Topics

حقیقت شناسی اور مادی آلات

حامل ِ اسرار کن فیکون حضور قلندر بابا اولیا ؒ نظامِ کائنات میں روز افزوں رونما ہونے والے ارتقائی تغیر میں کار فرما قاعدے اور ضابطوں کی تشریح میں فرماتے ہیں۔

یہ        بود        و         نبود      کیا       ہے      کس      کو        معلوم

افلاک             کی       جو       ادا       ہے      کس      کو        معلوم

سب               راز       ہیں      کہکشاں   کی       گردش   کے       عظیم    

خورشید             میں      کیا       چھپا                ہے      کو        معلوم

ساحل پر کھڑے۔۔۔ کبھی دور تک پھیلے نیلگوں سمندر کی وسعت کو دیکھتے رہنا جہاں دور افق پہ ۔۔۔ کنارے آسمان سے مس ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔۔۔۔لہروں کا ساحل کی جانب بڑھنا ۔۔۔ ٹکرانا اور ٹکرا کے پھر پلٹ جانا ۔۔ سوندھی سوندھی چہار سو پھیلی مخصوص خوش بو ، سرسراتی ہوا اور تھرتھراتی لہروں کے امتزاج پر مبنی صوتی فضا ہمارے جسم و ذہن اور دماغ کو ہمیشہ سے مسحورکر رہی ہیں سمندر کے ساحل پر تیراکی ہو یا کیف غسل آفتاب ۔۔۔ یا ریتیلا صحت افزا مساج ، کسی نہ کسی حیثیت میں سمندر ہمیشہ نوع انسانی اور دوسری انواع کے لئے ایک مکمل جاندار اور بھر پور زندگی کی نوید دے رہا ہے۔

نظام قدرت کے تحت بحر ہند ، بحر؛کاہل ، بحرِ اوقیانوس، بحیرہ کیسپین کے بیشتر ساحلی مقامات ایشیا ، یورپ ، افریقہ اور امریکہ میں عوام الناس کو موسم گرما میں جہاں ایک بہترین سکون گاہ پیش کرتے ہیں ، وہیں یہ ساحلی علاقے وجزائر ہر عمر کے افراد مرد ، عورت ، بچوں اور بوڑھوں کو صحت بخش اور خوشگوار زندگی بخشتے ہیں۔ کم و بیش دو دہائی قبل تک یہ مِیلوں لمبے ساحل مکمل طور پر انتہائی محفوظ اور آرام دہ سمجھے جاتے تھے۔ مگر آج حالات مختلف ہیں۔


26 دسمبر 2004ء باکسنگ ڈے سے پہلے تھائی لینڈ سے متصل بحر ہند کا ساحلی علاقہ موسم گرما میں لاکھوں لوگوں کے لئے بے پناہ پُرکشش تھا۔ لیکن اچانک پہلی دفعہ تمام میڈیا انتہائی تباہ کن قدرتی آفت کی نیوز سے گونج اٹھا۔ شکل نمبر۱ کے مطابق اس کا سبب غیر معمولی تھا، ایک طویل القامت 100 فٹ بلند و غضب ناک سمندری لہر !!

وہ ایک لہر تھی حوادث کی ۔۔۔ (شکل نمبر @) جس سے اوپر تلے قدرتی آفات کا سلسلہ پورے کرۂ ارض پر نمودار ہوا۔ مدراس انڈیا کے قریب میں واقع گمنام دیہات کے ساحلی علاقہ میں دو ہزار سال قدیم تہذیب کی زیرِ سمندر عبادت گاہوں اور متصل قربان گاہوں کو چند منٹوں کے لئے جلوہ افروز کیا۔ نسل در نسل بیان کی جانے والی صدیوں پرانی دیو مالائی کہانی ”سات بگوڈا“ ، افلاطون کے سمندر برد ”ایٹلانٹس“ کی مانند اچانک سے حقیقت کا روپ دھار کے سمندر میں نمودار ہوگئی۔ مہا بالی پورم کے ساحلی علاقہ میں زیرِ آب ایک بگوڈا جیسا کہ ( شکل نمبر ۳ ) میں دکھایا گیا ہے

مقامی لوگوں اور پجاریوںکی نگاہوں نے پانچ سو میٹر کے فاصلے پر موجود زیر سمندر مندروں کے ایک بڑے کمپلیکس کی جھلک دیکھی۔


میرین سائنسز اور ارضیات کے ماہرین کو کئی مقامات پر زیر ِ سمندر تہذیبوں کے آثار جدید انڈر واٹر اسکیننگ ٹیکنالوجی کی مدد سے ملے ہیں۔ جدید سائنسی ڈیٹنگ ٹیکنیک جو آثار قدیمہ کی عمر کے تعین کے لئے استعمال کی جاتی ہے سے پتا چلا ہے کہ یہ عظیم الشان تہذیبیں دو ہزار سے آٹھ ہزار سال قدیم ہیں۔ جس میں بحیرہ کیسپین میں ڈوبی ہوئی تہذیبوں کے باقی ماندہ آثار آج بھی اپنی اپنی عصری عظمت کی داستان سنا رہے ہیں۔ شکل نمبر ۴ کے مطابق پانچ ہزار سال پہلے سمندر برد ہونے والی اس تہذیب میں آج بھی جدید یورپین طرز تعمیر ، سنگ تراشی ، وال پینٹنگز وغیرہ موجود ہیں جس میں مکین اب صرف سمندری جانور ہیں۔ گو کہ سمندری پانی کے اثرات اور رفتارِ زمانہ کی بدولت ہمیں آج سوائے پتھریلے اسٹرکچر اور زیر سمندر گلی کوچوں کے کچھ نہیں ملتا ۔سوال یہ ہے۔۔۔

