Topics

کائنات مِن نظام شمسی کا عمل دخل

 

عالمی ادارہ فلکیات (IAU) کے مطابق کائنات میں موجود کوئی بھی شمسی نظام ایک سورج اور اس کے ارد گرد گھومنے والے اجرام فلکی پر مشتمل ہوتا ہے۔ہم اپنی زمین پر رہتے ہوئے جس شمسی نظام سے واقف ہیں اس نظام میں ایک سورج اور اس کے ارد گرد سیارے ، بہت سے چاند ، سیارچے ، کو میٹ اور دوسرے چھوٹے اجرام فلکی شامل ہیں۔ اس تمام نظام میں سورج ی حیثیت ایک چمک دار یا روشنی مہیا کرنے والے ستارے کی سی ہے جب کہ باقی تمام اجسام ایک رعیت کی حیثیت سے اپنی بقاکے لئے سورج سے مختلف صورتوں میں وسائل حاصل کرتے ہیں۔ جن میں اجسام کے خدوخال ، ان کی کشش اور گردش کے علواہ ان اجرام پر موجود مرئی او غیر مرئی روشنیاں شامل ہیں۔ یہ تمام نظام ایک بڑے کائناتی نظام میں انڈے کی شکل میں پھیلا ہوا ہے۔موجودہ سائنسی مشاہدے اور تجربے سے حاصل ہونے والے علم کی بنیاد پر ہم اپنے نظام شمسی کے علاوہ اور نظام شمسی سے بھی واقف ہیں۔جسے KOI-500 کہتے ہیں اس مضمون میں ہم صرف اپنے نظامِ شمسی کی ساخت اور اس کے مربوط نظام کا تجزیہ  کریں گے۔ KOI-500  کا تذکرہ ہمارے موضوع کے دائرے کار سے باہر ہے۔

ہمارے نظام شمسی میں مادے کی 99.9 فیصد مقدار سورج میں مرتکز ہے۔ ارتکاز مادہ کی اتنی بڑی مقدار ہونے کی وجہ سے سورج اپنے اندر بے انتہا تجاذبی کشش رکھتا ہے جو اسے اپنی رغبت یعنی سیاروں اور چاند وغیرہ پر مشتمل نظام کو ایک بیضوی شکل میں رکھنے میں مدد دیتی ہے۔


سورج سے مختلف فاصلے پر کل 13 سیارے اور سیارچے موجو ہیں۔ جس میں 8 سیارے عطارد ، زہرہ، زمین ، مریخ ، مشتری ، زحل ، یورینس اور نیپچون شامل ہیں۔ جیسا کہ تصویر میں دکھایا گیا ہے۔ اول الذکر چار سیاروں کی ساخت ٹھوس چٹانوں اور دھاتوں پر مشتمل ہے جب کہ مؤخر الذکر اپنی ماہیت میں عظیم الجثہ گیس کے گولے کی مانند ہیں۔ یہ گیس ان کے ٹھوس وجود کو بادلوں کی شکل میں گھیرے ہوئے ہے جو کہ اس سیاے کی کمیت میں اضافہ کاسبب بھی بنتی ہے۔ ہمارے شمسی نظام میں ان اجرام کے علاوہ کچھ بیلٹ بھی موجود ہیں جن میں سے ایک مریخ اور مشتری کے درمیان میں ہے اور دوسری نیپچون کے پاس ہے۔ ان میں بونے سیارے گردش کر رہے ہیں ، جن کی تعداد 5 بتائی جاتی ہے۔ ان کے نام سیریس ، پلوٹو ، حاؤمی ، میک میک اور ایرس ہیں۔ ان کے علاوہ ان گنت ذرات بھی موجود ہیں جو کہ ہمارے نظام شمسی میں مختلف سیاروں کے مابین پھیلے ہوئے ہیں۔ ان ذرّات کی اکثریت اُن سیاروں کے گرد موجود ہے جو زیادہ تر گیس سے بنے ہیں۔

متذکرہ بالا چھ سیاروں اور تین بونے سیاروں کے ارد گرد ایک یا ایک سے زائد چاند بھی گردش کررہے ہیں۔ جن پر کم و بیش وہی عناصر پائے گئے ہیں جو کہ بقیہ دسرے سیاروں میں مشاہدہ کئے گئے ہیں۔

