Topics

بلیک اینڈ وائٹ دنیا

ابدال ِ حق قلندر بابا اولیا ؒ فرماتے ہیں :

پتھر      کا        زمانہ      بھی      ہے      پتھر      میں      اسیر

پتھر      میں      ہے      اس      دور      کی       زندہ      تصویر

پتھر      کے      زمانہ      میں      جو       انساں    تھا       عظیمؔ

وہ        بھی      تھا       ہماری    ہی       طرح     کا        دلگیر

یونانی فلاسفر سقراط نے اپنے سنگ تراش باپ دریافت کیا کہ آپ مجسمہ سازی کیسے کرتے ہیں؟ باپ نے جواب دیا میرے سامنے پتھر کی چٹان کا ٹکڑا ہوتا ہے ، میں اپنا تصور اس میں تلاش کرتا ہوں__ پھر تصور کو بتدریج ہتھوڑے ، چھینی اور دیگر آلات کی مدد سے  پتھر میں باہر نکالتا جاتا ہوں__ اس طرح میرے اندر کا تصور پتھر کے نقوش میں ڈھل جاتا ہے۔

باطنی ع علمائے کرام بتاتے ہیں  :  انسان سوچ ہے ، ذوق ہے یا پھر اس چلتی پھرتی تصویر کا محرک روح ہے__ محرک کے بغیر زندگی کے آثار نظر نہیں آتے۔ اعلیٰ اقدار کے مطابق زندگی گزارنے کے لئے باطنی علمائے کرام سوچ یا ذوق کی پرواز پر زور دیتے ہیں۔ دنیاوی علوم کی طرح روحانی علوم کا انحصار سوچ کی کوالٹی (کثافت و لطافت) پر ہے __ سوچ میں بھاری پن یا ثقل ہے__ پرواز اور سوچ کی فعالیت محدود ہو جاتی ہے۔ نتیجتاً ذہن مادیت (ٹھوس ، مائع ، گیس و دیگر طبعی حالتوں ) میں الجھ جاتا ہے۔ سوچ لطیف تر ( بوجھ سے آزاد) ہو تو لطافت ایسے ذرائع کی جانب مائل ہوتی ہے جن میں مادیت نہیں ہوتی۔

         

تاریخ پر نگاہ ڈالیں تو گلیلیو سے لے کر ایڈ منڈ ہبل تک ___نوع ِ آدم کا اجتماعی شعور آسمانی وسعتوں میں حیران کن ہے ۔ مادہ و نجوم اور دیگر اجرام فلکی کی موجودگی اور صدیوں پر پھیلی ہوئی ترقی نے آدمی کو ہمیشہ متوجہ کیا کہ وہ مادی نگاہ کی حد بندی سے بالا ہو کر دیکھے کہ چاند میں کون سی بڑھیا چرخہ کاٹ رہی ہے یا پھر مہمان ستارے ”زہرہ“ کی زرد مائل دودھیا روشنی میں کیا اسرار چھپا ہوا ہے؟

شہری گہماگہمی اور مصنوعی روشنیوں سے دور ، رات کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں—دور دراز مقامات پر آسمان کی طرف نگاہ اٹھتی ہے تو ایک افق سے دوسرے افق تک – ستاروں سے بھری روشن اور چمک دار پٹی نظر اتی ہے، یہ کیا ہے --؟

وقت کے پہیے کی تکرار نے سوچ میں مسلسل ارتعاش پیدا کیا۔ پتھر کے زمانہ کے اسیر آدمی نے تصور کو پتھروں سے ہٹ کر خلا میں دیکھا یہاں تک کہ فی زمانہ شیشہ کی گل کاریاں ہمارے سامنے خلائی دور بین ”ہبل ٹیلی اسکوپ“ کی شکل میں رونما ہوئیں۔

مضمون کا مقصد ہبل ٹیلی اسکوپ کے پس منظر ، حیرت انگیز مشاہدات ، خلا نوردوں کی تکنیکی مہارت اور کائناتی اجرام کے مابین ثقل کے قوانین پر غور کرنا ہے۔ اس ضمن میں درج ذیل نکات کی وضاحت کی جائے گی۔