یہ سب اپنے اس غیر معمولی انجام کو کیوں اور کیسے پہنچیں؟

بحیرہ کیسپین کے گہرے علاقے میں ماہرین موجودہ دور کے مطابق ہوائی جہازوں کے لینڈنگ ایریا کی طرز پر (شکل نمبر ۵) طویل خطہ کی موجودگی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

نیپلز اٹلی کی خلیج میں بڑے بڑے مجسمے آج بھی سمندر میں سکوبا (Scuba)  غوطہ خوروں کو نظر آتے ہیں۔ سب سے دلچسپ ساڑھے تین ہزار سال پر پھیلی فراعنہ تہذیب کے آثار ہیں ، جن کے مجسمہ سازی کے شہاکار کی طرح اسکندریہ (Alexandria)  کے گہرے سمندروں میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

یہ سب عظیم الشان تہذیبوں کے مختلف ادوار کے نشانات ہیں ، جواب سمندر کی تہہ میں موجود ہیں۔

آخر کیسے اچانک سے انہیں سمندر نے نگل لیا۔۔

 تباہی اتنی آناً فاناً تھی کہ فی زمانہ بتائی جانے والی انتہائی جدید ٹیکنالوجی بھی ان ترقی یافتہ تہذیبوں کی ثقافت ، طرز معاشرت ، عقائد اور ترقی کے بارے اندازہ لگانے سے قاصر ہے۔ ماہرین ممکنہ وجوہات پیش کرتے رہے ہیں مگر وہ پانچ ہزار سال پہلے زمین میں دفن موہن جو درو پاکستان کے آثار ہوں ، جزائر کیٹے کی سمندر برد تہذیب ہو یا پھر میکسیکو کے ساحلی جنگلات میں پوشیدہ عقل کو حیران کرنے والی مایا سلطنت ۔۔ موجودہ سائنس پر مبنی ارضیاتی علوم ان حوادث کی چند ایک تشریحات کے بعد ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔

ہمارے پاس ان تمام سوالوں کا ایک ہی گواہ موجود ہے۔۔ جس کے سینے میں ان حوادث کے راز چھپےہوئے !!

نظامِ قدرت کا ایک اہم رکن ۔۔۔ وہ ہے سمندر !!

عظیمی صاحب حادثات کی تشریح کے حوالے سے فرماتے ہیں:

دنیا میں کہیں بھی کوئی حادثہ پیش آتا ہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا ہو فریکوئنسی کے نظام میں مقداروں کی بے اعتدالی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کائنات ایک سسٹم کے تحت چل رہی ہے۔

نظام قدرت میں ہر جزو دوسرے سے جڑا ہوا ہے مقداروں کی کمی بیشی سے پورا نظام متاثر ہوتا ہے اسے سائنسدان ایکوسسٹم کہتے ہیں۔ سسٹم کی بقا کے لئے ایکوسسٹم کے ہر ہر جزو میں توازن ضروری ہے۔ ہر فرد کی ڈیوٹی ہے کہ اس نظام کو صحیح طریقے سے چلائے ، سورج ، چاند ، ہوا ، سمندر اور سب دریاؤں کی اپنی اپنی ڈیوٹی ہے۔

موجودہ دور میں ہر طرف سائنسی ترقی نظر آتی ہے مگر اس ترقی میں ایک مخصوص زاویہ نگاہ کار فرما ہے ، جس کا انحصار کل طور پر مادی آلات پر ہے۔

آج سائنس کی دنیا کہکشانی اور شمسی نظاموں سے روشناس ہو چکی ہے۔ کہکشانی اور شمسی نظاموں کی روشنی سے ہماری زمین کا کیا تعلق ہے اور انسان ، حیوانات ، نباتات اور جمادات پر کیا اثر کرتی ہے؟ یہ مرحلہ بھی سائنس کے سامنے آچکا ہے لیکن ابھی سائنس اس حقیقت سے پوری طرح باخبر نہیں ہے کہ شمسی نظاموں کی روشنی انسان ، نباتات اور جمادات کے اندر کس طرح اور کیا عمل کرتی ہے اور کس طرح ان کی کیفیات میں رد و بدل کرتی رہتی ہے؟

حوادث کے پس پردہ رونما ہونے والے عوامل اور کار فرما قوانین کا مطالعہ اگر قلندر شعور  (Neutral Thinking) کی تفہیم کے مطابق کیا جائے تو ہمیں تمام مظاہر قدرت میں ایک تعلق نظر آتا ہے۔ نظام قدرت اور نوع انسانی کے درمیان ایک گہرا رشتہ ہے کوئی محسوس کرے نہ کرے ہماری زمین ، اجرام ِ فلکی اور کائنات کی ہر تخلیق انسانی ارادے سے جڑی ہے۔

سائنس دانوں کی دانست میں کائناتی نظام کی Ownership  کو کسی بھی نام سے پکاریں ، چاہے اسے ہم فطرت کہیں یا قدرت۔۔۔ اس نظام سے تمام انواع یکساں مستفید ہوتی ہیں۔ یعنی جیسے انسان سمندر ، ہوا ، سورج ، چاند اور دوسری دنیاؤں سے ہم رشتہ ہے۔ چیونٹی درخت اور پہاڑ بھی اس رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔

یہ باہم رشتہ کیا ہے؟

دربار رسالت کے آسمان علم و آگہی کے درخشندہ ستارے حضور قلندر بابا اولیا ؒ فرماتے ہیں:

 کلیات (لوح محفوظ) کے تمام اجزا آپس میں ایک دوسرے کا شعور رکھتے ہیں۔

چاہے فرد کے علم میں یہ بات ہو یا نہ ہو لیکن فرد کی حیثیت کلیات میں ایک مقام رکھتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو انسان چاند ، ستاروں اور اپنی زمین سے الگ ماحول سے روشناس نہ ہو سکتا۔ اس کی نگاہ تمام اجرام سماوی کو دیکھتی ہے ۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہر انسان کی حس زمین سے باہر کے ماحول کو پہچانتی ہے۔

آج کا انسان مادیت کے پر فریب جال میں ذہنی و اعصابی کشمکش میں اس طرح الجھ گیا ہے کہ آدمی آدمی سے دور ہو گیا ہے ، محسوس ہوتا ہے ہر آدمی الگ کوئی نوع ہے۔ خوف اور غم میں مبتلا جدید معاشرہ کے ، آج کے فرد کا انجام بہت درد ناک نظر آتا ہے۔ حضور قلندر بابا اولیا ؒ کے فرمان کے مطابق کلیات کے اس اہم جزو یعنی نوع انسان کی بے چینی و اضطراب سے دوسرے اجزا کیونکر اپنا ارتقائی توازن برقرار رکھ سکتے ہیں۔ ان مضمرات کے تذکرہ کے ضمن میں جناب عظیمی صاحب ایک اہم قانون کا انکشاف فرماتے ہیں :

جیسے جیسے انسان کی دلچسپیاں مادی وجود میں زیادہ ہوتی ہیں اسی مناسبت سے وہ روشنیوں سے دور ہو جاتا ہے۔ روشنیوں سے دوری کا نام بے چینی اور درماندگی ہے۔ آج کے دور میں ذہنی کشمکش اور اعصابی کشاکش عروج پر ہے۔

اس سے محفوظ رہنے اور پر سکون زندگی گزارنے کا طریقہ اگر کوئی ہے تو یہ ہے کہ انسان اپنی اصل سے تعارف حاصل کرے۔ جب ہم اپنی اصل سے واقف ہو جائیں گے تو لہروں اور روشنیوں کی پر مسرت ٹھنڈک ہمارا احاطہ کر لے گی۔

بڑے دکھ کی بات ہے کہ تاریخ ہمیں اضطراب ، بے چینی ، بدحالی ، خوف و غم اور پریشانی کے علاوہ کچھ نہیں دیتی۔

انسان ہمیشہ سے مضطرب ، بدحال ، غمگین ، خوفزدہ اور پریشان رہا ہے۔ خوف اور عدم تحفظ کسی زمانے میں بہت زیادہ ہو جاتا ہے اور کبھی کم لیکن قائم رہتا ضرور ہے جب کہ :

” اللہ کے دوستوں کو خوف ہوتا ہے نہ غم۔“           (۱۰ : ۶۲)

مادی آلات کی حقیقت

دانشور خواتین وحضرات بتاتے  ہیں:

تمام نوع انسانی ایک باپ آدم کے رشتے سے باہم جڑی ہے۔ اس آئیڈیا لوجی کی ترویج کے لئے کئی ممالک میں سالانہ آدم ڈے کے نام سے سیمینار اور تقریبات منعقد ہوتی ہیں۔ فرد کو کسی طرح بھی قوم سے الگ نہیں کیا جا سکتا ، انفرادی خوف و غم ایسا زہر ہے جو رفتہ رفتہ پوری قوم میں سرایت کر جاتا ہے۔ ایسی اقوام نہ صرف اپنے لئے تباہی کا موجب ہوتی ہیں بلکہ پڑوسی ممالک اور پورے کرۂ ارض کے استحکام کو خطرہ سے دوچار کر دیتی ہیں۔ الہامی کتب اور قدیم ادیان مشترک روایت کا ذکر  کرتے ہیں جو ایک عظیم سمندری طوفان کی کرۂ ارض پر مکمل تباہی کے متعلق ہے۔ ایک ایسا طوفان جس نے ہماری زمین پر موجود تمام تر تہذیب و تمدن مٹا دیا۔ طوفان نوح ؑ کے حادثہ کی تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہوئے جناب عظیمی صاحب فرماتے ہیں :

طوفانِ نوح ؑ کے زمانے میں موجودہ زمانے کی طرح سائنسدانوں نے قدرت کے رازوں میں دخل دینا شروع کر دیا تھا، بے چین و بے قرار آدمی سے چین روٹھ گیا تھا ، خود غرضی عام ہوگئی تھی ، اخلاص و خلوص کا یہ مطلب لیا جاتا تھا کہ دوسرا آدمی ہمارے کام آئے۔ ہم کسی کے کام آئیں نہ آئیں ، طاقت و دہشت گرد بن گیا تھا ، بستیاں اجاڑنا لوگوں کو زر خرید غلام بنانا عام روش ، چالاک اور فطین لوگوں نے عوام کو زر و جواہرات اکٹھا کرنے کے لئے آلہ کار بنا لیا تھا ، زمین کے اوپر امن کے نام پر فساد پھیل گیا تھا ، بیماریاں عام ہوگئی تھیں۔