موجودہ کائناتی نظام کی پیدائش کے 3D کمپیوٹرائزڈ نظریاتی ماڈل کے ،مطابق ہمارے نظام شمسی کی پیدائش تقریباً 4 ارب 60 کروڑ سال پہلے پذیر ہوئی۔ مادے کی زیادہ تر مقدار تمام تجاذبی کشش کی وجہ سے سمٹ کر ہمارے سورج کی شکل میں ڈھل گئی جب کہ باقی مادہ چھوٹی چھوٹی ڈسک نما پلیٹوں کی شکل میں اس کے ارد گرد پھیل گیا۔ یہی وہ بنیادی پلیٹیں ہیں جن پر فضا میں بکھرے ذرات آہستہ آہستہ چپکتےگئے اور مسلسل ارتقائی عمل سے گزر کر آج کے سیارے ، بونے سیارے اور چاند کی تشکیل ہو گئی۔ عالمی یونین برائے فلکیات (IAU)  کے جدید ماڈل کے مطابق سیارہ ایک ایسا فلکی جسم ہوتا ہے جو قابلِ تذکرہ کمیت کے ساتھ ایک واضح بیضوی راستے پر سورج کے گرد گھوم رہا ہو۔ اس کے علاوہ اس کے راستے میں یا متوازی طور پر کوئی اور فلکی جسم اس طرح سے نہ گھوم رہا ہو کہ اس سیارے کی تجازبی کشش کا اُن پر اثر نہ ہو۔ ایسے متوازی طور پر متحرک اجرام فلکی متذکرہ بالا دونوں بیلٹ میں پائے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بیسویں صدی سے پہلے سیاروں کی تعداد 9 بتائی جاتی تھی مگر IAU کے نئے سٹینڈرڈ کے مطابق سیاروں کا نیا گروپ بنا دیا گیا جنہیں ”بونے  سیارے“ کہا گیا۔ ان کی تعداد ابھی تک 5 دریافت ہوئی ہے جو اگرچہ کمیت میں انتہائی کم ہیں مگر واضح بیضوی راستہ پر سورج کے گرد محو گردش ہیں۔

انسانی آنکھ سے واضح طور پر دکھائی دینے والے سیاروں ، چاند اور سورج کے مشاہدے سے نظام شمسی پر غور و فکر کا سفر شروع ہوا۔ عدسہ سے لے کر پیچیدہ دور بینی آلات تیار کئے گئے۔ حتیٰ کہ دور دراز ستاروں اور سیاروں سے آنے والی مرئی اور غیر مرئی غرض کہ ہر قسم کی روشنی کا مطالعہ بھی کیا جانے لگا۔ روشنی کی شعاؤں کا تجزیہ طیف پیمائی کے آلات سے کیا گیا۔ ماہرین فلکیات نے خلاء میں سفر کی کاوشیں فروغ کیں جس نے مزید راستے کھولے۔ بتایا جاتا  ہے کہ انسان نے چاند پر چہل قدمی کی اور وہاں کی مٹی کے نمونے اکٹھے کئے۔ امریکی خلائی ادارہ NASA اور یورپی خلائی ادراہ ESA نے راکٹ کی مانند بڑے بڑے خود کار اور مصنوعی ذہانت سے آراستہ آلات کو زہرہ اور مریخ پر اتارا تاکہ وہ وہاں کی مٹی کے مختلف نمونے حاصل کر کے ان کا تجزیہ کر سکیں اور ان کے متعلق زیادہ سے زیادہ انفارمیشن زمین پر بھیج سکیں۔ میرینر ، پائی نیر ، ونیرہ ، وائی کنگ اور وائیجرخلائی مشن سے عطارد سے نیپچون تک مختلف فلکی اجسام کا گہرا مطالعہ کیا گیا۔ ہر مطالعہ کیا گیا۔ ہر مطالعے سے حاصل ہونے والے ڈیٹا پر ماہرین نے اپنے اپنے نظریات پیش کئے اس خلائی ڈیٹا سے شمسی نظام کا ایک عمودی ماڈل بنانے کی سعی شروع ہوگئی یعنی ایسا ماڈل جس کی تعریف پر تمام شمسی نظام پورے اتر سکیں پھر اس ماڈل کو سٹنڈرڈ کے مطابق پیش کر دیا گیا اس ماڈل کے مطابق کسی بھی شمسی نظام میں تقریباً 18 خصوصیات ایک معین مقدار میں ہونی چاہیں۔ IAU  کے کمپیوٹرائزڈ تمثیل کے مطابق ان مقداروں کی موجودگی اس شمسی نظام کے استحکام اور بقا کا باعث بنتی ہیں اور اس کو پورے کائناتی نظام میں مخصوص توازن کے ساتھ فعال رکھتی ہیں مقداروں میں ردو بدل مقررہ شمسی نظام میں تخریب کا سبب بنتی ہیں اور ا س سے متصل نظاموں میں بھی عدم استحکام پیدا کرتی ہیں۔

یہ اٹھارہ اوصاف مندرجہ ذیل ہیں۔

۱۔       اوسط مداری فاصلہ ۔ ( سورج سے سیارے کا اوسطً مدار کتنے فاصلے پر ہوتا ہے)

۲۔       اپنے سورج سے نزدیک اور دور ترین فاصلہ ۔(سیارہ سورج کے گرد گردش کے دوران زیادہ سے زیادہ اور کم سے کم کتنے فاصلے پر ہوتا ہے)

۳۔      سیارے کے کرہ کارداس ۔ ( سیارے کا اپنے مرکز سے بیرونی سطح کے مابین فاصلہ)

۴۔      کرہ کا محیط ۔ ( سیارے کی گولائی کیوں کہ سیارے مکمل طور پر گول نہیں ہیں)

۵۔       کرہ کا حجم ۔ (سیارے کا حجم)

۶۔       کرہ کی کمیت  (سیارے میں مادہ کی مقدار)

۷۔      کرہ کثافت ۔ ( سیارے میں مادے کی کثافت جو کہ ٹھوس اور چھوٹا سائز ہونے کی صورت میں زیادہ ہوتی ہے)

