Topics
نیپال میں اپریل
۲۰۱۵ء کے زلزلہ سے خارج ہونے والی توانائی کی کم شدت والی لہروں کا رخ پاکستان اور
بھارت کی جانب تھا جب کہ نیپال کے دیگر مغربی علاقے محفوظ رہے۔ وجہ یہ تھی کہ تناؤ
مسلسل سطح ِ زمین کی جانب بڑھ رہا تھا۔ زلزلہ کی شدت اگر زیادہ ہو لیکن وہ زیرِ
زمین سو سے دو سو کلو میٹر گہرائی میں ہے تو سطحِ زمین پر اثرات مہلک نہیں ہوتے۔
پاکستان کے
شمالی علاقوں میں ۲۰۰۵ء میں آنے والے زلزلہ کی گہرائی زیرِ زمین دس کلو میٹر تھی۔۔
۲۰۱۵ ء میں نیپال کے زلزلہ کی گہرائی بیس کلو میٹر تھی۔ ماہرین کے مطابق GPS ڈیٹا اس بات کی
تصدیق کر رہا تھا کہ زیرِ زمین بے پناہ توانائی کا ٹائم بم پھٹنے کا منتظر ہے۔
محققین کے اعداد و شمار اور مغربی نیپال کے پہاڑی نمونوں کی کاربن ڈیٹنگ بتا رہی
تھی کہ یہ پہاڑی سلسلے دس میٹر تک سرک چکے ہیں۔ یہاں سائنسی تحقیقی سے منسلک
قارئین کے ذہن میں سوال ہوگا کہ آخر ”کاربن“ ہی سے اشیا کی عمر کا تعین کیوں کیا
جاتا ہے؟
مقامی آبادی کا
انخلا کیسے ممکن ہو جب کہ تباہی کی متوقع لہر کے وقت کا حتمی تعین نہیں تھا۔ جدی
پشتی آباد خاندان زیرِ زمین ٹائم بم سے بے خبر تھے۔ مرد دکانوں میں مصروف اور
عورتیں پگ ڈنڈیوں پر پیتل کے مٹکے لیے روز مرہ کے گھریلو کاموں میں مگن تھیں۔ گدلا
پہاڑی نالہ جو قریب پانچ سو سال پہلے نمودار ہوا ، آبادی اب اس کے گرد تھی یعنی
نالہ کا گرد و نواح ، شہر کا مرکز (Downtown) تھا۔ ماہرین کے مطابق اگلے دس منٹ یا دس سال
میں کسی
بھی وقت سولہ
گنا طاقت و زلزلہ متوقع ہے۔
زلزلہ کے
پانچویں دن لاس اینجلس امریکہ سے امدادی ٹیم ملبے میں دفن ممکنہ زندہ لوگوں کو
نکلانے کے لئے پہنچی۔ نیپالی پولیس کے انسپکٹر لکشمن بہادر سبانت کو بار بار آٹھ منزلہ بلڈنگ کے ملبے کے ایک حصہ سے
آوازیں آرہی تھیں۔ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ وہم تو نہیں کیوں کہ ڈھونڈنے پر
بھی انسانی جان کے آثار نہیں ملے۔ کھوجی کتوں کی مدد حاصل کی گئی۔ ایک کتا بار بار
اس جگہ چکر لگا رہا تھا جو بظاہر مضبوط کنکریٹ دیوار سے بند تھی۔ سلاخیں چھت سے
جدا ہونے کی وجہ سے نمایاں ہو گئی تھیں۔ انسپیکٹر لکشمن نے کنکریٹ دیوار کا جائزہ
لیا اور ایک طرف سے کٹائی شروع کر دی یہاں تک کہ شگاف ظاہر ہو گیا۔ ٹارچ کی مدد سے
اندر دیکھا تو مخروطی کمرہ کی مانند صندوق نظر آیا جو دیواروں کے سرکنے سے صندوق
کی شکل میں نمایاں ہو گیا تھا۔ روشنی کی کرن میں پندرہ سال کے لڑکے کا چہرہ نظر
