Topics

یک جان دو قالب

جتنے بھی ہادی آئے ، پیغمبرانِ کرام آئے ، یا ان کے وارثین اولیائے کرام تشریف لائے ۔۔۔ ان سب کا پیغام ایک ہی تھا۔۔ ایک ہی بات تھی۔

” کہ اللہ کی مخلوق کو قدم بہ قدم چلا کر اللہ تک پہنچا دیں اور اللہ سے ملا دیں۔ وہ اللہ سے راضی ہو جائیں اور اللہ ان سے راضی ہو جائے۔“

مگر جب اللہ کی مخلوق ناخوش ہو ، وسائل کی بہتات کے باوجود مخلوق خداوندی رزق کے دانے دانے کے لئے ترسنے لگے ، اپنے حقیقی رزاق سے نا آشنا ہو جائے۔۔۔ تو ایسی مفلوک الحال اور مادہ پرست اقوام غم و خوف میں مبتلا ہو جاتی ہیں۔ جو خالقِ حقیقی کے نزدیک ناپسندیدہ عمل ہے۔ ایسی صورتحال میں ، غم وخوف میں مبتلا عظیم الشان مملکتیں صفحۂ ہستی سے مٹ جاتی ہیں۔ خالق کائنات کے متعین کردہ قوانین فطرت کی زمان و  مکان کی Equations حرکت میں آجاتی ہیں اور دنیازیرو زبر ہو جاتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ ایسی قومیں تباہ و برباد ہو جاتی ہیں اور ان کا نام صفحۂ ہستی سے مٹ جاتا ہے۔ جیسا کہ 1990ء کی ابتدائی دہائی میں میکسیکو کا کچھ علاقہ (ساؤتھ امریکہ کی شمالی جانب کے نزدیک ہے ) لاوا پھٹنے کی وجہ سے ستر فٹ کیچڑ تلے درگور ہو گیا ایسے ہی متعدد آثار کی ایک جھلک لاڑکانہ پاکستان میں موہن جو دڑو میں مٹی کے ٹیلوں کی کھدائی کے دوران دریافت ہونے والے آثار میں ملتی ہے۔ یہاں ایسے آثار ملتے ہیں کہ ایک منزل کی بنیادوں کے نیچے دوسری منزل کی تعمیرات بھی ہوئی ہیں۔ کھدائی کے دوران دوسری منزل کی بنیادوں کے نیچے تیسری منزل کے آثار موجود ہیں۔

سیاح خواتین وحضرات جب اس طرف توجہ دیں گے تو ان بنیادوں کے نیچے اور نئی بنیادیں دیکھ لیں گے۔ اس مشاہدہ سے یہ بھی سمجھا جا سکتا کہ موہن جو دڑو کئی مرتبہ آثار قدیمہ بن چکا ہے۔ وہاں پانی کا کنواں بھی عجوبہ ہے دو منزلہ بنا ہوا ہے۔ یہ آثار کم و بیش پانچ ہزار سال قدیم بتائے جاتے ہیں ، جیسا کہ شکل نمبر11  میں دکھایا گیا ہے ۔ ماہرین ایسے ہی آثار کی موجودگی اسلام آباد میں پیر سوہا وہ کے مقام پر چک شہزاد کے قرب و جوار میں کئی فٹ نیچے کیچڑ میں بھی مدفون بتاتے ہیں یہ علاقہ کسی زمانہ میں بدھ مت کی تعلیمات کا مرکز رہا ہے ، علوم و فنون سے آراستہ ان یونیورسٹیوں کے کے آثار اسٹو پا کی شکل میں اب بھی موجود ہیں۔ اس کے علاوہ ریگستان بھی ایک ایسی ہی ایجنسی کا کردار ادا کرتے ہوئے نظام فطرت کے تحت ایسی مملکتوں کو ویرانوںمیں بدلتے ہوئے نظر آتے ہیں مثلاً ریگستان کے بلند و بالا طوفان ، جنہوں نے دریائے نیل کے کنارے انتہائی ترقی یافتہ ، عظیم الشان فراعنہ مصر کی اڑھائی ہزار سالہ تہذیب کے آثار کو اسکندریہ ، لکسر سے لے کر غزا ، قاہرہ تک مکمل طور پر ریگزار میں بدل دیا۔۔ طویل القامت عمارتی شاہکار مثلاً پیرامڈز میں کار فرما ٹیکنالوجی کا قطعاًکوئی سراغ نہیں ملتا ۔۔ ریت کے ان گنت ٹیلوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ آتش فشاں ، ریگستان کے علاوہ سمندرکے ہیر پھیرنے بھی لاشمار تہذیبوں کو تہہ و بالا کر دیا تاریخ ایسے کئی سمندری طوفانوں سے بھری پڑی ہے جنہوں نے کئی صدیوں پر محیط ہزاروں سالہ شاہانہ تمکنت کو وحشت اور بربادی میں بدل دیا۔ ان میں کچھ نشانات موجودہ سطح زمین پر موجود ہیں اور کہیں زیادہ آثار سطح سمندر کے گہرے سینے میں دفن ہیں۔

          اس طرح کے مختلف حادثات کی نشاندہی گزشتہ شماروں میں کی جا چکی ہے۔ علمائے باطن بتاتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں زمین کی فضا کو بدلنے ، اس کی مایوسی وحرماں نصیبی کی حالت بدلنے کے لئے زماں و مکان کے قانون کے مطابق بقیہ عوامل کے علاوہ سمندری طوفان بھی اپنی ذمہ داری پوری کرے گا۔

           علمائے باطن بتاتے ہیں کہ زمین کی طرح سمندر میں بھی مملکتیں ہوتی ہیں، ان کے بھی قوانین و ضوابط ہیں۔ دنیا کے مختلف الہامی کتب اور قدیم ادیان مشترک روایت کا ذکر کرتے ہیں جو ایک عظیم سمندری طوفان کی کرۂ ارض پر مکمل تباہی کے متعلق ہے۔ ایک ایسا طوفان جس نے ہماری زمین پر موجود تمام تر تہذیب و تمدن کو مٹا دیا۔ طوفان نوحؑ کے حادثہ کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب عظیمی صاحب فرماتے ہیں:

          روحانی سائنسدانوں کے نزدیک ہر دس ہزار سال کے بعد زمین میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں کہ جہاں سمندر ہے وہاں زمین ظاہر ہو جاتی ہے اور جہاں زمین ہے وہاں سمندر آجاتا ہے ۔ یہاں کچھ حقائق بیان کرنا ضروری معلوم ہوتا ہے ، ہماری زمین جو پرائمری جماعتوں میں گول بتائی جاتی ہے ، درحقیقت پپیتے جیسی شکل کی ہے ، جیسا کہ شکل نمبر  12 میں دکھایا گیا ہے۔ زمین سورج کے گرد ایک ”بیلٹ“ پر گردش کر رہی ہے یہ بیلٹ کچھ ترچھی ہے۔ یہ بات یاد رہے کہ موجودہ سائنسی نظریات کے مطابق زمین سورج کے گرد تقریباً 23ڈگری کے زاویہ سے TILT  ہے،

جیسا کہ شکل نمبر13 میں دکھایا گیا ہے۔ اس وجہ سے زمین سورج کے گرد طولانی گردش کرتی ہے۔ ہمارے کہکشاں نظام میں کی طولانی گردش علم تکوینیات کے مطابق شکل نمبر 14 کی مانند ہوگی۔ محوری اور طولانی گردش کو اگر ہم بیک وقت ایک ہی شکل میں یکجا کریں تو شکل نمبر 15 سے واضح ہوتا ہے کہ کیوں زمین کی حرکت کلی طور محوری نہیں۔

زمین کی طرح ہمارے نظام شمسی میں تمام تر سیارے اپنی بیلٹ میں کسی نہ کسی زاویہ سے ترچھے پن کے ساتھ گردش کرتے ہیں۔ یہ ترچھا پن ہی ہے جو انہیں طولانی طور پر آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔

شکل نمبر 16 اور شکل نمبر 17 میں زمین کی عمودی گردش کا انتہائی اہم نقشہ کھینچا گیا ہے۔ یہ بات غور طلب ہے کہ اول الذکر تصویر میں زمین کی سورج کے اطراف جس گردشی بیلٹ کی نشاندہی کی گئی ہے، شکل سے واضح ہے کہ طولانی گردش مکمل طور پر خلا میں افقی نہیں ہے، بلکہ دائیں جانب نسبتاً اوپر کی جانب اٹھی ہوئی ہے۔ یہ نقطہ بہت اہم ہے اور ایسی حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے جس کی طرف رائج سائنسی ماہرین کی توجہ ابھی تک نہیں پہنچی۔

