Topics

ہوا کی بے پناہ مقدار کھلے سمندر وں میں کیوں پائی جاتی ہے

ماہرین کے کمپیوٹرائزڈ تجزیہ اور ممکنہ مثالوں کا ذکر کرنے سے پہلے ہم 2004ء باکسنگ ڈے کو وقوع پزیر ہونے والے سونامی کا ذکر کرتے ہیں۔ جس نے بحر ہند کے اطراف اپنے جائے وقوع سے دور دور تک تباہی مچادی۔ 26 دسمبر 2004ء کی صبح زیر سمندر وقوع پذیرہونے والے زلزلہ نے شکل نمبر10 کی مانند سمندر کے تخت کو دو حصوں میں چیر دیا یہ انتہائی نا قابل یقین واقعہ تھا جس کے بارے میں سماٹرا انڈونیشیا کے نزدیک اس زیر سمندری حادثہ کے بارے میں کوئی گمان بھی نہیں تھا سماٹرا کے سمندر میں پیدا ہونے والی یہ سمندری  لہر جیٹ جہاز سے بھی زیادہ رفتار سے حرکت کرتی ہوئی بحر ہند کے اطراف ساحلی علاقوں سے جا ٹکرائی انٹر نیٹ پر ان گنت تصاویر اور ویڈیو سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ قدرتی آفت کیسے ساحلی علاقوں میں کئی کلو میٹر اندر تک داخل ہوئی۔ سینکڑوں مکانات ، صنعتی ادارے ، سرکاری وغیر سرکاری عمارتوں ، گاڑیوں ، کو تنکے کی طرح بہا کر واپس سمندر میں چلی گئی۔ ۔لوگوں کی کثیر تعداد نے اونچے درختوں اورعمارتوں سے لٹک کر جان تو بچا لی مگر حادثہ کا نقش آج بھی برےخوابوں کی صورت میں انہیں خوف زدہ رکھے ہوئے ہے۔ تباہی کے اثرات سے ان کے ذہن سہمے ہوئے ہیں۔60 فٹ اونچی لہر جس نے ساحلی علاقہ میں تین میل تک داخل ہو کر ہر قسم کے تعمیراتی اسٹرکچر کو زمین برد کر دیا بڑے بڑے جہاز ، کشتیوں کو ساحل سے کئی کلو میٹر اندر خشکی میں دھکیل دیا۔ بعد ازیں پانی اتر گیا مگر متاثرین تک پہننے کا کوئی راستہ نہیں تھا، ریسکیو ٹیم کو انتہائی خطرناک صورتحال کا سامنا تھا ، دلدلی زمین ، مخدوش عمارتی اسٹر کچر اور جگہ جگہ پانی کے بدبو دار تالاب۔ ریسیکو ٹیموں کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ بچ جانے والے لوگوں کو بحفاظت کیسے نکالا جائے۔ جب یہی لہر تھائی لینڈ کی طرف سفر کر رہی تھی تو ساحل پر متعدد لوگ تھے بلندی پر موجود شاہدین چلاتے رہے کہ بھاگو ۔ بچو۔ مگر لہروں نے آناً فاناً سب کو لپیٹ میں لے لیا لہریں کیا تھیں۔ سمندر کا پانی جس میں جھاڑ جھنکار لکڑی کے بڑے بڑے تختے ، گاڑیاں ، مکانوں کی چھتیں بہت سی جھاڑیاں ان کے لئے موت بن گئیں جو تیرنا جانتے تھے وہ سبک رفتاری سے بہتے ہوئے بھاری تختوں سے ٹکرا کر جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے یا زخمی ہو گئے۔یہی لہر سری لنکا اور مشرقی افریقہ کے ساحلی علاقوں تک تباہ کاریاں پھیلاتی رہی۔ سونامی کے سمندری پھیلاؤنے شکل نمبر19 کے نقشہ کے مطابق لگ بھگ 40 گھنٹے میں تقریباً آدھی دنیا میں  گھوم کر 2,25000 جانیں لے لیں۔


جیسا کہ واضح ہے کہ ہماری زمین کا بیرونی خول تقریباً سات بڑے ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے ہر ٹکڑے کی موٹائی اوسطاً 100 کلو میٹر بتائی جاتی ہے  جو کہ بیرونی طور پر مشتمل ہیں ان سب کو ارضیاتی پلیٹ کہتے ہیں۔ یہ پلیٹیں انتہائی سست روی سے ہمہ وقت لاوے پر تیرتے ہوئے حرکت میں رہتی ہیں۔ گزشتہ کئی صدیوں سے زیر سمندر پلیٹوں کی سر گرمیوں میں ہلچل ریکارڈ نہیں کی گئی مگر 1971ء سے پلیٹوں کی حرکت میں واضح تبدیلی ریکارڈ کی جا رہی ہے۔ سائنسدانوں کی توجہ کا مرکز زیر زمین سمندر کی پلیٹوں کے کمزور گوشوں کی نشاندہی کرنا اور ان میں ہونے والی تبدیلیوں کی ہمہ وقت مانیٹرنگ ہے اس لئے دنیا بھر میں سونامی مانیٹرنگ اسٹیشن متعدد مقامات پر قائم کر دیئے گئے ہیں۔

26 دسمبر 2004ء کو رونما ہونے والے پلیٹوں کے حادثہ سے600 میل لمبی  دراڑ زیر سمندر نمودار ہوئی اور اس دراڑ نے سمندر کے فرش کو قریباً 10گز افقی طور پر اور کئی گز عمودی طور پر دھکیل دیا۔ یاد رہے اس پلیٹ کے اوپر بلین ٹن وزنی سمندری پانی موجود ہے۔ جسے افقی اور عمودی طور پر شفٹ کرنے کے لئے بے پناہ طاقت چاہیے۔

اس طاقت کا منبع و ماخذ کہاں تھا؟ تا حال اس کا سراغ نہیں ملا!

