Topics

سونا جاگنا کیا ہے؟

 

کائنات کے قلب میں رموز و حقائق کے سمندر موجزن ہیں۔ آدمی اسی کائنات کا حصہ ہے اور اس کی تخلیق ایک ایسا راز ہے جس سے اگر وہ واقف ہو جائے تو کائنات کے باقی رموز اس کے سامنے خود بخود عیاں ہو جاتے ہیں۔ اس لیے کہ جو انرجی آدمی کی نسوں میں زندگی بن کر دوڑ رہی ہے وہی انرجی کائنات کی رگوں کے لیے حیات ہے۔ خود سے واقف ہوئے بغیر کائنات سے واقفیت ممکن نہیں۔

ہم جب اپنی ذات پر غور کرتے ہیں تو سوال در سوال در سوال یہ سوالات ذہن میں وارد ہوتے ہیں کہ میں کون ہوں۔۔ کس نے بنایا۔۔۔۔ کیوں بنایا۔۔۔ کہاں سے آیا۔۔۔ کہاں چلا جاتا ہوں۔۔۔ پھر آجاتا ہوں۔۔ اس کے بعد غیب کے پردے میں چھپ جاتا ہوں۔۔۔شب و روز کا چھپنا ظاہر ہونا جب زندگی ہے تو پھر زندگی کیا ہے۔۔۔؟ غور کرنے والوں کو ہر آسمانی کتاب ان سوالوں کے جواب دیتی ہے۔

آخری الہامی کتاب قرآن میں آدمی کی تخلیق میں تین بنیادی عوامل کا تذکرہ ہے۔

۱ ۔ مٹی   ۲۔ پانی  ۳۔ روشنی

” اور بے شک ہم نے انسان کو بجتی ہوئی مٹی سے جو سڑے ہوئے گارے سے بنی تھی پیدا کیا۔“    (۲۶:۱۵)

ہر ذی روح کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے۔ حضور قلندربابا اولیا ء ؒ فرماتے ہیں ” روحانیت کی زبان میں مٹی کا مطلب صرف مٹی نہیں بلکہ یہ ایک ایسا Mechanism ہے جس میں تخلیقی فارمولے متحرک ہیں اور مقداریں تبدیل کر کے مختلف شکل و صورت اختیار کرتے ہیں۔ یہ مقداریں روشنیوں پر قائم ہیں۔ اور ان روشنیوں کی بنیاد اللہ کا نور ہے۔“

کائنات میں موجود ہر شے کے دو رخ ہیں۔ ایک رخ ظاہرہے دوسرا رخ مادی آنکھ سے نظر نہیں آتا لیکن روح اسے دیکھتی ہے۔ مٹی کا دوسرا رخ روشنی ہے۔مادی آنکھ کو مٹی نظر  آتی ہے، روشنی نہیں۔ صاحب یقین شخص مٹی اور روشنی دونوں کو دیکھتا ہے۔ مٹی کا وجود فکشن اور نظر کا دھوکہ ہے۔ مٹی مٹی میں مل کر ایک اور مٹی کا روپ دھار لیتی ہے لیکن اس مٹی کی روشنیاں موجود رہتی ہیں۔ اس لیے صاحب یقین ہستیاں شے  کی اصل کو دیکھتی ہیں۔ مٹی کا رخ ان کے سامنے سے غائب ہو جاتا ہے جبکہ غائب نہیں ہوتا۔

تخلیقی عوامل میں دوسرا ذکر پانی کا ہے۔ ارشادِ ربانی ہے:

” وہی تو ہے جس نے پانی  سے بشر کی تخلیق کی ۔“ (۵۴:۲۵)

” اور وہی تو ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا جسے تم پیتے ہو اور اس سے درخت بھی ہیں جن میں تم اپنے چوپایوں کو چراتے ہو۔ اس پانی سے وہ تمہارے لیے کھیتی اور زیتون اور کھجور اور انگور اگاتا ہے۔ اور ہر طرح کے پھل۔ غور کرنے والوں کے لیے اس میں نشانی ہے۔“   (۱۶:۱۰۔۱۱)

قرآن میں پانی کے لیے لفظ ” ماء“ استعمال ہوا ہے۔ عظیمی صاحب ماء کی تشریح بیان فرماتے ہیں کہ ” جس کائنات کو مادی آنکھ دیکھتی اور پہچانتی ہے اس کی بنیاد روشنی کے اوپر قائم ہے۔ روشنی جس کے اندر بہاؤ ہے۔ اس روشنی اور روشنی کے اسی بہاؤ کو قرآن پاک ”ماء“ کہتا ہے۔ سائنس اس روشنی یا پانی کو گیسوں کے نام سے جانتی ہے۔ روشنیوں کے بہاؤ سے مراد یہ ہے کہ صد ہا گیسوں کے اجتماع سے شکلیں وجود میں آتی ہیں۔“