باطنی علمائے کرام کے مطابق ہر دس ہزار سال بعدزمین کی بیلٹ اپنی پوزیشن بدل لیتی ہے ، زمان و مکان کے قانون کے مطابق دائیں جانب کا اُٹھا ہوا حصہ نیچے کی جانب رخ کرے گا جب کہ بائیں جانب دبا ہوا حصہ اوپر کی جانب بڑھتا چلا جائے گا، اسی وجہ سے موجودہ سمندر اور زمین دونوں یک جان دو قالب ہو جائیں گے۔

نیا سمندر اور نئی زمین پیدا ہوگی۔ اس طرح کی حالت تمام نظام ہائے شمسی میں تقریباً دس ہزار سال بعد پیش آتی ہے، جسے تکوین کے ماہرین علمائے باطن قیامتِ صغریٰ بھی کہتے ہیں۔ درحقیقت یہ تمام نظام کو از سر نو ترتیب میں لے آتا ہے اللہ کے نظام میں پیدا کردہ بگاڑ کی تجدید ہو جاتی ہے۔

رباعیات کی تشریح کے ضمن میں تحریر ہے کہ

” سائنس اور ٹیکنا لوجی نے انسان کو عدم تحفظ کے گہرے غار میں دھکیل دیا ہے۔ عدم تحفظ کی حالت میں سسکتی ہوئی انسانیت کے لئے چاندنی کا حسن اور دھوپ کی خوبصورتی ماند پڑ گئی ہے۔“

مارچ 2015ء میں رباعیات کی تشریح کے ضمن  میں بیان کیا گیا ہے کہ ”فراعین مصر کے محلات اور قارون کے خزانے بتارہے ہیں کہ دولت نے کبھی کسی کے ساتھ وفا نہیں کی۔“

ہر وہ شے جو گھٹتی اور بڑھتی ہے۔۔ تغیر پذیر ہے۔

وہ مستقل ساتھ کیسے چل سکتی ہے۔۔؟

حتیٰ کہ جسم بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے !!

الہامی کتابوں میں مرکوز ہے کہ ”غفلت میں رکھا تم کو بہتات کی حرص نے۔“

یعنی آدمی کی تمام تر توجہ صرف تغیر بذیر زندگی کی دلچسپیوں تک محدود رہی۔ مادی خول میں بند ہو دائمی زندگی کے اسباب و ٹیکنا لوجی مہارت حاصل کرنے والوں کے کہیں نشان نہیں ملتے، جو باقی ہے تو شکل نمبر18 کے مطابق صرف پتھر سے بنائے ہوئے مجسمے اور اللہ کی زمین۔۔۔ مکافاتِ عمل اور رہتی دنیا کی کھلی نشانیوں کے باوجود لوگ ماضی و حال میں دنیا (تغیر پذیر زندگی) کے مال و اسباب کو اپنے ارد گرد جمع کرتے گئے۔ ان کی تمام تر کاوشوں کا مرکز یہ غم کہ جمع شدہ وسائل کی بقا ۔۔۔ اور یہ خوف کہ وہ ختم نہ ہو جائیں۔

کبھی اس حقیقت پر غور نہیں کیا گیا کہ زمین کی محوری حرکت ان وسائل کی ۔۔ بشمول ان کے اپنی جسم کی۔۔۔ ہمہ وقت جمع شدہ وسائل کے انبار کی ” شکل اور مقدار“ میں ٹائم اور اسپیس کے فطری قوانین کے تحت ہر ہر لمحہ زندگی تبدیل کر رہی ہے !!

حتیٰ کہ ان کے ارد گرد وسائل کے انواع و اقسام کے انبار لگ گئے۔۔ اور رہتی دنیا ، رہتی نسلوں کے لئے سنگ مر مر کے بجائے سونے کی قبریں بنا لی جائیں وہ بھی مٹی میں تبدیل ہو جاتی ہیں۔ آدمی مٹی کا پتلا ہے اسی طرح سونا(Gold) بھی مٹی کے سنہری ذرات کے علاوہ کچھ نہیں۔۔ 

جانے پر بے اختیار۔۔آنے پر مجبور

25 مربع کلو میٹر پر پھیلے ہوئے تخت شیراز (ایران) کو دیکھ کر عقل دنگ اور زبان گنگ ہو جاتی ہے۔۔ایک عظیم سلطنت کے آثار۔۔ جو پہاڑ کاٹ کر پتھروں پر مشتمل عماراتی اسٹرکچر پر  قائم ہے۔

آج بھی چہار سو انتہائی گرم موسم ہوتا ہے ، اس علاقے میں داخل ہوتے ہی ٹھنڈک کا احساس ہوتا ہے۔ شکل نمبر 19 کے مطابق یہ ڈھائی ہزار سال پرانی سلطنت و ٹیکنا لوجی کا شاہکار تھا۔۔ گرم و سرد پانی کی نالیاں ہر کمرے میں تھیں۔120 فٹ لمبے ستونوں پر قسمت کے پرندے 'ہما' کے مجسمہ جگہ جگہ نظر آتے ہیں (شکل نمبر 20 ) ۔ دور حاضر کی صنعت و حرفت اتنے دراز قامت اسٹرکچر کی بناوٹ کے لیے درکار ٹیکنا لوجی کے بارے میں کوئی بھی اندازہ لگانے سے قاصر ہے۔۔ بس جو آثار باقی ہیں وہ پتھر کی بڑی بڑی سلیں  زمین پر دور دور تک دراز لمبے لمبے ستون ۔۔ بلند قامت دروازہ ہے جسے  کبھی باب شہنشاہی یا Gate of the king of the kings کہا جاتا تھا۔۔ جگہ جگہ زمین کی محوری اور ڈھائی ہزار سالہ طولانی گردش کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

رستم اور سہراب کے مقبرے ۔۔جو تقریباً 500 میٹر بلند و بالا پتھریلے پہاڑ کے عین درمیان میں کاٹ کر اندرونی جانب بنائے گئے ہیں۔ ماحول میں سوائے وحشت ، ویرانی اور بدن میں سرسراتی لہر کے علاوہ کچھ محسوس نہیں ہوتا۔

”دُور سامنے“۔ بادشاہِ وقت کا قبلۂ مقدس ، جو کبھی پانی میں تیرتا ہوا بتایا جاتا ہے ویرانی کا ایک اور مقبرہ نظر آتا ہے۔ اسی طرح کے مقبرے ہمیں یونانی خداؤں مثلاً اپالو ، ڈلفی وغیرہ کے بھی نظر آتے ہیں۔ جہاں کبھی جم غفیر اپنے چڑھا وے اور قربانیاں چڑھاتے تھے۔ اپنے اپنے خداؤں کے نام پر جانوروں کو ذبح کر کے دائمی عمر حاصل کرنے کے لئے خونی غسل کیا جاتا تھا۔ شکل نمبر21  شاہد ہے کہ اب وہاں سوائے تھور ، جنگلی گھاس اور بکھرے پتھروں کے سوا کچھ نہیں ہے۔زمین کی طولانی گردش جاری و ساری ہے۔

زمان و مکان میں تغیر ہے یہ فطرت کے قوانین ہیں ۔ الہامی کتابیں ایسی مثالوں کا جگہ جگہ ذکر کرتی ہیں ، انشاء اللہ جناب عظیمی صاحب کے نادر المعانی تجربات جستہ جستہ ماہنامہ قلندر شعور کے صفحات پر پیش کئے  جاتے رہیں گے اور ان صفحات میں متذکرہ بالا محوری و طولانی گردش اور زماں و مکاں کی تشریحات کو عام فہم اور سلاستِ بیان سے واضح کیا جائے گا۔  آپ  سے درخواست ہے کہ ان حقائق و رموزِ فطرت سے بھرپور مضامین کو بار بار تفکر اور جستجو سے پڑھا جائے تو تاریخ کے نئے جھروکے کھلیں گے۔

