Topics

اللہ آپ سے محبت کرتا ہے

 

شام کا وقت ہے ، آفتاب غروب ہو رہا ہے ، درختوں پر بیٹھے پرندے دن کا آخری گیت گا رہے ہیں ، پانی نشیب کی طرف رواں ہے، بادلوں نے سائے کی چادر اوڑھ لی ہے، ہر گزرتے لمحہ کے ساتھ وقت بھی اپنی کسی انجانی منزل کی طرف رواں  دواں ہے۔ چار سو بکھری یہ کائنات اپنے مدار میں رہتے ہوئے قدرت کے نظام کی پابندی مکمل عاجزی اور انکساری سے کر رہی ہے مگر صرف  آدمی ہے جو اپنے بنائے ہوئے اصولوں پر چل رہا ہے ، خدائی نظام کے احترام سے عاری ہے اس لیے ہر وقت خسارے میں ہے۔

ایک آدمی جب عمر کے کسی حصے میں اپنی زندگی کا جائزہ لیتا ہے تو ماں باپ ، بہن بھائی، بچے ، روزگار ، مکان اور دیگر نعمتوں کے ہوتے بھی یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کہیں کچھ رہ گیا ہے جو اسے بے سکون کر رہا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ زندگی کا مقصد اگر صرف مادی ضروریات کا حصول ہے تو پھر ان ضروریات کو حاصل کرنے والا بھی پریشان ہے اور جو محروم ہے وہ بھی بے سکون ہے۔ آخر اس ادھورے پن کی تکمیل کیسے ہو۔

قرآنی تعلیمات کے مطابق اس کائنات میں موجود ہر شے دو رخوں پر قائم ہے۔ آدمی کے بھی دو رخ ہیں۔ ایک جسم اور دوسری روح۔ یہ  دونوں رخ اپنی تکمیل چاہتے ہیں۔ آدمی جسم کی غذا کا تو اہتمام کرتا ہے لیکن روح کی غذا سے غافل ہے۔ اسی لیے بھوک مٹ جانے اور دوسری ضروریات کے پورا ہونے کے بعد بھی وہ بے سکون رہتا ہے۔ روح کی غذا کیا ہے؟ روح کی غذا اللہ کا ذکر ہے۔ روح اللہ کے احکام میں سے ایک حکم ہے۔ روح جز ہے اور جز اپنی تکمیل کے لیے کل میں جذب ہونے کے لیے بے چین ہے۔

یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ جسمانی وجود کا انحصار روح پر ہے۔ روح کا انحصار جسمانی وجود پر نہیں ہے اور اس کی مثال یہ ہے کہ روح  کے بغیر آدمی کی حیثیت ایک لاش کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ جب تک روح گوشت پوست کے وجود سے تعلق  قائم رکھتی ہے گوشت پوست کے  وجود میں حرکت قائم ہے۔ یہ گوشت پوست کا وجود دیکھتا بھی ، سنتا بھی ہے ، چھوتا بھی ہے ، بولتا بھی ہے ، تپش اور ٹھنڈک کی لہروں کو محسوس کرتا ہے لیکن اگر روح اس گوشت پوست کے وجود سے اپنا رشتہ توڑ لیتی ہے تو یہ جسمانی وجود نہ سنتا ہے ، نہ محسوس کرتا ہے۔ زندگی کا یہ عمل بتاتا ہے کہ انسان کی اصل روح ہے ، گوشت پوست کا وجود نہیں ہے۔ اگر کوئی بندہ اپنے من، اپنی روح سے واقف ہے تو وہ اپنا دوست ہے۔ اس کے برعکس اگر کوئی بندہ اپنے گوشت پوست کے وجود کو اپنا سب کچھ سمجھتا ہے تو وہ اپنا دشمن ہے۔

بقول  اقبال :