غیر جانبدار نظریہ (Neutral Thinking)  کے مطابق اس کائنات کے تمام مکین ایک رشتہ سے جڑے ہوئے ہیں۔ اگر فساد و تعفن سے لبریز نوع انسانی سرگرم ہے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ اس ڈور میں بندھے بقیہ اجزا یعنی پہاڑ ، سمندر ، زمین اور کہکشانی نظام اپنا رد عمل ظاہر نہ کریں۔ اس ' ردِ عمل' کے اسباب و نتائج کی نشاندہی اس طرح کی جاتی ہے کہ طوفان ِ نوح ؑ سے پہلے جو حالات تھے آج کے دور میں شباب پر ہیں۔

اس وقت زمین کی آہ و بکا کسی نے نہیں سنی ، آج پھر زمین کراہ رہی ہے۔

زمین اب فساد ، تعفن ، لالچ ، خود غرضی اور دنیا پرستی کے عذاب کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔ زمین خود کو سڑے ہوئے اجسام سے پاک کرنا چاہتی ہے۔

الہامی کتابیں نظام ِ کائنات میں کار فرما قوانین کی وضاحت کا ایک اہم منبع ہیں۔ نیوٹرل طرزِ فکر کے حامل سائنس دان ایسے کئی مفید حوالے تلاش کر سکتے ہیں۔روایتی سائنس کے برعکس ان میں بیان کردہ فارمولے پہلی سے لے کر آخری کتاب تک یکساں ہیں جیسا کہ آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں فرمایا گیا ہے ۔

” کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے نظام پر کبھی غور نہیں کیا؟ اور کسی چیز کو بھی  جو اللہ نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا ؟ اور کیا یہ بھی انہوں نے سوچا  کہ شاید ان کو زندہ رہنے کی جو مہلت دی گئی ہے اس کے پورے ہونے کا وقت  قریب آگیا ہے۔“       (۷  :  ۱۸۵)

”زمین اپنے مدار کے اندر گردش کرتی ہے اور سورج کے چاروں طرف ایشور کے مقرر کئے ہوئے خط پر پھرتی ہے زمین جو بمنزلہ گاؤ دوش ہے۔ قسم قسم کے پھلوں اور رواں سے جانداروں کی پرورش کرتی ہے اور ایسے پابندی کے ساتھ گردش کرتی ہے کہ کبھی اپنی حد سے باہر نہیں جاتی۔“(رگ وید ، اشٹک ۸ ، ادھیائے ۲ ورگ ۱۰ منترا)

مضمون کی ابتدا میں حضور قلندر بابا اولیا ؒ کی رباعی میں کائناتی نظام کے ارتقائی عمل کے اہم جزو ”گردش“ کی نشاندہی کی ہے۔ الہامی کتب کے درجہ بالا حوالوں سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ کائنات کے تمام اجزا کسی نہ کسی تعلق کے ساتھ ہم رشتہ ہیں۔ نظام میں کسی بھی قسم کا ناخوشگوار واقعہ یا قدرتی آفت کے رونما ہوتے ہی اجرام بھی عدم توازن کی کیفیت کا مظاہرہ کرتے ہیں۔

بحر ہند میں رونما ہونے والے باکسنگ ڈے کا سونامی طوفان ایک ایسے ہی متذکرہ بالا عدم توازن کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ چند دہائیوں سے بڑھتی ہوئی قدرتی آفات کے اس  رجحان کا سلسلہ باکسنگ ڈے کے حادثہ پر ہی ختم نہیں ہوا، بلکہ کرۂ ارض پر موجود زندہ آتش فشاں پہاڑ مزید سرگرم ہو گئے ہیں جن میں زیرِ سمندر آتش فشاں نمایاں ہیں جب کہ وہ آتش فشاں پہاڑ جو مردہ قرار دیئے جا چکے تھے انہوں نے اچانک کروٹ لی اور راکھ اگل کر اپنی دھونکنی کو صاف کرنا شروع کر دیا۔ جیسے یہ بتا رہے ہوں کہ ہم جاگ رہے ہیں۔


ایسا ہی ایک واقع گرین لینڈ یورپ میں پیش آیا، جہاں مردہ آتش فشاں پہاڑ سے راکھ کا اخراج شروع ہو گیا جس سے کئی ہفتوں تک پورے یورپ میں مغربی ممالک کی جانب تمام پروازیں مکمل طور پر معطل رہیں۔

زمین تہہ در تہہ پیاز کے چھلکوں کی طرح بنی ہوئی ہے جیسا کہ شکل نمبر ۸ میں دکھایا گیا ہے۔ آبادی زمین کی بیرونی سطح پر ہے جسے قشر کہا جاتا ہے۔ قشر کی موٹائی محض کسی فٹ بال پر چپکے ہوئے کاغذ جتنی ہے۔ زمین کی زیادہ دبازت(Thickness)  خشکی پر تقریباً پچاس کلو میٹر ہے اور سمندروں میں کم و بیش پانچ کلو میٹر ہے۔ یہ حصہ خشکی پر بسالٹ اور سمندر میں گریفائٹ کی چٹانوں پر مشتمل ہے۔ قشر کے نیچے غلاف ہے جس کی دبازت تقریباً دو ہزار نو سو کلو میٹر ہے اور زمین کا 82%  حجم اسی پر مشتمل ہے۔ غلاف کے نیچے زمین کا دل core ہے اس کے تین حصے ہیں۔