مثلاً متذکرہ بالا حقائق کی روشنی میں پیش کردہ وضاحت کے مطابق اس محوری اور طولانی گردش کے سبب زماں یا فی زمانہ لغت کے مطابق ”وقت“ کی اپنی اکائی پر کومل سا نازک گول مٹول شگفتگی سے لبریز ۔ سب کی آنکھ کا تارا بچہ ہماری دنیا میں ہر لمحہ ”نمودار“ ہو رہا ہے۔ اپنی اسپیس پیدا کرتا ہے۔۔ یا بالفاظ دیگر ”جنم“ لیتا ہے۔۔ مشاہدہ یہ ہے کہ کرختگی اور دنیاوی چپک سے بھر پور گوشت ہڈیوں کے پنجرہ میں وہ رخصت ہو جاتا ہے۔ نہ آنے پر کنٹرول ہے اور نہ جانے پر اختیار نہ گھٹنے پر اور بڑھنے پر اجارہ داری۔

گردش ٹائم اور اسپیس کے تحت ہو رہی ہے۔ محوری اور طولانی حرکات تسلسل کے ساتھ وسائل (جسم و رزق و آب و ہوا اور گرد و پیش) کی فلم چل رہی ہے ڈسپلے میں کوئی تاخیر ہے نہ تعطل۔۔ اور نہ ہی کبھی اظہار میں کسی بھی قسم کی تبدیلی واقع ہوتی ہے۔

دنیا میں کردار نمودار ہو رہے ہیں، یاد رہے کہ یہ وہی دنیا ہے جسے الہامی کتابیں کبھی دھرتی ، کبھی ارض یا ارتھ کے نام دیتے ہیں ، جیسے سینما میں ناظرین اسکرین پر فلم کے مختلف مناظر تسلسل کے ساتھ دیکھتے ہیں۔

یہ دھرتی اسکرین کی مانند ہے ، جہاں آدمی سے آدمی پیدا ہو رہا ہے۔ مور سے مور جنم لیتا ہے۔ درخت سے درخت ۔۔ پتھر سے پتھر ۔۔ پہاڑ سے پہاڑ۔۔ سمندر سے سمندر

سب کی اپنی خوراک ہے اپنے جذبات ہیں۔ اپنا اپنا لائف اسٹائل ہے۔

تاریخ میں کوئی ایسا واقعہ رقم نہیں ملتا کہ مور نے درخت کو جنم دیا ہو یا مور سے بلی پیدا ہوگئی ہو؟

نہ ہی مور کے لائف اسٹائل میں وقت کے ساتھ ساتھ کوئی تبدیلی وقوع پذیر ہوئی ہو!!

تمام انواع کے افراد ، ایک تسلسل کے ساتھ فرداً فرداً آتے ہیں۔۔۔ اور پھر چلے جاتے ہیں۔ شکل نمبر 22 کے مطابق ایک طولانی فلم ہے جو زمین کی محوری و طولانی گردش کے ساتھ جڑی ہوئی ہے ، فلم کے مختلف کردار واضح طور پر دکھائی دے رہے ہیں۔  آپ  غور کریں کہ شکل نمبر 23 کے مطابق ٹیپ کا اسپول ”گولائی“ میں ”محوری گردش“ کو ظاہر کرتا ہے، اسی طرح ٹیپ سے ”نکلنے والی فلم“ کا فیتا ”طولانی گردش“ کی صورت میں زماں یا وقت کا تعین کرتا ہے۔ وقت کے گزرنے کی رفتار کا تعین اسی طولانی گردش کی ”اسپیڈ“ سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ مختصر اً یہ کہ ممکنہ مظاہرات کے کردار و فضا ، ان کے نقش و نگار اور وسائل کی فلم رول (یا گولائی) یعنی محوری گردش کی شکل میں لپٹی ہوئی ہے جو اپنے مقررہ وقت پر طولانی گردش میں مظاہرہ کر رہی ہے۔

شکل نمبر 24 میں ماہنامہ قلندر شعور اپریل 2014ء کا سرِورق دکھایا گیا ہے۔ یہاں  آپ  کی توجہ کے لئے چند غور طلب نکات کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے (برائے مہربانی جگہ جگہ اس مضمون میںInverted Commas کے مابین درج الفاظ یا جملوں پر خاص توجہ دی جائے)

۱۔ ایک ”پروجیکٹر“ پردو”اسپول“ لگے ہیں ، جس میں سے ایک ”اصل فلم“ کو چلاتا ہے، جب کہ دوسرا ”بقیہ فلم“ کو ”لپیٹتا“ ہے۔

۲۔ پرو جیکٹر سے ”مخصوص روشنی “ فلم کے ” ایک ایک حصہ “ یا SEGMENT پر ”پڑتی“ ہے اور ”پھیل“ کر اسکرین پر ڈسپلے ہوتی ہے !!

۳۔فلم کے فیتے یا فلم کے سیگمنٹ (ٹکڑوں) پر ”موجود تصاویر “ اور اسکرین پر بننے والے ”نقش“ میں کیا مماثلت ہے؟  آپ  پروجیکٹر اور اسکرین کے میکانزم کو دیکھیں کہ جب پروجیکٹر  سے نکلنے والی محدود لہریں بیم کی شکل میں اسکرین کی طرف سفر کرتی ہیں تو نہ وہ ایک دوسرے سے ملتی ہیں نہ الگ الگ محسوس ہوتی ہیں۔

 آپ  اس نکتہ پر خاص توجہ دیں کہ فلم اگر ”ٹکڑوں میں ڈسپلے“ کی جائے یا پھر”یک دم ڈسپلے“ کی جائے ، ان دونوں طریقہ میں زماں و مکاں کے اثرات کیا ہوں گے یا پھر طولانی و محوری گردش کا ”احساس“ انسانی حواس پر کیا ہوگا؟

درجِ بالا تینوں نکات شکل نمبر25 میں وضاحت سے تحریر کئے گئے ہیں۔

”ماہنامہ قلندر شعور “ مئی 2015ء کے شمارے کے ٹائٹل میں اس فرق کو انتہائی تفصیل سے دکھایا گیا ہے۔

مختصراً یہ کہ انواع کے افراد (جنہیں ذرّات بھی کہا جا سکتا ہے) کے مظاہرات کا ارضی (اسکرین) پر ڈسپلے ہوتا ہے۔

یہ کردار کہاں سے آتے ہیں؟

کہاں چلے جاتے ہیں؟

مادی آنکھ ، مادی حواس یا اُن کے ذیلی حواس (مثلاً مادی پیمائشی آلات وغیرہ) ان مظاہراتی خدو خال کا ارضیاتی اسکرین پر مشاہدہ تو کرتے ہیں مگر ان خدوخال کی اصل اور کنہ کا احاطہ نہیں کرتے۔

مادی حواس اور سائنس مظاہرات کے پیچھے کار فرما اصل فلم ، اس کے اطلاعاتی نظام اور اس نظام کے سورس کے بارے میں خاموش ہیں۔

مشاہدہ و تجربات میں سوچ اور فکر اہم کردار ادا کرتی ہے۔ باطنی علمائے کرام اس سلسلے میں ”سوچ اور فکر“ کی پرواز پر زور دیتے ہیں۔ جیسے بچہ کو ہم پاؤں ، ٹانگوں اور گوشت و پوست کے دماغ سمیت مطلوبہ منزل تک پہنچنے میں مدد کرتے ہیں اسی طرح باطنی اساتذہ کرام سوچ و فکر کی تربیت کرتے ہیں۔ ” یہ سوچ ہی ہے جو ذوق کے مطابق سر گرم عمل رہتی ہے“۔ تکرار و یقین سے بھر پور یہ ”دلچسپی“ کے مطابق جو چاہتی ہے حاصل کر لیتی ہے۔ اس سے حاصل ہونے والے مشاہدات و تجربات کبھی ٹائم و اسپیس کی پابندیوں میں بند ہوتے ہیں اور کبھی آزاد ۔۔۔ جیسے ڈرنا ، خوف زدہ ہونا ۔۔جو جاگنے کی حالت میں بھی ہوتا ہے ۔۔ ہر دو صورت میں تجربہ کا احساس دماغ کی اندرونی اسکرین پر بنتا ہے جو شکل نمبر  26 میں دکھایا گیا ہے۔ دماغ کی اسکرین پر ہر دو حالتوں میں بننے والا عکس کیسے بنتا ہے؟