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی

تو   اگر  میرا  نہیں  بنتا تو      نہ  بن   اپنا   تو   بن

حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی اپنی ایک تحریر میں فرماتے ہیں۔۔۔۔ میں نے ایک مرتبہ سوچا کہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہیے ، معلوم تو ہو کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے کتنی نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ میں نے رجسٹر میں لکھنا شروع کر دیا۔ لکھتا چلا گیا ، لکھتا چلا گیا۔ مجھے یاد نہیں کہ میں نے رجسٹر کے کتنے ورق لکھے۔ میں نے جب ان نعمتوں کا شمار کیا تو معلوم ہوا کہ کوئی ایسی نعمت نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ نے مجھے عطا نہ فرمائی ہو۔ اللہ تعالیٰ نے والدین عطا فرمائے ، بہترین رفیقہ حیات عطا فرمائی ، بیٹے بیٹیاں عطا فرمائیں، روزی عطا فرمائی ، بے حساب رزق عطا فرمایا ، آنے جانے کے لیے وسائل عطا فرمائے۔ دوست احباب عطا کیے عز دی ، صحت  عطا فرمائی اور سب سے بڑی بات یہ کہ اللہ نے عبادت اور ذکر کی توفیق عطا فرمائی۔ آگے ، پیچھے ، نیچے اوپر جو بھی نعمتیں ہیں ، سب عطا  ہوئیں۔

میں نے مرشد کریم قلندر بابا اولیا ءؒسے عرض کیا ۔۔۔۔۔

” حضور میں اللہ تعالیٰ سے کیا مانگوں؟ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت سے مجھے سب عطا فرما دیا ہے ۔“ قلندر بابا اولیا ءؒلیٹے ہوئے تھے، میری  یہ بات سن کر ایک دم سے اٹھ کر بیٹھ گئے اور آپ نے تیز لہجے میں فرمایا۔۔۔ خواجہ صاحب آپ نے یہ کیا بات کہہ دی۔ خبردار! اس قسم کا خیال آئے تو لاحول ولا قوۃ الا باللہ العلی اعظیم پڑھو اور بھائی مانگنے کا کیا ہے؟

اللہ تعالیٰ سے اللہ مانگو۔

جب اللہ تعالیٰ مل جاتے ہیں تو کائنات سر نگوں ہو جاتی ہے۔ صف بستہ اللہ تعالیٰ کے فرشتے نظر آتے ہیں ۔ نسبتِ سکینہ حاصل ہو جاتی ہے، ایسے بندے کے دل سے ڈر اور خوف نکل جاتا ہے ، اس میں قناعت اجاتی ہے۔ دل شکوک و شبہات سے پاک ہو جاتا ہے اور خالق کی محبت کا یقین اس کے دل میں بیٹھ جاتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق سے رشتہ ہر لمحہ محبت ہے۔ ماں کے پیٹ میں ایک نئے وجود کا بیج بونے سے لے کر آخری سانس تک اپنی مخلوق کی خدمت کرنا خالق کی بے پایاں محبت نہیں تو اور کیا ہے۔ بغیر کسی رکاوٹ کے سانس  کی روانی اور دل کی دھڑکن ، سماعت و بصارت اور ذہانت جیسی نعمت ، جسم میں خون کی بلا تعطل گردش ، کھلتے مسکراتے چہرے ، درخت کی چھاؤں اور دھوپ کی تمازت ، سکون قلب اور میٹھی نیند ، چاند کی کرنوں سے پھلوں میں مٹھاس ، غذائیت سے بھر پور اناج ، معدنیات سے بھرے پہاڑ اور سمندر ، خوبصورت جھرنے اور آبشار ، ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشمے ۔ ظاہری و غیبی مدد اور سب سے بڑھ کر کسی عظیم استاد کی رہنمائی۔۔ ذرے ذرے میں اللہ کی محبت کا اظہار ہے اور ہماری محبت ان نعمتوں کے شکر میں ہے۔ شکر بھی اللہ کا ذکر ہے ۔ یہی روح کی غذا ہے کہ بندہ ہر وقت اللہ کا شکر ادا کرے اور ہر عمل کو من جانب اللہ سمجھے۔

اللہ تعالی محبت ہی محبت ہیں۔ وہ اپنی مخلوق کوبے چین ،   مضطرب اور تکلیف میں نہیں دیکھنا چاہتے۔   تمام سمندر سیاہی بن جائیں اور تمام درخت قلم بن جائیں تو بھی اللہ کی باتیں ختم نہیں ہوں گی۔ بالکل اسی طرح محبت بھی اللہ کی صفت ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ کی باتیں ختم نہیں ہوں گی ویسے اللہ تعالیٰ کی صفتِ محبت اور رحیمی بھی ختم نہیں ہو سکتی۔ نہ ابتدا ء کی خبر ہے اور نہ انتہا کی۔ بس ایک گہرا سمندر ہے جس میں تیرتے چلے جائیں۔ جس نے جو پا لیا ، اتنی ہی اس کی استطاعت۔ پھر ہم کیوں اس عظیم محبت سے غافل ہیں۔ کیا ہمارے سینوں  میں دل نہیں ہے یا ان دلوں پر مہر ہے؟