۸۔      کرہ کا سطحی رقبہ۔  (کرہ کی کتنی سطح نمایاں ہے)

۹۔       کرہ کی قوت ثقل۔ ( کرہ کتنی مقدار سے اشیاء کو اپنی طرف کشش کرتا ہے)

۱۰۔      کرہ سے فراری رفتار ۔  (وہ رفتار جس سے کرہ کی حدود سے اس طرح باہر نکلیں کہ اس کی کشش محسوس نہ ہو)

۱۱۔      کرہ کی اپنی رفتار۔

۱۲۔      کرہ کا مداروی وقت ۔  ( کرہ اپنے مدار میں کتنا وقت لگاتا ہے؟ جیسا کہ زمین 365.4 دن لگاتی ہے)

۱۳۔     کرہ کی مداروی رفتار۔ ( کرہ اپنے مدار میں کس رفتار سے آگے بڑھ رہا ہے)

۱۴۔     کرہ کا محوری جھکاؤ ۔  ( کرہ اپنے مدار میں اپنے مرکز کے گرد بھی گھوم رہا ہے اس گھماؤ میں لٹو کی طرح اپنے محور سے ٹیڑھا پن یا زاویہ کتنا ہے؟)

۱۵۔      کرہ کا طولانی جھکاؤ۔  ( کرہ کا محوری جھکاؤ کی طرح کرہ کا سورج کے گرد محور بھی ترچھے زاویہ کی مانند ہوتا ہے)

۱۶۔      کرہ کی مداری حدود ۔ (کرہ کے مدار کا پھیلاؤ کتنا ہے اس سے مدار کی شکل کا تعین ہوتا۔ جیسے بیضوی یا دائرہ وغیرہ)

۱۷۔     کرہ کا سطحی درجہ حرارت ۔  (کرہ کے اندر اور باہر عناصر کتنی مقدار سے مرتعش ہیں)

۱۸۔     کرہ کی فضا میں موجود تمام عناصر ۔ ( کرہ کی ساخت میں کون کون سے مادی اجزا ء مرئی یا غیر مرئی ٹھوس ، مائع یا گیس کی شکل میں موجود ہیں)

مندرجہ بالا خصوصیات سائنس دانوں نے زمین سے خلا میں بھیجی جانے والی ایک خلائی وہیکل ” وائیجر“

کےذریعے حاصل کیں اس Data کا مزید تجزیہ طیف پیما کے ذریعے کیا گیا۔ اس ڈیٹا کے دو حصے ہیں ایک حصے کی مدد سے مختلف  سیاروں کی تجاذبی کشش ، درجہ حرارت ، فضا میں پائے جانے والے عناصر ، سیاروں کے مابین موسمی اور طبعی حالات کا موازنہ کیا گیا جب کہ حرکات اور کشش سے متعلق Data کے ذریعے پورے شمسی نظام کے مابین مربوط اور مستحکم محوری گردش کا نقشہ تیار کیا گیا۔ طیف پیمائی عام بصری آلات کے برعکس فلکی اجسام کے ظاہری خدو خال کے علاوہ ان کے پوشیدہ اوصاف بھی دیکھتی ہے یہ اوصاف ان اجرام سے خارج ہونے والی حراری شعاعوں کی ماہیت سے اخذ کئے جاتے ہیں۔ یہ حراری شعاعیں مختلف فریکوئنسی اور درجہ حرارت کی حامل ہوتی ہیں ان کے اوصاف ہی ان حراری شعاعوں کی لطافت کو ظاہر کرتے ہیں جن سے سیارہ یا ستارہ کے ظاہری جسم کے پس پردہ کام کرنے والے عوامل اور ان کے باہمی اثرات کا پتہ چلتا ہے کسی بھی سیارہ یا ستارہ میں رونما ہونے والی تبدیلی بھی حراری شعاعوں کے طیف میں نمایاں ہو جاتی ہے اگر دو سیاروں میں یکساں تبدیلی نظر آرہی ہو تو محرکات بھی کم و بیش ایک جیسے ہی مانے جاتے

ہیں۔

حراری شعاعوں کا طیف زہرہ زمین اور مریخ کے مابین واضح مماثلت رکھتا ہے۔ زہرہ اور زمین اگرچہ سائز میں برابر ہیں اور مریخ نسبتاً چھوٹا دکھائی دیتا ہے مگر زمین اور مریخ قریب قریب ایک ہی رفتار سے گردش کر رہے ہیں جب کہ زہرہ کی رفتار مقبلتاً آہستہ ہے ۔ زہرہ اور مریخ کی فضا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بکثرت موجود ہے جب کہ زمین کی فضا میں زیادہ تر نائٹرجن ، آکسیجن اور کچھ کاربن ڈائی آکسائیڈ موجود ہے۔ اتنی مماثلت کے باوجود یہ تینوں سیارے سورج سے فاصلے ، فضائی دباؤ اور سطحی درجہ حرارت میں ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہیں جس کی وجہ  ان کی فضا میں موجود عناصر کی مقداروں میں فرق اور زہرہ کی رفتار بتائی جاتی ہے۔