مگر اس کے نتیجے میں سنکھوں ٹن وزنی چٹانیں سینکڑوں میل تک  10 گز کی دراڑ سے جدا ہو گئیں ایسی کئی درزیں سطح زمین پر کئی مقامات پر موجود ہیں جیسا کہ شکل نمبر10 میں پیدا ہونے والی درز کی وجہ سے زمین کا ایک ٹکڑا سطح سے چند گز اوپر اٹھ گیا۔ ایسی ہی صورتحال سماٹرا میں بھی پیش آئی مگر وہاں صرف زمینی ٹکڑا ہی اوپر نہیں اٹھا بلکہ کھربوں سنکھوں ٹن وزنی پانی بھی اوپر کی جانب دھکیلا گیا۔۔ یہی مہیب تباہکاری کا سبب بھی بنا۔ اس زلزلہ کی شدت 9 ریکٹر سکیل تھی جس نے 10 منٹ میں چوتھائی ملین جانیں لے لیں۔ قریباً آدھ ملین زخمی اور ایک ملین ڈالر کی تباہ کاری پھیلائی اور 5  ملین لوگ بے گھر ہوگئے۔

روایتی سونامی کے برعکس باکسنگ ڈے کے سونامی نے ماہرین کو مختلف زاویوں سے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اس سونامی کی اتنی بڑی طاقت کا منبع کہاں تھا سونامی عام طور پر سمندری طوفان کے مقابلے میں تباہ کن ہوتا ہے مگر یہ سونامی لہر ماہرین کے لئے بڑا سوالیہ نشان تھی۔

بلین ٹن وزنی پانی کے نیچے سمندری تخت کی ٹوٹ پھوٹ سے دھماکہ دار موج کی وجہ سے ایک بلند و بالا لہر پیدا ہوئی۔  آپ  اندازہ لگائیں کہ دھماکہ سے قبل پیدا ہونے والی کوئی شاک ویو کس قدر تباہی کا موجب ہوتی ہے تخت سمندر میں پیدا ہونے والی یہ شاک ویو اپنی نوعیت میں اس طرح مختلف ہوتی ہے کہ اس میں سطح سمندر کا پانی فضا میں سمندری طوفان کی ماند چکر نہیں لگاتا ، بلکہ چہار سو انتہائی رفتار کی لہروں کا ایک سلسلہ پیدا ہوتا ہے، جس کی طاقت اور طول میں ماخذ سے فاصلے کے ساتھ ساتھ بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ساحل کے قریب کم گہرائی کی وجہ سے لہر کا قدوقامت کئی فٹ تک بلند ہو جاتا ہے۔

 آپ  کی دلچسپی کے لئے ہم ذکر کرتے چلیں آخر ہوا کی بے پناہ مقدار کھلے سمندروں میں ہی کیوں پائی جاتی ہے ، جب کہ ریگستانوں میں بھی ہوا کا زور کم و بیش ایسا ہی ہوتا ہے !!

اسی طرح ریگزاروں  میں ریت پر ہوا کے نقوش ویسے ہی دکھائی دیتے ہیں جیسا کہ ساحل سمندر پر موجودریت!!!

ہم  آپ  کی توجہ اس نقطہ کی طرف بھی مبذول کرتے ہیں آخر کیوں۔ سونامی طوفان کے ساتھ فضا میں گہرے ، سیاہ بادل چھا جاتے ہیں۔ اور موسلا دھار بارش کا سبب بنتے ہیں ، جب کہ طوفان کے ماخذ پر پانی کی اونچائی صرف چند میٹر تک ہی بڑھتی ہے۔۔؟؟

ہم سونامی اور سمندری طوفان کے ذکر پر واپس آتے ہیں۔ سمندری طوفان کے محرکات سمندر پر ہی وقوع پذیر ہوتے ہیں جبکہ سونامی ہمیشہ زیر سمندر پیدا ہوتے ہیں جن کے اسباب زلزلہ آتش فشاں یا کوئی بھی لاوا پھٹنے کی سرگرمی ہو سکتی ہے۔ ایسی سرگرمیاں پلیٹ کے نیچے بے پناہ طاقت کے دباؤ کی موجودگی کو ظاہر کرتی ہیں۔ جو لینڈ سلائیڈ کا سبب بنتا ہے اس کے نیچے پانی کا پورا بلاک ایک ٹکڑے کی شکل میں کئی گز سطح سمندر سے باہر اوپر کی طرف اٹھتا ہے کہ سونامی کو جنم دیتا ہے سمندر کے بیچ گہرائی کی وجہ سے لہر کی اونچائی کم ہوتی ہے اس کی سطح پر لمبائی ایک سرے سے دوسرے سرے تک کئی سو میل ہوتی ۔ مگر سونامی لہر جیسے  جیسے ساحل کے کناروں پر پہنچتا ہے تو سراسیمگی پھیل جاتی ہے جب یکایک ساحل سمندر سے پانی آدھا پونا کلو میٹر واپس دور سمندر میں چلا جاتا ہے اور ساحل چند منٹوں کے لئے دور دور تک خالی ہو جاتا ہے۔ یہDawback کا عمل کہلاتا ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ سونامی واقع ہونے والا ہے

واپس لوٹ جانے والا پانی سمندر سے آنے والی طویل القامت لہر کے نچلے حصے سے متصادم ہوتا ہے جس کے نتیجہ میں عظیم سمندری دیوار ایک قوس کی شکل اختیار کرتی ہوئی کئی گنا زیادہ رفتار سے ساحل سے ٹکرا جاتی ہے۔ جو کچھ سامنے آتا تہس نہس کرتی ہوئی میلوں دور تک ساحل پر پھیلتی جاتی ہے۔

