Topics
رسول اللہ ﷺ کے بارے میں
قرآن میں بشارتیں:
” جب ابراہیم اور اسماعیل بیت اللہ کی بنیادوں کو بلند کر رہے تھے تب وہ دعا
کر رہے تھے کہ اے سمیع و علیم! اس عمارت کو قبول فرما اور اے ہمارے رب! ہم دونوں
کو اپنا فرماں بردار رکھ اور ہماری رعیت کو بھی فرما نبردار بنا اور اے رب الرحیم!
ہم کو جملہ آداب عبادات سکھا اور ہماری فرمانبردار رعیت ہی میں سے ایک عظیم الشان
رسول مبعوث فرما جو پڑھے ان پر تیری آیتیں اور سکھائے ان کو کتاب اور حکمت کی
باتیں اور ان کو سنوارے تو ہی ہے اصل زبردست حکمت والا۔“ (۲:۱۲۷۔۱۲۹ )
”عیسیٰؑ بن مریم نے کہا ، اے بنی اسرائیل ! میں تمہاری طرف اللہ کا رسول ہوں ،
میں تورات کی جو مجھ سے پہلے آئی ہے تصدیق کرتا ہوں اور میں اس رسول کی تم کو
بشارت دیتا ہوں جو میرے بعد آئے گا اس کا نام ”احمد “ ہوگا۔“ (۶۱:۶)
”اور جب اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا کہ میں تم کو جو کتاب اور حکمت عطا کروں
اور پھر تمہارے پاس وہ پیغمبر آئے جو ان کتابوں کی تصدیق کرتا ہو جو تمہارے پاس
ہیں، تم ضرور اس پر ایمان لانا اور اس کی مدد کرنا۔ اللہ نے فرمایا۔ کیا تم اس عہد
کا اقرار کرتے ہو؟ تو انہوں نے کہا بے شک ہم اقرار کرتے ہیں، اللہ نے فرمایا اب تم
اس عہد پر گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ بنتا ہوں۔“ (۸۱:۳)
”(پس میں ان کے لئے رحمت لکھ دوں گا) پیروی کریں گے رسول کی وہ نبی امی ہوگا
اور اس کے ظہور کی خبر وہ اپنے یہاں تورات
اور انجیل میں بھی پائیں گے، وہ انہیں
نیکی کا حکم دے گا اور برائی سے روکے گا اور پسندیدہ چیزیں حلال کرے گا اور گندی چیزیں
حرام ٹھہرائے گا اور اس بوجھ سے نجات دے گا جس کے تلے وہ دبے ہونگے ، اور ان
پھندوں سے نکالے گا جن میں وہ گرفتار ہوں گے تو جو لوگ اس پر ایمان لائے اس کے
مخالفوں کے لئے روکتے ہوئے (راہ ِ حق میں) اس کی مدد کی اور اس روشنی کے پیچھے
ہوئے جو اس کے ساتھ بھیجی گئی ہے (یعنی قرآن) سو وہی ہیں جو کامیابی پانے والے
ہیں۔ اے پیغمبر! تم لوگوں سے کہو ، اے لوگو ! میں تم سب کے لئے اللہ کا رسول ہوں
اور وہ اللہ ہے اور آسمانوں اور زمین کی بادشاہت اسی کے لئے ہے ، کوئی معبود نہیں
مگر وہ ایک ذات ، وہی جلاتا ، وہی مارتا ہے ، پس اللہ پر ایمان لاؤ اور اس کے رسول
اور نبی امی پر جو اللہ اور اس کے کلمات پر ایمان رکھتا ہے، اس کی پیروی کرو تاکہ
کامیابی کی راہ تم پر کھل جائے۔“
( ۷ : ۱۵۷
۔ ۱۵۸ )
” اور پھر کیا حال ہوگا اس دن جبکہ ہم ہر ایک امت میں سے ان پر ایک گواہ طلب
کریں گے اور ہم تم کو ان سب پر گواہ
بنائیں گے۔ تو جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اور رسول کی نافرمانی کی وہ اس دن