شکل پر غور کریں تو اس کے چار حصے ہیں۔

ایک دماغ کی اسکرین ، دوسری سوئچ اور بقیہ اطلاعات کےسورس ہیں۔ S1 اور S2 دونوں اطلاع کا سورس ہیں اور دونوں ہر وقت بہم متحرک رہتے ہیں شکل نمبر 26 میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے دماغ پر کون سی اطلاع کب اور کس حالت میں عکس بنا رہی ہے۔ کسی بھی وقت کوئی بھی پوزیشن اختیار کر سکتا ہے۔۔

        طالبات اور طلبا سے سوال

مادیت کے پرستار ہمیشہ مادی عناصر میں رہ کر اپنی فکر کو متحرک رکھتے ہیں ، اس لئے ان کے مشاہدات و تجربات ہوتے ہیں ۔ مشاہدہ و تجربات میں سوچ اور فکر اہم کردار ادا کرتی ہے۔ باطنی علمائے کرام اس سلسلہ میں ” سوچ اور فکر“ کی پرواز پر زور دیتے ہیں۔جیسے بچہ کو ہم پاؤں ، ٹانگوں اور گوشت و پوست کے دماغ سمیت مطلوبہ منزل تک پہنچنے میں مدد کرتے ہیں اسی طرح فکر سلیم کی تربیت کی جاتی ہے۔”یہ سوچ ہی ہے جو ذوق کے مطابق سرگرم عمل رہتی ہے۔“ حاصل ہونے والے مشاہدات و تجربات کبھی ٹائم اسپیس کی پابندیوں میں بند ہوتے ہیں اور کبھی آزاد ۔۔۔ جیسے ڈر جانے کا تجربہ ۔۔۔ جو سونے اور جاگنے کی حالت میں ہوتا ہے۔۔۔ ہر دوصورت میں تجربہ کا احساس دماغ کی اندرونی اسکرین پر بنتا ہے جیسے شکل نمبر 26 میں دکھایا گیا ہے۔ دماغ کی اسکرین پر ہر دو حالتوں میں بننے والے عکس کیسے بنتا ہے؟

شکل پر غور کریں  تو اس کے چار حصے نظر آتے ہیں۔

ایک اسکرین (دماغ) ، دوسری سوئچ اور بقیہ دونوں ہی مصدر اطلاع ہیں اور دونوں ہر وقت سرگرم عمل رہتے ہیں شکل نمبر 26 میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہمارے دماغ پر کو سی اطلاع کب اور کس حالت میں عکس بنارہی ہے۔ یہ سوئچ دہری حرکت چل سکتا ہے۔ کسی بھی وقت یہ کسی بھی پوزیشن یعنی S1  یا  S2  پر ہوتا ہے جب ایک پوزیشن سے اطلاعات کا بہاؤ منقطع ہو جاتا ہے تو دوسری پوزیشن سرگرم عمل ہوتی ہیں۔

 شکل نمبر 26 کی جزئیات پر بار بار غور کریں ، ذہن میں یہ سوال ضرور ابھرے گا اگر مصدر اطلاعات S1 اور S2 دونوں سے اطلاع موصول نہ ہو تو ایسی صورتحال میں دماغ کی اس حالت کو کیا کہیں گے۔


شعبۂ انجیئرنگ سے وابستہ طالبات اور طلبا اس سوئچ سے اچھی طرح واقف ہیں ، اسے تکنیکی زبان میں Multiplexer کہا جاتا ہے مختصراً یہ کہ سوئچ یا تو پوائنٹ A سے متصل ہوتا ہے یا پھر پوائنٹ B سے۔

سوال یہ ہے کہ آخر ان دونوں پوائنٹ یعنی Aاور B پر سوئچ کیسے شفٹ ہوتا ہے۔۔۔؟ جواب کا اشارہ یہ ہے کہ S1 سے موصول شدہ احساس ٹکڑوں میں ٹائم اور اسپیس میں پابند رہ کر منتقل ہوتا ہے جب کہ S2 سے احساس کا انتقال جن حواس خمسہ کے ذریعے منتقل ہوتا ہے وہ ٹائم اور اسپیس سے تقریباً آزاد ہوتے ہیں۔

ایک مفکر اور سائنس دان کی حیثیت سے آپ یہ سوال کر سکتے ہیں کہ سوئچ کو حرکت میں لانے والی توانائی کا منبع کیا ہے؟ یعنی وہ پوائنٹ A یاBپوزیشن پر شفت ہوتے ہوئے حرکت کے دوران کس ” توانائی“ کو استعمال کرتا ہے۔۔؟

الہامی کتابیں بتاتی ہیں ” اللہ نور السموات و ما فی الارض“ ۔۔۔ اس آیت میں محرک کا سورس واضح ہے۔ اس توانائی ، سوئچ کی شفٹ ، دماغ کے اندر ہر دو بننے والے عکس وغیرہ کے بارے میں ہم تفصیلاً ذکر آئندہ کریں  گے۔ ارض یا اسکرین کی بابت ہم وضاحت کر چکے ہیں ۔  سوچنے کی بات یہ ہے کہ سماوات سے کیا مراد ہے۔۔؟ اس کا اشارہ بھی درج ذیل آیت میں ملتا ہے۔

”اور بارش جس کو اللہ آسمان سے برساتا ہے۔“         (۲ : ۱۶۴)

آپ  سے گزارش ہے کہ وہ زمین اور سماوات پر غور کریں۔ یہ نقطہ بھی غور طلب ہے رائج سائنسی علوم کے تحت بارش برسنے کے طریقہ کار میں بادلوں کا کردار اہم بتایا جاتا ہے ۔ جیسا کہ شکل نمبر 27 میں ہے۔

کتاب ”وقت“ میں جناب عظیمی صاحب اپنے استاد اور ماہرِ علوم باطن جنات حضور قلندربابا اولیاؒ کے حوالہ سے ٹیکنا لوجی و روحانی علوم کے مابین تعلق کےقانون کو بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :

”اسلام  ، سائنس اور ریسرچ میں کہیں بھی ٹکراؤ نہیں۔ یہ تینوں باہم مربوط ہیں۔“

اس ضمن میں کرۂ ارض پر ابتائی دور میں الہامی علوم کے حامل سائنس دانوں نے اپنے تفکر ، مشاہدات و تجربات کا منبع الہامی کتابوں کو بنایا اور زمین کو بلا تفریق مذہب و ملت ، رنگ و نسل ۔۔۔ مخلوق کے لئے امن و آشتی کا گہوارہ بنایا۔

حضور قلندر بابا اولیا ؒ فرماتے ہیں :

سینکڑوں مسلم سائنس دانوں نے قرآن میں موجود ” مخفی علوم“ اور ” انوار“ سے استفادہ کر کے ”سائنسی ترقی “ میں اہم ”کردار“ ادا کیا ہے۔

یہاں یہ وضح کرنا  خارج از بیان اور قبل از وقت نہ ہوگا کہ سائنسی ترقی سے مراد یہ ہے کہ اس دور کے سائنسدان نہ صرف اپنی زندگی کو ” کرۂ ارض “ جسے باطنی علامئے کرام ” عالم ناسوت “ (یا اسفل سافلین رہائش گاہ) بھی کہتے ہیں۔۔ اس زون میں ان ” مخفی علوم“ اور ” روشن بصیرت “ ہدایات یا Guidelines  سے زندگی کے سفر کو ”سہل“ بنانا ہے۔

شکل نمبر 26 میں دکھائے گئے متذکرہ بالا سوئچ کا کردار اس ضمن میں اہمیت کا حامل ہے۔۔۔ پھر جاننا ضروری ہے آخر کون سی توانائی یا کرنٹ ، ٹائم اور اسپیس سے آزاد اطلاعات فراہم کرتا ہے اور کس قسم کا کرنٹ ٹائم اور اسپیس میں پابند اطلاعات کی فراہمی کرتا ہے۔ الہامی کتابیں اس کا مفصل جواب دیتی ہیں۔

قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ( ہم ایک ایک آیت کو الگ الگ بیان کرتے ہیں تاکہ الفاظ کا بار قاری کے ذہن پر نہ پڑے اور معنویت روشن ہو جائے:

” بے شک ارض اور سماوات کی تخلیق میں لیل و نہار کے ایک دوسرے کے پیچھے آنے جانے میں اور کشتیوں اور جہازوں میں جو لوگوں کو فائدہ کے لئے سمندر میں رواں ہیں اور مینہ جس کو اللہ آسمان سے برساتا ہے اور اس سے زمین کو اس مردہ ہو جانے کے بعد زندہ یعنی خشک ہو جانے کے بعد سبز و شاداب کر دیتا ہے۔“ (۲ :  ۱۶۴)