۱۔       اوپری دل

۲۔       اندرونی دل

۳۔      قلب

اوپری دل تقریباً دو ہزار دو سو کلو میٹر گہرا ہے جب کہ اندرونی دل 1270 کلو میٹر تک ہے زمین کی تہوں پر دو طبعی عوامل دباؤ اور درجہ حرارت اثر انداز ہوتے ہیں۔ درجہ حرارت وہ عمل ہے جو چٹانوں کو یا تو نرم کر دیتا ہے یا پگھلا دیتا ہے۔ زمین کے اندر بڑا حصہ ایسا ہے جو حرارت کی شدت سے سفید ہو گیا ہے اس حصہ کو وہ توانائی حرارت فراہم کرتی ہے چٹانوں میں موجود تابکار عناصر خارج کرتے ہیں زمین کے مرکز میں درجہ حرارت تقریباً تین ہزار سینٹی گریڈ بتایا جاتا ہےجب کہ قشر (Crust) اور غلاف کے درمیانی حد کا درجہ حرارت 375 سینٹی گریڈہے۔ ایسا عمل جو چٹانوں کو ٹھوس بنا دیتا ہے ۔ جتنی گہرائی میں اتریں گے اوپری تہوں کا دباؤ اتنا ہی بڑھ جائے گا۔ زمین کی سطح پر موجود چٹانیں جو ٹھوس دکھائی دیتی ہیں ان چٹانوں کے مقابلے میں جو زمین کے اندر ہیں نرم ہیں۔ ارضیات دان اوپری تہہ کو ( جو قشر اور بالائی غلاف پر مشتمل ہے ) پتھریلا کرہ (Litho Sphere)  کہتے ہیں اور اس کی حد تقریباً 70 کلو میٹر ہے۔ اس کے بعد کمزور کرہ (Sphere Litho) ہے جہاں تابکار توانائی کی وجہ سے چٹانیں پگھل چکی ہیں اور چٹانوں کا پگھلا ہوا گرم مائع بہہ رہا ہے۔ یہ تہہ 200 کلو میٹر تک موجود ہے۔

کمزورکرہ کے بعد وسطی کرہ کا علاقہ ہے اس جگہ بے پناہ حرارت کے باوجود دباؤ اس قدر زیادہ ہے کہ چٹانیں اور عناصر ٹھوس حالت ہی میں ہیں۔ وسطی کرہ کے اندر زمین کا دل ہے جو کہ خام لوہے پر مشتمل ہے اور اس میں نکل اور کوبالٹ کی آمیزش ہے یہ عناصر مائع حالت میں ہیں لیکن بے حد کثیف ہیں جب کہ اندرونی دل ٹھوس  حالت میں ہے۔

باوجودیکہ ارضیات دانوں نے زمین کی گہرائی سے چٹانیں نکال لی ہیں لیکن ابھی تک کوئی بھی زمی نے غلاف تک نہیں پہنچ سکا ۔ زمین کے اندرونی حصوں کا اندازہ ارضیات دان ا لہروں یا موجوں سے لگاتے ہیں جو دباؤ ، جھٹکے یا زلزلے سے پیدا ہوتی ہیں۔ یہ لہریں زمین کی اندرونی تہوں میں چٹانوں کے ٹوٹنے پھوٹنے اور سرکنے سے پیدا ہوتی ہیں بعض اوقات قشر ارض کی زریں پرتوں میں ایسی تبدیلیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں جن کے نتیجے میں زمین کے اندر توانائی جمع ہو جاتی ہے۔ یہ توانائی یا دباؤ جب ارد گرد کی چٹانوں کے لئے نا قابل برداشت ہو جاتی ہے تو منہ زور دھماکوں اور خوفناک گڑگڑاہٹ کے ساتھ شکل نمبر 10 کی طرح کسی کمزور زمینی تہہ کی سمت بہہ نکلتی ہے۔

آتش فشاں زلزلے زیر زمین اُبلتے ہوئے مادے میگما کے اچانک باہر نکلنے سے پیدا ہوتے ہیں۔ گرم لاوا دبانے کے گرد مخروطی شکل کا تودہ بنا دیتا ہے اسے آتش فشاں پہاڑ کہتے ہیں ۔ زمین کے اندر گرم سیال مادہ زمین کی اوپری سطح کی طرف آتا ہے۔ آتش فشاں پہاڑ سے نکلنے والے بخارات میں سب سے زیادہ کثرت بھاپ کی ہوتی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ بھاپ ہی وہ بنیادی اور متحرک طاقت ہے جو دوسرے مادوں اور گیسوں کو زور سے باہر دھکیلتی ہے ، ان مادوں میں کلورین ، گندھک ، پگھلا ہوا لوہا اور گیسو ں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ عام ہیں۔

 یہاں سے نظام قدرت میں بھاپ کی طاقت اور افادیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں بھاپ مائیکرو لیول کنٹرول سے لے کر انتہائی بھاری کنٹرول میں استعمال کی جاتی ہے۔ حتی کہ میکنیکی توانائی کے علاوہ یہی بھاپ مساج کی صورت میں صحت میں صحت و تندرستی میں معاون ہے۔


