Topics

مفرد اور مرکب لہروں کا نظام

مخلوق کی بنیاد مفرد لہر ہے۔ مفرد سے مرکب سے مرکب لہر بنتی ہے۔ Spiritual Scientists کے مطابق جسمانی وجود کے اوپر ایک اور جسم ہے جسے ہیولیٰ کہتے ہیں۔ شکل نمبر 34 میں کبوتر کے مادی وجود کی نشاندہی کی گئی ہے۔ بصارت میں کام کرنے والی آنکھیں دو اور دو چار ہیں۔ مادی آنکھ باہر کے عکس کو اندر اسکرین پر دیکھتی ہے اور آدمی سمجھتا ہے کہ میں باہر دیکھ رہا ہوں۔ جب کہ ایسا نہیں ہے۔ سونے کی حالت میں مادی آنکھ نہیں دیکھتی لیکن اندرونی آنکھیں جو مادی وجود سے الگ ہیں ، دیکھتی ہیں۔ روحانی آنکھ جسم میں تمام خدوخال ہاتھ ، پیر ، آنکھ ، ناک ، دماغ ، اندرونی اعضا دل گردے وغیرہ نہ صرف دیکھتی ہے بلکہ اندر کی روشنیوں کے ٹھوس پن کو بھی محسوس کرتی ہے۔

زمین مفرد اور مرکب لہروں سے بنی ہے۔ مفرد لہریں غالب ہوتی ہیں تو کشش ثقل لہروں کے غلبہ کی مناسبت سے کم یا اس کی نفی ہو جاتی ہے اور جب مفرد لہر کے ساتھ ایک اور لہر ملتی ہے تو کشش ثقل کا غلبہ ہو جاتا ہے ۔ یہ مرکب لہروں کا عمل ہے۔ شکل نمبر 34 کے مترادف تخلیق کا قانون ہمیں بتاتا ہے پہلے روشنیوں سے بنا ہوا جسم تخلیق ہوتا ہے پھر مادی وجود کی تخلیق عمل میں آتی ہے لیکن دونوں میں ٹھوس پن موجود ہے۔ ہم مفرد اور مرکب لہروں کی وضاحت کر چکے ہیں۔ مفرد لہر ایسی حرکات کا مجموعہ ہے جو ایک سمت سے دوسری سمت میں جاری و ساری ہے۔ مرکب لہروں پر نقش و نگار یعنی ہاتھ، منہ ، پیر اور دوسرے اعضا نقش ہوں تو یہ مادی دنیا ہے۔

عظیمی صاحب فتح مکہ کے بعد خانہ کعبہ میں رکھے ہوئے 360 بتوں کو توڑنے کی توجیہہ بیان کرتے ہیں:                 

” محمد رسول اللہ ﷺ کا اعجاز ہے کہ انہیں مرکب لہروں مفرد لہروں ، نورانی لہروں اور ماورائے نور لہروں کا علم بدرجۂ اتم حاصل ہے۔ سیدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام تخلیق کائنات کے راز داں ہیں۔ اسرار کن فیکون کے

فارمولوں کے ماہر ہیں جب آپ ﷺ نے ” حق آگیا اور باطل مٹ گیا“ پڑھ کر چھڑی سے بتوں کی طرف اشارہ کیا تو مفرد اور مرکب دونوں لہروں کا نظام ٹوٹ گیا ۔ نتیجہ میں بت ریزہ ریزہ ہو گئے۔“


خلاصہ یہ ہے کہ مادی آنکھ جو دیکھ رہی ہے وہ مختلف عالمین سے موصول شدہ روشنیوں کا حاصل ہے۔ باطنی علمائے کرام ان کو مرکب لہروں (کثیف تر) ، مفرد لہروں ، نورانی لہروں اور ماورائے نور لہروں (لطیف تر) کا نام دیتے ہیں۔ گہرے خاموش سمندر ، بلند و بالا پہاڑ ، بیابان و صحرا ، نقش و نگار سے سجا مور ، تفکر میں ڈوبے کبوتر ، کھلتا مہکتا گلاب یا پھر اسفل سافلین میں گرا ہوا آدمی ۔۔۔ رنگوں کی آمیزش ہیں۔ اسے درج بالا مساوات میں ظاہر کیا گیا ہے۔ پانی اور مٹی کی کیمیائی ترکیب کی مساوات  آپ  کے لیے دلچسپ ہوگی ۔ ان شاء اللہ۔