باکسنگ ڈے کے سونامی کی لہر کی اونچائی نا قابل یقین تھی۔BBC کے مطابق سائنسدانوں کی ایک ٹیم سونامی کی نوعیت اور زمینی زلزلہ کے اثرات کا مشاہدہ کرنے سماٹرا پہنچی۔ اس سلسلے میں انہیں پہلے زیر زمین ایسے شگاف کو ڈھونڈنا تھا جوان کے خیال میں26 دسمبر 2004ء کو پیش آیا اور اس نے زمینی خول کو کئی فٹ بلند کر دیا جو کہ سونامی لہر کا سبب بنا۔ اس مقام پر یورپی ایلپ جیسے بلند و بالا پہاڑ بھی ہیں جنہیں کئی لاکھ سالوں سے زمین کی پلیٹیں دھیرے دھیرے باہر دھکیل رہی ہیں۔ سائنسدانوں کا مطلوبہ شگاف بھی یہیں کہیں موجود ہونا چاہیے تھا۔ سائنسدانوں نے تجرباتی ماڈرن آلات سے لیس سب میرین کو زلزلہ کے ممکنہ مقام پر سمندر میں اتارا انتہائی طاقتور عدسوں اور کمپیوٹر کی مدد سے زیر سمندر سطح کا تجزیہ کیا گیا ، دن رات ریکارڈنگ کی گئی بلاشبہ سائنسدانوں کے لئے یہ ایک عظیم کامیابی تھی۔شواہد کی مدد سے نظریات تیار ہوئے مادہ سے مادی مظاہر کے مشاہدہ میں ہمیشہ مادی آلات کا عمل دخل ہوتا ہے جو کہ مشاہدہ سے حاصل ہونے والے ڈیٹا کیReliability کم کر دیتا ہے۔ مگر سائنسی تجربات و مشاہدات میں مادی آلات کا ستعمال مذہبی تعلیمات کی طرح کیا جاتا ہے ، جسے کوئی بھی چیلنج نہیں کرتا۔

ہم  آپ  سے سوال کرتے ہیں ایسا کیوں ہوتا ہے۔۔؟؟ مظاہر قدرت کی مادی آلات کی مدد سے درست پیمائش میں ناگزیر خامی کے باوجود موجودہ ریسرچ ایسے ہی ڈیٹا پر کی جاتی ہے۔

اس حوالے سے روحانی سائنسدان المعروف حضور قلندر بابا اولیا ؒ فرماتے ہیں :

یہ بات روز مرہ ہمارے مشاہدہ میں آتی ہے کہ ہماری نظر ایک متعین حد میں کام کرتی ہے لیکن اگر نظر کی متعین حدود میں اضافہ کر دیا جائے تو نظر عام حالت میں جتنا دیکھتی ہے اس سے زیادہ فاصلہ پر دیکھ سکتی ہے مثلاً ہم آنکھوں پر دور بین لگاتے ہیں۔ دور بین کے اندر جو شیشے لگے ہوئے ہوتے ہیں وہ ان طول موج کو جو نظر کے لئے دیکھنے کا بعث بنتے ہیں آنکھوں کے سامنے لے آتے ہیں۔ اب میلوں فاصلہ کی چیز دیکھ لیتے ہیں۔ کسی آدمی کی نظر کمزور ہے۔ سامنے کی چیز اسے نظر نہیں آتی اور چشمہ لگانے کے بعد دور دور تک دیکھنے لگتا ہے۔ اس عمل سے سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ شیشے کے اندر ایسی صلاحیت موجود ہے جو صیقل کرنے سے ظاہر ہوتی ہے۔

طاقت بڑھا دیں تو نظر دور تک کام کرنے لگتی ہے جب آپ شیشے کے اندر سے میلوں میل دیکھ رہے ہیں تو اس آنکھ سے جس آنکھ نے فرشتوں کو دیکھا ہے اور اللہ کو دیکھا ہے غیب کی دنیا میں کیوں نہیں دیکھ سکتے۔

مادی وغیر مادی مشاہداتی تفاوت کے بارے میں مزید تفصیلات کے لئے ہم گریجویٹ اور پی ایچ ڈی طلباء و طالبات اور ماہرین کی رائے کے منتظر رہیں گے۔

آیئے دیکھتے ہیں کہ سماٹرا کے زیر سمندر زلزلہ سے کیا کیا انکشاف ہوئے۔ جب ماہرین کی آبدوز نے سمندر کے فرش کو چھو لیا سطح سمندر کے ساتھ ارضیاتی پلیٹ پر اچانک زلزلہ کی تازہ تباہ کاریاں نظر آنا شروع ہو گئیں جن میں بڑے بڑے تیز کناروں والے پتھر اور گڑھے وغیرہ شامل تھے۔ اس سے قطع نظر وہ ایک ایسی چوٹی کی تلاش میں تھے جو حال ہی میں ارضیاتی پلیٹ سے ابھر کر کئی گز باہر آگئی ہو۔ سائنسدان اس بات کا خاص خیال رکھ رہے تھے کہ چوٹی حال ہی میں  ابھری ہو مشاہدہ کی Reliability بڑھانے کے لئے ابھرنے والی چوٹی ہی اصل ہے یا نہیں۔ ماہرین اس بات پر متفق تھے کہ چوٹی کی اوپری سطح خراش دار اور تیز دھار ہونی چاہیے جس کے تیز کنارے اسے باہر نکلنے میں مدد دیتے ہیں۔

ان نکات کو ذہن میں رکھ کر ماہرین سمندر میں آبدوز سے مسلسل اس قسم کی چٹان کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ حتیٰ کہ انہیں اچانک ایک طویل بند راستہ ملا جہاں سے صرف دائیں بائیں جا سکتے تھے۔ یہ چٹان قطعاً ڈھلوان نہ تھی بلکہ ایک دیوار کی مانند سیدھی ۔ بالکل عمودی ۔ مفصل جائزہ کے بعد ، ماہرین نے آبدوز کو آہستہ آہستہ چٹان کے ساتھ عموداً اوپر اٹھایا حتیٰ کہ چٹان کی چوٹی پر انہیں تیز دھار والے کنارے دکھائے دینے لگے جو ایک سرے سے دوسرے سرے تک پھیلے ہوئے تھے۔ ماہرین کے چہرے کھل اٹھے ، جب ان کے اندازوں کی تصدیق ہونے لگی۔ سونامی کی شدت و سائز میں مطابقت نظر آرہی تھی۔ مگر سوال در سوال اٹھ رہے تھے۔!!!

