Topics
ناشتہ سے فارغ ہو کر ہم سب
بابا خرواریؒ کی زیارت کے لئے روانہ ہوئے۔ زیارت سے 8کلومیٹر جنوب میں پہاڑوں میں گھری
یہ وادی بے حد قدرتی حسن لئے ہوئے ہے۔ نیچے زیارت گاہ اترنے سے پہلے ایک پراسپیکٹ پوائنٹ
ہے۔ یہاں سے پیالہ نما وادی کا نظارہ کیا جاتا ہے۔ سامنے ہی کوہ خلیفت کی چوٹی نظر
آتی ہے اور اس پر چوٹی کی تراش خراش لفظ اللہ واضح کرتی ہے۔ مرشد کریم کے ہمراہ سب
نے ریسٹ ہاؤس کی بالکونی سے اس لفظ کا مشاہدہ کیا۔
بابا خرواریؒ کے مزار پر فاتحہ
کے بعد مرشد کریم نے ہم سب ساتھیوں سے دریافت کیا کہ جیسی محنت ہم نے دنیاوی علوم کے
حصول کیلئے کی ہے۔ کیا ویسی ہی تگ و دو اور محنت روحانی علوم کے حصول کیلئے بھی کی
جا رہی ہے؟ سب کا جواب نفی میں تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا کہ دنیاوی علوم میں میٹرک،
انٹر اور اس کے بعد پیشہ ورانہ تعلیم کے حصول کے لئے مجموعی طور پر 17سال لگتے ہیں۔
اور ان سترہ سالوں میں کم و بیش روزانہ دس گھنٹے محنت کی جاتی ہے۔ تب کہیں جا کر آپ
ڈاکٹر، انجینئر یا اکاؤنٹنٹ وغیرہ بنتے ہیں۔ صرف میٹرک کرنے میں 35ہزار 6سو گھنٹہ کا
وقت، محنت اور اسی مناسبت سے رقم خرچ ہوتی ہے۔ تب کہیں جا کر طالب علم اس قابل ہوتا
ہے کہ وہ کسی ایک شعبہ کا انتخاب کر سکے۔ آج کل تو میٹرک کے بعد چپڑاسی کی نوکری بھی
نہیں ملتی۔
اس کے برعکس روحانی علوم کیلئے
روزانہ بمشکل پندرہ بیس منٹ مراقبہ کیا جاتا ہے۔ اور تین چار ماہ بعد ہی شکوہ ہوتا
ہے کہ ہمیں کچھ حاصل نہیں ہوا۔ ان تین چار ماہ میں بھی باقاعدگی نام کی چیز نظر نہیں
آتی۔ روحانی علوم جن کی افادیت اور دائرہ کار ایک دو نہیں بلکہ بے شمار عالمین کی زندگی
اور نظام پر محیط ہے۔ کیا اس کی اہمیت میٹرک سے بھی کم کر دی جائے؟
ان توجہ طلب اور فکر آموز
ارشادات پر تفکر سے یہ بات زیادہ واضح انداز میں سمجھ آئی کہ روحانیت میں عمل پہلے
اور علم بعد میں ملتا ہے۔ جبکہ مادیت اس کے برعکس ہے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری
رحمتہ اللہ علیہ اپنے مرشد کے حکم پر پوری جوانی خانقاہ میں صرف پانی بھرنے میں گزار
دیتے ہیں۔ خواجہ غریب نوازؒ اتنی محنت نہ کرتے یا اس محنت کی توجیہ جاننا شروع کر دیتے
کہ میں تو روحانی علوم حاصل کرنے آیا ہوں نہ کہ پانی بھرنے یا یہ کہ پانی بھرنے کا
علم سے کیا تعلق ہے؟ تو وہ یہ علم حاصل نہ کر پاتے۔ روحانیت کا پہلا سبق با ادب با
نصیب اور دوسرا سبق عمل ہے۔
بابا خرواریؒ کے مزار سے مرشد
کریم کے ہمراہ وادی ززری کے خاموش اور زیریں جنگل کی سیر کا پروگرام بنا جبکہ دیگر
افراد واپس زیارت روانہ ہو گئے۔ وادی ززری کیلئے پہاڑوں کو کاٹ کاٹ کر پتھریلا اور
کچا راستہ بنایا گیا ہے۔ یہ راستہ پہاڑی کے ساتھ ساتھ گھومتا ہوا انتہائی دشوار گزار