۱۔       آخر دوربین ہی کیوں؟

۲۔       ستائیس سال سے خلا میں تیرنے والی ہبل دوربین کی بصری طاقت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر اس کا رخ کرۂ ارض کی جانب موڑ دیا جائے تو 30 سینتی میٹر کی اشیا کو انتہائی وضاحت سے دیکھا جا سکتا ہے۔

۳۔      کیا آپ جانتے ہیں کہ کہکشاؤں ، ستاروں اور سیاروں کی جو تصاویر ہبل دور بین سمیت تمام خلائی مشن میں موصول کی جاتی ہیں وہ تمام شبیہ اصل میں بے رنگ ہوتی ہیں--؟ یعنی ان میں سیاہ و سفید یا ان کے شیڈز ہی نمایاں ہوتے ہیں ۔ شبیہ میں کوئی کہکشاں رنگین نہیں ہے پھر اس بلیک اینڈ وائٹ دنیا میں محققین رنگ کیسے بھرتے ہیں--؟

۴۔      کہا جاتا ہے کہ زمین سے چھ سو کلو میٹر (تین سو میل) فاصلے ہر ہبل دور بین اپنی نوعیت کے اعتبار سے واحد اور پہلا خلائی اسٹیشن ہے جس میں پرزوں کی تبدیلی اور مرمت کا کام خلا میں جا کر انجام دیا جاتا ہے۔

۵۔       ہبل دور بین زمین کے گرد ایک چکر 97 منٹ میں مکمل کرتی ہے۔

۶۔       ہبل دوربین ، جیسا کہ شکل نمبر 1 میں دکھایا گیا ہے، جسامت کے لحاظ سے بڑی اسکول بس یا ریل کے عام انجن کے برابر ہے۔

۷۔      کیا آپ جانتے ہیں کہ ثقل کیا ہے اور ثقل سے کیسے نجات حاصل کی جا سکتی ہے ---؟ کیونکہ بصری مشاہدات میں منعکس ہونے والی مرئی روشنیاں ثقل سے آزاد نہیں ہوتیں۔

۸۔      ایسا کیوں ہے کہ سورج کی کرنیں شیشہ میں سے گزر جاتی ہیں جبکہ ایک سینتی میٹر موٹے پلائی بورڈ یا دیوار سے گزرنے سے قاصر ہیں--؟

۹۔       الہامی علوم کے مطابق اشیا کی ترکیب میں اصل کردار مقداروں کا ہے۔ قلندر شعور کے حاملین بتاتے ہیں کہ تمام مادی وغیرہ مادی اشیا کی مقداریں کوالٹی اور کوانٹٹی(Quality Versus Quantity) کے تناسب پر قائم ہیں۔

۱۰۔      کوالٹی اور کوانٹٹی کے تناظر میں یہ بات دلچسپ ہے کہ چار لاکھ وولٹ بجلی کی ترسیل کے لیے بلندی پر ”پتلے تار“ جبکہ روزمرہ استعمال کی صرف 220 وولٹ بجلی کے لئے ”موٹی تار“ کیوں استعمال کی جاتی ہے؟


مضمون کی ابتدا میں رباعی ہے ، جس میں ابدالِ حق قلندر بابا اولیاؒ نے ذہن کی محدودیت کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے ”اسیر ذہن“ کی مساوات کا ذکر کیا ہے۔ جس طرح سقراط کو اس کے باپ نے بتایا کہ وہ اپنے تصور کو پتھر میں تلاش کرتا ہے اسی طرح ارتقا کے ہر دور میں مادہ کی نوعیت بدلتی رہی مگر دیگر اسیر ذہن مادہ میں گرفتار رہا۔

یہ حقیقت عیاں ہے کہ مادی اوصاف کی کھوج لگانے والے ذہن میں مادہ کے نقوش ابھرتے ہیں یہاں تک کہ وہ اوصاف سوچ کا جائے مقام بن جاتے ہیں ایسے میں ذہن مادی طرزوں سے باہر نہیں نکل سکتا۔

