمی دو طرح کے ہوتے ہیں ۔ ایک انسان ہوتے ہیں اور دوسرے وہ جو لوگوں کو تنگ کرتے ہیں۔ تنگ کرنے والے سینگ مارتے ہیں جیسے بیل خوامخواہ سینگ مارتا ہے۔ اپنی غرض سے غرض رکھو۔ کسی کے کام میں دخل مت دو ۔ کسی پر مسلط ہونے کی کوشش مت کرو اور نہ ٹوہ میں لگو کہ کوئی کیا کر رہا ہے۔“

ایک مجلس میں سوال کیا گیا کہ گیبی دنیا میں سفر کرنے والے اکثر سالکین کے حالاتِ زندگی میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ انہوں نے عشقِ مجازی سے گزر کر عشقِ حقیقی کی منزل میں قدم رکھا۔ اس کی وجہ کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا،

” تاریخ کے اوراق پلٹنے سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ عشق ِ مجازی۔۔۔ عشق ِ حقیقی کے لیے پہلا قدم ہوتا ثابت ہوتا ہے۔ صنفِ نازک سے عشق کرنے والا کوئی بندہ اگر ہوس اور جنسی جذبات کے دھاروں میں خود کو نہ بہنے دے تو اس کی شعوری صلاحیتیں سہ چند (تین گنا) ہو جاتی ہیں اس لئے کہ صنفِ نازک کے اندر نسمہ Ùکی دو لہریں ہمہ وقت اور ہر آن جاری و ساری ہے جبکہ مرد کے اندر ایک لہر کام کرتی ہے۔مشیت نے ایسے لوگوں کی افتادِ طبیعت یہ بنائی ہے کہ و ہ لوگوں کے کام آئیں، ان کی خدمت کریں ، ان کے ساتھ عجز و انکسار کے ساتھ پیش آئیں۔ ان کی طبیعت میں یہ نقش اتنا گہرا ہوتا ہے کہ جب بندے کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کا شرف نصیب ہوتا ہے تو اس کے اوپر  یہ احساس محیط ہوتا ہے کہ میرا سر خالقِ کائنات کے قدموں میں ہے۔“

Ù   نسمہ کی تعریف قارئین پڑھ چکے ہیں۔

قلندر بابا اولیاء ؒ عمیق النظر ، سلیم الطبع ، سخن سنج ، ادیب اور ارفع تخیل کے شاعر تھے۔ صحافت سے بھی وابستگی رہی۔ ان کی تصانیف  لوح و قلم ، رباعیات  اور  قدرت کی اسپیس  رموز و معانی کا بحرِ ذخّار ہے۔ فارسی میں بھی کلام کہا ۔ قلندر بابا اولیاءؒ کے غیر مطبوعہ فارسی کلام سے دو اشعار کا ترجمہ یہ ہے،

ایک زمانے سے میں نے اپنی (زندگی کی) کشتی پانی میں بہا دی ہے۔ درد اور بندگی کے معاملات کو عجز و زاری سے ساز گار کیا۔

شمع اگر پروانے کے خرمن میں آگ لگانا چاہے تو دیوانگی کے مذہب میں اطاعت کے سوا اور کوئی راستہ نہیں۔

اردو کے دو اشعار ملا حظہ فرمایئے،

       ؎             ہائے      اس                 رنگین چہرے    کا                  نظام

بت         کدے            کی           صبح     میخانے   کی                شام

؎         ہوگا          تری            محفل       میں       کوئی    اور      بھی         جلوہ

مجھ     کو     تو             محبت                    ہی            محبت             نظر                  آئی

محترم عظیمی صاحب فرماتے ہیں کہ کبھی کبھی بابا صاحب ؒ کے سینے میں سے خوشبو کی لپٹیں اٹھتی تھیں اور یہ خوشبو مشک کی ہوتی تھی۔ جب ایسا ہوتا تو میں ان کے مقدس سینے پر سر رکھ کر اس خوش بو کو سونگھتا تھا اور میرے اوپر مستی اور بے خودی کی کیفیت طاری ہو جاتی تھی۔

ایک صاحب نے خواجہ صاحب کے بارے میں ابدالِ حق کی رائے جاننا چاہی تو فرمایا،

” خواجہ صاحب کو میں نے سل میں پیس کر سرمہ بنا دیا ہے۔ یا اسے پھونک مار کر اڑا دو یا اسے آنکھ میں ڈال لو۔“

انتقال سے تین گھنٹے قبل شاگرد ِ رشید محترم عظیمی صاحب سے فرمایا، ” مجھ سے مصافحہ کرو۔“

اس سے پہلے کبھی کسی سے یہ بات نہیں فرمائی تھی۔ ۲۷ جنوری ۱۹۷۹ء کو وصال ہوا۔

ابدالِ حق کی ایک فارسی رباعی ہے،

(زین         مفرش        آستانہ       برخستہ        گیر

        یا         جلوہ           ماہ              چہرہ            آرستہ           گیر

        وز    گفت            عظیم          برخیاؔ              ابیاتے

      برساز       ترانہ     و  قدح    خواستہ      گیر)

ترجمہ     :       سمانِ سفر باندھ لو کہ آستانہ برخاست ہوا۔ چہرے کو چاند کے جلوے سے آرستہ کرو۔ عظیم برخیاؔ کے ابیات پڑھو۔ ترانے کے ساز پر شراب ِ معرفت کی آرزو کرو۔