آیا۔ انسپیکٹر لکشمن نے شگاف کو مزید بڑا کیا اور پانی کی بوتل لے کر اندر اتر
گیا۔ ۔۔ کی دیکھا۔۔ مٹی سے اٹا ایک نوجوان ملبے کی دیواروں کے درمیان ایسے پڑا ہے
جیسے سو رہا ہو۔ چہرے پر پانی کے چھینٹے مارے اور ہونٹوں کو چند قطروں سے تر کیا۔
نوجوان نے لب ہلائے، گردن ایک جانب ڈھلکی ہوئی تھی۔ انسپیکٹر نے اس کی گردن گرد
ہارڈ باندھا اور باہر نکالا۔
لڑکے کا نام
پیمبا لاما تھا۔اس نے بتایا کہ وہ کھانا کھا رہا تھا ، در و دیوار گرے اور وہ بے
ہوش ہو گیا۔ اسے لگا جیسے مسلسل ڈراؤنے خواب سے گزرتا رہا ہے۔ اتنے دنوں تک وہ
کیسے بھوکا پیاسا زندہ رہا ، خراش تک نہیں آئی۔۔ سائنس اس کا جواب دینے سے قاصر
ہے۔
گردن کی موچ
فزیو تھراپی کی مدد سے ٹھیک ہوگئی مقامی لوگ اس کا زندہ بچ جانا معجزہ مانتے ہیں۔
زلزلہ سے متاثرہ
علاقوں میں سطح زمین پر افقی طور پر تبدیلیوں کے آثار نظر آتے ہیں جیسے سینکڑوں
میٹر لمبی اور ڈیڑھ سے دو فٹ چوڑی گہری درزوں کا نمودار ہونا اس طرح جیسے کسی نے
آرا چلا دیا ہو لیکن حیرت انگیز بات یہ
ہے کہ ارضیاتی
ماہرین نے زلزلہ کے غیر معمولی تواتر کے نتیجہ میں عمودی تبدیلیات دیکھیں۔
زمین کے ارد گرد
ہمہ وقت محوِ گردش پوزیشن بتانے والے مصنوعی سیارہ یا موسم کی پیشن گوئی کرنے والے
سیارہ کی مدد سے ارضیاتی اتار چڑھاؤ کی کی تصاویر لی جا سکتی ہیں۔ یہ تصاویر بیضوی
دائروں یا Contours کی شکل میں نظر آتی ہیں۔ باہر سے اندر کی جانب
بڑھتے ہوئے بیرونی دائرے گہرائی سے بلند بالا مقامات کی نشان دہی کرتے ہیں۔ پہاڑی
سلسلوں میں عمودی فرق کا مشاہدہ ان بیضوی دائروں یا Contours میں تبدیلی سے
لگایا جاتا ہے۔
ہر دس سینٹی
میٹر کے ان بیضوی دائروں یا Contours سے یہ نتائج اخذ کیے جا سکتے ہی کہ کھٹمنڈو شہر زلزلہ کے بعد
تقریباً ایک میٹر بلند ہو گیا جب کہ گرد و نواح میں سمالی پہاڑی سلسلوں کی بلندی
ایک میٹر کم ہوگئی۔ یعنی جہاں کھٹمنڈو و شہر ایک میٹر بلند ہوا وہیں ماؤنٹ ایورسٹ
ایک میٹر نیچے کھسک گئی۔
ماؤنٹ ایورسٹ کی
چوٹی کی جانب رواں دواں کوہ پیما خواتین و حضرات پیشہ ور تھے لیکن اپریل کا حادثہ
تیکنیکی اعتبار سے مختلف نوعیت کا تھا۔ برفانی تودے تین سو میل فی گھنٹہ کی رفتار
سے برفانی لاوے ، نوک دار چٹانوں کے انبار کے ساتھ وادی میں سرکتے گئے۔ بیس کوہ
پیما ہلاک ہوئے۔ ایسا لگتا تھا کئی تباہ کن مہلک میزائل ایک ساتھ چلا دیئے گئے
ہوں۔۔ تین سو میل فی گھنٹہ کی رفتار کے طوفان کے سامنے ۔۔ نازک جانیں اور ان کے
کیمپ کیسے محفوظ رہ سکتے تھے!