الہامی کتابوں میں مذکور ہے کہ اگر انسان اور جن زمین اور آسمانوں کے کناروں سے نکلنا چاہتے ہیں تو نکل جائیں--- اور نہیں نکل سکتے تو اس کا سبب یہ ہے کہ مطلوبہ ذرائع استعمال نہیں کئے گئے۔

ان بندشوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے الہامی علوم راہ نمائی کرتے ہیں کہ”سلطان“ کی صلاحیتوں میں یہ صفت موجود ہے کہ کناروں کی پابندیوں سے انسان آزاد ہو جائے۔

ارتقا کے مختلف ادوار میں اسیر زہن کے مختلف نقوش نظر آتے ہیں ۔ پہیے سے لے کر لیور کی ایجاد ہو یا پتھر و دھات کے زمانہ سے لے کر دورِ حاضر کا ایٹمی زمانہ ، ہر دور میں محققین اور تکنیکی ماہرین نے بودو باش ، طرزِ معاشرت ، سہولیات اور دیگر استعمال کے لئے پتھروں ( بشمول پہاڑ) ، دھات (تانبہ ، لوہا وغیرہ)، پہیے ( ہر قسم کی گاڑی) اور ایٹم کی ساخت میں تصرف کیا، رہن سہن کے لئے نئے نئے طریقے ایجاد کیے۔

تفکر کیا جائے تو ٹیکنالوجی کے پس پردہ سرگرم عوامل میں ہمیں صرف ایک نادیدہ محرک نظر آتا ہے جسے محقق قوت یا توانائی کے نام سے جانتے ہیں۔

قوت یا توانائی کا منبع پتھر کادور ہو یا پہیے کا، لوہا ہو یا فی زمانہ رائج تصور کے مطابق ایٹمی ذرّات (الیکٹران کا بہاؤ) ، ہرارتقائی دور میں ذہن نے مادہ میں محدود رہ کر محدودیت کے نقوش کو بودو باش کا ذریعہ بنایا۔ ان نقوش کو مکان ، پل ، سامان ِ حرب ، سامانِ نقل وحمل ، موبائل فون ، کرسی و میز کے نام سے جانتا اور استعمال کرتا ہے۔

متجسس قارئین کے لئے عرض ہے کہ الہامی کتابوں سے ماخوذ ایسے کئی ادوار کی تفصیل عظیمی صاحب کی تحریر ”محمد رسول اللہ ﷺ جلد سوم“ میں ہے۔

نوعِ آدم نے پتھر کے پہاڑوں کو تراش کر محل بنائے ، سجاوٹ کے لیے مجسمہ سازی ، رہائش گاہوں کو ٹھنڈا  و گرم رکھنے کے لئے پتھر کی تراشیدہ نالیاں اور نکاسی کا نظام بنایا جسے فی زمانہ Floor Heating یاFloor Cooling کا نظام کہا جا سکتا ہے۔

سائنس و ٹیکنالوجی کے موجودہ دور میں پتھر کی ایک اور شکل ”سلیکان“ کے ایٹموں کی صورت میں بجلی کے بلب ، تیلی وژن ، موبائل ، ہوائی جہاز ، کار، ریل ، ای میل، انٹر نیٹ وغیرہ میں نظر آتی ہے۔

ابدالِ حق قلندر بابا اولیاؒ کی متذکرہ بالا رباعی میں سوچ کی محدودیت اور اسیرذہن میں مادہ (مثلاً پتھر ، لوہا ، سلیکان) کا کردار بیان کیا گیا ہے۔

کرۂ ارض پر ہمیں اُس دور کے بھی آثار ملتے ہیں جب آدمی نے پتھر (مادہ) کی نگاہ سے رہن سہن ، سہولیات زندگی ، علاج و معالجہ اور تعلیم و تربیت وغیرہ کے لئے آلات بنائے۔ وقت کی بیلٹ چلتی رہی، آدمی کے خدوخال یکساں رہے۔ ذہن آج بھی ضروریات و تقاضوں کے حصول میں مادہ کی مختلف اشکال میں الجھا ہوا ہے ۔ ایٹم کے ذریعے آلات بنا رہا ہے۔

