Topics
روحانی سائنس دان بتاتے ہیں کہ ہر دس ہزار سال کے بعد زمین میں ایسی تبدیلیاں
رونما ہوتی ہیں کہ جہاں سمندر ہے وہاں زمین ظاہر ہو جاتی ہے اور جہاں زمین ہے وہاں
سمندر آجاتا ہے۔ گزشتہ اقساط میں Holocene Cycle کا بیان ہے۔ یہ سائیکل ہر
دس ہزار سال بعد دہرایا جاتا ہے۔ آئندہ ہم بتدریج بڑھتی ہوئی ارضیاتی تبدیلیوں کا
مفصل ذکر کریں گے۔ ان میں آتش فشاں پہاڑ ، زیرِ سمندر چٹانوں کی حرکت ، اندرونِ
زمین لاوے میں یک دم جوش کا رحجان ، سونامی کی وجہ سے سمندر میں دیو قامت ، میلوں
لمبی لہروں کی پیدائش اور سطح زمین پر آب و خشکی کی ساخت میں تغیرات شامل ہیں۔
ارضیاتی تبدیلیوں کے جہاں وسیع و عریض پیمانہ پر جغرافیائی بو دو باش پر اثرات
بتائے جاتے ہیں وہیں صفحہ ہستی سے کلی طور پر مٹ جانے والی تہذیبوں کی طرح موجودہ
ٹیکنالوجی کے اختتام کے شواہد بھی نظر آتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی سے حاصل ہونے والے
اعداد و شمار اس کا ثبوت ہیں ، اس کے علاوہ محققین اپنے مقالوں میں سوال در سوال
اٹھا رہے ہیں۔ جیسا کہ
٭ شکل نمبر 44 کے مطابق کیا
انٹارکٹیکا کے برفانی پہاڑوں کے پگھلنے کا رحجان اسی رفتار سے جاری رہے گا جیسے
1980ء ،
1998 ء ، اور 2012 ء میں دیکھا گیا؟
٭ ناسا کے حالیہ اعداد و شمار کے
مطابق (شکل 45) جنوبی انٹارخٹیکا کے گلیشئیر کے پگھلنے کی رفتار سے بحر ہند اور
براعظم آسٹریلیا پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟جب کہ پگھلنے کی رفتار کا عالم یہ ہے کہ
جیسے سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ٹرین کا سفر طے کرنا۔
٭ شکل نمبر 46 کے مطابق امریکہ میں
ڈیموں میں موجودپانی کی سطح نامعلوم وجوہات کی بنا پر کم ہوتی چلی جائے گی؟
٭ کیا صدیوں تک دنیا پر حکومت کرنے
والی سلطنت برطانیہ چھوٹے چھوٹے جزائر میں تبدیل ہو جائے گی؟
٭ کیا ٹیکنا لوجی کا مرکز ریاست کا
مرکز ریاست ہائے متحدہ امریکہ مسلسل سو نامی اور آتشی زلزلوں سے متاثر ہو کر غربت
و افلاس کا شکار ہو جائے گا؟
٭ شکل نمبر 47 کے مطابق 2015 ء کے زلزلہ کی وجہ سے کہ ہمالیہ
کے دامن میں تاجکستان کے وسط میں نمودار ہونے والی جھیل کسی سمندر میں تبدیل ہوگی؟
٭ کیا یہ درست ہے کہ ماؤنٹ ایورسٹ
کبھی سمندر میں تھا اور تبت اس کا ایک کنارا۔۔؟ جس کے شواہد وہاں سے حاصل شدہ
نمونوں میں عیاں ہیں۔
آگے بڑھنے سے پہلے گزشتہ اقساط کا جائزہ لیتے ہیں جو 2006ء سے بڑھتی ہوئی
ارضیاتی تبدیلیوں کا پسِ منظر جاننے میں مدد گار ہوگا۔
۱۔ ہر دس ہزار سال بعد مستعمل زمین اور سمندر فنا ہو کر نئی زمین اور سمندر کو
جنم دیتے ہیں اور آدمی بود وباش نئے سرے سے درختوں اور غاروں سے شروع کرتا ہے۔