یہ پسند کریں گے کہ کاش ( وہ دھنس جائیں اور) زمین ان کے اوپر برابر ہو جائے۔ اور
اس دن یہ اللہ سے کوئی بات بھی چھپی نہیں رکھ سکیں گے۔“ (۴ : ۴۱ ۔ ۴۲)
”محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ (صحابہ) ان کے ساتھ ہیں۔ وہ منکروں پر سخت
ہیں اور آپس میں نرم خو ہیں۔ تو ان کو دیکھے گا جھکنے والے ، سجدہ کرنے والے اور
طریقہ سے خدا کے فضل اور اس کی رضا کے خواہشمند ہیں۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ ان کے
چہروں پر سجدے کے نشانات ہیں۔ تورات اور
انجیل میں ان کا ذکر اسی طرح ہے۔“ (۲۹:۴۸)
سیدنا حضور ﷺ کی نبوت و رسالت کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ نبی ﷺ ساری دنیا
کے لئے واحد مذہب ” دین اسلام“ لے کر تشریف لائے۔
”ہم نے تجھے تمام انسانوں کے لئے بشارت پہنچانے والا ، ڈر سنانے والا بنا کر
دنیا میں رسول بنایا ہے۔“ (۲۸:۳۴)
تمام پیغمبروں اور مذہبی شخصیتوں میں محمد (ﷺ) سب سے زیادہ کامیاب ہیں۔“
(مقالہ نگار : انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا)
”پیشوائے دین اسلام محمد (ﷺ) کی زندگی دنیا کو بے شمار قیمتی سبق پڑھا رہی ہے
اور آپ کی ہر حیثیت اور آپ ﷺ کی زندگی کا ہر پہلو دنیا کے لئے ایک بہترین سبق ہے
بشرطیکہ کوئی دیکھنے والی آنکھ ، سوچنے والا دماغ اور محسوس کرنے والا دل رکھتا
ہو۔“
(از محمد ، مصنفہ پروفیسر مارگیولیس)
” میں نے محمد (ﷺ) کی تعلیمات کو بغور پڑھا ہے جو انہوں نے خلق ِ خدا کی خدمت
اور اصلاح اخلاق کے لئے دی ہے۔ میری رائے ہے کہ اگر کوئی غیر مسلم بھی اسلام کی
ہدایتوں پر عمل کرے تو وہ بہت کچھ ترقی کر سکتا ہے۔ میرے خیال میں موجودہ زمانہ
میں سو سائٹی کی اصلاح کا سب سے بہتر طریقہ یہی ہے کہ اسلام کی تعلیم کو رائج کیا
جائے۔“
(جرمنی کا مشہور پروفیسر ہوگ)
” میں دنیا کے مذاہب کا مطالعہ کرنے کا عادی ہوں، میں نے اسلام کا بھی مطالعہ
کیا ہے بانی اسلام ﷺ نے اعلیٰ اخلاق کی پاکیزہ تعلیم دی ہے۔ جس نے انسان کو سچائی
کا راستہ دکھایا اور برابری کی تعلیم دی ہے۔ میں نے قرآن مجید کا ترجمہ بھی پڑھا
ہے۔ اس میں مسلمانوں کے لئے نہیں بلکہ سب کے لئے مفید باتیں اور ہدایتیں ہیں۔“
(مہاتما گاندھی)
” جب ہم اس نظام پر غور کرتے ہیں جس میں پیغمبر اسلام ﷺ نے اپنی نبوت اور
رسالت کا علم بلند کیا اور جس میں ایک ایسا کامل مجموعہ قوانین تیار کیا گیا ہے جو
دنیا کی ملکی ، مذہبی اور تمدنی ہدایتوں کے لئے کافی ہے۔ تو ہم نہایت حیران ہوتے
ہیں کہ ایک ایسا عظیم الشان ملکی اور تمدنی نظام جس کی بنیاد کامل اور سچی آزادی
پر ہے۔ کس طرح قائم کیا گیا ہے؟ پس ہم دل سے اقرار کرتے ہیں کہ اسلام ایک ایسا
مجموعہ قوانین ہے جو ہر لحاظ سے بہترین ہے۔“
(موسیو اوحبیل کلوفل)