سوئٹزر لینڈ کی
ایک لیبارٹری میں مختلف اقسام کے برفانی طوفان کی تمثیل کے لیے مخصوص کمپیوٹر
استعمال کیے جاتے ہیں جنہیں Glacier Simulator کہا جاتا ہے ۔ اس کے ذریعے بڑے بڑے پہاڑوں پر رونما ہونے والی
لینڈنگ سلائڈنگ کے ممکنہ اثرات کی پیشین گوئی کی جا سکتی ہے۔ مگر ماؤنٹ ایورسٹ کے
اس حادثہ سے متعلق یہ Simulator کسی
طرح کی حتمی رائے دینے سے قاصر تھا۔ وجہ لینڈ سلائڈنگ میں بہت سے واقعات کا ایک
ساتھ رومنا ہونا تھا۔ اس زلزلہ کی لہروں کا تواتر سے اخراج ، برف اور ہوا کے
انتہائی دباؤ کا امتزاج اور پے درپے برفانی تودوں کا نمودار ہونا جیسے اہم عناصر
شامل ہیں۔
معاملہ حل کرنے
کے لئے روایتی تکنیک سے ہٹ کر متاثرہ علاقوں کی عکس بندی کے لئے مختلف طریقہ کار
وضع کیا گیا۔اس مقصد کے لئے وقوع کا فضائی دورہ کیا گیا۔ جہاں ممکن تھا وہاں ڈیٹا
کے تخمینہ کے لئے زمینی مشاہدات کا سہارا لیا گیا۔ سوئٹرز لینڈ کے تمثیلی آلات (Glacier Simulator) کے ماہرین نے ہیلی کاپٹر
کی مدد سے ماؤنٹ ایوریسٹ پر پہاڑی سلسلوں اور متاثرہ برفانی چوٹیوں کی انتہائی
تفصیلی (High Resolution) تصاویر لیں۔
”لانگ ٹانگ“ میں
تقریباً چار سو نفوس پر مشتمل آبادی اور ایک سو سولہ گھر غائب ہو چکے تھے۔ یہ
علاقہ ماؤنٹ ایورسٹ کے مہم جو خواتین و حضرات کے پسندیدہ اسٹیشنوں میں سے ایک تھا۔
ماہرین کے مطابق اگر اس قدر بلندی پر واقع گاؤں اتنی زیادہ شدت سے دو چار ہوا ہے
تو نچلے علاقوں میں کیا ہوا ہوگا؟
بتایا جاتا ہے
کہ لینڈ سلائیڈ نے اس جگہ پاؤڈر نما ، دباؤ والے مہلک بادلوں کو تشکیل دیا جس میں
ایک فیصد برف اور ننانوے فیصد ہوا کی آمیزش تھی۔ بعد ازاں جائے وقوع پر موجود کوہ
پیمائی ٹیم کی ویڈیو سے بھی اس کی تصدیق ہو گئی۔ ٹیم کے مطابق سرک کر نیچے آنے
والے چھ سو فٹ تباہ کن یہ بادل راہ میں آنے والے کسی بھی اسٹرکچر یا رہائشی علاقہ
کو زمین بوس کر سکتے ہیں۔
برفانی طوفان کی
سلائڈنگ کی ماہیئت مختلف اور کئی گنا طاقت ور تھی کیوں کہ اس میں برفانی تودوں کے
علاوہ پتھریلی چٹانیں اور فضا میں اڑتے ہوئے پتھر تھے۔ سنگ باری اور چٹانوں کے
ملاپ نے تباہی کے اثرات کو عام لینڈ سلائڈنگ کے مقابلہ میں کئی گنا بڑھا دیا۔
ماہرین اس کو میگا لینڈ سلائڈنگ قرار دیتے ہیں جس کے راستہ میں آنے والی تمام آبادی
صفحہ ہستی سے کلی طور پر مٹ گئی۔
زلزلہ کے سترہ
دن بعد نیپال اسمبلی میں ممبران کی تقریر کے دوران سی سی ٹی وی اور مقامی ٹی وی
کیمروں نے اسمبلی ہال کو لرزتے دیکھا۔ زلزلہ ک یہ جھٹکا تھا جو کھٹمنڈو شہر سے
تقریباً بیس یا تیس کلو میٹر کے فاصلہ پر نمودار ہوا۔۔یہ ایک اور میگا زلزلہ تھا
جس کی شدت 7.4 بتائی جاتی ہے جب کہ پچھلا زلزلہ 7.8 شدت کا تھا۔ اس کا مطلب
تھا کہ پلیٹوں کے درمیان تناؤ سے جمع شدہ توانائی پہلے کے مقبالہ میں چار گناکم
تھی۔
تقریباً آٹھ
لاکھ عمارتیں متاثر ہوئیں جن میں کچھ مکمل طور پر زمین بوس ہو گئیں۔ اس قسم کی
معلومات مستقبل میں عمارتوں کی تعمیر کے لئے مفید ہوتی ہیں۔ ماہرین نے عمارت کی