۲۔ نیند اور بیداری ، دونوں میں احساس پر وارد ہونے والی کیفیات یک ساں ہوتی
ہیں۔
۳۔ انسان سوچ کے علاوہ کچھ نہیں۔
۴۔ زندگی میں حرکت کا سببب گردش ہے اور گردش اطلاعات پر قائم ہے۔ مثلاً کار کے
پہیے پہلے محوری گردش کرتے ہیں ، نتیجتاً کار
طولی حرکت (Movement Liner)
کرتی ہے۔
۵۔ مشاہدہ کے لئے ماحول کو منور کرنے والی روشنی (Illuminated Light)
کی مختلف اقسام اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
موجودہ سائنس جس ایجنسی کو نیچر کا نام دیتی ہے ، صدیوں کی معلوم تاریخ یہی
بتاتی ہے کہ نیچر اپنی عادت نہیں بدلتی ، وہ زندگی کے محرک کو کسی لمحہ ساکت نہیں
ہونے دیتی۔ وقت کے کسی بھی یونٹ ، یونٹ در یونٹ یا اس کی ثانویت میں نیچر کے
پروگرام کے تحت زندگی کی تجدید ہو رہی ہے۔ قارئین تجدید کا مطلب آسانی سے سمجھ
سکتے ہیں یعنی ہر پچھلا لمحہ (Instance) فنا ہو کر اگلے لمحہ کی تشکیل کر
رہا ہے۔ لمحہ کا مطلب شے کا ”زمانیت در مکانیت “ ظاہری وجود ہے۔ جو ظاہر ہو رہا ہے
وہ بھی زمانیت در مکانیت ہے اور جو غائب ہو رہا ہے وہ بھی زمانیت در مکانیت ہے۔۔
فرق صرف مقداروں کا ہے۔ اس ضمن میں مزید تفصیل کی گنجائش یہاں نہیں ہے۔ قدرت نے
تجدید یعنی غائب سے حاضر اور حاضر سے غائب کے نظام کو قائم رکھنے کے لئے وسائل پیدا
کئے ہیں اور مخصوص فارمولے کے مطابق مصرف (Consumption) کا بھی بندوبست کیا ہے۔
مندرجہ بالا مضامین میں ان سوالات پر سیر حاصل بحث کی گئی:
٭ زمین ہر دس ہزار سال بعد طبعی عمر
پوری کر کے مرجاتی ہے (انتقال کر جاتی ہے) اسی قانون کے تحت سمندر بھی مرتے اور
پیدا ہوتے ہیں۔
٭ مخلوق مسلسل مر رہی ہے اور جی
رہی ہے۔
٭ جس طرح جسم میں رگوں کا نظام
ہے ، کیا اسی طرح زمین میں بھی رگوں پر مشتمل نظام ہے؟
٭ شکل نمبر 10 کے مطابق پانی ،
پیتل ، ڈیزل وغیرہ کس نظام کے تحت اندرونِ زمین پیدا ہوتے ہیں اور آپس میں نہیں
ملتے؟
کائناتی نظام میں تفکر کے الہامی قانون کی جانب توجہ دلاتے ہوئے عظیمی صاحب
فرماتے ہیں:
اللہ کے فرمان کے مطابق جو لوگ اللہ کی راہ میں کوشش کرتے ہیں ان کے لئے اللہ
اپنے راستے کھول دیتے ہیں۔ اگر اس نکتہ پر غور کریں تو اللہ کی جانب بڑھنے کی
لاشمار راہیں ہیں سامنے آتی ہیں۔
ہم واضح کر چکے ہیں کہ مادیت کے پرستار ہمیشہ مادی عناصر میں رہ کر فکر کو متحرک
رکھتے ہیں ، اس لئے ان کے مشاہدات و تجربات محدود ہوتے ہیں۔ تجربات میں سوچ اہم
کردار ادا کرتی ہے۔ باطنی علمائے کرام ”سوچ اور فکر“ کی پرواز پر زور دیتے ہیں۔ جس
طرح ہم بچوں کو گوشت پوست کے جسم کے ساتھ مطلوبہ منزل تک پہنچنے میں مدد دیتے ہیں