روحانی سائنس دانوں کے نزدیک ہر دس ہزار سال کے بعد زمین میں ایسی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں کہ جہاں سمندر ہے وہاں زمین ظاہر ہو جاتی ہے اور جہاں سمندر ہے وہاں زمین ظاہر ہو جاتی ہے اور جہاں زمین ہے وہاں سمندر آجاتا ہے۔ شکل نمبر 9 میں Holocene Cycle دکھایا گیا ہے۔ جس کے مطابق بائیں سے دائیں جانب قریب ساڑھے دس ہزار سال بعد ایک نشیب آتا ہے جو کرہ ارض پر بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔ ماحولیات کے سائنس دانوں نے قطبین پر سے برف کے نمونہ لے کر اس کا تجزیہ کیا ہے انہوں نے کاربن ڈائی آکسائیڈ ، نائٹروجن اور آکسیجن کے مرکبات اور سلفر و آکسیجن سے بننے والی گیسوں کے ایک لاکھ ساٹھ ہزار نمونے اکٹھے کئے ہیں ۔ تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ ہر دس ہزار سال بعد ہوا میں ان گیسوں کی مقدار اپنی انتہا کو پہنچ کر اچانک نیچے گر جاتی ہے اور یہ سائیکل ہر دس ہزار سال بعد دہرایا جاتا ہے۔ یہ گیسیں زیادہ تر صنعت میں ہونے والی ترقی کی وجہ سے فضا میں بڑھ جاتی ہیں۔ جب صنعتی ترقی صفر تھی یا دوسرے لفظوں میں جب انسان پتھر کے عہد میں تھا اور کوئی صنعتی ترقی نہیں تھی ان گیسوں کا اخراج کم سے کم لیول پر تھا ، جوں جوں دنیا میں صنعت نے ترقی کی ان گیسوں کا ہوا میں تناسب بڑھتا گیا۔

باطنی سائنسدانوں کے مطابق

باطنی سائنس دانوں کے مطابق 2006 ء میں طوفان نوح کو گزرے ہوئے دس ہزار سال ہو چکے ہیں اور سال 2006ء کے بعد بتدریج زیادہ ہوتے ہوتے طوفان نوح جیسا ایک سیلاب آئے گا اور زمین سے صنعتی ترقی ختم ہو جائے گی ، انسانوں کی آبادی تقریباً سات ارب سے کم ہو کر ایک چوتھائی رہ جائے گی اور دوبارہ پتھر کا عہد شروع ہو جائے گا۔

سائنسدان ہر دس ہزار سال میں اس اچانک تبدیلی کی وجہ برفانی دور (Ice Age) کے آثار کو بتاتے ہیں۔

سائنس دانوں کے خیال کے مطابق ہر دس ہزار سال کے بعد زمین پر ایسا زمانہ آتا ہے جس کو ہم ” آئس ایج“ یا برفانی دور کہہ سکتے ہیں۔ آئس ایج کی وجہ سے زمین پر گیسوں کا اخراج کم ہو جاتا ہے۔ موجودہ دور کے ماحولیاتی سائنس دانوں کا قیاس ہے کہ تبدیلی آئندہ تیس سال کے اندر آسکتی ہے یعنی پچھلی آئس ایج سے اب تک تقریباً دس ہزار سال گزر چکے ہیں ۔ جیسا کہ شکل نمبر 9 میں دکھایا گیا ہے۔

شکل نمبر 11 کے مطابق ، ہر دس ہزار سال کے بعد ایک بلیک ہول زمین کے اس قدر نزدیک سے گزرتا ہے کہ وہ نظام شمسی میں موجود سیاروں کو اپنی طرف کھینچتا تو نہیں ہے لیکن ان سیاروں کے موسموں کے تغیر میں زبردست کردار ادا کرتا ہے۔


سینٹ ایلا موس نیشنل لیبارٹری امریکہ میں موجود رسد گاہ نے بلیک ہول کے X-RAY And High Energy Gamma Particles کے انتہائی غیر معمولی اخراج کا ذکر کیا ہے۔ جب کہ بلیک ہول کی موجودگی کا انکشاف 1996 ء میں ناسانے اپنے شائع شدہ جرنلز میں کیا جیسا کہ شکل نمبر 12 میں دکھایا گیا ہے۔

 زمین کے اندر جب یہ گرم سیال مادہ زمین کی اوپری سطح کی طرف آتا ہے تو جگہ جگہ سمندر میں جزیریوں کی شکل میں خشکی ظاہر ہوتی ہے اور بسا اوقات پھر غائب ہو جاتی ہے جیسا کہ بلوچستان کے ساحل کے نزدیک اکثر دکھائی دینے لگا ہے۔ مشرق بعید میں واقع جزائر میں سمندری لہروں کی اونچائی تیزی سے بڑھ رہی ہے جب کہ بعض ویران اور غیر آباد جزائر اب سمندر میں ڈوب چکے ہیں۔ ان میں شکل نمبر 13 جیسے جنت نظیر جزائر مالدیپ بھی شامل ہے۔

2004ء میں سمندر کی تباہ کاریوں کی تشہیر بڑے پیمانے پر باکسنگ ڈے کے حوالے سے ہوئی جس کا سبب غیر معمولی طور پر طویل القامت سمندری لہر یعنی سونامی طوفان تھا جب قریب ڈھائی لاکھ لوگوں کو سمندر نے نگل لیا۔ اس علاقہ میں اس نوعیت کی قدرتی آفت کا وقوع پذیرہونا ایک اچنبھے کی بات تھی۔ پھر مشرق بعید میں جا پان کے نیو کلیئر ری ایکٹرایسے ہی ایک سونامی سے ٹکرانے کے بعد اس قدر متاثر ہوئے کہ تابکار شعاعوں کے خطرات مقامی آبادی پر منڈ لانے لگے تھے۔