تباہی کا تقابلی مطالعہ شروع کیا۔ آخر ایسا کیوں ہوا کہ کچھ عمارتیں تباہ ہو گئیں
جب کہ نچلی عمارتیں زلزلوں کے جھٹکوں سے محفوظ رہیں۔ سراغ کے لیے کھٹمنڈو میں
موجود تاریخی عمارتوں کا جائزہ لیا گیا۔
دربار اسکوائر
میں زلزلہ کی شدت سات محسوس کی گئی۔ کچھ حصے زمین بوس ہوگئے۔ چھٹی صدی عیسوی کی یہ
تعمیرات فنِ تعمیر کا شاہکار تھیں۔ شاہی یاد گاروں کی بڑی تعداد سفید محل میں رکھی
گئی تھیں جو انسیویں صدی کے طرز ِ تعمیر کا نمونہ تھا۔ محل کا تو سیعی حصہ 1770ء
میں تعمیر کیا گیا۔ ایک حصہ پوجا پاٹ کے لئے مختص تھا جہاں ابھی بھی بڑی تعداد میں
لوگ مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔۔ ثقافتی اور مذہبی لحاظ سے یہ جگہ کھٹمنڈو میں
اہمیت کی حامل ہے۔
یہاں مندر میں
ایک مجسمہ صدیوں سے زلزلوں کے دست برد سے محفوظ رہا ہے جب کہ محل کے توسیعی حصہ
میں بعد میں بننے والے دو مندر مکمل طور پر تباہ ہوگئے۔ ہندو مذہب کی شناختی علامت
کے حامل یہ دونوں مندر وسیع و عریض عمارتوں پر مشتمل تھے۔ ان کی دوبارہ تعمیر کے
لیے ان میں نصب شدہ مذہبی علامات یا Icons مثلاً بت ، لکڑی کے مخصوص ترا شیدہ ٹکڑے ،
پروہت کے برتن اور مقداس ہستیوں سے منسوب اشیا کو صحیح و سالم ملبے سے نکالنا
انتہائی مشکل تھا۔
ماہرین کے لئے
سوال یہ تھا کہ آخر کیوں کر محل کا وہ حصہ جہاں صدیوں پرانا مندر ہے اپنی جگہ پر
قائم رہا جب کہ بعد میں تعمیر ہونے والے مندر مٹی کا ڈھیر بن گئے۔۔؟ پرانے محل کی
دیواریں پلاسٹر کی گئی تھیں ، ان کے پیچھے ٹیکنالوجی کا مشاہدہ ممکن نہیں تھا۔ خوش
قسمتی سے ماہرین کو وہ راز مل گیا جو پرانے محل و مندر میں استعمال کیا گیا تھا۔
محل کا توسیعی حصہ گر چکا تھا مگر پرانا حصہ شان و شوکت سے قائم رہا جیسے نئی ےعمیر
کی گئی ہو۔
ماہرین نے محل
کی اوپری منزل کا دورہ کیا تو اینٹوں کی چنائی کے درمیان لکڑی کے لمبے لمبے ستون
افقی اور عمودی طور پر نصب نظر آئے۔ ہر چار سے دس فٹ کے بعد یا تو سادہ لکڑی ایک
ثئسھیہن کی طرح استعمال کی گئی یا پھر لکڑی پر مذہبی رسومات ، حالات و واقعات سے
متعلق تحریرں اور کندہ نقوش مذہبی ماحول پیدا کرنے میں معاون ہوتی ہیں اور زلزلہ
کے جھٹکوں سے مزاحمت بھی پیدا کرتی ہیں۔ یعنی جو بھی جھٹکا آتا وہ اینٹوں کی چار
سے دس فٹ چعڑائی سے گزر کر لکڑی میں جذب ہو جاتا۔۔۔
لکڑی میں ارتعاش
کو برداشت کرنے کی صلاحیت زیادہ ہے۔ لکڑی کے چوڑے چکور ٹکڑے چھت ، دیوار اور ان کے
مابین استعمال کیے گئے تھے۔ یہ تمام چوبی سہارے جو اپنے اوپر اینٹوں کو روکے ہوئے
تھے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے تھے مگر اس طرح نہیں تھے کہ ایک دوسرے میں پیوست ہوتے۔۔
ایک دوسرے پر کراس کی شکل میں تھے۔ لکڑی کے افقی اور عمودی ستونوں کا یہ فریم
زلزلہ کی شدت کو بآسانی جذب کر لیتا ہے۔ یہ لکڑیاں زلزلہ کی لہروں کے ارتعاش کو
محسوس تو کرتیں لیکن ایک ہی سمت میں لہروں کے ساتھ اتنا آگے نہیں کھسکتیں کہ جوڑ
کھل جائیں۔
لچک دار طرزِ