اسی طرح فکرِ سلیم کی تربیت کی جاتی ہے۔ یہ سوچ ہی ہے جو ذوق کے مطابق سر گرمعمل
رہتی ہے۔
آخری الہامی کتاب میں ارشاد ہے:
” آسمانوں اور زمین کی ساخت میں ، رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے
میں ، ان کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریاؤں اور سمندروں میں
چلتی پھرتی ہیں ، بارش کے اس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے ، پھر اس کے
ذریعے سے مردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے اور زمین میں ہر قسم کی جان دار مخلوق کو پھیلاتا ہے ۔“ (البقرۃ : ۱۶۴)
روحانی سائنس ہر پاس منظر میں کارفرما قوانین کو جاننے پر زور دیتی ہے۔ درجِ
بالا آیت کے ضمن میں یہ سوالات ذہن میں ابھرتے ہیں۔:
زمین کس فارمولے کے تحت دانہ کو قابول کرتی ہے؟ خشک زمین پر دانہ کیوں نہیں
اُگتا ؟
کشتیاں اور جہاز کس اصول کے تحت سمندر میں رواں ہیں؟ لیل و نہار کیسے ایک
دوسرے کے پیچھے آتے جاتے ہیں؟ فائدہ کسے کہتے ہیں۔۔؟
کائنات میں گہرے تفکر سے تخلیقی فارمولے آشکار ہوتے ہیں ۔ شعور کی یہ تربیت
مخصوص نظام کے تحت ہوتی ہے جس کا مفصل ذکر آئندہ کیا جائے گا۔
مشاہدہ کے لئے علمائے باطن سوچ اور فکر کی پرواز پر زور دیتے ہیں اور اسی نہج
پر تربیت کرتے ہیں۔ سوچ ، ذوق کے مطابق سر گرم
عمل رہتی ہے۔ تکرار و یقین سے بھر پور سوچ ، دل چسپی یا ذوق کے مطابق جو
چاہتی ہے حاصل کر لیتی ہے ۔ حاصل ہونے والے مشاہدات و تجربات کبھی ٹائم اسپیس کی
پابندیوں میں بند ہوتے ہیں اورکبھی آزاد ۔۔۔ جیسے ڈرنا اور خوف زدہ ہونا ، جو نیند
اور بیداری دونوں حالتوں میں ہے۔
ہمارا شعور نسل در نسل اجتماعی شعور کی پیدا وار ہے۔ گھر ، معاشرہ اور درس گاہ
وغیرہ سے ہم وہ طرزیں سیکھتے ہیں جن سے رہنا سہنا ، اٹھنا بیٹھنا ، کھانا پینا اور
معاشرت ناسوتی ماحول سے ہم آہنگ ہوتی ہے۔ یہ اجتماعی شعور گزشتہ صفحات میں شکل
نمبر 30 میں تفصیلاً بیان کیا جا چکا ہے۔ مگر وہ زندگی جو جسم سے ماورا ہے ، رائج
سائنسی علوم اس کے متعلق کسی بھی قسم کی تعلیم دینے سے قاصر ہیں۔ بنیادی وجہ رائج
سائنس میں مادہ کا کردار ہے اور اشیا علم کیمیا کے تعاملات و حاصلات (Stoichiometry) کا
نتیجہ بتائی جاتی ہیں۔مثلاً اگر پچھتر کلو گرام وزن کے آدمی کی کیمسٹری
زیرِ بحث لائی جائے تو بایو کیمسٹری کے ماہرین بتاتے ہیں کہ اس میں اٹھارہ کلو
کاربن ، دو کلو کے قریب نائٹروجن ، پچاس کلو پانی ، تقریباً دو ہزار ماشس کے برابر
فاسفورس ، ایک عدد لوہے کی کیل اور چند دوسرے عناصر شامل ہیں۔ غور طلب نکتہ یہ ہے
کہ اگر ان تمام عناصر کو کسی طرح یک جا کر دیں تو کیا جیتا جاگتا انسان بن جائے