آپ غور کریں ” لیل و نہار“ جسے عام طور پر ” رات دن“ کہا جاتا ہے کہ ذکر میں سوئچ کا کردار نمایاں طور پر واضح کیا گیا ہے۔ اگرچہ یہ پوری آیت تفکر سے پر ہے۔ مگر اختصار کی خاطر ایک اور اہم نقطہ پیش خدمت ہے۔ جسے خالق ارض نے بغیر کسی تشبیہ یا استعارہ کے بیان فرمایا ہے۔ خالق کائنات کے مطابق زمین بھی ایک مخلوق ہے جو ترجمہ کے مطابق زندگی اور شعور سے سرشار ہوتی ہے۔۔ احساسات و جذبات سے لبریز ہوتی ہے۔۔ جیسا کہ فرمایا گیا ہے۔

”اور جب زمین اپنی پوری شدت کے ساتھ ہلا ڈالی جائے گی اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی اور انسان کہے گا کہ اس کو کیا ہو رہا ہے؟ اس روز وہ اپنے (اوپر گزرے ہوئے) حالات بیان کرے گی جیسا تیرے پرور دگار نے حکم دیا ہوگا ۔“  (۹۹ : ۱۔۵)

تفکر بتاتا ہے کہ نظام فطرت پر غور کرنے سے کارفرما فار مولے ہمارے سامنے آشکار ہو جاتے ہیں۔


          آیات کی مزید تشریح حضور قلندر بابا اولیا ؒ  نے کتاب لوح و قلن صفحہ نمبر 273 پیرا گراف نمبر 2 میں فرمائی ہے۔

  اسی تشریح میں محوری اور طولانی گردش کے کردار کو بھی اجاگر کر لیا ہے۔

اسی بیان کو ہم آگے بڑھاتے ہوئے ایک اور اقتباس پیش کرتے ہیں۔

جناب عظیمی صاحب فرماتے ہیں:

”کون نہیں جانتا کہ ایٹمی تجربات ، ڈیزل و پٹرول کے بخارات اور جیٹ طیاروں کے آتشی فضلات نے فضا کو

کچھ اس طرح زہر آلود کر دیا ہے کہ انسان کے اندر جانے والا ہر سانس زہر ناک بن گیا ہے اور اس زہر ناکی نے انسان کو زیرو زبر کر دیا ہے۔“

یہ الہامی کتابوں کی تنبیہ ہے ۔ کہ لاتفسد و فی الارض۔۔۔ یعنی اللہ کی زمین ( ارض یا اسکرین) پر فساد نہ کرو۔

یعنی اللہ نے نوع انسانی اور بقیہ انواع کے لئے جو ارض ۔۔۔ (مظاہراتی اسکرین) بنائی اسے آدمی اپنے اختیارات( جو اللہ کے عطا کردہ ہیں) سے شر پھیلانے یا تخریبی سر گرمیوں کے لئے استعمال نہ کرے۔ یہ امانت ہے۔۔ اس اسکرین پر نازل ہونے والے تمام تر وسائل (ذیلی اسکرینیں) مثلاً درخت ، حیوانات ، پودے ، لوہا معدنیات ، دریا ، پہاڑ ۔۔۔ ہر ایک شے پر بحیثیت نائب انسان کا تصرف ہے۔۔ اس کو استعمال کرے۔۔۔استعمال سے خود بھی دوسرے بہن بھائیوں کو بھی قدم بقدم چل کر عرفان الٰہی میں معاونت کرے۔۔۔جیسا کہ ”ماہنامہ قلندر شعور“ کے ٹائٹل میں تحریر ہے:

”سکون زندگی کی سب سے بڑی نعمت ہے اور روح کے عرفان کے بغیر سکون نہیں ملتا۔“

یعنی اللہ کا عرفان ہی حقیقی و ابدی سکون کا ضامن ہے۔

یہاں نوع انسانی کی ساخت یا آرکیٹکچر کا ذکر موزوں ہوگا۔ نوع انسانی  کے خدو خال ، عادات ، خصائل اور شب و روز  رجحان کا ذکر فرماتے ہوئے جناب عظیمی صاحب فرماتے ہیں:

” جب ہم زندگی کا تجزیہ کرتے ہیں تو ہمارے سامنے ایک ہی حقیقت آتی ہے آدم کا ہر بیٹا اور حوا کی ہر بیٹی خوش رہ کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں لیکن زندگی کا مادی نظریہ ہر ہر قدم پر انہیں مایوس کرتا ہے اس لئے کہ ہماری  زندگی کا ہر ہر لمحہ فانی اور متغیر ہے۔“

درجہ بالا کلمات کو بار بار پڑھیں لفظوں پر غور کریں مثلا ً : زندگی کا تجزیہ ، حقیقت ، زندگی گزارنا ، مادی نظریہ ، ہر ہر قدم ، مایقس ۔۔۔ ان تمام لفظوں اور جملوں میں جہاں حوادثِ زندگی کے کئی ایک چہرے مرکوز ہیں

 وہیں محوری اور طولانی گردش کے محاصل کی بھی نشاندہی کی گئی ہے ۔۔۔ باوجود یہ کہ زندگی کے تغیرات ، (محوری گردش) مثلاً پیدا ہونے سے لے کر بچپن ، لڑکپن اور بڑھاپے سے گزرتے ہوئے ( طولانی گردش ) ہر آدمی ان تغیرات کو نا صرف جسمانی طور پر محسوس ( ریکارڈ) کرتا ہے بلکہ ذہنی طور پر بھی ” تمام تجربات “ اس کی بالیدگی کا حصہ بن جاتے ہیں بالآخر آدمی مر جاتا ہے ۔۔ انتقال ( ٹرانسفر ) کر جاتا ہے۔۔ نوکری ، کاروبار ، اپنی ذاتی نجی لائف اور معاشرتی گوناگوں مصروفیات میں سکون حاصل کرنے کے لئے اس قدر مصروف رہتا ہے کہ انجام کار ما سوائے خوف و غم کے کچھ نہیں ہوتا ، لافانی حکمت کی مخزن الہامی کتابیں توریت ، زبور ، انجیل مقدس ، وید مقدس اور آخری الہامی کتاب قرآن کریم میں وضاحت سے فرمایا گیا  ہے:

” اللہ کے دوستوں کو خوف و غم نہیں ہوتا۔“

خوش رہنے کا فارمولہ

نوع انسانی کے خدوخال ، عادات ، خصائل اور شب و روز کے رجحانات کا ذکر فرماتے ہوئے جناب عظیمی صاحب لکھتے ہیں :

”زندگی کا تجزیہ کیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ آدم کا ہر بیٹا اور حوا کی ہر بیٹی خوش رہ کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں لیکن زندگی کا مادی نظریہ ہر قدم پر مایوس کرتا ہے اس لئے کہ ہماری زندگی کا ہر لمحہ فانی اور متغیر ہے۔“

درج بالا کلمات کو  آپ  بار بار پڑھیں لفظوں پر غور کریں مثلاً : زندگی کا تجزیہ ، حقیقت ، زندگی گزارنا ، مادی نظریہ ، ہر قدم ، مایوس۔۔ ان تمام لفظوں اور جملوں میں جہاں حوادثِ زندگی کے کئی ایک چہرے نمایاں ہیں وہاں محوری اور طولانی گردش کے محاصل کی بھی نشاندہی کی گئی ہے۔ باوجود یکہ زندگی کے تغیرات (محوری گردش) مثلاً پیدا ہونے سے لے کر بچپن ، لڑکپن اور بڑھاپے سے گزرتے ہوئے(طولانی گردش) ہر آدمی تغیرات کو ناصرف جسمانی طور پر محسوس (ریکارڈ) کرتا ہے بلکہ ذہنی طور پر بھی ”تمام تجربات“ اس کی بالیدگی کا حصہ بن جاتے ہیں۔۔ بالآخر آدمی مر جاتا ہے۔۔نوکری ، کاروبار ، ذاتی زندگی اور معاشرتی گوناگوں مصروفیات میں سکون حاصل  کرنے کے لئے اس قدر مصروف رہتا ہے کہ انجام کار ماسوا خوف و غم کے کچھ حاصل نہیں ہوتا ، لافانی حکمت کی مخزن الہامی کتابیں قرآن کریم اور توریت ، زبور ، انجیل مقدس اور وید مقدس میں وضاحت سے فرمایا گیا ہے۔