شکل نمبر 35 میں دیکھئے سائنسی علوم کے مطابق پانی میں دو گیسیں شامل ہیں۔ دو حصہ ہائیڈروجن اور ایک حصہ آکسیجن ہے۔ نظریہ کو مان لیا جائے تو یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ بقیہ جینیاتی سبزیوں ، انڈوں ، گوشت وغیرہ کی طرح پانی کیوں نہیں ہے۔۔؟پانی نکالنے کے لیے 100 فٹ سے 500 فٹ سے زیادہ گہرائی میں بورنگ کیوں کی جاتی ہے۔۔؟ پانی کا فارمولا اگر آکسیجن اور ہائیڈ روجن ہے تو پانی کی قلت کیوں ہے ۔۔۔؟ باطنی علمائے کرام کے مطابق کائنات

رنگ اور نور کا امتزاج ہے۔ ہمیں پانی منفرد حیثیت میں نظر آتا ہے ۔ بظاہر رائج طرزوں میں پانی ایسا سیال مائع ہے کہ جس شے میں جاتا ہے۔ اس کے رنگ میں رنگ جاتا ہے۔

نظریہ رنگ و نور کے ماہرین پانی کو ایسا مادہ قرار دیتے ہیں جس کے باطن میں لا شمار سانچے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہر شے میں پانی کی مقدار کثرت سے ملتی ہے۔ درحقیقت پانی ہی خدوخال میں تناسب برقرار رکھتا ہے۔ مشاہدہ ان اجسام میں کیا جا سکتا ہے جو پانی کی کمی (Dehydration)  کے عمل سے گزرتے ہیں، مثلاً فراعنہ مصر کی دریافت شدہ ممیاں ( شکل نمبر 18) ، سوکھ جانے والے درخت ، گرمی سے متاثر لوگ ، مردہ آدمی اور جانوروں کے ڈھانچے وغیرہ۔


آپ  کی دلچسپی کے لیے مخلوقات میں پانی سے ترتیب پانے والے عمل کی وضاحت کی جارہی ہے۔ باطنی علوم کے ماہرین بتاتے ہیں کہ مخلوق پانی اور مٹی کے باہم تعامل سے بقا کے لئے مصلاحہ اکٹھا کرتی ہے۔ جیسے پودے پانی کی مدد سے سانچے کے مطابق مٹی سے رنگ چھان لیتے ہیں اور مقداروں کا تعین نور سے موصول شدہ اطلاعات سے اخذ کرتے ہیں۔

مٹی ایسا محلول ہے جس کی کیمیائی مساوات یہ ہے۔

مٹی      =       پانی      +       لامحدود رنگ

پودوں کی طرح دیگر جاندار جب کھانا کھاتے ہیں تو خوراک ( یعنی مٹی ۔۔۔ سیب ، کیلا ، پلک ، گوشت وغیرہ) اندر موجود سیال کی مدد سے رنگوں میں تحلیل ہوتی ہے اور مطلوبہ رنگ جزوِبدن یعنی جسم کا حصہ بنتا ہے۔

یہ سوال ہو سکتا ہے کہ تخلیق کا بنیادی مصالحہ اور آرکیٹکچر ایک ہے۔۔۔ مظاہر میں فرق کی وجہ مقداریں ، تو آخر کس وصف کی بنا پر آدمی نہیں۔۔۔ انسان کو فضیلت حاصل ہے ۔۔؟ سوال میں سوال کا اضافہ کرتے ہیں۔۔ چوں کہ تخلیق کی بنیاد مختلف اقسام کی لہریں ہیں۔ اقسام ظاہر کرتی ہیں کہ ہر مخلوق اپنی حد میں دوسری مخلوق سے الگ ہے۔ یہ عمل شناخت کا سبب ہے۔ اگر کوئی حد سے تجاوز کرے گا تو دوسری مخلوق کی شناخت میں فرق آجائے گا ۔ زمان و مکان کے اسی قانون کے تحت ہر دس ہزار سال بعد نیا سمندر اور نئی زمین پیدا ہوتی ہے۔