تعمیر کے مواد کی عدم دست یابی کے باوجود دور دراز پہاڑی علاقوں میں جو مکانات
زلزلہ کے اثرات سے محفوظ رہے ماہرین کو وہاں دیواروں میں پتھروں کی چنائی کے مابین
لکڑی کے یہی افقی اور عمودی تنے دکھائی دیے جو جھٹکوں کو جذب کرنے کا کام کرتے
ہیں۔
نیپالکے زلزلہ
سے تقریباً دس ہزار لوگ جاں بحق ہوئے۔ ماہرین یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ زلزلوں
کی پیشین گوئی کے لئ دوسرے طریقے تلاش کیے جائیں اور جانی اور مالی نقصان سے محفوظ
رہنے کے لئے شہری اور دیہی علاقوں میں موجودہ طرزِ تعمیر کا ازسرِ نو جائزہ لیا
جائے۔۔
کائنات میں
اجرام کے مابین مستحکم رشتہ ہے۔
”جب ہم اپنی
زمین ، چاند ، سورج ، کہکشانی نظام اور کائنات کی ساخت پر غور کرتے ہیں تو سمجھ
میں آتا ہے کہ سارا نظام ایک قاعدہ ، ضابطہ اور قانون کے تحت کام کر رہا ہے اور یہ
قانون اور ضابطہ ایسا مضبوط اور مستحکم ہے کہ کائنات میں موجود کوئی شے اس ضابطہ
اور قاعدہ سے ایک انچ کے ہزارویں حصہ میں بھی اپنا رشتہ منقطح نہیں کر سکتی۔“(
نظریہ رنگ و نور )
گزشتہ اقساط میں
تواتر سے وضاحت کی گئی ہے کہ زمین روز
بروز بڑھتی ہوئی ارضیاتی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے ۔ تغیرات کے پس پردہ مخصوص قاعدے
اور ضوابط ہیں۔۔ ایسے ضوابط جن میں تبدیلیوں کا محرک نوعِ آدم کو ٹھہرایا جائے یا
دیدہ نا دیدہ ، معلوم نا معلوم زمان و مکان کے قوانین کو۔ دونوں صورتوں میں زمین
پر رونما ہونے والے واقعات بتاتے ہیں کہ نظام میں عدم توازن پیدا ہو گیا ہے۔
عظیمی صاحب نے
نظریہ رنگ و نور میں جن حقائق کی نشان دہی فرمائی ہے ان میں ضابطہ اور قانون کی
جانب بار بار اشارہ کیا گیا ہے۔
آپ ! ”ضابطہ “ اور ”قانون“ کے مابین تعلق پر غور
کریں۔ شے کو تسلسل سے جاری و ساری رکھنے کے لئے ضوابط کے اطلاق کو یقینی بنانا
قانون ہے۔ دورِ حاضر میں محققین نے اجرامِ فلکی کے مابین توازن کے نظام کو تقریباً
اٹھارہ اوصاف سے ماپا ہے۔ مئی اور جون
۲۰۱۳ء کے شمارہ میں تفصیل ہے۔ الہامی کتابوں اور آخری آسمانی کتاب قرآن کریم کے
مطابق آدم کو بحیثیت نائب توازن کے نظام تک رسائی اور تصرف حاصل ہے۔ بلی ، گھوڑے ،
چیونٹی یا دیگر مخلوقات کے ہزار سالہ لائف اسٹائل میں کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ
انہوں نے زمینی ماحول میں تبدیلی کے لیے کوئی ٹیکنالوجی وضع کی ہو۔
خالقِ کائنات کے
عطا کردہ اختیار اور ساخت اور موصول شدہ اطلاعات کو نوعِ آدم نے بیان کرنے کے لئے
ہر دور میں ٹیکنا لوجی کا سہارا لیا۔ رہائش گائیں بنائیں۔۔۔ چاہے وہ غار ہوں ،
دراز قامت اشجار ہوں، پہاڑ کو تراش کر بنائے گئے محل ہوں یا درختوں کو کاٹ کر مکان
بنائے گئے ہوں۔ معدنیات کا سراغ لگا کر پتھر ، دھات اور شیشوں سے بلند و بالا
عمارتیں تعمیر کی گئیں۔ ٹیکنا لوجی یا صنعت و حرفت میں ترقی کے نام پر ایجادات و
اختر اعات جاری رہیں لیکن نوعِ آدم اپنے اور نظامِ فطرت کے درمیان بڑھتے خلا سے
دانستہ نا دانستہ بے خبر رہی۔ نتیجہ میں کرۂ ارض عدم استحکام کا شکار ہوتا رہا۔