”اللہ کے دوستوں کو غم اور خوف نہیں ہوتا۔“

 آپ  بلا شبہ اس حقیقت سے واقف ہو سکتے ہیں کہ غم و خوف میں مبتلا شخص اللہ کا دوست نہیں ہوتا۔۔ اللہ کے دوست پر انعمت علیھم۔۔ کے مصداق لامحدود نعمتوں کی بارش برستی ہے۔۔ اور وہ ان نعمتوں کو ہمیشہ اللہ بھگوان اور God کے حوالے سے پہچانتے جانتے اور  خوش رہتے ہیں۔

 آپ  کے ذہن میں یہ خیال آسکتا ہے کہ پہچان اور  Care Of سوچنے کا رحجان کیونکر اور کیسے ہوگا۔

ایسے لوگ جو انعمت علیھم ہیں وہ جب کسی شے سے مخاطب ہوتے ہیں چاہے وہ بصارت ہو، سماعت ہو ، یا پھر لمس و شامہ۔۔ ہر صورت اللہ کی بصارت ، اللہ کی سماعت ،حتیٰ کہ اللہ کے دیئے ہوئے اختیار سے ”مما رزقنھم ینفقون“ کی تقلید کرتے ہیں۔

حضور قلندر بابا اولیا ؒ رائج انسانی شعور کی طرز فکر کے آرکیٹیکچر یا اوصاف کی وضاحت میں فرماتے ہیں:

انسان کے شعور کو پہلے دن سے رنج و راحت کی وجہ معلوم ہوتا کہ رنج سے محفوظ رہے اور راحت کو برقرار رکھ سکے۔ وہ راحت کو نہیں چھوڑتا۔ اس لئے راحت کے ضائع ہونے کا خوف و ملال بھی اس کے دل سے نہیں نکلتا ۔(کتاب لوح وقلم صفحہ نمبر ۲۶۲)

یعنی انسان راحت کے حصول اور ملال سے دور رہنے کے لئے اپنی تمام تر کاوشوں کا رخ راحت کے تحفظ پر مرکوز رکھتا ہے۔۔ مگر حقیقت سے بے خبر ہونے کی وجہ سے آدمی رنج و راحت میں مبتلا رہتا ہے۔

آدمی حالات کی پیدا کردہ صورتِ حال میں سے اپنے فہم اور طرز فکر کے مطابق چناؤ کرتا ہے۔ جیسا کہ ایک طالب علم امتحان میں کسی سوال کے مختلف جوابوں میں سے ایک انتخاب کرتا ہے۔

علم لدنی سے فیضیاب خواتین و حضرات زمان و مکان کے قوانین سے آشنا ہوتے ہیں ان میں یہ فکر پیوست ہوتی ہے کہ نظارہ فقط محوری اور طولانی گردش (جس کی ملکیت صرف اور صرف لازوال ہستی کی ہے) کا نتیجہ ہے۔ تو وہ راحت کی کیفیات میں بے کیف ہو جاتے ہیں۔۔ ایسی کیفیت زمان و مکان کی پابندیوں سے آزاد ہستیوں کی قربت سے حاصل ہو سکتی ہے۔حضور قلندر بابا اولیاؒ کے درج بالا بیان سے انسانی ترقی کا راز معلوم کر سکتے ہیں۔

آدمی اپنی ساخت ، عادات و جبلت کے تحت حوادث پر قابو نہیں پا سکتا جس کے لیے حضور قلندر بابا اولیا ؒ کا ارشاد ہے:

”کوئی انسان خود اعتمادی کا دعویٰ کر سکتا ہے لیکن رنج و راحت سے بے نیاز نہیں ہوتا۔ البتہ غیب پر ایمان لانے کے بعد اسے بہتری کا یقین ہو جاتا ہے۔ غیب پر ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ غیب جو کچھ ہے بہتر ہی بہتر ہے، کیونکہ غیب رحیم و کریم کے ہاتھ میں ہے۔“ (کتاب لوح و قلم صفحہ ۲۶۲ ،  ۲۶۳)

انسان ”رحیم و کریم “ ہستی کی تلاش میں اپنی بساط کے مطابق حقیقت کے بجائے قرب و جوار میں عارضی ہستیوں (مثلاً کمپنی کے باس ، والدین ، شوہر ، بیوی ، اولاد وغیرہ) میں الجھ جاتا ہے۔ الہامی کتاب قرآن کریم میں اس حقیقت کا اشارہ ”یومنون بالغیب“ میں ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

”جو علم میں پختہ کار ہیں کہتے ہیں ہمارا ایمان ہے کہ سب ہمارے رب کی طرف سے ہے۔“ (۳ : ۷)

حاصل کلام یہ کہ ہمیں فی زمانہ ماحول سے ایسی تربیت مل رہی ہے کہ اس بات کا علم نہیں کہ خوش رہنے کا طریقہ کیا ہے۔ حامل علم لدنی حضور قلندر بابا اولیاؒ انسانی شعوری ساخت کا تجزیہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ شعور فی نفسہ کیا چیز ہے؟ وہ خود کو قائم رکھتا ہے اور اپنی یاد دہانی میں مصروف رہتا ہے۔ یعنی شعور مسلسل دعویٰ کرتا ہے میں یہ ہوں ، میں وہ ہوں ، میں چاند کو دیکھ رہا ہوں ، میں سورج کو دیکھ رہا ہوں ، میں ستاروں کو دیکھ رہا ہوں ، میرے ہاتھ میں کتاب ہے ، میرے ہاتھ میں قلم ہے وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام دعوے شعور کی بنائی ہوئی تصویریں ہیں۔“

اس طرز کلام کی اساس سوائے ماحول و معاشرہ کی تربیت کے کچھ نہیں ۔ یہ شعور نسل در نسل بڑھتا رہتا ہے۔ جناب عظیمی صاحب کے مطابق کرۂ ارض پر پیدا ہونے یا نمودار ہونے والے بچہ کا شعور صفر سے شروع نہیں ہوتا۔ وہ پہلے سے اپنے اسلاف اور معاشرہ و قوم کے اجتماعی شعور میں رنگین ہوتا ہے۔ جیسا کہ شکل نمبر30 میں دکھایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ شعوری صفات کے خدوخال محوری گردش کے زیر اثر نسل در نسل طولانی گردش کے موجب نوزائیدہ شعور بنتے ہیں۔ باطنی علمائے کرام کے مطابق یہی اجتماعی شعور نسل در نسل منتقل ہو کر بندہ کو اصل سے دور کر دیتا ہے اسی وجہ سے اسلاف کے مقابلے میں آج کی نسل اور آئندہ کی نسلیں مغموم ، پریشان ، خوف و غم یاس و حرماں میں مبتلا ہوتی چلی جائیں گی۔ خوف و غم سے مبرا اولیائے کرام کے مطابق سکون آشنا زندگی سے ہم آغوش ہونے کے لئے سب سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ زندگی کا دارو مدار صرف مظاہراتی جسم پر نہیں بلکہ اس حقیقت پر ہے کہ جس نے اس جسم کو اپنے لئے لباس بنایا ہے۔

بانیِ قلندر شعور ساخت کی تشریح میں فرماتے ہیں : ”جسم ایک خول ہے خول کے دو رخ ہیں۔ جسم اور دماغ۔“ نور کی ایک چادر ہے جو پھیلی ہوئی ہے  آپ  سوال کر سکتے ہیں کہ یہ چادر کس فضا میں موجود ہے ، اس فضا کو ”عالم امر خاص“ کہا جاتا ہے۔ یہاں اس نقطہ کی تشریح کر دینا ضروری ہے کہ مردہ اور زندہ جسم میں روح یا آتما کا فرق ہوتا ، یہی وہ ایجنسی ہے جو زندہ جسم کی تمام حرکات و احساسات اور جذبات کے لئے توانائی فراہم کرتی ہے۔