مختصراً یہ کہ حیات و ممات ان دیکھی لہروں پر قائم ہے لہروں کی روانی میں تعطل سے اسکرین پر نقش و نگار کا مظاہرہ بند ہو جاتا ہے۔ کبوتر کی مثال میں واضح کیا گیا ہے کہ مرکب و مفرد لہریں مادی آنکھ سے اوجھل رہتی ہیں۔۔۔ لہروں کی لطافت مادی نظر کی حدود سے باہر ہے درحقیقت بہت سی اطلاعات ایسی ہیں جو پانچ حواس سے مخفی ہیں۔ آدمی کے اندرونی جسمانی نظام پر غور کریں تو آج کی سائنس کے مطابق جو کچھ بھی دریافت کیا گیا ، اس سے واضح ہے کہ پھیپڑوں کا سکڑنا ، گردے کا عمل تقطیر(Distillation) ، دل کی خون کو پمپ کرنے کی صلاحیت کہ خون بڑی نالیوں سے لے کر باریکترین نالیوں میں توازن کے ساتھ بہتا رہتا ہے۔۔ معدہ کا عمل انہظام ، اس میں کارفرمائی کیمیائی مادوں کا جگر اور دیگر عضلات سے اخراج ، کھوپڑی سے لے کر پاؤں کے ناخن تک الیکٹریکل اور کیمیکل سگنل کا بہاؤ۔۔۔ جس کی ترسیل میں ہڈیاں اور نا قابل دید جسمانی تار وغیرہ استعمال ہوتے ہیں۔


محتاط اندازہ کے مطابق اگر اعضا کے مشابہہ میکنیکل نظام بنایا جائے تو حرکت کے دوران ناقابل ِ برداشت حد تک بلند آواز پیدا ہوگی۔ ایسے سگنل کی ترسیل کے دو طریقے ہیں۔ ایک حالت میں سگنل ، بذریعہ مادی تار یا عضلاتی تار جو جال کی شکل میں پھیلے ہوئے ہوتے ہیں ، جب کہ دوسری حالت میں سگنل کی ترسیل عضلاتی جال کی محتاج نہیں۔ ٹیکنا لوجی یا انجینیئرنگ کی اصطلاح میں اسے وائرلیس ٹرانمشن کہتے ہیں۔ اسی طرح بیرونی دنیا میں ہمارا بصری نظام جو کہ آنکھ ، دیلے ، عدسے ، اس میں رنگ بھرنے والے راڈ اور کونز پر مبنی عصبی نظام پر مشتمل ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ لاتعداد جراثیم اس نظام سے کلیتاً مخفی رہتے ہیں۔  آپ  یہ سوچنے پر حق بجانب ہیں کہ وجہ جسمانی نظام کی محدود فعالیت ہے۔ درج بالا مثالوں سے وضاحت کر رہے ہیں کہ محدودیت میں پانچ حواس کی فعالی قابلیت بھی مشتمل ہے۔

آپ سے عرض ہے کہ چشم بصارت اور متصل بصری نظام اور انسانی قوت شامہ و سامعہ کی تشریح سمجھنے کے لیے ”ماہنامہ قلندر شعور“ کے گزشتہ شماروں سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔ موجودہ سائنسی نظریات کے مطابق ہماری آنکھ کی بصری صلاحیت 300 نینو میٹر سے 700 نینو میٹر کے مابین ہے۔ یعنی اگر ایک میٹر کے ایک کروڑ حصے کئے جائیں تو مادی آنکھ ایسے تین حصوں سے کم لمبائی ( ویولینتھ) کی روشنی نہیں دیکھ سکتی۔ اس بات کو اس طرح بھی سمجھا جا سکتا ہے کہ روشنی کی جو شعاعیں براہ راست یا بیرونی مظاہرات سے ٹکرا کر آنکھ میں داخل ہوتی ہیں اگر ان کی مقدار 300 نینو میٹر سے 700 نینو میٹر ویو لینتھ کے مابین نہ ہو تو مادی آنکھ ایسی روشنی کو دیکھنے سے قاصر ہے اور محسوس بھی نہیں کرتی ۔

شکل نمبر 36B میں ایک شیڈدار پٹی کے ذریعے ہمارے اطراف میں معلوم روشنی کی مختلف اقسام دکھائی گئی ہیں ۔ مرئی ( نظر آنے والی) شعاعوں کے علاوہ ان میں ریڈیو، مائیکرو ویو ، زیریں سرخ ، بالائے بنفشی ، X-Ray شعاعیں اور انتہائی سریع الاثر گیما شعاعیں شامل ہیں۔ تصویر میں ان کی مختلف لمبائیاں ، متعلقہ منبع اور مرئی وغیر مرئی نوعیت دکھائی گئی ہے۔ سائنسی زبان میں اس طرح کی اشکال رشنی کا طیف کہلاتی ہیں۔ شکل نمبر 36B  میں مائیکرو ویو شعاعیں دکھائی گئی ہیں جن کا گھروں میں بکثرت استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً کھانے پینے کی اشیاء مائیکرو ویو اوون میں گرم کی جاتی ہیں۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جس پلیٹ میں کھانا گرم کیا جاتا ہے مائیکروویو میں وہ گھومتی ہوئی دکھائی دیتی ہے مگر آپ کو وہ لہریں نظر نہیں آتیں جو دراصل غذا کو گرم کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