محققین ارضیاتی ایکو سسٹم کو بہت اہمیت دیتے ہیں جس کے تحت ہر نوع بقیہ کائناتی
نظام سے منسلک ہے۔
2006ء سے ایکو
سسٹم کی کڑیاں ایک دوسرے سے تیزی سے جدا ہو رہی ہیں۔
آسمانی کتابوں
کے مطابق ہر تخلیق باشعور ہے اور ایکو سسٹم میں خلا سے فطری استحکام کو برقرار
رکھنے کے لئے زمین جنگلات میں وسیع پیمانہ پر پھیلنے والی آگ، متواتر زلزلوں ،
سونامی ، آتش فشاں پہاڑوں کی بڑھتی سرگرمیوں اور دیگر آفات ِ ارضی کا سہارا لے رہی
ہے۔
علمائے باطن
فرماتے ہیں کہ زمین اسکرین ہے اور پیاز
کی طرح لاشمار تہوں پر مشتمل ہے۔ ہر تہہ میں لا شمار چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہیں۔ زمین
میں کروڑوں ڈائیاں ہیں۔ سطحِ زمین سے لے کر جوف تک ڈائیوں یا سانچوں میں فارمولے
کے مطابق تخلیق رونما ہو رہی ہے۔
کرۂ ارض کی تہہ
در تہہ پہنائیوں میں اطلاعات کے تحت 20 سے 200 فٹ پر پانی نشونما پا رہا ہے۔۔ دو
سے چھ انچ گہرائی پر پٹرول و ڈیزل۔۔
انتہائی گہرائی میں معدنیات ، چٹانیں ، ہیرے
جواہرات لاوے کی مدد سے تیار ہو رہے ہیں۔ بے شمار انواع کرۂ ارض میں نشونما
پا رہی ہیں۔
پیدائش و نشونما کے قواعد وضوابط عدم توازن کا شکار ہوتے ہیں تو زمین بھی آدمی کے جسم کی طرح بیمار ہوجاتی ہے۔ کائناتی قواعد وضوابط میں تصرف کا اختیار خالق کائنات کی طرف سے مکلف مخلوقات میں انسان کو عطا کیا گیا ہے۔ پھوڑے، پھنسیاں ، ٹیومر اور دیگر آثا جسم میں صحت مند فارمولوں میں عدم توازن کی وجہ سے ہیں۔ زمین بھی ٹیومر اور پھوڑے پھنسیوں کا شکار ہو چکی ہے اور یہ سب وقفہ وقفہ سے پھٹ کر سطحِ زمین پر نمودار ہو رہے ہیں۔ سونامی کی طویل القامت لہریں ، لاوا اگلتے آتش فشاں پہاڑ ، وسیع و عریض جنگلوں میں اچانک آگ۔۔واضح طور پر سمندر ، لاوے ، برفانی و دیگر علاقوں اور ہوا وغیرہ کی حد بندیاں ٹوٹنے کی نشان دہی ہیں۔
سن 2006ء سے
قدرتی آفات کے چند واقعات درج ذیل ہیں۔ تمام واقعات کے شواہد مختلف کتابوں اور
ماہرین ارضیات و موسمیات کی ویب سائٹس سے لیے گئے ہیں۔واقعات کو بیان کرنے کا مقصد
صرف یہ ہے کہ نوعِ آدم خالقِ کائنات کی عطا کردہ رحمانی صلاحیتوں کو اپنے اندر
تلاش کرے اور ایسے اقدامات کیے جائیں جس سے کرۂ ارض کا وجود پر امن ہو جائے۔
تاریخ کواہ ہے۔۔
جب حضرت یونس ؑ نے اپنی قوم کو عذاب یا قدرتی آفات کی خبر دی تو قوم نے رویہ میں تبدیلی
کی۔ شیطنیت سے توبہ کر کے اللہ رب العالمین کے حضور عاجزی اختیار کی اور خالق
کائنات نے انہیں معاف فرمایا۔
گزشتہ چند سالوں
سے سمندری و ہوائی طوفان میں اضافہ ،زلزلے ، وسیع و عریض پیمانہ پر جنگلات میں آگ
لگنا اور دیگر قدرتی آفات کے باعث مخدوش صورتِ حال سے محققین اور عام آدمی دونوں
حیران و پریشان ہیں۔ افات کی شہادتیں اور پیشین گوئیاں نصب شدہ آلات سے دنیا کے ہر
کونے سے موصول ہو رہی ہیں۔ زیر ِ زمین تبدیلیاں اتنی تیزی سے رونما ہو رہی ہیں کہ
اندازہ لگانا مشکل ہے کہ کب کیا ہو جائے، کس مقام پر زلزلہ ، آتش فشاں یا سونامی