ماہرین فلکیات کے مطابق ہمارا نظام شمسی 4 ارب 60 کروڑ سال پرانا ہے اس میں ایک سورج کے گرد جس میں 8 بڑے سیارے اور 100 سے زائد چاند محو گردش چھوٹے بڑے اجسام کو یا تو عام انسانی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے یا پھر ان کی موجودگی ان سے نکلنے والی غیر مرئی شعاعوں کی طیف پیمائی ریکارڈنگ کے ذریعے محسوس کی گئی ہے۔ تمام سیارے اور چھوٹے اجسام سورج کے گرد بیضوی شکل میں گردش کر رہے ہیں ۔ یہ پورا نظام ایک بڑے کہکشانی نظام کا حصہ ہے جس کی جھلک تاریک اور صاف راتوں ہم آسمان پر ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلی دودھیا چوڑی پٹی میں دیکھ سکتے ہیں جس میں چھوٹے بڑے بے شمار ستارے جھلملاتے دکھائی دیتے ہیں اس ہی کو ملکی وے (Milky Way) کہتے ہیں۔ اندازہ لگایا گیا ہے اس ملکی وے (Milky Way) میں ہمارے سورج کی طرح مزید دو کھرب سورج اور بھی موجود ہیں۔

کہکشانی نظاموں کے مابین بے پناہ فاصلوں کو اگر روائتی پیمائش مثلاً کلو میٹر یا میل میں ناپا جائے تو شمار اتنا بڑھ جاتا ہے جیسے 10 کے ساتھ کئی سو صفر کا اضافہ کر دیا جائے۔ ظاہر ہے اتنے بڑے نمبر تحریر میں نہیں لائے جا سکتے۔ اس وجہ سے ماہرین اعداد و شمار نے مختلف پیمائشی شمار وضع کئے ہیں مثلاً فلکیاتی یونٹ اور نوری سال وغیرہ۔ سورج سے زمین کا فاصلہ ایک فلکیاتی یونٹ (AU)  مانا جاتا ہے اس لحاظ سے سورج سے زمین کا فاصلہ 1 AU ہے جب کہ مشتری کا فاصلہ 5 AU اور آخری سیارہ نیپچون 30 AU کی مسافت پر ہے جب کہ ہیل ٹیلی اسکوپ سے نظر آنے والے آخری بو نے سیارے ” ایرس“ کا فاصل 67 AU ہے اگر ہم فزکس کے قوانین حرکت  کی مدد سے یہاں تک پہنچنے والی روشنی کے دورانیہ کا تخمینہ لگائیں تو سورج سے 9 گھنٹے لگیں گے یاد رہے کہ روشنی کی رفتار فی سیکنڈ 300,000 کلو میٹر معلوم کی گئی ہے۔ بالکل اسی طرح 1973 ء میں داغی جانے والی ” پائی نیئر خلائی وہیکل “ اب 80 AU کے فاصلے پر ہے جب کہ وائیجر  دوئم 90 AU کے فاصلے پر ہے  جہاں سورج کی روشنی 13 گھنٹے بعد پہنچتی ہے۔

غرض کہ ہمارے شمسی نظام کا پھیلاؤ اپنی اسپیس میں اتنا زیادہ ہے کہ موجودہ سائنس جدید ترین آلات کی مدد سے اتنی اسپیس کا حتمی تخمینہ لگانے سے قاصر ہے۔ اگر ماہرین اعداد و شمار کے لئے روشنی کی رفتار کو بنیاد بنا کر مختلف شماری نظاموں کے ذریعے ان فاصلوں کا تعین کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر اس شمار کی تصدیق کا کوئی مستند طریقہ ابھی سامنے نہیں آیا۔ زمانی اور مکانی فاصلے کی پیمائش کی حتمی تشریح ابھی تک وضاحت طلب ہے۔

خواجہ شمس الدین عظیمی صاحب روشنی سے بھی تیز لہروں کی موجودگی کی وضاحت میں فرماتے ہیں۔

” سائنس داں روشنی کو زیادہ سے زیادہ تیز رفتار قرار دیتے ہیں لیکن وہ اتنی رفتار نہیں ہے کہ وہ زمانی اور مکانی فاصلوں کو منقطع کر دے۔ البتہ انا کی لہریں لاتناہیت میں بیک وقت ہر جگہ موجود ہیں زمانی مکانی فاصلے ان کی گرفت میں ہر جگہ موجود ہیں ۔ باالفاظ دیگر یوں کہہ سکتے ہیں کہ ان لہروں کے لئے زمانی مکانی فاصلے موجود ہی نہیں ہیں روشنی کی لہریں جن فاصلوں کو کم کرتی ہیں انا کی لہریں ا ن ہی فاصلوں کو بجائے خود موجود نہیں جانتیں۔“

سیاروں کی محوری گردش ہمارے پورے شمسی نظام کے استحکام میں کیا کردار ادا کرتی ہے اور کیا سورج اپنے اپنے شمسی نظام میں مشرق سے مغرب ہی طلوع و غروب ہوتے دکھائی دیتے ہیں یا مغرب سے مشرق کی جانب بھی طلوع و غروب ہوتے ہیں؟

