Topics
ابدالِ حق قلندر بابا اولیا ءؒ
فرماتے ہیں کہ دخان دھواں نہیں ہے۔ انہوں نے دخان کے راز سے پردہ اٹھایا ہے اور
اسے سائنسی زبان میں کاربن کہا ہے۔ وہ فرماتے ہیں،
”قدرت نے جب کائنات کو بنایا تو
میرا خیال ہے کہ سب سے اول قدرت نے کاربن کو بنایا جسے قرآن پاک میں دخان کا نام
دیا گیا ہے مگر یہ دخان وہ دھواں نہیں جسے ہم دھواں کہتے ہیں مگر ایسا دھواں ہے جو
نظر نہیں آتا۔یہ بات قدرت کو ہی معلوم ہے کہ اس نے کائنات کی بنیاد کے لیے کاربن
کو کیوں پسند کیا ہے۔ کاربن کی ایسی جالی بنتی ہے جو جالی باقی جتنے ایٹم ہیں ، ان
کو پھیلا کر الجھا دیتی ہے۔
قرآن میں کاربن کی جگہ لفظ دخان
استعمال ہوا ہے۔ دخان کو تصوف میں روفان کہتے ہیں۔ یہ سب کچھ میں نے لکھا ہے، اسپیس کی تقسیم کے بارے میں۔ جب کاربن سے دیگر
سینکڑوں ایٹم بنتے ہیں تو ان کے خواص بھی مختلف ہو جاتے ہیں مگر اس بات کا خیال
رہے کہ وہ ایک ہی زنجیر کی کڑی ہیں جسے دخان کہا گیا ہے یا کاربن کہتے ہیں یا
روفان کا نام دیا گیا ہے۔ یہی ایٹم کائنات کی تمام ضروریات پوری کرتا ہے۔“ (کتاب : قدرت کی اسپیس)
کچھ عرصہ پہلے کلاس ” نظریہ رنگ و
نور“ کی ایک نشست میں استادِ محترم عظیمی صاحب نے دخان کو صفاتی زبان میں ثقل
بتایا۔ کلاس ” نظریہ رنگ و نور“ ایک درجہ آگے بڑھی اور کتاب ” احسان و تصوف“ کی تعلیمات شروع ہوئیں تو انہوں نے طلبہ کے لیے
دخان یا کاربن پر سے ایک پردہ مزید اٹھایا اور بتایا کہ دخان خمیر (Yeast) ہے۔
زکریا یونیورسٹی ، ملتان کے M.A اسلامیات کے نصاب کا حصہ ہے۔
خمیر کو سمجھنے اور موضوع کی فہم
میں آسانی کے لیے گزشتہ صفحے پر اقتباس میں سے خط کشیدہ الفاظ ذہن میں رکھئے۔۔ یہ
مضمون ان دو خط کشیدہ جملوں کا پھیلاؤ ہے۔
۱۔ پھیلاؤ ۲۔ اسپیس کی تقسیم
۱۔ خمیر کیا ہے۔۔۔؟
خمیر ہماری طرح مخلوق ہے۔ سراپا ہے
جو شے میں داخل ہو کر ابھار یا ڈائی مینشن کو ظاہر کرتا ہے اور ڈائی مینشن کو معین
مدت تک قائم رکھتا ۔ ذرّے سے لے کر پہاڑ اور سمندر سمیت زمین پر تمام تخلیقات خمیر
کے لاشمار زاویوں کا اظہار ہیں۔ ہر یونٹ کا بڑے سے بڑا اور چھوٹے سے چھوٹا حصہ
خمیر ہے۔
ہر شے خمیر کا روپ بہروپ ہے کیونکہ وہ ایک خاص زاویے یعنی ابھار
کو ظاہر کرتی ہے اور تخلیقات کی ظاہری ساخت کو منفرد بناتی ہے۔ ہر زاویہ غیب سے
ظاہر اور ظاہر سے غیب ہوتا ہے۔قرآن کریم میں ابوالانبیاء حضرت ابراہیم ؑ کا واقعہ
ہے۔ حضرت ابراہیم ؑ نے حقیقت کی تلاش میں ایک رات اجرامِ فلکی پر تفکر کرتے ہوئے
مشاہدہ کیا کہ ' ظاہر غیب ہونے والے اجسام الوژن ہیں' ۔ الوژن دخان (خمیر) کے نظام
پر قائم ہے۔
سوال کیا جا سکتا ہے کہ کیا خمیر
کا نظام اجرامِ فلکی یعنی چاند ، سورج اور ستاروں میں بھی ہے؟
جواب ہے کہ فصلوں کا پھلنا ،
پھیلنا ، مٹھاس اور نمکین کا عمل سورج کی شعاعوں اور چاند کی کرنوں سے ہے۔ چاند ،
سورج اور ستارے بھی ڈائی مینشن ہیں۔
خمیر کی بنیادی صفت تعفن اور پھولنا ہے۔ پھولنے سے شے کے اندر پہلے سے موجود
خلا ظاہر ہوتا ہے اور ۔۔۔ تعفن کا سبب شے کا پھولنے کی وجہ سے اصل حالت پر قائم نہ
رہنا ہے۔ جب شے اصل سے دور ہوتی ہے ، اس میں تعفن پیدا ہو جاتا ہے۔ تعفن اصل سے
دوری کو ظاہر کرتا ہے۔ اس صورت میں خمیر کی ایک تعریف دوری ہے۔
۲۔ اسپیس کی تقسیم کیا ہے۔۔؟
گندم کا ایک دانہ پھولتا ہے تو اس
کی اسپیس گندم کی ہزاروں بالیوں میں تقسیم ہوتی ہے۔ پانی کا ایک قطرہ پھول کر بے