گا۔۔؟ جو شے احساسات و جذبات ، کیف و سرور اور تکلیف و آسائش میں معنی پہناتی ہے ،
کیا وہ ان عناصر کے تعامل کا حاصل (End Product) ہوگی۔۔؟ یہاں کئی سوال اٹھتے ہیں۔
٭ کیا کبھی کاربن نے ہنسی خوشی یا
غم کا اظہار کیا؟
٭ کیا کبھی نائٹرو جن نے کہا ”
آج موسم بہت اچھا ہے “؟
٭ کیا کبھی فاسفورس نے دوسرے
فاسفورس کی کسی قسم کی مدد کرنے کی کوشش کی؟
٭ کیا انسان صرف کیمسٹری کا نام
ہے؟
ماہر علم لدنی حضرت قلندر بابا اولیا ؒ رائج انسانی شعور کی ساخت کی وضاحت میں
فرماتے ہیں:
انسان کے شعور کو پہلے دن سے رنج و راحت کا احساس ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ اسے رنج
و راحت کی وجہ معلوم ہوتا کہ رنج سے محفوظ رہے اور راحت کو بقرار رکھ سکے۔ وہ راحت
کو نہیں چھوڑتا۔ اس لئے راحت کے ضائع ہونے خوف و ملال بھی اس کے دل سے نہیں نکلتا
۔( لوح و قلم)
گزشتہ مضامین میں یہ واضح کر چکے ہیں کہ باطنی علما کے نزدیک انسان ایک سوچ ،
شعور یا پھر احساس کے علاوہ کچھ نہیں۔ یعنی آدمی راحت کے حصول اور ملال سے دور
رہنے کے لئے اپنی تمام تر کاوشوں کا رخ راحت کے تحفظ پر مرکوز رکھتا ہے۔۔۔ مگر
حقیقت سے بے خبر ہونے کی وجہ سے آدمی رنج و راحت میں مبتلا رہتا ہے۔ وہ حالات کی
پیدا کردہ صورتِ حال میں سے اپنے فہم اور طرزِ فکر کے مطابق چناؤ کرنے پر مجبور
ہے۔ جیسے طالب علم امتحان میں کسی سوال کے مختلف جوابوں میں سے ایک کا انتخاب کرتا
ہے۔
علم لدنی سے فیض یاب خواتین و حضرات زمان و
مکان کے قوانین سے واقف ہیں۔ ان میں یہ فکر پیوست ہوتی ہے کہ نظارہ فقط
محوری اور طولانی گردش( جس کی ملکیت صرف اور صرف لازاوال ہستی کی ہے) کا نتیجہ ہے
اس لئے وہ بے کیف ہو جاتے ہیں ۔ ایسی کیفیت زمان و مکان کی پابندیوں سے آزاد
ہستیوں کی قربت سے حاصل ہوتی ہے۔
آدمی اپنی ساخت ، عادات و جبلت کے تحت حوادث پر قابو نہیں پا سکتا۔ اس سلسلہ
میں ابدال ِ حق فرماتے ہیں:
” کوئی انسان خود اعتمادی کا دعویٰ کر سکتا ہے لیکن رنج و راحت سے بے نیاز
نہیں ہوتا۔ البتہ غیب پر ایمان لانے کے بعد اسے بہتری کا یقین ہو جاتا ہے۔ غیب پر
ایمان لانے کے معنی یہ ہیں کہ گیب جو کچھ ہے بہتر ہی بہتر ہے ، کیوں کہ غیب رحیم و
کریم کے ہاتھ میں ہے۔“ (لوح و قلم)
ستم ظریفی ہے کہ آدمی حقیقت سے واقف ہونے کے بجائے عارضی سہاروں ( مثلاً کمپنی
کے باس ، والدین ، شوہر ، بیوی ، اولاد وغیرہ) میں الجھ جاتا ہے اور انہیں اپنی
بہتری کا محور و مرکز سمجھنے لگتا ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
”جو علم میں پختہ کار ہیں وہ لہتے ہیں ہمارا ایمان ہے کہ سب ہمارے رب کی طرف
سے ہے ۔“
(آل عمران : ۷)۔