 عالمی ادارہ فلکیات (IAU) کے مطابق کائنات میں موجود کوئی بھی شمسی نظام ایک سورج اور اس کے ارد گرد گھومنے والے اجرام فلکی پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہم اپنی زمین پر رہتے ہوئے جس شمسی نظام سے واقف ہیں اس نظام میں ایک سورج اور اس کے ارد گرد سیارے ، بہت سے چاند ، سیارچے ، کومیٹ اور دوسرے چھوٹے اجرام فلکی شامل ہیں۔

امریکی خلائی ادارہ NASA اور یورپی خلائی ادارہ ESA نے عطارد سے نیپچون تک موجود سیاروں کے گہرے مطالعہ کے لئے مختلف خلائی مشن روانہ کئے۔ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے ماہرین فلکیات نے فلکی اجسام کے طبعی و کیمیاوی خواص پر مبنی خاکہ پیش کیا گیا۔ ماڈل کسی بھی شے یا مظاہرہ کا ایک ایسا خاکہ ہوتا ہے جسے الجبرائی مساوات کے ذریعے بیان کیا جاتا ہے۔ مساوات میں موجود علامتیں یا Symbol اور ان کا باہمی تعلق اس طرح سے لکھا جاتا ہے کہ ان کا مجموعی اثر صفر ہو جائے۔ یہ تمام Symbol ، شے یا مظاہرہ کے کسی نہ کسی وصف کو ظاہر  کرتے ہیں۔ یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ Symbol ہماری روز مرہ زبان میں استعمال ہونے والے حروف تہجی ہی ہوتے ہیں ان کا خود سے کوئی مطلب نہیں ہوتا۔ سائنسدان جب کسی مشاہدے کو تحریری شکل میں لانا چاہتے ہیں تو وہ مظاہرے کے خدوخال مثلاً بارش کے ماڈل میں بارش کی رفتار کو ”ا“ بارش کی مقدار کو ”ب“ بارش کے دورانیہ کو ”ج“ سے ظاہر کر سکتے ہیں۔

جب یہ تمام Symbol تغیر پذیر ہوتے ہیں تو ہر Symbol میں کمی بیشی اس طرح سے نمایاں ہوتی ہے کہ مساوات میں الجبرائی مجموعہ ”صفر“ ہو جاتا ہے۔ یہی مجموعی صفر مظاہرے کو رونما ہونے میں مدد گار ہوتا ہے یا کسی شے کو اپنا وجود برقرار رکھنے میں معاون ہوتا ہے۔یہاں یہ سوال ابھرتا ہے کہ

آخر الجبرائی مجموعہ ”صفر“ کیوں ہوتا ہے؟

اس کا جواب ہم کل کائناتی نظام میں رونما ہونے والے متذکرہ مظاہرے کے ممکنہ اثرات کے تخمینے سے حاصل کر سکتے ہیں اگر ایک بڑے نظام میں فعال چھوٹے سے مظاہرے سے بڑے نظام کی کارکردگی بدرجہ احسن جاری رہتی ہے۔ اور اس میں کوئی فرق نہیں پڑتا یعنی بڑا نظام مستحکم طریقے سے فعال رہتا ہے تو متعلقہ چھوٹے نظام کے ماڈل کی مساوات صحیح طور پر وضع کی گئی ہے۔ اس کے برخلاف کل نظام میں بگاڑ پیدا ہونا شروع ہو جائے تو سائنسدان یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ وضع کردہ ماڈل میں کمی ہے یعنی مظاہرےاور شے کے تمام اوصاف اور جزئیات کا ماڈل میں احاطہ نہیں کیا گیا جس کی وجہ مشاہدہ اور تجربہ میں صلاحیتوں کی کمی ہو سکتی ہے یہی کمی سائنسی ترقی کو نسل در نسل فروغ دیتی رہتی ہے حتٰی کے چھوٹے مظاہرے کا ماڈل کائناتی نظام کے ماڈل میں یوں فٹ ہو جاتا ہے جیسے اینٹوں سے بنی ایک بلند دیوار میں کسی اینٹ کے برابر خلاء میں متعلقہ سائز کی اینٹ نصب کر دی جائے پس ماڈل در حقیقت مظاہرے میں کام کرنے والی مقداروں اور ان کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ جب معین مقداریں اپنی مقررہ ساخت کے مطابق ملتی ہیں تو کامل مظاہرہ رونما ہوتا ہے اور شے تخلیق پا جاتی ہے۔ جب تک مقداروں کا بہاؤ اور ساخت قائم رہتی ہے مظاہرہ یا شے اپنے توازن کے ساتھ موجود رہتی ہے۔