عالم امر ۔۔عالمین 

عالم امر اُس زندگی پر مبنی ہے جو جسم سے ماورا ہے۔ مادی دنیا میں ہم گھر ، معاشرہ اور درسگاہ وغیرہ سے وہ طرزیں سیکھ جاتے ہیں جن سے رہنا سہنا ، اٹھنا بیٹھنا ، کھانا پینا اور معاشرت ناسوتی ماحول سے ہم آہنگ ہوتی ہے، اس اجتماعی شعور کو گزشتہ صفحات میں شکل نمبر 30 میں تفصیلاً  بیان کیا جاچکا ہے۔ فی زمانہ رائج سائنسی علوم ” عالم امر“ یعنی ناسوتی ماحول کے بغیر دنیا کے متعلق کسی قسم کی تعلیم دینے سے قاصر ہیں۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان علوم میں مادہ کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے ، تمام تر اشیا علم کیمیا کے تعاملات و حاصلات (Stoichiometry) کا نتیجہ بتائے جاتے ہیں۔ مثلا          اگر 75 کلو گرام وزن کے انسان کی کیمسٹری زیرِ بحث لائی جائے تو بایو کیمسٹری کے ماہرین بتاتے ہیں اس میں 18 کلو کاربن ، چند نائٹرو جن کے Canes 50 کلو پانی ، قریب دو ہزار ماچس کے برابر فاسفورس ایک عدد ،  لوہے کی کیل اور چند دوسرے عناصر شامل ہیں۔ غور طلب نکتہ یہ ہے کہ اگر ان تمام عناصر کوہم کسی طرح یکجا کر دیں تو کیا جیتا جاگتا  انسان بن جائے گا؟ جو احساسات و جذبات ، کلفت و سرور اور تکلیف و آسائش میں معنی پہناتا ہے ، کیا وہ ان عناصر کے تعامل کا حاصل (End Product)  ہوگا۔۔ ؟ یہاں کئی سوال اٹھتے ہیں !!!

کیا کبھی کاربن نے ہنسی خوشی یا غم و غصہ کا اظہار کیا۔۔؟

کیا کبھی نائٹروجن نے کہا ' آج موسم بہت اچھا ہے۔۔؟

کیا کبھی فاسفورس نے دوسری فاسفورس کی کسی بھی قسم کی مدد کرنے کی سعی کی ۔۔۔؟

کیا انسان صرف کیمسٹری کا نام ہے۔۔؟؟

اسی سیاق میں اگر کیمیا ، بایولوجی ، یا فزکس کے ماہر یا  طالب علم سے پوچھا جائے کہ کبھی انہوں نے الیکٹران دیکھا ہے؟

فوٹان دیکھا ہے ؟ یا

پھر جینز (Genes)  میں موجود بنیادی اجزا انٹر انز وایکزان (Enterons And Exons)  کو دیکھا ہے؟ تو جواب اکثر و بیشتر نفی میں ہوتا ہے۔ ریسرچ سے وابستہ طلبہ و طالبات یہ بحث کر سکتے ہیں کہ ان کے وجود سے انکار نہیں کیا جا سکتا !! ہمارا کہنا بھی یہی ہے کہ جو کچھ بھی جینز یا انٹرانزوایکزان کے نام سے بیان کیا جاتا ہے، کیا ان کا وجود تجربات کی بنیاد پر ہے۔۔؟ حقیقت یہ ہے کہ مادہ کی ماہیت مادہ سے معلوم نہیں ہو سکتی جبکہ وہ براہ راست مشاہدہ میں بھی نہیں آیا۔ البتہ جو بھی احساس ہوتا ہے ، اس احساس کو کوئی بھی نام سائنسدان اپنی آسانی کے لئے دے دیتے ہیں ۔ انسان کا سمجھنے کا طریقۂ بھی یہی ہے وہ ہر مظاہرہ سے موصول شدہ مادی آلات کے احساس کو حواس کی تربیت کے مطابق ٹکڑوں میں تقسیم کر کے نام دیتا ہے، جو مظاہرہ کے حقیقی علم کے درمیان پردہ بن جاتا ہے۔

یہ بات نہیں کہ سائنسدان مظاہرات کے پس پردہ واقع اسباب کو نہیں مانتے! بلکہ تمام تر ٹیکنا لوجی کا دارومدار ان ہی اسباب کی مقداروں میں کمی بیشی سے وقوع پذیر ہوتا ہے۔۔ بلکہ اعلیٰ جماعتوں میں خصوصی علوم(Specialization) کے دوران سائنس کی ایک شاخ میں ایسے ہی شواہد و اسباب پر بحث کرتے ہیں ۔۔۔ اس کو کنٹرول تھیوری کہتے ہیں ، جو نہ صرف مظاہرات کے پس پردہ کار فرما عوامل کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ ان کی مخصوص مقداروں کے مابین تعلق یا مساوات کو بھی واضح کرتے ہیں۔ مگر ان کے نظریات ہر مظاہرہ کی بنیاد مادہ کو ہی قرار دیتے ہیں ۔ یعنی روایتی تعلیم میں مادیت پرستی (Materialism)  کا  رجحان نظر آتا ہے۔ فی زمانہ ان دیکھے یقین کی قطار میں ہمیں ” سائنس “ سب سے بڑے علم کی حیثیت سے نظر آتی ہے ۔ جس کے مبلغین میں کثیر تعداد انجینئر ، سائنسدان ، بایوٹیکنالوجسٹ ، ڈاکٹر اور سوشیالوجی کے ماہرین کی ہے۔ اگر ہم کمپیوٹر کے کردار کا موجودہ سائنس کے آئینہ میں تذکرہ کریں تو اس میں سلیکان ( ایک قسم کی ریتیلی چٹان) زیر بحث آتی ہے۔ سلیکان کی مخصوص مقداریں کمپیوٹر میں موجود

پرزہ جات بنانے میں کام آتی ہیں۔ انسان نے اللہ کی عطا کر دہ عقل کا استعمال کیا۔ دماغ کا استعمال کیا اور اللہ کے معین کردہ مقداروں کے قوانین معلوم کئے ، مگر سلیکان کی ماہیئت اور قدرت کی طرف سے فراہمی میں انسان کا کوئی کردار نہیں !! اگر انسان کا دماغ کام نہ کرے ، یعنی کسی مخبوط الحواس بندہ سے اس طرز کے قوانین دریافت کرنے یا استعمال کرنے کی امید نہیں کی جا سکتی۔ یہ تجربہ بھی نہیں ہوا کہ کسی مردہ شخص نے کسی قسم کی ٹیکنالوجی یا کمپیوٹر بنایا ہو۔


حتیٰ کہ یہ سوال بھی نہیں اٹھا کہ مردہ شخص سائنس و ٹیکنالوجی سے کسی قسم کا نفع و نقصان کیوں نہیں اٹھا سکتا؟ یا سائنس دان اپنی ریسرچ میں قدرت یا نیچر کے نام پر موجود جن عناصر کو استعمال کرتے ہیں اور طرح طرح کے تجربات کے بعد ٹیکنالوجی تیار کرتے ہیں۔ کبھی ان عناصر کی فراہمی یا ذرائع زیرِ بحث نہیں آئے۔!! ہاں! اس کی نشاندہی ضرور کی جاتی ہے کہ فلاں عنصر کی کمی ہو رہی ہے ، یا ان کے تجربات کی وجہ سے مضر عناصر یا گیسوں کا ذکر ہوتا ہے۔ مگر ان توجیہات میں بھی ہمیں ہر دہائی کے بعد نئے نئے نظریات سننے کو ملتے ہیں۔ جو گزشتہ توجیہات سے جزوی یا کلی طور پر مختلف ہوتے ہیں!! مثلاً زمینی فضا میں موجود اوزون لئیر میں رونما ہونےوالی تبدیلیوں کا ذمہ دار

کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دوسری گیسوں کو قرار دیا جاتا ہے جیسا کہ شکل نمبر 31B میں دکھایا گیا ہے ، حالنکہ مشاہدہ یہ ہے کہ اگر ہم گول گیند کو ٹہرے ہوئے پانی میں گھمادیں تو اس کے گرد ایک سے زائد دائرے بھی گھومتے ہوئے نظر آتی ہیں ، بالکل اسی طرح زمین کی گردش سے فضا میں اس کے ارد گرد دائرے بن رہے ہیں جن میں ایک قسم کو رائج سائنس اوزان تہوں یا لیئرز کے نام سے جانتی ہے جیسا کہ شکل نمبر 31A  میں دکھایا گیا ہے۔