لہر میں بے پناہ طاقت کے ذمہ دار عناصر کون سے تھے ۔۔؟؟

یہ ہنوز جواب طلب تھا۔ چٹان کا جائزہ لیتے ہوئے سائنسدانوں اس وقت انگشت بدنداں رہ گئے جب اسی چٹان کی چوٹی پر ایک چھوٹا سا پلیٹو بنا ہوا تھا، جس کے قریب کچھ فاصلے پر انہوں نے ایک اور چٹان ابھری  ہوئی دیکھی۔۔

با لکل نئی۔۔ انتہائی تیز دھار ، سائز میں نسبتاً چھوٹی۔

سائنسدان اس گتھی کو سلجھانے میں کامیاب ہوگئے۔ یہ سونامی عام سونامی نہیں تھا بلکہ اس کی لہر ایک میگا طاقت والے زلزلہ کا ردعملتھی جو کہ اب تک ریکارڈ کئے گئے زلزلوں میں ایک بڑا زلزلہ سمجھا جاتا ہے۔

ایک اندازے کے مطابق دونوں چٹانوں کی چوٹیاں جس بے پناہ طاقت سے زیر سمندر ارضیاتی پلیٹ کو توڑ کر  40 فٹ تک باہر نکلی ہیں۔ چٹانیں چند منٹوں تک ٹریلین ٹن وزنی زیر سمندر پانی اوپر کی طرف دھکیلتی رہیں۔ اس سے  آپ  زمینی پلیٹ کے نیچے موجود گیسی دباؤ کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ جس کے منبع کے بارے میں اندازہ لگانا فی الحال موجودہ مادی آلات کی دسترس سے باہر ہے۔ جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے ان تبدیلیوں میں ایک محرک بلیک ہول بھی ہو سکتا ہے۔ سمندری زیر زمین چٹانوں کے کئی فٹ اوپر نمودار ہوتے ہی سمندری پانی میں گولی کی اسپیڈ کے برابر لہر پیدا ہوئی جس نے 600 میل لمبی دراڑ ڈال دی۔ یاد رہے یہ زلزلہ پانی میں آیا زلزلہ کی طاقت کو سمندر نے جذب کیا ہے۔ اگر یہی خشکی پر ہوتا تو کئی جدید صنعتی علاقوں کو زمین میں دفن کر دیتا زلزلہ کی طاقت کو بلین ٹن وزنی پانی نے جذب کیا۔ جو طاقت بچی وہ تقریباً 500 mph  کی رفتار سے پھیلتی چلی گئی۔

سونامی۔ پراجیکٹ SEAL 

باکسنگ ڈے کے اس سونامی نے جہاں تباہ کاریوں کی ایک طویل داستان رقم کی وہیں ایک حیرت انگیز واقعہ مدراس انڈیا کے مشرقی ساحل کے نزدیک مہا بالی پور میں پیش آیا۔ ساحل پر واقع اس مقام پر تاریخی مندروں پر مشتمل ایک بڑا تعمیراتی مرکز بتایا جاتا ہے۔ مقامی تاریخ دانوں کے مطابق یہاں سات مندروں پر مشتمل ایک پوجا گھر بنایا گیا تھا۔ ہندو مذہب میں پانی کو پاکیزگی کے حوالے سے اہمیت حاصل ہے۔ اس لئے ان کی عبادات اکثر بہتے پانی میں بیٹھ کر ، لیٹ کر یا کھڑے ہو کر کی جاتی ہیں۔ یہ مندر بھی قریب دو ہزار سال پہلے اسی قسم کی مذہبی رسومات اور تعلیم و تربیت کا مرکز تھا۔ نامعلوم وجوہات کی بنا پر یہ سارا خطہ سمندر برد ہو گیا ، جس کا ذکر صرف مذہبی کتابوں اور دیو ما لائی کہانیوں میں ملتا ہے۔

2002ء میں ماہرین آثار قدیمہ نے اس علاقہ کی مختلف مقامات پر کھدائی کی تو 5 سے 8 میٹر کی گہرائی میں مدفون دیورایں ، فرش اور گلی کوچوں کے مکمل تعمیراتی خاکے سامنے آنے شروع ہوگئے۔ حتیٰ کہ 2004 ء کے سونامی طوفان کے وقت جب ساحل سمندر سے پانی 500 میٹر پیچھے ہٹ گیا تھا تو موقع پر موجود سیاحوں اور مچھیروں نے دیکھا کہ چٹانوں کی ایک باقاعدہ ترتیب پانی سے ابھر کر سامنے آرہی تھی حتیٰ کہ شکل نمبر 20 کے مطابق ڈوبنے والے مندروں کے آثار واضح دکھائی دینے لگے۔ بتایا جاتا ہے کہ یہاں سات سمندر تھے جس میں صرف ایک ہی پانی سے باہر ہے جب کہ بقیہ چھ سمندر برد ہو چکے ہیں ایسی ہی ایک مورتی شکل نمبر 3 میں دکھائی گئی ہے۔