IAU کی کمپیوٹرائزڈ تمثیل کے مطابق شمسی نظام کے عمومی ماڈل میں بھی ان مقداروں کی موجودگی اس شمسی نظام کے استحکام اور بقاء کا باعث بنتی ہیں اور اس کو پورے کائناتی نظام میں مخصوص توازن کے ساتھ فعال رکھتی ہیں۔ مقداروں میں ردو بدل مقررہ شمسی نظام میں توازن کو بگاڑ دیتی ہیں کہ نہ صرف خود اس شمسی نظام میں تخریب کا سبب بنتی ہیں بلکہ اس سے متصل نظاموں میں بھی عدم استحکام پیدا کرتی ہیں۔ سیاروں کی محوری گردش ہمارے پورے نظام شمسی کو Milky Way  میں اپنی گردش کو منظم طور پر جاری رکھنے میں مدد دیتی ہے اس میں سب سے اہم کردار ہر سیارے کی سورج کے گرد محوری اور طولانی گردش کا ہے۔ یہ تمام سیارے ان دونوں گردشوں میں رہتے ہوئے اپنے محور کے ساتھ ایک مخصوص زاویہ بناتے ہیں جسے سیارے کا محوری اور طولانی ترچھا پن کہتے ہیں۔ اسی ترچھے پن کی وجہ سے سیاروں پر موسم بنتے ہیں اور ان کے طبعی حالات میں تغیر ہوتا ہے کبھی وہ گرم سے انتہائی گرم اور کبھی وہ ٹھنڈے انتہائی انجماد تک چلے جاتے ہیں۔ یہ ترچھا پن ہماری زمین کے لئے 203.4 ڈگری ہے جب کہ سورج کے گرد مدار میں 0.00005 ڈگری ہے۔

ہم ابتدائی جماعتوں میں سیاراتی نظام کے دوران سیاروں میں موسمی تبدیلی ، آب و ہوا کے تغیر ، تیزابی بارش ، فضائی اثرات اور شہابیوں کی بوچھاڑ وغیرہ کا مطالعہ کرتے ہیں۔ ان سیاراتی نظاموں میں سب سے زیادہ دلچسپ فضائی اثرات ہماری زمین سے نزدیک عام آنکھ سے نظر آنے والے سیارے مثلاً زہرہ کے موسمی حالات توجہ کا مرکز ہوتے ہیں۔ سورج کے گرد سب سے زیادہ جھکاؤ زہرہ کا ہے جو کہ 3.4 ڈگری ہے ۔ یہ جھکاؤ ہی زہرہ کے سطحی درجہ حرارت کو 462 ڈگری سنٹی گریڈ تک بڑھا دیتا ہے جن سیاروں کا مداری جھکاؤ کم ہوتا ہے ان میں موسموں کی تبدیلی کم و بیش نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

مختلف خلائی مشن کے دوران ماہرین ِ فلکیات نے جو ڈیٹا حاصل کیا ہے ، اس کے مطابق ہماری زمین کے مقابلے میں عطارد اور زہرہ کا سورج سے فاصلہ بالترتیب ایک چوتھائی اور تین چوتھائی ہے، جب کہ مریخ تقریباً ڈیڑھ گنا فاصلے پر واقع ہے۔ ہم جب اپنی زمین پر ایک سال گزارتے ہیں تواس وقت عطارد پر چار سال ، زہرہ پر دو سال اور مریخ پر تقریباً نصف سال گزر چکا ہوتا ہے۔ چوں کہ تمام سیارے سورج کے گرد محو گردش ہیں، اس گردش کو قائم رکھنے کے لئے ان سب کو لٹو کی مانند اس طرح گھومنا پڑتا ہے کہ وہ لٹو کی مانند سیدھے نہیں ہوتے بلکہ تھوڑے سے ترچھے ہوتے ہیں۔ یہ ترچھا پن زمین کے مقابلے میں عطارد میں بیس گنا اور مریخ میں چھ گنا ہے۔ عطاردکی سورج کے گرد گردش بھی زمین کے مقابلے میں سات گنا زیادہ ترچھی ہے، جب کہ زہرہ اور مریخ بالترتیب چار گنا اور دو گنا ہیں۔

زمین جس PLANE میں محوِ گردش ہے اسی AXIS پر کم بیش عطارد اور زہرہ بھی سورج کے گرد گھوم رہے ہیں جب کہ مریخ کا AXIS قدرے مختلف ہے۔ جیسا کہ  اوپر ذکر کیا گیا ہے زمین سے ترچھے پن اور گردشی تفاوت کا تقابل عطارد ، زہرہ اور مریخ پر مختلف فضائی حالات کا موجب ہے۔ حتٰی کہ مریخ اپنے ٹھوس پن میں بقیہ تین پڑوسی سیاروں سے کہیں زیادہ ہلکا ہے۔

کسی بھی سیارے کی فضائی حدود میں پائی جانے والی اشیاء کو اس سیارے کی حدود سے باہر نکلنے کے لئے ایک مخصوص رفتار چاہئے جسے فراری رفتار کہا جاتا ہے۔

ہماری زمین سے تمام خلائی مشن اسی رفتار یا اس سے زیادہ رفتار سے روانہ کئے جاتے ہیں۔ جن سیاروں کی کشش ثقل اور جسامت ضخیم ہوتی ہے ان سے فرار ہونے کی رفتار بھی زیادہ ہوتی ہے۔

کشش ثقل کیا ہے؟ کشش ثقل وہ قوت ہے جس سے سیارے اور دوسرے اجرام فلکی اپنی فضا میں موجود اشیاء کو اپنی طرف مستقل کشش سے کھینچتے ہیں۔ یہ مستقل کشش جس میں کوئی ردو بدل نہیں ہوتا کسی بھی شے کی ایک سیکنڈ میں مخصوص رفتار ہوتی ہے۔ ہر سیارے کے لئے فی سیکنڈ یہ رفتار الگ الگ ہے جس کی بنیادی وجہ اس کا شمسی نظام میں مقررہ مقام اور مخصوص دائروی حرکت ہے۔