اسی طرح کرمنالوجی کے ماہرین حادثہ کی جگہ سے شواہد اکٹھا کرنے کے لئے بظاہر نادیدہ فنگر پرنٹ یا دیگر نشانات کو تلاش کرتے ہیں۔۔۔ نشانات کو واضح کرنے کے لئے بالائے بنفشی شعاعیں استعمال کی جاتی ہیں۔ بالائے بنفشی اسکیننگ کے طریقۂ کار کے مطابق مطلوبہ نشانات دکھائی دینے لگتے ہیں مگر ۔۔۔ بقیہ تفصیلات حذف ہو جاتی ہیں۔ مثلاً شکل نمبر 37C میں گلدان پر چھپے انگلیوں کے نشانات  کے دائرے  تو نظر آرہے ہیں مگر گلدان کس میٹریل کا ہے ۔۔۔؟ مثلاً شیشہ ، لوہا ، لکڑی ، مٹی وغیرہ کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ شکل نمبر 37C کے مطابق بالائے بنفشی شعاعوں کے لئے انگلیوں کے نشانات تو موجود ہیں مگر بقیہ اوصاف کو دیکھنے سے نظر قاصر ہے۔۔ وہ شواہد یا خصوصیات بالائے بنفشی شعاعوں کے لیے وجود ہی نہیں رکھتی جب کہ جائے واردات پر نشانات کے علاوہ اور بھی بہت کچھ موجود ہوتا ہے۔ یہی وہ کمی ہے جو کسی بھی طرز کے مادی آلات میں موجود ہے۔ وہ ہمیشہ مشاہدہ کی ایک ہی طرز


سے متعلق اطلاعات دیتے ہیں ، جب کہ بقیہ طرز کی اطلاعات اُن کے لئے وجود نہیں رکھتیں۔

اطلاعات کے حصول کی یہ طرز ناقص ہیں بلکہ آلات کی ماہیئت سے بھی متاثر ہو جاتی ہیں۔ مثلاً مذکورہ بالا مثال میں بالائے بنفشی شعاعوں کا کیمرہ نشانات کو ” اپنی شعاعوں “ میں دیکھ کر انہیں تبدیل کر کے مادی مرئی شعاعوں میں بدل دیتا ہے۔ ایسا ہی ایک کیمرہ شکل نمبر 37B  دکھایا گیا ہے۔ جس طرح لال شیشے والی عینک سے سب کچھ لال دکھائی دیتا ہے اسی طرح آنکھ جو دیکھتی ہے وہ بالائے بنفشی شعاعوں کے کیمرے کے دیکھنے کو دیکھتی ہے کیوں کہ حاصل ہونے والی شبیہہ یا مشاہدہ میں بالائے بنفشی عدسہ کے نظام کے اثرات بھی موجود ہوتے ہیں۔ شکل نمبر 37 اسی عمل کی تشریح ہے

اس کی وضاحت یو ں بھی کی جا سکتی ہے جیسے کوئی شخص ہرے بھرے درخت کو لال شیشوں والی عینک سے دیکھے تو درخت کے پتے ، تنا ، پھول دیگر تفصیلات سب لال دکھائی دیں گے۔ اسی طرح جب ہم مادی آنکد سے مظاہرات کو دیکھتے ہیں تو صرف وہ دیکھتے ہیں جس کا وسیلہ مادی آنکھ بنتی ہے۔ مذکورہ بالا مثال کے مطابق بالائے بنفشی کیمرہ ہو یا زیریں سرخ شعاعی کیمرہ۔۔ دونوں دیکھتے ہیں۔۔۔ مادی آنکھ ان کے دیکھنے کو دیکھتی ہے۔ یہی وجہ کہ ایسے بصری آلات سے حاصل ہونے والی اطلاعات ناقص ہوتی ہیں ۔ ہم یہ نہیں کہہ رہے کہ اطلاعات غلط ہوتی ہیں بلکہ توجہ دلانے کا مقصد یہ ہے کہ اطلاعات وصول کرنے کی طرزیں نیوٹرل نہیں شعاعیں جو دکھا رہی ہیں۔۔ وہ دیکھ رہے ہیں یعنی براہِ راست دیکھنا اس سے بالکل الگ ہے جو کسی میدیم کے ذریعہ دیکھا جائے۔