کہنا یہ ہے کہ اسیر ذہن کبھی سنگ تراشی ( مادیت) تک محدود رہا کبھی دو یا دو سے زیادہ ادوار کے اجتماعی  شعور تک—یعنی پتھر و دھات کا زمانہ متوازی ، شانہ بشانہ سرگرم رہا۔

شاید ہی کبھی اس نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ خیالات ذہن کی سطح پر نمودار ہوتے ہیں ، ان کا منبع کیا ہے --؟ پیاس لگی --- پیاس بجھانےکے لئے کبھی جانوروں کی مانند براہ راست منہ چشمہ استعمال کیے ، دھاتی برتن بنے --- پولی مر اور سلیکان کی کراکری بنائی گئی—ذوق سرگرم رہا – آئیڈیا تسلسل کے ساتھ نسل در نسل منتقل ہوتا رہا کہ پانی کی طلب ہے!

مگر آدمی کا ذہن مادی نقوش میں گھرا رہا۔ تقاضے کے حصول کے لئے باطن میں غورو فکر کرنے کے بجائے طلب و اطمینان کے لئے زمینی عناصر میں متحرک رہا۔

ریت کے ذرات میں الیکٹرانک ریکارڈ

مادی ذہن کی کاوش انفرادی ہو یا اجتماعی__کثافت ہے۔ نشان دہی کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ محدود ذہن محدودیت میں الجھا رہتا ہے ، جانے انجانے میں محدود عناصر سے لطف اندوز ہوتا ہے __ یہ تکلیف دہ عمل ہے کیونکہ کیفیات کی محرک ( روح ) اپنی ماہیت میں بے کیف ہے۔

باطنی علمائے کرام بتاتے ہیں کہ ذہن یا سوچ کا رنگ وہی ہوتا ہے جو دل چسپی کا ہے۔ ذوق ذہن ان صفات کا مظاہرہ ہے جن میں دل چسپی ہوتی ہے ۔ قلندر شعور سے واقف ماہرین اپنے طالب علموں کے اندر دل چسپی کا محور ایسے نقطہ کو بناتے ہیں جو نظام ِ فطرت سے متصل ہو۔

ایسے میں ذہن ان صفات کا عکس بن جاتا ہے جن  اوصاف پر ”انسان“ کی تخلیق ہوئی۔

مضمون کی پہلی قسط کے حوالہ سے سان فرانسکو، امریکہ سے ندیم ضیا صاحب نے سوال کیا ہے ۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اگر ذہن کثافت سے نکل جائے تو کیا اس کا رخ لطافت کی جانب ہو جائے گا۔۔؟

ندیم ضیا صاحب! عرض ہے کہ انسان سوچ ، ذوق یا روح کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ دوسرے رخ میں الہامی کتب کے مطابق وہ خلا (کھنکھناتی مٹی) ہے۔ اس خلل کو علمائے باطن ”آدمی“ کہتے ہیں جب کہ روح وہ ایجنسی ہے جو خلا میں زندگی ہے۔ آسمانی کتابوں میں اس کی تعریف ” انسان“ ہے۔

”ہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا لیکن وہ اسفل سافلین میں پڑا ہوا ہے۔“           (التین  : ۴۔۵)

زندگی کی مساوات اس طرح لکھی جا سکتی ہے:

روح (انسان)   !  آدمی  = مادی زندگی

روح ہر صورت متحرک ہے لہذا آدمی سوچ کا رخ کسی بھی طرف موڑ سکتا ہے۔ جب ذہن پر مادیت کا غلبہ نہیں ہوتا تو لطافت کی طرف سفر کرتا ہے ۔ بالفاظِ دیگر اس حالت میں سوچ ، مادیت کے برعکس ، زمان و مکان کی پابندیوں سے آزاد ہے ۔۔۔ خواہش کی تسکین کے لئے ارضی فاصلوں ، گھنٹوں ، منٹوں یا سیکنڈوں کی شماریات کا سہارا نہیں لینا پڑتا۔۔۔ وہ ”فوٹان“ کی طرح ہے جو ہر وقت اور ہر جگہ موجود ہے۔