آپ نے کبھی کسی سے محبت کی ہے۔ وہ کوئی بھی فرد ہو سکتا ہے۔ ماں باپ ، استاد ، بہن بھائی ، کوئی بھی۔ اپنے محبوب کو خوش کرنے کے لیے آپ کیا کرتے ہیں؟ اس کی ہر بات کو بخوشی قبول کرتے ہیں، اختلافات سےگریز کرتے ہیں اور یوں اپنی نفی کر دیتے ہیں۔ محبوب کی رضا میں محب کی رضا ہوتی ہے۔ یہ تو وہ محبت ہے جو عارضی ہے۔ لیکن جو اللہ کی دائمی محبت ہے اس کے لیے ہماری کوشش کتنی ہے۔ وہ منتظر ہے کہ ہم کب پکاریں اور وہ پہنچے ہماری پکار کو۔ اللہ کا وعدہ ہے جو اس کی راہوں میں جدو جہد کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنی راہیں کھول دیتے ہیں۔ ہم ایک قدم آگے بڑھتے ہیں اللہ تعالیٰ ہمیں تھامنے کے لیے دس قدم آگے بڑھتے ہیں۔ ہم اللہ سے دنیا مانگتے ہیں لیکن دنیا والے کو نہیں مانگتے۔ دنیاؤں کے مالک کو مانگیے ، دنیا خود بخود مل جائے گی۔

خلیفہ ہارون رشید نے ایک دفعہ نمائش لگائی ، اس نمائش میں دنیا بھر کی چیزیں تھیں۔ بادشاہ نے اعلان کیا جس کا جو دل چاہے لے  جائے۔ ہجوم اکٹھا ہو گیا، لوگوں نے اپنی پسند کی چیزوں کو اٹھانا شروع کر دیا۔ ہارون رشید کی ایک کنیز تھی اس نے ایک چیز بھی نہیں اٹھائی۔ وہ نہایت ادب سے آگے بڑھی اور بادشاہ کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔

آپ غور فرمایئے!

عقل مند کون تھا کنیز یا وہ لوگ جنہوں نے مختلف چیزیں پسند کیں؟ کنیز بادشاہ کا انتخاب کر کے سب سے ممتاز ہو گئی۔ اتنی عقل مند تھی کہ ملکہ بن گئی۔

سورۃ ھود میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں،

” اور زمین میں جو بھی جاندار ہے اس کی روزی اللہ ہی کے ذمہ ہے اور اس کے ٹھہرنے اور اس کے سونپے جانے کی جگہ جانتا ہے۔ سب کچھ ایک کھلی کتاب میں درج ہے۔“

جس رزق کے لیے دن رات پریشان ہوتے ہیں اس کا  تو اللہ نے خود کو رزاق کہہ کر ہم سے وعدہ کیا ہے۔ اللہ کی سنت میں تبدیلی اور تعطل نہیں ہے۔ وہ تو ایسا محب ہے جو کہتا ہے تمام ضروریات کا کفیل میں ہوں۔۔۔ بس تم مجھ سے مانگو۔

اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ ہم اللہ  سے محبت کریں ، محبت کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنے محبوب کو شدت اور بے قراری سے یاد  رکھا جائے۔ ہر حال اور ہر قال میں روحانی تشخص برقرار رکھا جائے یعنی اللہ کا شکر اور ہر عمل کو اللہ کی طرف سے لیا جائے۔

حضرت رابعہ بصری ؒکا قول ہے کہ اللہ سے محبت دعوے میں صداقت یہ ہے کہ اس کی فرمانبرداری کی جائے۔

اللہ کی فرمانبرداری قرآن پاک پر عمل ہے۔ قرآن پاک غور و فکر کی دعوت دیتا ہے۔ اور غور و فکر کرنے والا بندہ جان لیتا ہے کہ ہر شے میں اللہ  ظاہر ہے۔ جو بندہ اللہ کا فرمانبردار بن جاتا ہے تو جبریل امین  زمین و آسمان میں منادی کر دیتے ہیں اور وہ بندہ زمین و آسمان کی تمام مخلوقات میں عزیز ہو جاتا ہے۔ وہ معرفت کا جام پی لیتا  ہے اور اسے اطمینان قلب نصیب ہو جاتا ہے۔