وہ ایک بھگوان کی کہانی ہے، جسے دوسرے بھگوان نے حسد میں سمندر برد کر دیا گزشتہ کئی سو سالوں سے یہ کہانی سینہ در سینہ ، نسل در نسل منتقل ہو رہی تھی۔ اور پھر 2004ء میں مقامی لوگوں نے چند منٹ دیکھا ۔۔ دور سمندر میں نسبتاً گہرائی میں واقع ایک تعمیراتی کمپلیکس ۔۔ جسے کسی زمانہ میں روایتی کہانیوں کے مطابق بھگوان کی ناراضگی کے سبب سمندر نے نگل لیا اور اب وہ دوبارہ نظر آرہا تھا مگر فوراً ہی سمندری لہر کی ایک بڑی دیوار آئی اور اس نے نہ صرف چھ مندروں کو دوبارہ چھپا لیا بلکہ ساحل پر دور تک تباہی مچا دی۔ ساحلی علاقوں کی سونامی کے بعد مزید کھدائی کی گئی اور جدید آلات کی مدد سے سمندر کی سکیننگ کی گئی۔ اس دوران مندروں کا پورا سلسلہ سامنے آیا اور ایک طویل ترین سرنگ بھی دریافت ہوئی۔ ایسی سرنگیں ساحل سمندر پر پائے جانے والے دوسرے مندروں میں بھی دریافت کی گئی ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ قریب 2000 سال پہلے تامل سنگم اور یلاوا دور کے دوران کسی سونامی طوفان نے مہابلی کے وسیع علاقے کو نگل لیا ہوگا۔ پتھروں کی 10 میٹر لمبی دیوار جو 6 فٹ اونچی ہے دور سمندر میں موجود ہے ایک عظیم تہذیب کے نشانات ظاہر کر رہی ہے۔ اب ساحل سمندر پر ایک ویران مندر اور دیہات کے علاوہ کچھ نہیں مگر پرانی سیپیاں اور سمندری جانوورں کے خول اسی عظیم سونامی کی نشاندہی کرتے ہیں۔


ایسا ہی ایک سونامی اس زمانہ میں بھی بتایا جاتا ہے جب صدیوں پہلے یہ زمین ڈائنو سار سے آباد تھی۔ قوی الجثہ ڈائنو سار کا دور شکل نمبر 21 کے مطابق کتنا عرصہ رہا، اس کا حتمی تعین نہیں کیا جا سکا ، مگر ماہرین ارتقا بتاتے ہیں ڈائنو سار جیسے بڑے جانور ایسے سونامی میں لقمۂ اجل بنے اس کا محرک کرۂ ارض کا زیر سمندر زلزلہ یا ارضیاتی لینڈ سلائیڈ نہیں تھی بلکہ خلا سے آنے والا کوئی شہابیہ تھا ۔ شکل نمبر 11 کے مطابق 1971ء میں ماہرین نے قدیم شہا بیہ کے آثار خلیج میکسیکو میں دریافت کئے ہیں۔ شہابیہ کی جسامت کم و بیش اسلام آباد کے حدوداربعہ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔ جس کے ٹکراؤ سے سمندر میں 112 میل لمبا گڑھا موجود ہے۔ کم وبیش چھ میل چوڑا یہ شہابیہ سینکڑوں گز گہرا ہوگا۔ جیسا کہ

شکل نمبر 11 میں دکھایا  گیا تھا۔۔


آپ  تصور کریں 700 میل فی منٹ کی اسپیڈ سے زمین پر پہنچنے والے اس شہابیہ نے کس قسم کے سونامی کو جنم دیا ہوگا۔ قیاس کیا جاتا ہے۔ 60 مربع کلو میٹر کا آگ کا گولہ جب سمندر میں گرا تو اس نے سمندر کے پانی کو بخارات بنا کر اڑا دیا۔ سمندر کے فرش تک ایک پانی کا خلا بنا جسے بھرنے کے لئے چاروں طرف سے پانی کی موج بنی جس کی اونچائی سطح سمندر کے فرش تک تھی۔ چاروں طرف سے نمودار ہونے والی ان امواج سے پیدا ہونے والے سونامی کی لہریں تسلسل سے یکے بعد دیگرے پیدا ہوتی گئیں۔ اتنی بڑی لہریں جب اپنے قرب و جوار کے ساحلی علاقوں میں 100 میل تک داخل ہوئیں تو کچھ باقی نہ بچا۔ ہو سکتا ہے ڈائنو سار کو ختم کرنے میں شہابیہ کا کلی کردار نہ ہو مگر پھر بھی ارضیاتی موسم میں ایک بڑی تبدیلی ضرور پیدا ہوئی جیسا کہ دور حاضر میں پیدا ہونے والے سونامی طوفانوں سے پیدا ہوئی ہے۔ ایک بڑی تہذیب کا ذکر ہمیں مشہور یونانی فلاسفر ارسطو کی کتابیوں میں ملتا ہے۔ اس کے مطابق میڈیٹیر ینیئن(Mediterranean)  سمندر میں ایک عظیم الشان تہذیب کے آثار موجود ہیں۔ Atlantis  کے نام سے اس تہذیب نے صنعت و حرفت میں کمال پیدا کیا تھا۔ راتوں رات یہ پوری تہذیب جو مصر کے شمال اور یورپ کے جنوب میں تھی سونامی طوفان کی نذرہوگئی۔ یہ واقعہ قریب 2000 سال پہلے کا بتایا جاتا ہے۔ اس کا محل و وقوع میڈ یٹیر ینیئن سمندر میں ایسے مقام پر ہے جہاں گہرائی 3 کلو میٹر سے زیادہ ہے۔ یاد رہے کہ میڈ یٹیر ینیئن کی اوسط گہرائی 1.5 کلو میٹر ہے۔ یہ سمندر بے انتہا دلچسپی کا باعث ہے جس کے اندر بہت سی تہذیبیں چھپی ہوئی ہیں۔ مشرق کی جانب