مثلاً عطارد کی کشش ثقل ایک سیکنڈ میں 3.7 میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے کھنچتی ہے کیوں کہ جسامت بھی چھوٹی ہے اس لئے کسی بھی شے کی عطارد کی ثقلی فضا یا کشش حدود سے باہر نکلنے کی رفتار یعنی فراری رفتار صرف 15,300 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے جب کہ ہماری زمین کی کشش ثقل9.8 میٹر فی سیکنڈ فی سیکنڈ ہے یعنی ہماری زمین عطارد کے مقابلے میں اشیاء کو ایک سیکنڈ میں تقریباً 3 گنا زیادہ رفتار سے کھنچتی ہے اور جسامت نسبتاً بڑی ہونے کی وجہ فراری رفتار 40,284 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے۔ مشتری جو کہ زمین سے ضخامت میں 1300 گنا ہے اور اس کی کشش ثقل بھی 3 گنا زیادہ ہے اس کی فراری رفتار 2,16,720 کلو میٹر فی گھنٹہ ہے یعنی زمین کے مقابلے میں 6 گنا زیادہ ہے۔ نیپچون  جو زمین سے تقریباً 60 گنا بڑا ہے اور کشش ثقل میں 1.25 گنا ہے اس کی فراری رفتار زمین کے مقابلے میں دگنی ہے۔

تمام سیارے سورج کے گرد ہمہ وقت محوری اور طولانی گردش میں رہتے ہیں۔یہ گردش سورج سے نزدیک ترین سیارے عطارد سے لے کر دور دراز سیارے پلوٹو تک اپنی مخصوص مقداروں کے ساتھ جاری و ساری ہے۔

طبیعیاتی قوانین کے مطابق ان محوری اور طولانی گردشوں کے ساتھ اپنے مدار میں مستحکم رہنے کے لئے تمام سیاروں کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے اجرام فلکی کا موجود ہونا چاہیے ان بونے اجرام کی موجودگی اور گردش متعلقہ سیارے مثلاً زمین ، مریخ ، زہرہ وغیرہ کے گردشی جھکاؤ کو توازن بخشتی ہے اور ماہرین فلکیات کے مطابق عطارد اور زہرہ کے علاوہ تمام سیاروں اور بونے سیاروں کے گرد 1 سے لے کر 66 چاند دکھائی دیئے گئے ہیں۔ یہ چاند اپنے اپنے سیارے کے گرد گھومتے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ اس سیارے کو سورج کے گرد گردش کرنے کے لئے مقررہ راستے پر قائم رہنے کے لئے توازن مہیا کرتے ہیں۔ ان کی وجہ سے سورج اور متعلقہ سیارے کے مابین گردشی رفتار اور کشش ثقل کی مقدار میں مستقل توازن قائم ہوتا رہتا ہے۔

سیارہ زحل جیسے بڑے سیاروں کے گرد باقاعدہ چاند کی بجائے ایک یا ایک سے زیادہ حلقے (Ring) پائے جاتے ہیں۔ جن میں بے قاعدہ شکل اورمختلف جسامت کے نسبتاً چھوٹے اجرام فلکی مسلسل گردش کرتے رہتے ہیں ایسے رنگا رنگ حلقے ہمیں فلکیاتی دور بین کی مدد سے آخری چار بڑے سیاروں کے گرد دکھائی دیتے ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ تمام سیاروں کی گردش ، ان کے ارد گرد موجود چاند یا رنگ (Ring) کی گردش اور سورج کی گردش ایک گردشی نظام بناتی ہیں یہی گردشی نظام کائناتی گردشی نظام کے ایک جزو کا کردار ادا کر رہی ہے جو ہمارے پورے نظام شمسی کو Milky Way میں ایک مخصوص پوزیشن دیتا ہے۔ کائناتی نظام میں اس مخصوص پوزیشن کے توازن کو سورج کی تجاذبی کشش اور تمام سیاروں کی محوری اور خلاف ، گھڑی دار(Anti Clockwise) طولانی گردش قائم رکھتی ہے۔ یہ سوال اپنی جگہ وضاحت طلب ہے کہ

ان تمام مختلف اقسام کی حرکات کی حساسیت کس طرح سے وائم دائم ہے؟

ان کی مقداروں کا تعین کیسے کیا گیا ہے؟

تمام حرکات ایک AXIS یا PLANE میں ہی کیوں واقع ہورہی ہیں؟

اسی طرح سیاروں کے ترچھے پن سے قرب و جوار کے سیاروں ، اُن کی فضا یا اُن کے چاند پر کیا اثرات ہوتے ہیں؟