کا ٹائم بم پھٹ جائے۔
ہارورڈ اسکول
برائے انجینئرنگ اور اطلاقی سائنس (Seas) کے
ماہرین نے پیشین گوئی کی ہے کہ سن 2050ء تک کھلے جنگلات میں آگ لگنے کی شرح تین
گنا بڑھ جائے گی۔ ماہرین کے مطابق 1999ء سے آگ سے متاثرہ علاقوں کا رقبہ 22 لاکھ
ایکٹر سے تین گنا بڑھ کر 64 لاکھ ایکٹر ہو چکا ہے۔ مہلک اضافہ کا سبب موسمیاتی تبدیلیاں ہیں جس سے زمین کے
درجۂ حرارت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ درجۂ حرارت میں اضافہ اور جنگلات و پہاڑی علاقوں
میں آتش زدگی کے واقعا کا براہ راست تعلق ہے۔ محققین کے مطابق ریاست ہائے متحدہ
امریکہ میں آگ لگنے کی شرح سالانہ تیس ہزار سے بڑھ کر پچاس ہزار ہو گئی ہے۔
زمین باشعور ہے
اور اپنے وجود کو برقرار رکھنے کے لئے تعاملاتی تبادلہ یا Stoichiometry کے مطابق جو کر
سکتی ہے، کرے گی۔ زمین سے صرف نوعِ آدم استفادہ نہیں کرتی۔۔۔ لاکھوں کروڑوں دوسری
انواع زمین پر ہر لمحہ ظہور پذیر ہیں اور نشونما پا رہی ہیں۔باطنی علمائے کرام کے
مطابق اسکرین مخدوش ہونے سے نقوش کا مظاہرہ بھی متاثر ہوتا ہے
اگست 2014ء میں
آئس لینڈ کے موسمیاتی افسران کے مطابق ”بوردر “ (Bardarbunga) آتش فشاں پہاڑ کے نیچے زلزلوں کے کئی جھٹکے
ریکارڈ کئے گئے جو کسی بھی وقت جوالا مکھی بن سکتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اس قسم کے
آتش فشاں پہاڑ اگر متحرک ہو گئے تو لاوے کی کثیر مقدار اگلیں گے جس سے بڑے پیمانہ
پر گلیشئر اور برف پگھل کر ، ہو سکتا ہے کہ طوفانِ نوح کی شکل اختیار کریں۔ اللہ
تعالیٰ سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھیں۔
23 اگست 2014 ء
کو ”وٹنا جو کل“ نامی پہاڑی گلیشئر سے لاوے کی بڑی مقدار انتہائی دھماکے سے ظاہر
ہوئی اور آتش و راکھ کا آمیزہ ہر طرف پھیلنے سے آسمان چھپ گیا۔ اس کے بعد سے تواتر
سے زلزلے جاری ہیں۔
”بوردر بونگا“
کے قریب اس آتش فشاں پہاڑاور مسلسل زلزلوں کے جھٹکوں نے صدیوں سے خاموش گردو نواح
میں واقع آتش فشاں ” ہولوراؤں“ کو متحرک کر دیا جس آتشی لاوے کا منبع نا قابلِ
یقین رفتار سے پھٹ پڑا۔ لاوے کا اخراج چھ مہینے بعد ۲۸ فروری ۲۰۱۵ء کو بند ہوا۔
لاوے کے اخراج کی رفتار کا یہ عالم تھا کہ اگر اس کا موازنہ فٹ بال گراؤنڈ سے کیا
جائے تو ہر پانچ میں گراؤنڈ ، لاوے سے بھر جاتا۔ آخری مراحل میں 1.5 کلومیٹر لمبے شگاف سے اگلتے ہوئے لاوے نے 86 مربع کلو میٹر کے
علاقہ کو بھر دیا۔انسانی جان کے نقصان کی خبر نہیں ملی مگر سینکڑوں ایکٹر اراضی پر
کھیت ، فارم ہاؤس اور بڑی تعداد میں مویشی متاثر ہوئے۔
اپریل ۲۰۱۴ء میں
'چلی' کے ساحلی شہر اکیکی (Iquique) میں
8.2 شدت کا میگا زلزلہ آیا جس کے آثار شکل نمبر
50 میں دکھائے گئے ہیں۔ ساحلی علاقہ پر بلند و بالا پہاڑ لینڈ سلائیڈ کی شکل میں
بحرلکاہل میں جا گرے۔ طویل القامت سونامی لہر ظاہر ہوئی اور چہار سو پھیل گئی۔
محققین کے مطابق زلزلہ کا سبب ارضیاتی پلیٹوں کا مشہور آگ کے چھلے یا رنگ آف فائر
کے مقام پر آپس میں ٹکرانا تھا۔ اس مقام پر ناز کا(Nazca) ارضیاتی پلیٹ