” محمد (ﷺ) نے عورت کے حقوق کی ایسی حفاظت کی کہ اس سے پہلے کسی نے نہ کی تھی
اس کی قانونی ہستی قائم ہوئی۔ جس کی بدولت وہ مالِ وراثت میں حصہ کی حقدار ہوئی۔
وہ خود اقرار نامے کرنے کے قابل ہے اور برقع پوش مسلمان خاتون کو ہر شعبہ زندگی میں وہ حقوق حاصل ہوئے جو آج بیسویں صدی میں
اعلیٰ تعلیم یافتہ آزاد عیسائی عورت کو بھی حاصل نہیں ہیں۔“ (مسٹر پیٹر کریبئس)
”حضرت محمد (ﷺ) کے حالات ِ زندگی پر نظر ڈالنے کے بعد کوئی انصاف پسند شخص ان
کی اولوالعزمی ، اخلاقی جرات ، نہایت خلوص نیت، سادگی اور رحم و کرم کا اقرار کئے
بغیر نہیں رہ سکتا۔ پھر انہی صفات کےساتھ استقلال ِ عزم اور حق پسندی و معاملہ
فہمی کی قابلیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یہ یقینی بات ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی
سادگی ، لطف و کرم اور اخلاق کو بلا خیال مرتبہ قائم رکھا۔ (لیفٹیننٹ کرنل سائیکس)
تاریک زمانے میں اندھیروں کو روشنیوں میں تبدیل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے خصوصی لطف و کرم سے
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو دنیا میں بھیجا۔ رسول اللہ ﷺ نے اعلان فرمایا:
” میں کوئی نئی بات نہیں کہہ رہا ہوں ، مجھ سے پہلے پیغمبروں نے اللہ وحدہ لا
شریک کا جو پیغام پہنچایا ہے میں بھی وہی پیغام لے کر آیا ہوں کہ اللہ ایک ایسی
ہستی ہے جس کا کوئی شریک نہیں ، جو مخلوق کو تخلیق کرنے والا ہے اس جیسا کوئی نہیں
اور نہ اس کا کوئی شریک ہے وہ ہر ضرورت سے ماورا ہے ، وہ نہ سوتا ہے اور نہ اسے
غنود آتی ہے ، نہ وہ کسی کا باپ ہے اور نہ اس کی کوئی اولاد اس کا کوئی خاندان
نہیں۔“
احمد ۔۔۔ محمد ﷺ دنیا میں اس لئے بھیجے گئے کہ انبیاء کی تعلیم ، توحید کا مشن
پورا ہو۔ جو زمین کے باسی آدمؑ وحوا کی اولاد کے لئے مخلوق اور خالق کے درمیان
واسطہ اور رابطہ ثابت ہو تاکہ تخلیق کا منشا پورا ہو۔
رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات نے دنیا کی تاریخ کی دھارا موڑ دیا۔
ارشاد ہے :
” ہمیں اس لئے پیدا کیا ہے کہ ہم اُس ہستی کو پہچانیں ، جس نے ہمیں اس دنیا
میں بھیجا ہے اور کہیں سے بھیجا ہے ، پھر اس دنیا میں آنے کے بعد ہمارا وجود غیب و
شہود کی فلم بن گیا۔
ایک سال گزرا سراپے میں واضح تبدیلی آگئی، بچپن غائب ہو کر لڑکپن ظاہر ہوا
وقت اور گزرا تو آدمی جوانی کے منہ زور
گھوڑے پر سوار ہو گیا یہ تنومند نوجوان ظاہر و غائب ہوتے ہوئے ایسی منزل پر پہنچ
گیا جس میں اعضاکمزور ، مضمحل اور سکڑ گئے، پہلے گھٹنوں میں آبیاری کم سے کم ہوتی
گئی آدمی قد کاٹھ سے چھوٹا نظر آنے لگا، پھر کمر جھکنے لگی اور ہاتھ میں لاٹھی
آگئی ۔ ستاروں کو دیکھنے والی آنکھیں دھند لا دیکھنے لگیں پھر ایک وقت ایسا آیا کہ