شمار انواع کی زندگی بنتا ہے ۔ زمین پر تمام مخلوقات اور مناظر پانی کی اسپیس کا
پھیلاؤ ہیں پھولنے سے شے کی اسپیس تقسیم ہوتی ہے اور جال بن جاتا ہے۔ جال کو ہم
ہاتھی ، پہاڑ ، بادل ، سمندر ، آدمی اور جنات وغیرہ کہتے ہیں۔ دنیا میں تمام
موجودات خمیر کے تانے بانے سے بُنا ہوا جال ہیں۔ کسی بھی جال کو غور سے دیکھئے۔۔
یہ خلا در خلا اسپیس کی تقسیم سے بُنا ہوا ہے۔
خالق کون و مکان اللہ کا ارشاد ہے،
” پھر آسمان کی طرف متوجہ ہوا اور
وہ دخان تھا۔ اللہ نے اس سے اور زمین سے فرمایا کہ دونوں آؤ خوشی سے یا ناخوشی سے۔
انہوں نے کہا، ہم خوشی سے آتے ہیں۔“
(حٰمۤ السّجدۃ : ۱۱)
قرآن کریم کو عربی زبان میں سمجھنے
سے فہم پر سے فکشن کا غلاف اترتا ہے اور رموز افشا ہوتے ہیں کہ ابتدا میں آسمان
اور زمین یکجا تھے۔ اللہ تعالیٰ آسمان کی طرف متوجہ ہوئے جو اس وقت دخان تھا۔ اللہ
تعالیٰ نے آسمان کی طرف متوجہ ہونے کے بعد دخان سےاور زمین سے فرمایا ، داخل ہو
جا۔ دونوں بخوشی داخل ہوئے۔
( نتیجے میں آسمان اور اس کے اندر
موجود (مخفی) زمین کا مظاہرہ ہوا۔
جوڑےجوڑے(مذکر مؤنث یا متضاد رخ )
اور ۔ جوڑے
دہرے(جوڑے کے ہر جز کا انفرادی رخ) کا نظام عمل میں ایا یعنی زوجین اثنین
کی دنیا ظاہر ہوئی۔ دخان الوژن کے مظاہرے یا شے کو دو یا زیادہ حالتوں میں ظاہر
کرنے کی کائناتی ٹیکنالوجی ہے۔)
دخان ہر دنیا میں موجود ہے کیوں کہ
اس کا کام ڈائی مینشن کو ظاہر کرنا اور جب تک اللہ چاہے۔۔ اسے قائم رکھنا ہے۔
زندگی کی طرح موت بھی ڈائی مینشن ہے۔ آدمی مرنے کے بعد غائب نہیں ہوتا ، وہ خواب
میں آ کر کسی اور دنیا میں اپنے ہونے کی اطلاع دینے کے ساتھ حال سے باخبر کرتا ہے
۔ اس کی شکل و صورت اور مقام جہاں پر وہ ہے، دونوں ڈائی مینشن ہیں۔
دخان سے بنیادی طور پر زمین کا
قیام عمل میں آیا اور زمین ایک نہیں ہے، کائنات میں اربوں کھربوں دنیائیں ہیں۔
اللہ عالمین کا رب ہے۔
ہر دنیا اور زمین پر دخان کی کار
فرمائی وہاں کے نظام کی مناسبت سے ہے۔
بات یہ ہے کہ دخان مخلوق ہے اور ہر
مخلوق کی طرح پرتوں ( لباس ۔ جسم) کا مجموعہ ہے۔ دخان کا اس دنیا میں متحرک پرت
نیند کی دنیا میں متحرک دخان کے پرت سے الگ ہے۔ جو پرت اصل سے جتنا دور ہے، وہ
اتنا کثیف ہے اور جو پرت اصل سے جتنا قریب
ہے۔۔ اسی مناسبت سے لطیف ہے۔
دوبارہ پڑھئے کہ آدمی کا وہ پرت جو
اصل سے دور ہے ، اس کے اندر دخان کا کثیف تر پرت کام کرتا ہے جب کہ اصل سے قریب
پرت میں دخان لطیف حالت میں ملتا ہے یعنی ڈائی مینشن کو قائم رکھنے کے لیے اس میں
خمیر ہوتا ہے لیکن خمیر محسوس نہیں ہوتا۔
خواب کی دنیا اس کی مثال ہے۔
زمین کی تخلیق کے وقت دخان نے اللہ
کے حضور فرماں برداری کا اظہار کیا۔ فرماں برداری ظاہر کرتی ہے کہ دخان کے ایک رخ
میں لطافت ہے اور لطافت یہ ہے کہ دخان کا ہونا ، نہ ہونے کے برابر ہو جائے۔ دخان میں کثافت و لطافت کے درجات زینے
کی مثال جیسے ہیں۔
دخان جیسے جیسے نزول کرتا ہے، اصل
سے دور ہوتا ہے۔۔۔ اس کے پرتوں کی کثافت میں اضافہ ہو جاتا ہے اور جیسے جیسے صعود
کرتا ہے، اس میں چپک یا کثافت کم ہوتی جاتی ہے لیکن ختم نہیں ہوتی۔ ختم نہ ہونے کی
وجہ یہ ہے کہ دخان خلا کو ظاہر کر کے ڈائی مینشن ( الوژن) کو قائم رکھتا ہے۔ یا
الفاظ دیگر دخان مخلوق ہے۔ یہ ہر شے کے مخلوق ہونے کی حالت کو برقرار رکھتا ہے۔