سیاروں کے ٹھوس پن اور کھوکھلے پن کا شمسی نظام میں کیا کردار ہے؟

ان تمام سوالوں کے مابین ماہرین فلکیات کی عالمی یونین برائے فلکیات (IAU) کے وضع کردہ 3D کمپیوٹرائز ماڈل سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ اسی ماڈل کی مدد سے یہ بتایا گیا ہے کہ کائنات کا پھیلاؤ بیضوی ہے جس کے مرکز میں لاتعداد اجرام فلکی پر مبنی دودھیا چوڑی پٹی ہے جب کہ اس پٹی کے چاروں کناروں پر لچھے دار شاخیں متصل نظر آتی ہیں ہر شاخ دوسری شاخ کو گھماؤ کے دوران پرے دھکیلے ہوئےہے انہی میں سے ایک شاخ پر ہمارا شمسی نظام اپنے مخصوص ترچھے پن سے محوِ گردش ہے۔

ملکی وے ایک کمان دار شاخ کی مانند پھیلی ہوئی ہے اس کی یہ مخصوص شکل ہمارے نظام شمسی جیسے بقیہ دو کھرب نظام شمسی مل کر بناتے ہیں جس میں تمام نظام شمسی اپنے اپنے منفرد ترچھے زاویے سے بیضوی راستہ پر محو گردش ہیں ہمارا نظام شمسی اپنا توازن ہمارے سورج کے ارد گرد موجود خلاف گھڑی دار(Anti Clockwise) سیاراتی گردش سے حاصل کرتا ہے جسے ایک نادیدہ بیضوی پلیٹ خیال کیا جا سکتا ہے۔ بالکل اسی طرح اس پلیٹ کے آگے پیچھے مزید ان گنت پلیٹیں متذکرہ بالا کمان دار شاخ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ملکی وے کی اس کمان دار شاخ پر موجود ہر پلیٹ ایک مکمل شمسی نظام بتائی جاتی ہے۔

قیاس کیا جاتا ہے ہمارے سورج کے دائیں اور بائیں موجود نظام شمسی میں سیاروں کی گردش گھڑی دار ہوگی تا کہ ملکی وے کی کمانی شکل برقرار رہ سکے ہمارے روز مرہ مشاہدے کے مطابق ہمارا سورج ہمارے نظام شمسی میں مشرق سے مغرب کی جانب طلوع و غروب ہوتا دکھائی دیتا ہے اسی طرح دائیں اوربائیں جانب موجود نظام شمسی میں سیاروں کی گھڑی دار گردش کی وجہ سے سورج مغرب سے مشرق کی جانب طلوع و غروب ہوتا دکھائی دے گا۔ یہ ذکر ان نظام ہائے شمسی کا ہے جو کمان کے تقریباً درمیان میں واقع ہیں اسی نظریہ کی روشنی میں یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کمان کے کناروں پر موجود نظام شمسی میں یہی طلوع و غروب شمالاً جنوباً بھی ہوگا۔

خلائی راکٹ اور PROBES  کی مدد سے ہمارے شمسی نظام میں موجود سیاروں ، سیارچوں ،چاند اور سورج کی فضا کے متعلق بے پناہ ڈیٹا اکٹھا کیا گیا ہے، مگر ریکارڈ شدہ معلومات اس گتھی کو سلجھانے سے قاصر ہیں کہ کیا ہماری زمین کے علاوہ بقیہ سیاروں میں بھی ”ہماری طرح“ زندگی کے آثار موجود ہیں؟

بانی قلندر شعور، حضور  قلندر بابا اولیاؒ فرماتے ہیں:-

”یہ محض قیاس آرائی ہے کہ انسانوں کی آبادی صرف زمین (ہمارے نظام شمسی) میں پائی جاتی ہے انسانوں اور جنات کی آبادیاں ہر حضیرے پر موجود ہیں بھوک ، پیاس ، خواب ، بے داری ، محبت ، غصہ ، جنس ، افزائش نسل وغیرہ وغیرہ زندگی کا ہر تقاضہ ،ہر جذبہ ، ہر طرز ہر سیارہ میں جاری و ساری ہے۔“

بلا شبہ موجودہ سائنسی اہلیت نے ماہرین  فلکیات کو ہمارے نظام شمسی کے تمام سیاروں کی منظم گردش ، مخصوص پوزیشن اور واضح ترچھے پن کے نقشہ بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے جو واضح طور پر ہمارے نظام شمسی کو ایک بڑے نظام کے جزو کی حیثیت سے نمایاں کرتا ہے مگر موجودہ IAU کے 3D کمپیوٹرائزڈ کائناتی ماڈل میں ہمارے نظام شمسی کا کردار ، کل کائناتی نظام میں کیا ہے؟ اس کا تعین کرنے کے لئے موجودہ مشاہدات اور تجربات کی مختلف زاویوں سے تحقیق ضروری معلوم ہوتی ہے۔

اس ضمن میں ماہر علوم باطنی ، حضور قلندر بابا اولیا ؒء کائنات کے مخفی زاویوں کو تلاش کرنے کی طرز بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔

”روحانی اقدار سے متعلق جتنے علوم ابھی تک زیر بحث آئے ان سب علوم میں جو کائنات مظاہر میں اہمیت رکھتی ہے وہ بعد کی چیز ہے پہلے مخفی اور غیب کو سمجھنے میں آسانی ہو جائے تو مظاہر کس طرح بنتے ہیں مظاہر کے بننے اور تخلیق ہونے کے قوانین کیا ہیں یہ ساری باتیں آہستہ آہستہ ذہن میں آنے لگتی ہیں۔“