گلوب کی دوسری جانب امریکہ کے مغربی ساحلوں پر کثرت سے مختلف نوعیت کے سونامی طوفان ٹکرانا شروع ہوگئے ہیں۔ جنوب میں آسٹریلیا کے قرب و جوار میں جہاں بحر الکاہل عام طور پرسکون رہتا تھا ، اچانک سے اس میں لہروں کی اونچائی بڑھنا شروع ہو گئی ہے۔ جزائر ہوائی تو پہلے سے سونامی کے متعدد ٹکراؤ کا شکار رہا ہے۔

آسٹریلین سمندروں میں لہروں میں ہلچل کیوں ہے؟

آسٹریلیا کے نزدیک زیر ِ سمندر پلیٹوں میں تحریک شکل نمبر 14 کے مطابق بڑھتی جا رہی ہے!!

اس کا ماخذ کہاں ہے؟

زیرِ سمندر اس زمینی خول ، یا کروی پلیٹوں کی حرکات میں کون سے عوامل کار فرما ہیں؟

یہ نہ سمجھا جائے کہ فقط سمندر کے فرش ہی بلین ٹن وزنی سمندری پانی میں تباہ کن لہر کو جنم دے سکتے ہیں بلکہ بڑے بڑے جزائر کے ساحلی علاقے اگر کسی بھی کمزور پلیٹ پر موجود ہیں تو لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے خشکی کا ایک بڑا خطہ سمندر برد ہو کر سینکڑوں فٹ طویل القامت لہر کو پیدا کر سکتا ہے۔ اس طرز کا بڑھتا ہوا  رجحان ہمیں قطبین ، کینڈا اور الاسکا میں نظر آتا ہے۔ درحقیقت ایسے حادثات نے سائنس دانوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر ایسا لینڈ سلائیڈ سمندر میں واقع کسی بھی کمزور ساخت کے جزیرہ میں ہوا تو یہ نوع انسانی کے لئے بڑی تباہی کا باعث ہوگا۔ جس کا نتیجہ کریٹے جزائر کی طرح ماڈرن تہذیب کے مکمل خاتمہ کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔ اس طرز کے سونامی طوفان کے ممکنہ مقامات میں جزائر کینیری میں ممکنہ لینڈ سلائیڈ کا خطرہ منڈلا رہا ہے۔ جو کسی بھی لمحہ تاریخی طویل القامت سونامی لہر کو جنم دے سکتا ہے جس ہدف مغربی ساحل پر واقع تمام ٹیکنا لوجی کے شاہکار شہر بتائے جا رہے ہیں ۔۔آخر یہ سب کیا ہو رہا ہے؟

اچانک کرۂ ارض پر تبدیلیاں ۔۔۔ موسموں کے اوقات بدل رہے ہیں۔۔ بارشیں اپنے روایتی موسموں کی بجائے دیر سویر سے ہو رہی ہے۔۔ برف باری کے مقامات بدل رہے ہیں!!

قدرتی آفات کی تعداد کیلنڈر کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے۔۔ ممکنہ حادثہ کے امکانات بڑھتے جارہے ہیں!!

کچھ ہو رہا ہے؟

کی تاریخ اپنے آپ کو دہرارہی ہے؟

یہ بھی کہا جاتا ہے یہ کوئی عذاب ہے یا نظام کائنات میں ہونے والی روٹین کی سرگرمی ، جو ہر دس ہزار سال بعد واقع ہوتی ہو؟

مگر کیوں؟


کوئی جواب نہیں ہے سوائے ریکارڈ شدہ اعداد و شمار کے ۔۔۔ جو کسی بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ کر رہے ہیں!!

اس مضمون میں ہم سونامی طوفان کے حوالے سے کرۂ ارض پر ہونے والی تبدیلیوں اور ان کے محرکات کا جائزہ لیں گے۔

باطنی علوم کے ماہرین بتاتے ہیں کہ تمام نظام شمسی قریب دس ہزار سال بعد اپنی اصل حالت پر تیار (Refurbish) کئے جاتے ہیں یعنی ان کو دوبارہ سیٹ (Reset) کیا جاتا ہے۔ موجودہ سائنسی مشاہدات کے مطابق اگر ہم شکل نمبر 9 میں دیکھیں تو بائیں سے دائیں جانب بڑھتے ہوئے گراف میں ایک دم سے گرتی ہوئی لکیریں 10,500 سال کی مدت ظاہر کر رہی ہیں اس مقصد کے لئے ہر نظام شمسی میں شکل نمبر 12 کی مانند دو یا تین بلیک ہول ہوتے ہیں۔ ہمارے نظام شمسی کے قریب بھی بلیک ہول ہیں۔ جن میں سے ایک کی حرکت NASA  نے 1996ء میں ریکارڈ کی تھی اس بلیک ہول کی بے پناہ کشش سے سیاروں کا اندرونی میگما ( لاوا یا پگھلی چٹانیں)متحرک ہوتا ہے یہ انتہائی فاصلے سے اس گرم سیال میں اپنی بے پناہ کشش سے بلبلے پیدا کرتا ہے یہ بلبلے سیارے کی اندرونی سطح سے بیرونی سطح کی جانب حرکت کرتے ہیں اور زلزلہ یا لاوا اگلنے کے عمل کو شروع کر دیتے ہیں چوں کہ ہمارے نظام شمسی کا بلیک ہول متحرک ہو چکا ہے  اس کے اثرات NASA نے زحل کے چاند پر ، مشتری پر زلزلوں کی شکل میں ، زہرہ کی ماحولیاتی تبدیلیوں ، سورج میں سونامی شعاعی طوفان میں اضافہ اور زمین پر بڑھتے ہوئے زلزلوں ، آتش فشاں پہاڑوں کے بکثرت لاوا اگلنے اور سونامی لہروں کے غیر معمولی قد و قامت کی شکل میں ریکارڈ کیا ہے۔