کریٹے جزیرہ کے نزدیک مینو ئن تہذیب کے آثار زیر سمندر موجود ہیں پانچ ہزار سال پرانی اس تہذیب کی بہت سے اشیا بالکل صحیح حالت میں ملی ہیں جن سے پتا چلتا ہے کہ ان کی اپنی بحری قوت تھی اور ان کے پڑوسی اطالوی مملکتوں سے ان کے تجارتی روابط تھے ، مگر 3500 سال پہلے کسی اچانک حادثہ نے پوری تہذیب کو یکدم مٹا دیا اور سب کچھ سمندر برد ہو گیا۔ ماہرین ارضیات نے کریٹے جزیرہ کی قریبی پہاڑی پر انتہائی بلندی پر سمندری سیپیاں دریافت کیں اس کے علاوہ کچھ فوسل بھی ملے۔ باریک بینی سے لیبارٹری جانچ کرنے سے پتا چلا کہ یہ اندازاً 3500 ہزار سال پرانی ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب نزدیک ترین آتش فشاں پہاڑ سنتورینی  اپنی پوری طاقت سے پھٹ پڑا۔ راکھ ، گیس ، آگ اورپگھلی ہوئی چٹانوں کو اگلتے ہوئے فضا میں 25 میل تک پھیل گیا۔ ماہرین بتاتے ہیں کہ جب سمندر میں واقع آتش فشاں پہاڑ اپنی پوری طاقت سے پھٹنے لگتے ہیں تو ان کا دہانہ خالی ہو جاتا ہے اور وہ دب جاتے ہیں یعنی پورا پہاڑ کلی یا جزوی طور پر سمندر میں غرق ہو جاتا ہے۔ اس طرح سمندر میں پیدا ہونے والا خلا سونامی لہروں کے ایک بڑے سیل کا سبب بنتا ہے۔ پگھلے ہوئے لاوے اور سمندری پانی کے ملاپ سے تسلسل کے ساتھ لہریں بنتی ہیں اور یکے بعد دیگرے سمندر کے پانی کی ایک بلند قامت لہر بن جاتی ہے  جو سمندر میں اپنا سفر شروع کر دیتی ہے۔ اور جو کچھ اس کے راستہ میں آتا ہے اسے ڈبودیتی ہے۔ اس طرح 20 منٹ میں ایسی ہی لہر کریٹے جزیرہ پہنچی ہوگی مینوئن کریب کے لوگوں نے آتش فشاں پھٹنے کی آواز کو ضرور سنا ہوگا مگر انہیں کہیں بھی یہ شبہ نہیں ہوا ہوگا کہ جنوب سے کوئی طویل قامت لہر نمودار ہو کر انہیں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سمندر برد کر دے گی اور جب وہ ساحل سے ٹکرائی تو اس کی بلندی 60 فٹ تھی۔ چشم زدن میں ساحل پر آباد ہزاروں لوگوں کو نوالہ بنانے کے بود وہ سمندر کی جانب پلٹ گئی۔ جزیرہ کو نقصان پہنچا۔ مینوئن تہذیب کے بچ جانے والے لوگوں نے اونچے مقامات پر پناہ لی۔ سونامی نے دنیا کی تاریخ میں کئی شاندار تہذیبوں کو ختم کیا ہے۔ کرۂ ارض پر وقوع پذیر ہونے والے 80% سونامی بحرالکاہل میں آتے ہیں۔  آپ  اندازہ لگا سکتے ہیں کوئی بھی آبادی جو جزیرہ کی شکل میں اس بحر میں موجود ہے کس قدر خطرہ میں ہوگی جیسا کہ جزائر جزائر ہوائی۔دور قدیم میں خیال کیا جاتا تھا کہ سونامی کبھی بھی وقوع پذیر ہو سکتا ہے اس کی قبل از وقت پیشن گوئی کرنا ممکن نہیں مگر ماہرین نے بحرالکاہل کا گہرا مطالعہ کیا جو مکمل طور پر نیچے سے زلزلہ اور آتش فشاں والے پہاڑوں سے مرتب ہے یہ چھلہ کی شکل میں آگ کارم کہلاتا

ہے اس رم کے اندر جب بھی زلزلہ آتا ہے یا کوئی لوا اگلنے کا واقعہ پیش آتا ہے تو اس سے پیدا ہونے والی سونامی کی لہر چاروں طرف پھیلتی ہے۔