ذہن جب مادیت سے نکلنا چاہتا ہے تو ذوق کا رخ لطافت کی جانب ہو جاتا ہے۔ روحانی استاد تربیت کے دوران طالب علم کو ایسی مشقوں سے گزارتے ہیں جو آدمی کو چپک (فکشن) سے بتدریج مطلع کر دیتی ہیں۔۔۔ طالب علم پر منحصر ہے کہ وہ حکم کی تعمیل میں کتنا وقت لیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ باطنی علوم کے اساتذہ کرام آدمی و انسان کے شب و روز میں وقت کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔

کلیہ مسلمہ ہے کہ جہاں کثافت کی وجہ محدودیت ہے وہیں لطافت درجہ بدرجہ محدودیت سے ماورا ہوتی  جاتی ہے۔ لطیف ذہن کے سارے راستے لامحدودیت کے زون میں کھلتے ہیں۔

 آپ  جانتے ہیں کہ مشاہدات و تجربات میں تجسس فطری عمل کی طرح ابھرتا۔

سائنس کی بنیادی تعریف یہ کی جاتی ہے کہ مشاہدات و تجربات سے حاصل ہونے والا علم سائنس ہے۔ اس ضمن میں اس نکتہ کی نشان دہی ضروری ہے کہ مشاہدات میں کس وضع کے وسائل کو استعمال کیا گیا ہے۔ وسائل کی ماہیت میں محدودیت ( کثافت) یا لامحدودیت (لطافت) کا کتنا عمل دخل ہے۔

پاکستان سے ڈاکٹر فواد احمد صاحب لکھتے ہیں کہ پہلی قسط میں نشان دہی کی گئی کہ حواس خمسہ ( پانچ حواس ) سے حاصل ہونے والا علم صحیح نہیں۔ مان لیا جائے کہ یہ صحیح نہیں__ایسے میں ہم موجودہ ٹیکنالوجی کی کامیابی اور ترقی کو کس طرح پرکھیں گے__ جبکہ مشاہدہ اور تجربہ یہ ہے کہ تمام تر ترقی میں مادی آلات کو اہمیت حاصل ہے؟

 ڈاکٹر صاحب نے مشاہداتی علوم اور ان کے نتائج کے اطلاق کے بارے میں اہم نکتہ اٹھایا ہے۔ بلاشبہ موجودہ ٹیکنالوجی کے عروج میں سائنسی نظریات کا کردار نظر آتا ہے اور سائنسی نظریات میں پیمائشی آلات کی انتہائی درستی ہی کارفرما ہے۔ مگر درستی اور تخمینہ لگانے میں فرق ہے۔

آیئے اس بات کو سمجھنے کے لئے سائنس کی بنیادی تعریف اور اغراض و مقاصد کا جائزہ لیتے ہیں۔ اگر بانس کی لمبائی پانچ درجہ اعشاریہ تک ناپی گئی ہو، کیا یہ ممکن نہیں کہ پیمائشی فیتہ درست نہ ہو۔۔؟ اس کے برعکس ایک درجہ اعشاریہ تک نشان زدہ درست پیمائشی فیتہ سے جو بھی پیمائش ریکارڈ کی جائے گی وہ درست مانی جائے گی!


یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ پیمائشی فیتہ کو جس اسٹینڈرڈ پیمانہ کے حوالہ سے درست مانا جا رہا ہے ، وہ اسٹینڈرڈ پیمانہ کس درجہ درست اور کتنا درست نہیں؟

ابتدائی درسی کتب میں سائنسی تحقیق و تلاش کے طریقۂ کار کو چار درجات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔

۱۔       زیرِ غور مشاہدات میں کارفرما عوامل  (Variables) کی نشان دہی کرنا۔

۲۔       مشاہدہ کے ساتھ ساتھ تجربات کو ریکارڈ کرنا

۳۔      مشاہدہ اور تجربہ کے درمیان تعلق کو متعلقہ ماحول کی روشنی میں اجاگر کرنا۔

یہاں بتانا ضروری ہے کہ یکساں مظاہرہ کے پس پردہ یکساں عوامل و قوانین پائے جاتے ہیں۔ چہ جائے کہ وہ کسی بھی دور میں واقع ہوں۔ سائنسی اصطلاح میں اسے  Unification بھی کہتے ہیں۔ اس طریقۂ تحقیق کو مثال سے واضح کرتے ہیں۔