زیر ِ سمندر زمینی سطح سے متعلق بہت سا ڈیٹا اکٹھا کیا گیا مگر اسے عوام سے فی الحال پوشیدہ رکھا جا رہا ہے۔ ہم  آپ  کے لئے مختصراً زمین کی ساخت بیان کرنے کے بعد بڑھتے ہوئے سونامی کے  رجحان کا تذکرہ کریں گے۔

ہماری زمین کے دو تہائی حصے کو شکل 15 کی طرح سمندر کے پانی نے چھپا رکھا ہے۔ یہ پانی زمین پر زندگی کو جنم دینے میں اور رواں دواں رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔ سمندر کا یہ پانی زمین کے چھ اطراف میں پھیلا ہوا ہے۔ اپنی نیلی رنگت کے ساتھ یہ پانی زمین کی بیرونی سطح کے دو تہائی حصہ کو چھپائے ہوئے ہے۔زمین کی بیرونی سطح یا

خول مختلف بڑے ٹکڑوں میں تقسیم ہے۔ جنہیں پلیٹیں کہتے ہیں۔ ان پلیٹوں پر چھوٹے بڑے پہاڑ ، کئی سو میٹر گہری درزیں ، گھنے اور گنجان جنگل ، آتش فشاں پہاڑوں کے سلاسل اور متعدد جاندار بستے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ پلیٹیں زمین کے جس خول کا حصہ ہیں وہ دونوں جگہ پر موجود ہیں یعنی خشکی اور زیرِ سمندر۔ ان دونوں جگہ پر زندگی قائم ہے، دونوں جگہ پر زندگی جاری و ساری ہے۔ خوراک اور سانس لینے کا نظام بھی اس میں شامل ہے۔ مگر خوراک کی فراہمی اور نظام تنفس کا طریقۂ کار مختلف ہے۔ جدید سائنسی نظریات کے مطابق تمام پلیٹیں زمین کی سطح پر انتہائی سست روی سے متحرک ہیں۔ دراصل یہ پلیٹیں اپنے نیچے موجود پگھلی ہوئی چٹانوں کے سرخ و زرد آتشیں لپک والے سیال پر تیر رہی ہیں۔ پلیٹوں کی حرکت کے دوران کوئی نا خوش گوار واقعہ پیش آئے تو اس کے اثرات سطح زمین پر نمودار ہوتے ہیں۔


جیسے زلزلہ اور آتش فشاں پہاڑوں سے لاوا اور راکھ کا اگلنا ہے۔ سونامی کے حوالے سے شکل نمبر 16 میں دکھائے گئے بحرا و قیانوس میں واقع کینیری جزائر سائنسدانوں اور ماہرین ارضیات کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ مراکش کے شمال میں موجود یہ جزائر مملکت برطانیہ کے زیر اثر ہیں۔ کئی دہائیوں سے یہ مقام سیاحوں کی دلچسپی کا مرکز رہا ہے۔ قدرتی مناظر سے بھر پور یہ خطہ اپنی طبعی موت کی جانب بڑھتے ہوئے لاوے کے پہاڑوں کا سلسلہ بتایا جاتا ہے۔ یہ جزیرے

دو تین دفعہ سونامی کا شکار ہو چکے ہیں مگر نقصان کی شدت اتنی زیادہ نہیں رہی سائنس دانوں اور ماہرین ارضیات کے مطابق لاوے کے ڈھیر پر مشتمل پہاڑ جو سطح سمندر سے کئی گنا زیادہ سمندر کے اندر پھیلے ہوئے ہیں اپنی ساخت میں بہت کمزور ہو چکے ہیں جو کسی بھی لمحے ٹوٹ کر سمندر کے اندر ہی بکھر جائیں گے نتیجتاً کئی سو مربع کلو میٹر کا رقبہ سمندر برد ہو جائے گا جو کہ کئی میٹر بلند و بالا سمندری لہر پیدا کرنے کا سبب بن سکتا ہے بات یہیں ختم نہیں ہوتی کینیری کا محل وقوع ایسا ہے کہ اس کے چاروں اطراف عظیم الشان تہذیبیں بستی ہیں۔ مشرق میں فرانس ، بیلجیئم شمال میں برطانیہ ، جنوب میں افریقہ اور مغرب میں شمالی امریکہ کے بڑے صنعتی شہر نیویارک بوسٹن وغیرہ۔

ان تمام مفروضات کی بنیاد انتہائی حساس آتشی چھلہ ہے جس کے اطراف میں چار بڑے براعظم کھڑے ہیں شکل نمبر 17 کے مطابق آسٹریلیا ، ایشیا ، شمالی و جنوبی امریکہ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ سمندر ہر چھوٹے بڑے سونامی کا اکثر شکار رہتا ہے۔ مگر گزشتہ چند دہائیوں سے بڑھنے والی شدت اور تعداد ماہرین ارضیات کے لئے ایک بڑا سوال ہے؟