گلاس میں پانی لے کر اگر دیوار پر پھینکا جائے تو مختلف شکلیں وجود میں آتی ہیں۔ اسی طرح روشنیاں جب نزول کر کے کائنات کی اسکرین سے ٹکراتی ہیں تو افراد ِ کائنات یعنی انسان ، حیوان ، نباتات اور جمادات وغیرہ ظاہر ہو جاتے ہیں۔ یہ افراد یا نوعیں گلاس میں موجود پانی یا نزول کرنے والی لہروں میں موجود تھیں۔ اسی لیے دیوار یا اسکرین پر ٹکرانے سے ان کی شکلیں ظاہر ہوئیں۔ پانی بھی اللہ کی مخلوق ہے۔ یوں پانی کے بھی دو رخ ہیں۔ ایک رخ پانی ، جو ظاہر ہے اور دوسرا رخ پانی کا باطن یعنی روشنی ہے۔

قارئین تجربہ کیجیے۔

سینما میں جا کر بیٹھ جایئے۔ وہاں آپ کو ایک بڑے ہال میں اسٹیج پر اسکرین نظر آئے گی۔ وہ جس چیز کی بھی بنی ہوئی ہو۔ کپڑے کی ہو۔ کینوس کی ہو۔ کپڑے کی جگہ سفید دیوار کو اسکرین بنا لیا جائے۔ یکایک گھپ اندھیرا ہو جاتا ہے۔ اس پر ایک منزل اوپر بہت سارے سوراخ ہیں۔ ان سوراخوں  میں سے کسی ایک سوراخ میں سے لائٹ کی ایک موٹی دھار نکلتی ہے اور ہال میں فضا  سے گزرتی ہوئی اسکرین سے ٹکراتی ہے۔۔۔اسکرین پر تصویریں نظر آتی ہیں لیکن ناظرین سر اٹھا کر روشنیوں کی بیم کو دیکھیں تو تصویر نظر نہیں آتی۔ یہ ضرور ہوتا ہے کہ روشنی کی لہریں بالکل ایک ساتھ ہیں لیکن ان میں ایسا فاصلہ بھی ہے جس فاصلے کو کسی بھی طرح ناپا نہیں جا سکتا۔ روشنی کی یہ دھاریں کبھی اوپر ہو جاتی ہیں۔ کبھی نیچے ہو جاتی ہیں۔ کبھی دائیں سے بائیں اور کبھی بائیں سے دائیں۔ کبھی ایک دم پوری دھاریں نیچے ہو جاتی ہیں اور اوپر ہوجاتی ہیں لیکن ان تمام روشنی کی لہروں میں ہمیں کچھ نظر نہیں آتا اور جب روشنیوں کی تقریباً چار انچ رقبے میں پھیلی ہوئی یہ دھاریں اسکرین سے ٹکرا کر پھیلتی ہیں تو ہمیں نہ صرف تصویر نظر آتی ہے بلکہ تصویر کی حرکات و سکنات یعنی اچھلنا ، کودنا ، ناچنا ، گانا، بولنا ، رونا، غصہ ہونا، خوش ہونا، گفتگو میں تلخی ۔ نرمی، نفرت ، عشق ، خلوص ، ایثار اور خود غرضی اور نفرت کے الفاظ اور ان کا مظاہرہ بھی نظر آتا ہے۔

قارئین خواتین وحضرات خصوصاً طالبات و طلبا کو اس مثال سے اس طرف متوجہ کرنا مقصود ہے کہ اسکرین پر ہم کیا دیکھ رہے ہیں۔۔۔۔ اور اگر دیکھ رہے ہیں تو اس تصویر کا سورس کیا ہے۔۔۔۔ اگر لہر سورس ہے تو لہر کا سورس کیا ہے۔۔۔ لہر کا سورس اگر پروجیکٹر ہے تو پروجیکٹر کا سورس کیا ہے۔۔۔ پروجیکٹر کا سورس اگر بجلی (Electricity) ہے تو بجلی کا بھی کوئی نہ کوئی سورس ہوگا ۔۔۔ وہ کیا ہے؟

