Topics

خیالات کیوں آتے ہیں؟

میرے لیے بہت زیادہ محترم اساتذہ کرام، خواتین و حضرات

السلام علیکم!

بلاشبہ یہ میرے لئے بڑی سعادت کی بات ہے کہ علم دوست طبقے میں اللہ کے فضل و کرم سے مجھ عاجز بندے کی پذیرائی ہوئی۔ اس میں خالصتاً اللہ تعالیٰ کا فضل میرے شامل حال ہے۔ میں اپنے بزرگوں سے، اساتذہ سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور دعا فرمائیں کہ میں جو کچھ عرض کروں وہ آپ سامعین کی ذہنی استعداد کے مطابق ہو۔ اللہ تعالیٰ مجھے توفیق عطا فرمائیں اور ان الفاظ سے میری معاونت فرمائیں جو الفاظ میرے لئے اور آپ کے لئے باعث نیکی اور خیر ہوں۔

میرے عزیز دوست پروفیسر جامی صاحب نے سورہ الماعون کی تلاوت کی ہے۔ مجھے تحریک ہوئی کہ سورۃ میں آیت۔۔۔۔۔۔فویل للمصلین۔۔۔۔۔۔پس خرابی ہے ان نمازیوں کے لئے جو اپنی نماز سے بے خبر ہیں کے بارے میں کچھ معروضات میں عرض کروں۔ 

یہ بات ہم جانتے ہیں کہ نماز فرض ہے۔ لیکن المیہ یہ ہے کہ نماز ایک ہفتے تک قضا ہو سکتی ہے، نوکری پر جانا ایک دن قضا نہیں ہوتا۔ نماز قضا ہو جاتی ہے، وقت پر نوکری پر جانا قضا نہیں ہوتا؟

اہمیت کس کو ہوئی؟ نوکری کو؟ پیسے کو؟ دولت کو؟ اگر اس پیسے کے ساتھ ساتھ، آپ نماز کو بھی اتنی اہمیت دے دیں تو دین و دنیا دونوں اچھے ہو جائیں گے۔

نماز کی نیت باندھنے کے بعد خیالات آنے شروع ہوتے ہیں تو کسی طرح رکتے ہی نہیں اور بسااوقات تو ایسا ہوتا ہے کہ آدمی سلام پھیرتا ہے تو اسے یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ میں نے نماز میں کون سی سورۃ پڑھی ہے۔ نمازی کہتے ہیں کہ کیا کریں؟ نماز میں تو خیال آتا ہے۔

آپ حضرات و خواتین سے یہ سوال ہے۔

ایک Accountantجب حساب کرتا ہے، اگر اس کی کیفیت ہماری نماز جیسی ہو جائے تو اسے کمپنی اسے کتنے دن ملازم رکھے گی؟

اس کا مطلب ہے کہ آپ کو آٹھ گھنٹے مسلسل ذہنی مرکزیت کی Practiceہے۔ لیکن پانچ منٹ نماز پڑھنے میں آپ کو مرکزیت حاصل نہیں ہوتی۔ توجہ فرمایئے۔ پروفیسر صاحبان لیکچر دیتے ہیں۔ میں بھی لیکچر دے رہا ہوں، مجھے پتہ ہے کہ کیا کہنا ہے۔ اِدھر اُدھر ہو جاتا ہوں پھر مقصد پر آ جاتا ہوں۔ لیکن نماز میں یہ ذہن کیوں حاصل نہیں ہوتا؟

میری سمجھ میں اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ہمارا تعلق دنیاوی معاملات کی نسبت بہت کم ہو گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

“میں تمہارے اندر ہوں تم مجھے دیکھتے کیوں نہیں ہو۔ میں تمہاری رگِ جان سے زیادہ قریب ہوں۔ جہاں تم چار ہو، میں وہاں پانچواں ہوں۔ جو تم کر رہے ہو وہ میں دیکھتا ہوں، جو تم چھپاتے ہو وہ میں جانتا ہوں۔ میں ہر چیز پر محیط ہوں۔ ہر چیز میرے احاطہ قدرت میں ہے۔ میں ہی ابتدا ہوں، میں ہی انتہا ہوں۔ میں ہی ظاہر ہوں اور میں ہی باطن ہوں۔”

اللہ تعالیٰ نے فرما دیا ہے کہ:

“میرا تمہارے ساتھ تعلق ظاہر میں بھی ہے اور باطن میں بھی ہے میں ہی تمہاری اور کائنات کی ابتدا ہوں اور انتہا بھی میں ہی ہوں۔ میں تمہیں روز مار دیتا ہوں، صبح کو پھر زندہ کر دیتا ہوں۔”

اللہ تعالیٰ کہتے ہیں میں تمہاری حفاظت کرتا ہوں۔ دکھ درد بیماریاں آتی ہیں تو ان کو تم سے ہٹاتا ہوں۔ تمہیں رزق فراہم کرتا ہوں، زمین کو پھاڑ کر اس میں سے تمہارے لئے Foodنکالتا ہوں۔ میں نے ایسے جانور بنائے ہیں جن کا تم گوشت کھاتے ہو۔ میں نے ایسے جانور تخلیق کئے ہیں جن کا تم دودھ پیتے ہو۔ تمہارا اللہ ایسا ہے جو گوبر کے بیچ میں سے نکال کر تمہیں دودھ پلاتا ہے۔ میں نے تمہارے لئے جانور بنائے تا کہ تم سواری کرو، میں نے ان کو تمہارے تابع کر دیا ہے، منہ زور جانور پر جب انسان بیٹھ جاتا ہے تو وہ تابع فرماں غلام کی طرح اس کی خدمت کرتا ہے۔

اللہ ہماری رگِ جان سے قریب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر حضرت محمدﷺ نے فرمایا۔۔۔۔۔۔الصلوٰۃ معراج المومنین۔۔۔۔۔۔

نماز مومن کے لئے غیب کی دنیا میں داخل ہونے کا راستہ ہے۔ غیب کی دنیا میں داخل ہونے کا مفہوم ہے کہ جب انسان نماز قائم کرتا ہے تو بندہ کا تعلق اللہ سے جڑ جاتا ہے۔ یعنی وہ غیب کی دنیا میں چلا جاتا ہے۔ قرآن پاک میں تقریباً ڈھائی سو جگہ نماز کا ذکر ہے ایک جگہ بھی نہیں ہے کہ نماز پڑھو۔ ماشاء اللہ! اتنے سارے افراد بیٹھے ہیں بتایئے میری اصلاح ہو جائے گی۔ اگر کوئی آیت ہو بتایئے!۔۔۔۔۔۔

جہاں بھی نماز کا تذکرہ آیا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ صلوٰۃ قائم کرو۔ وہ لوگ جو صلوٰۃ قائم کرتے ہیں۔ ان کے لئے نماز اللہ اور بندے کے درمیان رابطے کا ایک مؤثر ترین ذریعہ ہے۔

جب ہم نماز پڑھتے ہیں۔ ہمارے ذہن میں یہ بات نہیں رہتی کہ نماز میں اللہ کے ساتھ ہمارا تعلق قائم ہے۔ دانشور کہتے ہیں کہ اللہ کو کوئی دیکھ نہیں سکتا۔ ہم اللہ کو کیوں نہیں دیکھ سکتے؟ ہم تو ازل میں اللہ کو دیکھ چکے ہیں۔ ہم نے ازل میں اللہ کی آواز سنی ہے، ہم نے اللہ کی آواز کو سن کر عہد کیا ہے کہ اللہ ہمارا رب ہے۔

جب کائنات کو اللہ تعالیٰ نے مخاطب کر کے فرمایا۔۔۔۔۔۔الست بربکم۔۔۔۔۔۔میں تمہارا رب ہوں۔ تو روحوں نے کہا۔ “جی ہاں! آپ ہمارے رب ہیں۔” حضور پاکﷺ نے فرمایا۔ مومن کو مرتبۂ احسان حاصل ہوتا ہے۔ مرتبۂ احسان کا مطلب ہے کہ مومن یہ دیکھے کہ میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں، یا مومن یہ دیکھے کہ مجھے اللہ دیکھ رہا ہے۔ یعنی مومن میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ اللہ کو دیکھ سکتا ہے یا اس کو یہ یقین حاصل ہوتا ہے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے۔ میں نے جو معروضات پیش کی ہیں اس سلسلے میں کوئی سوال کرنا ہو، تو سوال کیجئے میں حاضر ہوں۔

سوال: روحانیت کے درجے پر فائز لوگ زمان و مکاں سے آزاد ہو جاتے ہیں، کیا ایسا شعوری طور پر ہوتا ہے یا لاشعوری طور پر ہوتا ہے؟ کیا عام آدمی بھی زمان و مکاں کی پابندی سے آزاد ہو سکتا ہے؟

