Topics

پاکستان سے محبت


رمضان المبارک کی ۲۷ تاریخ اور ۱۴ اگست ۱۹۴۷ کو برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک آزاد وطن کا قیام اللہ کی عطا کردہ ایک بڑی نعمت ہے۔برصغیر کے مسلمانوں نے رنگ،نسل،زبان اور عقائد کے تمام نظریات کو ختم کر کے صرف ایک نظریہ کلمہ توحید کو بنیاد بنا کر ایک آزاد ملک کا مطالبہ کیا اور اس کے لیے مال اور جانیں تک قربان کر دیں۔

پیارے بچو!

آپ جانتے ہیں کے اللہ تعالیٰ کے محبوب حضرت محمدﷺ کی رحمتوں اور خصوصی اجازت سے پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ قلندر بابااولیاءؒ قیاپ پاکستان سے بہت خوش ہوئے۔پاکستان کے لیے آپ کے جذبات کا اظہار اس خط سے بخوبی ہو جاتا ہے جو آپ نے اپنے دوست کو تحریر فرمایا تھا۔آپ اپنے خط میں تحریر کرتے ہیں۔

بھائی میں پہلے خدائے ذوالجمال کے فضل و احسان یعنی "پاکستان" کی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔میں نہیں بتا سکتا کہ مسلمانوں کو عرض محبت اور شکرگزاری کے کتنے آنسو اس سلسلے میں عرش رب العزت کے سامنے پیش کرنے چاہئیں۔کاش ہمارے دلوں میں وہ پاک نور ہوتا جس کی روشنی میں مشیت کے اکرام نظر آسکتے۔

"نام محمدﷺزندہ باد"

کاش آنجناب رسالتﷺ کی شدت محبت سے میرا دم نکل جائے جب ان کے نام پر مسلمانوں کو پکارا گیا،خواہ کسی نے پکارا اللہ تعالی نے کامیاب کر دیا۔اس نام کی قوت کے آگے زمین و آسمان جھک گئے معلوم نہیں کہ مجھے اور کیا کہنا چاہیے لیکن میں آپ کو ایک بار پھر مبارکباد دیتا ہوں کیونکہ آپ اس ذکر کی تکرار کے مستحق ہیں۔

بھائی صاحب ، حبیب صاحب اور تمام حضرات کی خدمت میں میرا سلام کہیے۔الطاف صاحب سے بھی۔

فقط و السلام                                 

آپ کا ادنیٰ خادم                                       

فقیر عظیم                                               

بحوالہ) روحانی ڈائجسٹ،جنوری ۱۹۹۹ء)

 


Bachon Ke Qalandar Baba Aulia

خواجہ شمس الدین عظیمی

ہونہار طلبہ کے نام جو

اساتذہ اور والدین کا کہنا مانتے ہیں

بڑوں کا ادب کرتے ہیں

چھوٹوں سے پیار کرتے ہیں۔