گردش میں کمی بیشی سے دائروں میں رونما ہونے والے ردو بدل کے مابین تعلق معلوم کیا جا سکتا ہے۔  آپ  اس نکتہ پر غور کر سکتے ہیں کہ گردش میں کمی بیشی کے عوامل کیا ہیں ؟ سطح زمین اور زیر سمندر ہونے والے ایٹمی دھماکے ، یا پھر شمالی و جنوبی انٹارکٹیکا میں 50 کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے پگھلتی ہوئی برف وغیرہ وغیرہ۔۔ غرض کہ کتنے ہی ایسے  سائنسی حقائق ہیں جن کے بارے میں توجیہات مبہم ہیں کسی نے کبھی نہیں سوچا کہ زمین میں دھاتیں کہاں سے آتی ہیں؟۔۔۔ لوہے کی تخلیق کیسے رونما ہورہی ہے؟ سائنس کی کتابوں میں زمین سے نکالے جانے والے عناصر کے بارے میں کہا جاتا ہے۔۔۔  بیکٹیریا کے عمل سے Fossils بنتے ہیں۔ جبکہ علوم ِ باطنی کے ماہرین کی رائے مختلف ہے۔اُن کی

تمام تر اطلاعات کا مخزن الہامی علوم پر مشتمل ہے۔ علم کے حصول کے لئے موجودہ سائنس کے ناقص ذرائع ، محدود پیمائشی آلات اور حاصل شدہ نتائج ”حقیقت آشانئی “ یا ”حقیقت ِ ثابتہ“سے دور ہوتے ہیں ، یہ نا آشنائی صرف ماحول سے نہیں ، بلکہ اس کے اپنے انسان نما آرکیٹیکچر سے بھی ہے۔ کہاں سے انا ۔۔۔؟ کہاں جا رہے ہیں۔۔؟ ہر زون کی کیا کیا ضروریات ہیں؟۔۔ یہی خلا نسل در نسل نوع انسانی پر ادبار بن رہا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مرنے کے بعد کی زندگی سے عدم واقفیت ہر قسم کی تجرباتی اور محسوساتی الجھنیں پیدا کرتی ہیں جوابدالآباد تک کی تکالیف میں مبتلا کر رہی ہیں۔

ہم اپنے موضوع کی طرف پلٹتے ہیں جو کہ مظاہراتی دنیا کی رونمائی میں کارفرما عوامل سے متعلق ہے۔ اگر ہم چوزہ کی پیدائش کے مختلف ادوار پر غور کریں تو شکل نمبر 32 کے مطابق 21 دنوں میں انڈے سے ایک مکمل چوزہ برآمد ہوتا ہے۔ جدید سائنس کے مطابق قریب 38 ڈگری سینٹی گریڈ اور مخصوص نمی کے لیول پر انڈے کے چھلکے میں مسام پیدا ہوتے ہیں جو ہوا کی متعلقہ مقدار اندر لیتے ہیں اور پھر کیمیائی عمل کے نتیجہ میں انڈے کی پروٹین کےاندر خون کی پہلی پھٹکی نظر آتی ہے۔ اس کے بعد سائنسی پیچیدہ کیمیائی عمل سے ٹشوز بنتے ہیں ، جن سے بتدریج اعضا کی تعمیر ہوتی ہے۔ مگر یہ تمام عمل کس پروگرام کے تحت ہوتا ہے؟ کہ ایک عمل کے بعد دوسرا عمل ۔۔۔ اس کی ذمہ دار ”نیچر“ میں پائی جانے والی جینز کے میک اپ میں ہوتی ہے ، جو کہ خدوخال کی ذمہ دار ہے!! جینز (Genes) اور جینز میں پائے جانے والے میک اپ کی طرزوں کا تعین کن مقداری قوانین کے تحت ہوتا ہے ؟ رائج سائنسی طریقہ کار میں اس کا جواب نیچر کا نام دی جانے والی ایجنسی (Tagged Agency) ہے۔ یہ ضرور ہے کہ نیچر  میں پہلے سے موجود جینز میں ممکنہ مقداروں میں ( نیچر کے عطا کردہ دماغ و اختیار کو استعمال کرتے ہوئے بایو ٹیکنا لوجی کے ماہرین) تبدیلی پیدا کر دیتے ہیں ۔ مگر اس میں تخریب کا پہلو نمایاں ہے جیسا کہ کسی بھی جینیاتی بیج سے کبھی مزید پیدا وار حاصل نہیں کی جا سکتی!! یہ بات” نیچر کے مزاج“ کے خلاف ہے۔ ”نیچر“ کا نام دی جانے والی ایجنسی کے جاری و نافذ کردہ قوانین میں نہ تو تعطل نظر آتا ہے ، اور نہ ہی کہیں بھی تبدیلی۔ عام آدمی کی نگاہ سے ”نیچر“کا مشاہدہ کیا جائے تو اس کی پیدا کردہ مخلوق ایک مخصوص نظام کے تحت دنیا میں نمودار ہوتی ہے ، وسائل پہلے سے موجود ہوتے ہیں۔۔ مخلوق وسائل استعمال کرتی

ہے یا پھر بالفاظِ دیگر وسائل مخلوق کو استعمال کر کے آہستہ اہستہ غائب کر دیتے ہیں۔

مخلوق کی پیدائش میں کارفرما عوامل گردشی نظام کے تحت کیسے حصہ لیتے ہیں، اس نکتہ کی وضاحت کرتے ہوئے باطنی علمائے کرام نے واضح کیا ہے کہ متذکرہ بالا تینوں عالمین مظاہرہ کے لیے ضروری ہیں۔ جو درج ذیل مساوات کی مدد سے ظاہر ہوتے ہیں۔

مظاہرہ    =  خدوخال  +   رنگ

جیسے کبوتر کے خدوخال اور اس کا سفید رنگ ۔۔۔ اول الذکر چوں کہ نوعی خدوخال کا تعین کرتے ہیں اس لئے محوری حرکت کے ذریعہ بنتے ہیں ، جبکہ موخراذکر طولانی حرکت کے ذریعے نوع کو کائنات سے منسلک کر دیتے ہیں۔اس طرح خدوخال کا بنیادی مصالحہ عالمِ امر میں پایا جاتا ہے اسی لیے ان کا تعلق بھی عالمِ امر سے ہے جب کہ رنگوں کا بنیادی مصالحہ عالمِ خلق میں پایا جاتا ہے اس لئے ان کا تعلق عالم ِ خلق سے ہے۔ حسابی زبان میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ عالمِ امر ایک ایسا سیٹ (Set) ہے جس کے مزید تین جزوی سیٹ(Subset) ہیں جنہیں عالم ِ امر ، عالم امر عام اور عالم ِ نسمہ کہا جاتا ہے۔ یہ تمام عالمین مرکب لہروں ، مفرد لہروں ، نورانی لہروں اور ماورائے نور لہروں پر مشتمل ہیں۔ ہر لہر اپنے آپ میں مخصوص طوالت ِ حرکت اور رفتار رکھتی ہے۔ یعنی عالم خلق ایک ایسا سیٹ  ہے جو لاتعداد رنگوں پر مشتمل ہے اس میں مختلف ہیئت اور رنگ و بو کی توانائیاں موجود ہیں۔  آپ  کی دلچسپی کے لئے ہم یہ اشارہ دیتے چلیں کہ کتاب لوح و قلم  میں جناب حضور قلندر بابا اولیا ؒ نے نسمہ کی لاشمار اقسام کا ذکر کیا ہے ، انہی اقسام کی مدد سے مختلف مادی مظاہر کی تخلیقی مساوات کی تفصیل بھی درج ہے۔ شکل نمبر 33 کے مطابق اگر ہم ہر دو سیٹ کو دائروں میں ظاہر کریں تو ان کے باہم تقاطع(Intersection)  سے جو زون بنتا ہے وہاں ہی مظاہرہ ہوتا ہے۔  آپ  بار بار شکل نمبر 33 کا مطالعہ کریں تو یہ اسرار کھلے گا ، جیسا کہ کتاب ” لوح و قلم“ میں واقفِ اسرار کِن فیکون جناب حضور قلندر بابا اولیا ؒ کائناتی نظام کی تخلیق میں کار فرما قوانین کی وضاحت کے ضمن میں فرماتے ہیں : عالم امر جوکن کہنے سے ظہور میں آیا۔

”جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا معمول یہ ہے کہ اس چیز کو کہتا ہے ہوجا ، پس وہ ہو جاتی ہے۔“  (۳۶  :  ۸۲)