مثال :  مادہ عناصر سے مرکب ہے ؟

پہلی قسط میں بتایا گیا کہ مادہ ٹھوس ، مائع اور گیس تین اقسام پر مشتمل ہے۔ ان تینوں اقسام میں آمیزش کی جانچ کی گئی تو ایک اور پرت کھلا اور کہا گیا کہ مادہ چاہے کسی قسم کا ہو، انتہائی چھوٹ ذرّات ، ایٹم سے بنتا ہے۔

ایٹم کی مخصوص خصوصیات ہوتی ہیں اور وہ غیر منقسم ہے۔ کیمیائی و برقی مظاہرات زیرِ بحث آنے لگے تو کہا جا سکتا ہے جنہیں الیکٹران ، پروٹان اور نیوٹران کہتے ہیں ۔ بیان بدل گیا مگر انتہائی ذرّہ کو آج بھی ایٹم یا غیر منقسم ذرّہ کہتے ہیں۔

ایٹم کے مرکزہ کو توڑا گیا تو ایٹم بم ، ہائیڈروجن بم اور نیوٹران بم وغیرہ جیسے انتہائی مہلک ہتھیاروں کی شکل میں نئے مشاہدات سامنےآئے۔ نظریہ تبدیل ہو گئے لیکن نام ایٹم رہا۔ کہا گیا کہ ایٹم (غیر منقسم ذرّہ) کے مرکزہ میں انتہائی چھوٹے ذرّات کو ارکس (Quarks) موجود ہیں۔

کوارکس کی تفصیل میں ہم نہیں جائیں گے لیکن نشان دہی ضروری ہے کہ ماہرین کے مطابق کوارکس عموماً ”جوڑے دہرے“ کی شکل میں پائے جاتے ہیں۔ مادہ کی ماہیت کے بارے میں ارتقائی نظریات شکل نمبر 2 میں دکھائے گئے ہیں۔

ایٹم (غیر منقسم ذرّہ) کی مزید انتہائی ساخت کیا ہے __آج بھی سوالیہ نشان ہے۔

حقیقت عیاں ہے کہ ہم جنہیں سائنسی نظریات کہتے ہیں ، وہ دراصل عارضی سائنس یا Provisional Science ہے جس کا انحصار کلی طور پر ہم عصر ٹیکنالوجی اور ماہرین کی قابلیت پر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ علمی ، مشاہداتی اور تجرباتی اہلیت میں اضافہ کے ساتھ جہاں زاویۂ نگاہ بدلتا ہے ، وہیں تجربات بھی تبدیل ہو جاتے ہیں جبکہ محققین کی کاوش ہوتی ہے۔ کہ متفقہ نظریہ بیان کیا جا سکے جس سے قوت کے پس پردہ فعالیت کی وضاحت ہو سکے۔

سوال ہے__ نظریات کی یک جہتی کی خواہش کا جو خیال آرہا ہے اس کا کوئی سبب کوئی منبع ضرور ہے۔

مردہ جسم کو خیال نہیں آتا ۔ زندہ جسم کے پس پردہ کون سی قوت ہے؟

کیا ممکن ہے کہ یہی قوت بار بار ہر دور میں Unification  کی جانب توجہ مبذول کراتی رہتی ہے۔ جیسے پہلے آواز کی ریکارڈنگ مقناطیسی ڈسک یا فیتہ پر کی جاتی  تھی، آج روشنی کی باریک جھریوں کی مدد سے سی ڈی یا ریت کے ذرّات پر مشتمل الیکٹران ریکارڈ(MP3 Players) پر کی جاتی ہے۔

غور کریں تو پتا چلتا ہے کہ ہر دور میں زاویۂ نگاہ بدل رہا ہے اور نگاہ کے ساتھ توجہ کا مرکز بھی۔ ضرورت کے مطابق پیمائش کے آلات بھی بنتے رہے۔ مگر کیا قرون اولی کے نظریات ، قرون وسطیٰ کا ساتھ دے سکے__؟

جواب نفی میں ہے۔