جواب: نفسیات میں، مابعد النفسیات میں اور میرا خیال ہے طبیعات میں بھی شعور اور لاشعور کا تذکرہ ہوتا ہے۔ شعور اور لاشعور دونوں بیک وقت انسان کے اندر کام کرتے ہیں۔ ماہرین یہ بتاتے ہیں کہ جب کسی چیز کا خیال آئے تو جہاں سے خیال چلا وہ لاشعور ہے اور اس خیال کی تکمیل شعور کرتا ہے۔

مثلاً ایک آدمی کو بھوک لگتی ہے، بھوک کا خیال آیا یا جو Informationملی وہ لاشعور سے ملی ہے لیکن جب اس نے کھانا کھایا تو عمل شعوری عمل ہے۔ یعنی شعور لاشعور دونوں بیک وقت کام کرتے ہیں۔ اس کا قرآن پاک میں بھی تذکرہ ہے۔ انسان خواب دیکھتا ہے، انسان خواب میں وہ سب کام کرتا ہے، جو بیداری میں کرتا ہے۔ خواب میں اگر غسل واجب ہو جائے تو غسل کئے بغیر آدمی نماز نہیں پڑھ سکتا۔ جب کہ مادی جسم اس میں Involveنہیں ہوتا، جسم کو تو پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کیا ہوا ہے۔ لاشعور اور شعور میں جیسا کہ ابھی بتایا گیا ہے Time&Spaceکا فرق ہے جب انسان لاشعور میں چلا جاتا ہے تو اس کے اوپر سے Time&Spaceکی گرفت ٹوٹ جاتی ہے، ختم نہیں ہوتی، گرفت ٹوٹ جاتی ہے۔ اگر ٹائم اسپیس ختم ہو جائے تو سونے والے آدمی کا جسم روشنیوں میں تحلیل ہو جائے گا۔ ٹائم اسپیس سے آزاد ہونے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آدمی زمین سے اڑ کر کہیں آسمان میں غائب ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔بلکہ اس کی شعوری کیفیات لا شعور میں منتقل ہو جاتی ہیں۔ ہر آدمی روحانی اس لئے بن سکتا ہے کہ اس کی زندگی روح کے تابع ہے۔ کیونکہ آدمی روح کے علاوہ کچھ نہیں ہے، روح کے بغیر آدمی کا کوئی تصور نہیں کیا جا سکتا، آدمی کی Realityروح ہے اور جسم روح کا لباس ہے۔ اس لئے ہر آدمی روحانی علوم سیکھ سکتا ہے۔



Khutbat Multan

خواجہ شمس الدین عظیمی

حضرت خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب کی لکھی ہوئی کتاب "احسان وتصوف" بہاءالدین زکریا یونیورسٹی شعبہء علوم اسلامیہ M.Aکے نصاب میں داخل ہے ۔ خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب Faculityشعبہ علوم اسلامیہ، بہاءالدین زکریا یونیورسٹی، ملتان کے لیکچرار ہیں۔ احسان وتصوف کے حوالے سے ڈاکٹرچوہدری غلام مصطفیٰ ، V.C صاحب نے عظیمی صاحب کوتصوف اورسیرت طیبہ پر لیکچردینے کےلئے یونیورسٹی میں مدعو کیا۔ محترم عظیمی صاحب نے ہمیں عزت واحترام سے نوازا اورکراچی سے ملتان تشریف لائے اورلیکچرDeliverکئے۔ 

ان لیکچرز کی سیریز کے پہلے سیمینارمیں بہاءالدین زکریا یونیورسٹی  کے وائس چانسلرنے خواجہ صاحب کی خدمات کو سراہا اوراعلان کیا کہ عظیمی صاحب اس شعبہ کے فیکلٹی ممبر ہیں اورہم ان سے علمی اورروحانی استفادہ کرتے رہیں گے ۔

عظیمی صاحب نے بہاءالدین زکریایونیورسٹی ملتان اورمضافات ملتان میں جو علمی وروحانی لیکچرزدیئے انہیں خطاب ملتان کی شکل میں شائع کیا گیا ہے ۔عظیمی صاحب نے اپنے ان خطبات کی بنیادقرآن وسنت کو قراردیا ہے ۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے سورہ کہف کی آیت نمبر110میں واضح کیا ہے "پس جوشخص اپنے رب سے ملاقات کا آرزومند ہواسے لازم ہے کہ وہ اعمال صالحہ کرے اوراپنے رب کی اطاعت میں کسی کو شریک نہ کرے "