ان سوالات کے جوابات لکھیے۔ آپ کے نمایاں نام کے ساتھ ہم ان شاء اللہ ” ماہنامہ قلندر شعور“ میں شائع کریں گے اور قرعہ اندازی کے بعد آپ کی خدمت میں آپ کا پسندیدہ نہیں۔۔۔۔ اپنی پسند کا تحفہ پیش کریں گے۔

آسمانوں اور آسمانوں کی مخلوقات ، زمین اور زمین کی مخلوقات اور جو کچھ  زمین اور آسمان کے درمیان ہے، مادی آنکھ اسے دیکھتی ہو یا نہ دیکھتی  ہو۔ سب روشنی ہے اور اس روشنی کو اللہ کا نور متحرک رکھتا ہے۔ اگر بندہ مٹی کے وجود کی ابتدا کرنے والی روشنی سے واقف ہو جائے تو وہ یہ جان لے گا کہ مٹی کا وجود نظر کا دھوکہ ہے اور حرکت کے لیے روشنیوں کے وجود کا محتاج ہے۔ جسمانی وجود اس سے زیادہ کچھ جان نہیں سکتا جتنا روشنیوں کا وجود اسے انسپائر کرتا ہے۔

روشنی جب تنزل کرتی ہے تو اس کے مزید دو رخ بنتے ہیں۔ روشنی کا ایک رخ روشنیاں جن  سے مادی خدوخال بنتے ہیں۔ اسے تانا کہتے ہیں۔ دوسرا رخ جسمانی وجود ہے اسے بانا کہتے ہیں۔ جب تک روشنی نظر نہیں آتی وہ اکہری حرکت ہے اور جب روشنی مادی وجود کی صورت میں نظر آتی ہے تو اسے دہری حرکت کہتے ہیں یعنی دور روشنیاں (لہریں) مختلف سمتوں سے آپس میں ٹکرائیں ، ٹکرانے سے ایک دوسرے میں جذب ہوئیں تو ان روشنیوں میں موجود خدو خال ظاہر ہو گئے اور اسکرین پر تصویر بن گئی۔

ٹی وی کم و بیش سب کے گھر میں موجود ہے۔ ہر شے کی طرح ٹی وی کا باطنی رخ بھی روشنی ہے۔ نشریات جب مرکز سے لہروں ( روشنیوں) کی صورت میں ٹی وی اسکرین سے ٹکراتی ہے تو تصویر نظر آتی ہے۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ قائم ہے کہ روشنی کی اصل کیا ہے؟ روشنی کی اصل اگر پانی ، گرڈ اسٹیشن ہے تو اس کی اصل کیا ۔۔۔؟ اگر کرنٹ کا ذخیرہ میگنٹ (Magnet) میں ہے تو میگنٹ کیا ہے۔۔۔؟

زندگی خیالات کی ترتیب کا نام ہے۔ ایک لکیر سے دوسری لکیر ملتی ہے تو خدوخال بنتے ہیں۔ جتنی لکیریں ملتی ہیں مادی آنکھ کے لیے نقش و نگار واضح ہو جاتے ہیں۔ لکیروں کی یہ حرکت دو رخوں پر قائم ہے۔ ایک رخ طوالت (Vertical) میں ۔ جب تک لکیریں یا تصویریں ایک رخ یعنی روشنیوں پر قائم ہیں یہ جنات کی  دنیا ہے۔ اور جب عرضی لکیریں طولانی لکیروں سے ٹکراتی ہیں تو آدمی اور آدمی کی دنیا بناتی ہیں۔ جب تک لکیریں ایک سمت میں رہتی ہیں زمین کی ثقل سے آزاد ہوتی ہیں اور جب ڈبل یا دوہری ہو جاتی ہیں تو ان میں محدود بڑھ جاتی ہے۔