اور خطرناک ہے۔ لیکن یہاں فطرت کا بے محابہ حسن نگاہوں کو خیرہ کئے رکھتا ہے یہاں کوک
وغیرہ پی کر جب ہم کافی تاخیر سے واپس زیارت پہنچے تو بقایا ساتھی وادی چوتیر روانہ
ہو چکے تھے۔ چوتیر ریسٹ ہاؤس میں آرام و طعام کے بعد واپس کوئٹہ روانہ ہوئے۔ وادی چوتیر زیارت
کا خوبصورت ترین علاقہ ہے۔ یہاں کے خستہ ’’طور کلو سیب‘‘ اور شیریں ’’چیری‘‘ بہت مشہور
پھل ہیں۔ جونیپر کے جنگل کے درمیان ان پھلوں کے باغات اور صنوبر کے درختوں کی چھال
سے ڈھانکی گئیں۔ مٹی کی جھونپڑیاں دیہی ثقافت کی علامت کے طور پر نہایت دلکش منظر پیش
کرتی ہیں۔ ہم واپسی پر ’کچھ‘ کے مقام پر نماز مغرب اور چائے کیلئے رکے کوئٹہ یہاں سے
80کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ رات کے 9بج رہے تھے جب ہم کوئٹہ پہنچے۔ دن بھر کے ایڈونچر
کے بعد مرشد کریم نے آرام فرمایا۔ کھانے کے بعد چند دوستوں نے ایک خصوصی نشست طے کر
رکھی تھی۔ ان مہمانان گرامی سے بات چیت کے دوران آپ نے ارشاد فرمایا کہ مرد کامل جب
تربیت حاصل کر لیتا ہے تو اس کے ذہن کا یہ پیٹرن بن جاتا ہے کہ وہ کسی بھی غلطی پر
فوراً استغفار کرتا ہے اور شرمندگی و انکساری کا اظہار کرتا ہے۔ جبکہ عام فرد اپنی
غلطی تسلیم ہی نہیں کرتا دوسرا یہ کہ روحانی لوگ ہمیشہ دوسروں کی دل آزاری سے بچتے
ہیں۔ روحانیت میں سب سے بڑی رکاوٹ مردم آزاری ہے جس سے دل سخت ہو جاتا ہے۔ مردم آزاری
سے بہرحال بچنا چاہئے۔ مرشد کریم کے 9روزہ دورہ کی یہ آخری شب تھی۔ سفر کے تھکن آمیز
احساس پر حاوی اس فکر میں اجازت لے کر راوی آپ سے رخصت ہوتا ہے۔
21 مئی 1998ء
روحانی محفل۔II
۔۔۔ ’مراقبہ، تفکر، روح‘
روانگی مرشد کریم
Chasm E Mah Roshan Dil E Mashad
خواجہ شمس الدین عظیمی
مٹی کی
لکیریں ہیں جو لیتی ہیں سانس
جاگیر
ہے پاس اُن کے فقط ایک قیاس
ٹکڑے جو
قیاس کے ہیں مفروضہ ہیں
ان ٹکڑوں
کا نام ہم نے رکھا ہے حواس
(قلندر
بابا اولیاءؒ )
انتساب
مربّی،
مشفّی
مرشد کریم
کے نام
الشیخ خواجہ شمس الدین عظیمی جب کوئٹہ و زیارت
کے تبلیغی دورہ پر تشریف لائے تو آپ نے روحانی علوم کے متلاشی خواتین و حضرات کیلئے
کئی روحانی سیمینارز، علمی نشستوں، روحانی محافل، تربیتی ورکشاپس اور تعارفی تقاریب
میں شرکت فرمائی۔ علم الاسماء، تسخیر کائنات اور خواتین میں روحانی صلاحیتوں جیسے اہم
موضوعات پر اپنے ذریں خیالات کا اظہار فرمایا۔ کوئٹہ اور زیارت کے تفریحی مقامات کی
سیر کی۔ علم و عرفان کی آگہی کے اس سفر کی روئیداد حاضر خدمت ہے۔
اس روئیداد کی تدوین، مرشد کریم کی مشفقانہ
سرپرستی سے ممکن ہو سکی۔ محترمی نواب خان عظیمی کی حوصلہ افزائی، علی محمد بارکزئی،
محمد مسعود اسلم اور زکریا حسنین صاحبان کا تعاون حاصل رہا۔