دھند بھی نظر نہیں آئی۔ سیاہ چمکدار بال جن میں خون دوڑتا تھا ۔ سرخ ذرات کی جگہ
وائٹ آر ٹیکلز آگئے۔ بال اڑ گئے اور پھر بالوں نے کیا رنگ اختیار کیا یہ آپ سب
جانتے ہیں۔
حاضر و غائب کا سلسلہ پیدائش کے پہلے دن سے شروع ہوا اور عمر کے آخری وقت تک
اسی طرح قائم رہا۔۔۔ اور پھر زمین میں اس طرح غائب ہو گیا کہ ایک چھ فٹ قد کاٹھ کا
آدمی مٹی بن گیا اور پھر مٹی سے خاک بن گیا۔“
ہادی برحق محمد رسول اللہ ﷺ نے ان تمام واقعات سے اس طرح پردہ اٹھایا کہ ہر با
ضمیر آدمی کا دل روشن اور منور ہو جاتا ہے۔
بندہ اپنے خالق کو اس وقت پہچان سکتا ہے جب اس کا ہر عمل اللہ کے لئے ہو۔
معاشرت ، معیشت ، جنگ و امن، غرض زندگی کے ہر شعبے میں رسول اللہ ﷺ خود عملی تفسیر
ہیں۔
سورہ الانعام میں ارشاد ہے :
” میری نماز میرے تمام مراسمِ عبودیت اللہ کے لئے ہیں۔“ (۶ : ۱۶۲)
اللہ تعالی نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو عالمین کے لئے رحمت بنا کر بھیجا۔
رسول اللہ ﷺ کے بعد کوئی پیغمبر نہیں آئے گا۔ دین کی تکمیل ہو چکی ہے۔
سورہ سبا میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :
” اور ہم نے رسول اللہ ﷺ کو تمام انسانوں کے لئے بشیر اور نذیر بنا کر بھیجا
ہے مگر اکثر لوگ جانتے نہیں۔“ ( ۳۴ : ۲۸)
بحیثیت خاتم النبین حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت کا مقصد یہ تھا کہ بین
الاقوامی سطح پر انسانیت کے لئے ایک دستورِ زندگی اور اجتماعی نظام متعارف کر ایا
جائے جو انسانی فطرت کے عین مطابق ہو اور جس کے ذریعے فرد ، معاشرہ اور اقوام عروج
اور ترقی کی منزلیں طے کر سکیں یہ جامع دستور ، کامل دین اور مکمل نظام جو ہر خطہ
زمین اور زمانے کے لیے کار آمد اور ممکن عمل ہے۔ قرآن پاک نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام
کی سیرتِ طیبہ کو اہلِ ایمان کے لئے اسوہ حسنہ قرار دیا ہے۔
مذہب اسلام امن کا داعی ، صداقت کا علمبردار اور انسانیت کا پیامبر ہے۔ اسلام
کا پیغام یہ ہے کہ تمام افرادِ کائنات اللہ تعالیٰ کی مخلوق ہیں خالق ِ کائنات کے
ارشاد کے مطابق وہ شخص پسندیدہ ہے جو آسمانی کتابوں اور آخری کتاب قرآن پر عمل
پیرا ہو۔
حضرت محمد ﷺ نے مذہبی رواداری کی محض تلقین نہیں فرمائی بلکہ عملی اقدامات بھی
فرمائے ۔ اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ ” میں کوئی نئی بات نہیں فرما رہا بلکہ وضاحت
کر رہا ہوں جو مجھ سے پہلے پیغمبروں نے فرمایا۔“
حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات غیر مسلم اقلیتوں کو مذہبی رواداری اور مذہبی آزادی کی
ضمانت فراہم کرتی ہیں اور ان کے جان و مال ، عزت و آبرو اور مذاہب کے عقائد اور
عبادت گاہوں کو تحفظ دیتی ہیں۔