دو کاغذ لیجیے۔ ایک کاغذ پر طولانی (Vertical) سمت میں سیدھی سیدھی لکیریں کھینچئے اور دوسرے کاغذ پر طولانی کے ساتھ عرضی (Horizontal) لکیریں بھی بنائیے۔ یہ گراف بن جائے گا۔ اسے تانا بانا کہتے ہیں۔ طول تانا ہے اور عرض بانا ۔ یہ اس طرح بنا ہے کہ فاصلہ نہ رہے۔ اب دونوں کاغذ سامنے رکھیے اور بتائیے کس کاغذ میں وقفے زیادہ ہیں۔ اگر آپ کو ان کاغذوں پر چلنا پڑے تو کس  کاغذ پر چل کر آپ کنارے پر پہلے پہنچیں گے؟ سیدھی سیدھی لکیروں والے کاغذ میں اسپیس کم ہے۔ خلا کم ہے۔ اسپیس یا خلا کم ہونے سے مراد یہ ہے کہ ان میں وقفے کم ہیں۔ جب وقفہ (رکاوٹ) کم ہوتا ہے تو رفتار بڑھ جاتی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ وقفے ختم نہیں ہوئے۔ اس کاغذ پر چلنے والے کے لیے دائیں  بائیں حرکت محدود ہے لیکن وہ جتنی چاہے طوالت اختیار کر سکتا ہے ۔ تانے میں سفر کرنے  کی وجہ سے رفتار بہت زیادہ ہوتی ہے جس کی مادی دنیا میں پیمائش ممکن نہیں۔ اس لیے مادی لحاظ سے اس دنیا میں ٹائم کی نفی ہو جاتی ہے۔

دوسری طرف آدمی گراف میں بند ہے۔ گراف میں موجود ہر خانہ کے لیے وقفہ ہے۔ وہ ان خانوں میں قید ہے۔ نہ طول کی حدوں کو توڑ سکتا ہے نہ عرض کی رکاوٹ سے باہر  آتا ہے۔ ایک قدم اٹھانے کے بعد دوسرا قدم لازماً زمین پر رکھنا پڑتا ہے پھر وہ تیسرا قدم اٹھاتا ہے۔ وہ قدموں ، لمحوں اور کتابِ زندگی کو ترتیب وار پڑھنے کا محتاج ہے۔ لیکن ایک حالت ایسی ہے جب اس کی یہ ترتیب برقرار نہیں رہتی۔ رات سونے اور بیداری میں خیال کی۔

جب ہم نیند میں ہوتے ہیں تو لمحوں سے بھی کم وقت میں دنیا جہاں کی سیر کر اتے ہیں۔ وہاں اسپیس اور وقت دونوں موجود ہیں لیکن اس وقت کی پیمائش مادی طور پر نہیں کر سکتے ۔ اس لیے کہ مادی علم محدود ہے اور نیند کی دنیا لامحدودیت سے واقفیت کی طرف پہلا قدم ہے۔ نیند میں بندہ خیال کی رفتار سے سفر کرتا ہے۔ خیال کی رفتار روشنی کی رفتار سے زیادہ ہے۔ جس لمحے یہ حرکت کا آغاز کرتی ہے اسی لمحے واپس نقطہ آغاز پر پہنچ جاتی ہے۔ نیند کی دنیا بندے پر یہ حقیقت ظاہر کرتی ہے کہ مادی وجود حرکت کو محدود کر دیتا ہے۔ بندہ اگر مادی وجود کو مغلوب کر لے تو وہ بیداری میں بھی زمین کی کشش ثقل سے آزاد ہو سکتا ہے۔

قارئین :       زندگی کے ایک رخ میں وقت سکڑ رہا ہے اور دوسرے رخ میں پھیل رہا ہے۔ حقیقت ایک ہوتی ہے ۔ پھر وقت اور فاصلے کی حیثیت کیا ہوئی۔۔۔؟  کیا واقعی کائنات میں فاصلہ موجود ہے۔۔۔؟

اللہ فرماتے ہیں:

” بے شک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔“ (۱۹۰:۳)

دوسری طرف بیداری میں خیال کی قوت ہے۔ جو کسی نہ کسی حد تک محدودیت کے دائرے میں بند ہے۔ ہم خیالوں میں کہاں سے کہاں پہنچ جاتے ہیں۔ ماضی میں بھی گھوم آتے ہیں اور مستقبل کی سیر بھی کر لیتے ہیں۔ لیکن جب توجہ ٹوٹتی ہے تو خود کو واپس اسی جگہ پاتے ہیں جہاں سے پرواز شروع کی تھی۔ خیال کا قانون بتاتا ہے کہ اگر خیال میں توجہ مرکوز ہو جائے تو رفتار تیز ہو جاتی ہے اور تصویر مظہر بن جاتی ہے۔

روشنیوں سے واقف ہونے  کے لیے اللہ کی نشانیوں پر غور اور تحقیق و تلاش سے بندہ اللہ کی عطا کردہ ایسی صلاحیتوں سے واقف ہو سکتا ہے جو صلاحیت بیداری کے برعکس نیند میں ظاہر ہوتی ہے لیکن نیند کے بعد اور بھی کئی زون ہیں۔