اورجنوبی امریکن ارضیاتی پلیٹ آپس میں ملتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق
ٹکراؤ سے صرف 33 فیصد تناؤ زلزلہ کی شکل میں خارج ہوا۔ بقیہ کب ہوگا ۔۔؟ نہیں
معلوم۔ اس نوعیت کا واقعہ گزشتہ اقساط میں نیپال کے دہرے زلزلے کے ضمن میں بیان
کیا گیا ہے۔
جاپان کے شہر
ٹوہوکو (Tohoku) میں ۱۱ مارچ ۲۰۱۱ء کو 9.0 شدت کا زلزلہ
تقریباً بتیس کلو میٹر کی گہرائی میں آیا اور اندرون زمین ایک بڑے قطعہ کو دھکیل
دیا۔یہ وہی قطعات ہیں جو اندورنِ زمین لاوے کو سطحِ زمین کی جانب آنے سے روکتے
ہیں۔ ماہرین کے مطابق ، جاپان کے ساحلی علاقوں میں بحرالکاہل کے عین نیچے سے گزرنے
والے آتشی چھلہ میں مزید بیس مقامات پر بڑی شدت کے زلزلے ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ ٹوکیو
سے سو کلو میٹر کے فاصلہ پر تقریبا چار کلو میٹر بلند بالا زندہ آتش فشاں پاہڑ ”
ماؤنٹ فیوجی“ حساس مانا جا رہا ہے۔
جو آن ڈی فوکا
پلیٹ اور شمالی امریکہ کی ارضیاتی پلیٹوں کے درمیان 1287 کلو میٹر کا گہرا زیر
زمین شگاف نمودار ہوا۔ ایسے شگاف آتش فشانی سر گرمی میں لاوے کا نکاس بناتے ہیں۔
ورجینیا
انسٹیٹیوٹ آف میرین سائنسز کے پروفیسر جان بون کے مطابق مشرقی امریکی ساحل پر
سمندری سطح 0.3 ملی میٹر سالانہ کی شرح سے بڑھ رہی ہے۔
امریکی محکمہ برائے ارضیاتی سروے (USGS) کے مطابق مشرقی ساحل پر سطح سمندر کے بلند
ہونے کا رجحان بقیہ ممالک کے مقابلہ میں
چار گنا زیادہ ہے۔ امریکی حکومت کی جانب سے ایسے آلات بنانے کے لئے تجرباتی گرانٹ
فراہم کی گئی ہے جو کم از کم ایک منٹ پہلے متوقع زلزلہ کی وارننگ جاری کر سکیں۔ تا
حال ایسا سسٹم صرف دس سیکنڈ پہلے زلزلہ کی پیشین گوئی کر سکتا ہے۔
آپ ! ہم
لفظ آفات جن معنوں میں استعمال کرتے ہیں حقیقت اس کے برعکس ہے۔ 'آفات' کا تجزیہ
ہماری توجہ نظامِ قدرت میں ضابطہ اور قانون کی طرف مبذول کرواتا ہے۔ نظامِ قدرت
متوازن کیمیائی مساوات کی طرح اپنی Stoichiometry غیبی نظام کے تحت برقرار رکھے ہوئے ہے۔
تفصیل ظاہری حواسِ خمسہ سے باہر ہے مگر سمجھنا آسان ہے کہ کسی بھی نوع کے لیے آفات
یا نا خوش گوار واقعہ اس صورت میں ہوتا ہے جب زمین کی Stoichiometry میں تغیر واقع ہوتا ہے یا بالفاظِ دیگر
سائنسی زبان میں ایکو سسٹم کی کڑیاں جدا ہوتی ہیں۔۔ ان میں خلا پیدا ہو جاتا ہے۔
ردِ عمل کے طور پر نہ صرف ارضیاتی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں بلکہ آسمانی اجرام بھی
اس توازن کو برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس لئے کہ باشعور کرۂ ارض
اپنی کوکھ کے بگاڑ ، ارضیاتی تبسدیلیوں اور ایکو سسٹم میں پیدا ہونے والے ہر خلا
سے نجات کے لئے کوشاں ہے۔ زمین فطری اسٹھکام کو برقرار رکھنے کے لیے جنگلات میں
وسیع پیمانہ پر پھیلنے والی آگ ، متواتر
زلزلوں ، سونامی ، آتش فشاں پہاڑوں کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں اور دیگر آفاتِ ارضی و
سماوی کا سہارا لے رہی ہے۔