اور اگر آپ بحرالکاہل یا اس چھلہ کے درمیان میں کسی جزیرہ پر رہائش پذیر ہیں تو ہمہ وقت چاروں طرف سے کسی بھی سونامی کی زد میں ہیں۔ جزائر ہوائی سیاحوں کے لئے پر کشش ساحلی مقام ہے مگر گزشتہ 200 سالوں میں کم و بیش 137 سونامی کا شکار ہو چکا ہے۔ 1946ء میں شمال میں الاسکا میں زلزلہ کی وجہ سے سونامی کی لہر پیدا ہوئی 2500 میل دور سے یہ لہر پانچ گھنٹے میں ہوائی  اور بحرالکاہل کے گرد و نواح میں پہنچ گئی۔ کئی سو اموات ہوئیں اگلے 12 سالوں میں تین دفعہ پھر سونامی طوفان ہوائی سے ٹکرایا ۔۔۔ 1960 ء میں چلی کے ساحلی علاقہ میں ایک بڑا زلزلہ آیا تقریباً 15  گھنٹے میں سونامی نے ہوائی میں 60 لوگوں کی جانیں لے لیں ہوائی کو سونامی کا مرکز بھی کہا جاتا ہے مگر ہوائی کو اپنے جائے وقوع کا ایک فائدہ بھی ہے۔ بحر الکاہل کے درمیان ہونے کی وجہ سے سونامی کو پہنچنے میں وقت لگتا ہے۔ اس دوران سونامی مانیٹرنگ اسٹیشن احتیاطی تدابیر کے تحت ساحلی علاقوں میں اقدامات کر دیتے ہیں مگر جاپان میں صورت حال مختلف ہے جہاں سونامی سے بچنے کے لئے اکثر چند منٹ ہی ملتے ہیں اس کی وجہ آگ کا وہی چھلہ ہے جو بحرالکاہل کے چاروں جانب ہے اس کا سب سے زیادہ فعال آتش فشاں جاپان کے بالکل نزدیک ہے اسی کے نزدیک زلزلہ خیز پہاڑوں کے سلسلے موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جاپان میں شرح اموات بوجہ سونامی سب سے زیادہ ہے۔ اگر چہ اب تک کئی ہزار افراد سونامی کی وجہ سے ڈوب چکے ہیں مگر جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سونامی مانیٹرنگ اسٹیشن جاپان اور ہوائی میں بحر الکاہل کے علاقہ کی مسلسل نگرانی کرتے رہتے ہیں۔ اس طرح شرح اموات میں خاصی حد تک کمی واقع ہو چکی ہے۔ زلزلے کے زیر سمندر جھٹکے کے ساتھ ہی اس کے ممکنہ اثرات کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔ سونامی لہر کا اثر ، دورانیہ ، شدت سے متعلقہ فراد کو آگاہ کر دیتے ہیں۔ قدرتی آفات سے بچنے کے لئے ٹیکانولجی کا استعمال شروع ہو گیا ہے مگر ایک وقت ایسا بھی تھا جب سونامی کرۂ ارض کے ایک خط پر وقوع پزیر ہوا جہاں نہ ٹکنا لوجی تھی اور نہ ہی گمان کیا جا سکتا تھا کہ کوئی سمندری لہر ساحل میں اتنی دور تک داخل ہو کر سینکڑوں جانیں لے لیں گی۔ ایسا ایک سونامی ، اپنے دور کا بدترین سونامی تھا جو برطانیہ میں واقعہ ہوا۔

400 سال پہلے آنے والے اس طوفان کا حوالہ مختلف ڈراموں ، ٹیبلو حتیٰ کہ خدا کی سزا کے نام سے عیسائی مذہبی لٹریچر میں بھی ملتا ہے۔ عام طور پر برطانیہ جغرافیائی لحاظ سے محفوظ مقام پر واقع ہے جہاں کوئی لاوے یا زلزلہ کا زیر زمین پہاڑ نہیں ملتا تو ایسے میں سونامی یا کسی زبردست کسی سمندری طوفان کا واقع ہونا غیر معمولی بات ہے۔

پمفلٹ کے مطابق 20 جنوری 1606ء میں برسٹل چینل کے ساتھ سونامی لہر سمر سٹ ، گومیٹ اور مونماؤتھ شائر سے ٹکرائی بظاہر ماہرین آئر لینڈ کے نزدیک زیر سمندر مردہ آتش فشاں کی ارضیاتی پلیٹ کو ذمہ دار سمجھتے ہیں مگر حقیقی وجہ کا تعین ممکن نہیں ہو سکا طوفان کے بارے میں تحریر ہے کہ صبح کے وقت لوگ روز مرہ کے معاملات میں مصروف تھے 9 بجے کے قریب ان کی زندگی مکمل طور پر حادثہ سے دو چار ہوگئی۔ عینی شاہدین بتاتے ہیں کہ دیہات کے دیہات لہر کی تیزی کے سبب آناً فاناً زیر آب آگئے۔ اس زمانہ میں بہت کم لوگ تیرنا جانتے تھے ۔ اسی وجہ سے کئی لوگ ڈوب گئے جو بچے بلند و بالا عمارتوں ، اونچے درختوں ، عمارات کی چھتوں میں پناہ گزین ہوگئے۔ لہر نے پورے علاقہ کو دلدل سے بھر دیا تقریباً 200 مربع میل کے علاقہ میں 2000 لوگوں کو سمندر نے نگل لیا۔ جب کہ بقیہ علاقہ بالکل ویران ہو گیا جیسے وہاں کبھی کوئی آبادی نہیں تھی۔

ماہرین کے مطابق آج ٹیکنالوجی کی مدد سے ہم سونامی کے اسباب کا تعین کر سکتے ہیں۔ مگر 400 سال پہلے پمفلٹ نے اس لہر کو خدا کا بدلہ قرار دیا۔ لوگوں کی کرموں کی سزا۔ ان کے لئے خدا ہی موسم بدلتا ہے اور وہی لہریں بھیجتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ قدرتی آفت عذابِ خداوندی تھا یا نہیں مگر ایسے مقامات پر سونامی کا ذکر ملتا ہے جہاں توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔

ٹیکنالوجی نے جہاں سائنس دانوں کو انسانی جانیں بچانے کی طرف راغب کیا ہے وہاں ایسے اذہان بکثرت موجود ہیں جو کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ انسانوں کو مارنے کی ٹیکنالوجی بنانے کی کوشش کرتے رہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ٹیکنالوجی کے لئے بنیادی آئیڈیا بھی نظام قدرت سے لیا جاتا ہے۔ جیسے گزشتہ اقساط میں سورج  کی سطح پر سونامی طوفان کے ذکر کے دوران برقی مقناطیسی شعاعوں کے اخراج کے طریقہ پر الیکٹرو میکنٹیک امپلس جنر یٹر بنائے گئے جو دشمن کے علاقے میں ہر جاندار شے کو برقی چارج کے ذریعے جلا کر بھسم کر دیتے ہیں جب کہ تمام عمارتی اسٹر کچر محفوظ رہتا ہے۔ ایسا ہی ایک خفیہ پرا جیکٹ جنگ عظیمی دوئم کے دوران شروع کیا گیا۔اتحادی فوجوں کے اس پراجیکٹ کا بنیادی مقصد سونامی طرز کی ایک لہر پیدا کرنا تھا جس کے ذریعے بغیر اپنی فوجی طاقت کو ضائع کئے ہوئے دشمن کی فوج کو ملیا میٹ کیا جا سکے۔ 1944 میں بحر الکاہل میں جاپان اور اتحادیوں کے درمیان چھوٹے چھوٹے جزائر پر جنگ جاری تھی رفتار انتہائی سست تھی اور رسد کی فراہمی دشوار۔ ایسے میں اتحادی جنرل نے متبادل  ہتھیاروں کے استعمال پر غور کرنا شروع کر کیا۔ ماہرین کی ایک ٹیم نے خود ساختہ سونامی کی تجویز دی۔پراجیکٹ SEAL  کے نام سے خفیہ طور پر بم بنانے کا آغاز ہو گیا۔ حال ہی میں کئی سال گزرجانے کے بعد اس پراجیکٹ کی تفصیلات جاری کی گئیں بتایا جاتا ہے کہ یہ پراجیکٹ صرف لیبارٹری تک ہی محدود رہا۔

پراجیکٹ کا سربراہ ایک آسٹریلین پروفیسر تھامس لیچ بتایا گیا ہے جس کا کہنا تھا کہ وہ سمندر میں بم دھماکے سے 40 فٹ بلند لہر پیدا کر سکتا ہے۔ جو کہ ساحل سمندر سے تین میل اندر تک سفر کر کے تباہ کاریاں پھیلا سکتی ہے۔ پراجیکٹ منظور ہوگیا سرمایہ لگایا گیا ، لیب بنا دی گئی مگر جاری شدہ تفصیلات کے مطابق پہلے دن سے ہی طاقتور لہر پیدا کرنے میں ناکامی رہی۔ چاہے کتنی ہی گہرائی میں دھمکاکہ کیا جائے لہر کی مطلوبہ شدت کبھی بھی حاصل نہ ہو سکی۔ پرو فیسر لیچ نے سطح سمندر پر دھماکوں کا سلسلہ شروع کیامگر وہاں بھی لہر کی اونچائی حاصل نہ ہو سکی۔ سات مہینے میں 4000 تجربات کئے جو یکے بعد دیگرے ناکام ہوتے رہے۔ پروفیسر لیچ کے مفروضہ ڈیٹا کو سب نے شک کی نگاہ سے دیکھنا شروع کر دیا۔ ایسی صورت حال میں اس نے 2000 ٹن کا دھماکہ کرنے کا فیصلہ کیا مگر ایڈوائزری بورڈ نے اس کے وضع کردہ فارمولوں ، تھیوری اور تجربات کی بنیاد پر دھماکہ کی منظوری نہیں دی۔ اس طرح پراجیکٹ Seal ہمیشہ کے لئے بند ہو گیا اور اس کی ناکامی کو خفیہ رکھا گیا۔ حتیٰ کہ حال میں تفصیلات جاری کی گئیں۔

حضور قلندر بابا اولیا ؒ کے ارشاد کے مطابق زمین جس بیلٹ پر چل رہی ہے وہ بیلٹ دس ہزار سال کے بعد تبدیل ہو جاتی ہے۔ تبدیلی کا عمل یکایک نہیں ہوتا بلکہ بتدریج واقع ہوتا ہے۔ دنیا کا دستور یہ ہے کہ ہر شے وقفہ کے ساتھ بڑھتی ہے گھٹتی ہے۔۔ گھٹتی ہے بڑھتی ہے۔ دنیا میں آنے سے پہلے جس طرح اس کا مادی وجود سامنے نہیں تھا اسی طرح دنیا سے جانے کے بعد بھی اس کا وجود مٹی کے ذرات میں اس طرح تبدیل  ہو جاتا ہے کہ مٹی کے علاوہ ہم کچھ نہیں دیکھتے۔ یہ دنیا دراصل غیب ، ظاہر ، بڑھنے اور گھٹنے کا سلسلہ ہے۔ جس طرح آدمی یا زمین پر موجود ہر شے غیب سے ظاہر ہوتی ہے اور مسلسل ظاہر غیب کی بیلٹ پر ظاہر ہو رہی ہے۔۔ چھپ رہی ہے اور پھر ظاہر ہو رہی ہے۔۔۔ مکمل طور پر غائب ہو جاتی ہے۔ قدرتی نظام کا تسلسل یہ ہے کہ کوئی شے غیب سے ظاہر ہوتی ہے۔ ظاہر سے غیب ہوتی ہے۔ شکلیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں اور بالآخر جس طرح دنیا میں آنے سے پہلے غیب کے پردے میں چھپی ہوئی تھی اس طرح غیب کے پردے میں چھپ جاتی ہے۔ چھپنے اور ظاہر ہونے کا عمل کائناتی راز ہے۔ چھپنے اور ظاہر ہونے ۔۔۔ ظاہر ہو کر چھپنے اور پھر ظاہر ہونے کے عمل کا عارضی اختتام روحانی سائنس دانوں کے مطابق دس ہزار سال ہے۔ 2006 ء کے بعد دس ہزار سال کا نیا دور شروع ہو گیا ہے۔ بتدریج پانی اُبلے گا اور اس حد تک پھیلے گا کہ موجودہ زمین سمندر برد ہو جائے گی اور سمندر کے اندر کی جو دنیا دس ہزار سال پہلے پانی میں غائب ہو گئی تھی ظاہر ہو جائے گی۔