Topics

زمین لرز رہی ہے

کوہِ ہمالیہ محلِ وقوع کے لحاظ سے منفرد تاریخی حیثیت رکھتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ زمین کا بیرونی خول کئی ٹکڑوں میں بٹا ہوا ہے۔ سائنسی نظریات کے مطابق یہ سب لاوے پر تیر (FLOAT) رہے ہیں۔ محققین کا کہنا ہے کہ پنچ کروڑ سال پہلے ان ٹکڑوں میں سے ایک ٹکڑا (جسے انڈین پلیٹ کہا جاتا ہے) یوریشین پلیٹ سے جا ملا اور ایک پلیٹ دوسری پلیٹ کو بتدریج اوپر کی جانب دھکیلتی گئی جو ہمالیہ کے وسیع و عریض پہاڑی سلسلوں کا سبب بنا۔ مسلسل دباؤ سے ایک پلیٹ اوپر کی جانب لپٹتی گئی اور ساتھ ساتھ ٹکڑوں میں ٹوتی رہی۔

ماہرین کے مطابق ہمالیہ پچھلے پانچ کروڑ سال میں اس عظیم الشان حادثہ سے بتدریج کرۂ ارض پر نمودار ہوتا رہا۔ بتایا جاتا ہے انڈین پلیٹ تبت کے مقام پر مسلسل اٹھارہ ملی میٹر فی سال کی رفتار سے یوریشین پلیٹ کو دبا رہی ہے اور اس طرح کی حرکات میں ایک پلیٹ دوسری پلیٹ پر سلائیڈ کرتے ہوئے بسا اوقات کسی نا معلوم رکاوٹ کی وجہ سے پھنس بھی جاتی ہے جس سے دونوں پلیٹوں کے درمیان انتہائی طاقت ور تناؤ پیدا ہوتا ہے۔۔۔ جب یہ تناؤ سطحِ ارض کے بالکل نزدیک پہنچ جاتا ہے تو زلزلہ کی صورت میں رونما ہوتا ہے اور پلیٹوں کے درمیان تناؤ کی مخفی توانائی کی بڑی مقدار کو جزوی یا کلی طور پر خارج کر دیتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ۲۵ اپریل ۲۰۱۵ ء کو ایسے ہی ایک تناؤ کا اخراج سطحِ ارض پر زلزلہ کی صورت میں ہوا۔ اس زلزلہ کو جن آلات سے ماپا گیا وہ کروڑوں سال سے بنتے ہوئے کوہِ ہمالیہ کے تاریخی ارتقا کے صرف ایک لمحہ کا ریکارڈ تھا۔ کوہِ ہمالیہ کے تاریخی ارتقائی مراحل میں تسلسل کے ساتھ رونما ہونے والی ایسی جغرافیائی تبدیلیاں ساعتی سفر میں ایک سیکنڈ سے بھی کم وقفہ کی کوئی ایک ٹِک (Tick)  تھی۔ وہ ٹِک جس کے باطن میں توانائی اور طاقت کا بے پناہ ذخیرہ نشونما پا رہا ہے تھا۔صدیوں پر محیط یہ خفتہ (خوابیدہ) توانائی جب انتہائی مہلک انداز میں خارج ہوئی تو ہزاروں گاؤں صفحہ ہستی سے ایسے مٹ گئے جیسے کبھی وجود ہی نہ تھا۔ امدادی ٹیموں کے لئے بہت سے متاثرہ علاقوں تک پہنچنا دشوار اور ناممکن تھا۔نیپالی ایتھلیٹ اور نرسوں کی ایک ٹیم نے بڑی تعداد میں خیمے ، خوراک ، کمبل اور ضروریاتِ زندگی جمع کیں اور متاثرہ علاقوں کا رخ کیا۔ یہ سفر کسی مہم سے کم نہیں تھا۔

”لانگ ٹانگ“ نامی گاؤں کا رابطہ بقیہ علاقوں سے کٹ چکا تھا۔ پہاڑی راستہ ویسے بھی دشوار ہوتا ہے۔ جو سفر آٹھ گھنٹے میں طے ہوتا تھا وہ اب بیس گھنٹے سے زیادہ ہو گیا تھا۔ ہم وطنوں کی مدد کے جذبہ سے سر شار ، نیویارک سے آنے والی نیپالی نرسوں پر مشتمل قفلہ مدد کے لئے پہنچا۔۔ آمدورفت کے راستے بند تھے مگر ٹیم حوصلہ اور استقامت کے ساتھ درمیانی رکاوٹوں کو عبور کرتی گئی۔ ٹوٹ ہوئی بڑی بڑی چٹانیں ، راستوں میں دور تک پھیلی ہوئی چوڑی درزیں ، تناور درخت ، پانی کے ابلتے چشمے غرض سفر رکاوٹوں سے بھر پور تھا۔

صاحب عقل وخرد کہتے ہں کہ ارادہ اور نتیجہ کے بیچ میں کوشش پُل کا کام دیتی ہے۔ ارادہ مضبوط ہے تو جہد مسلسل مطلوبہ نتائج تک پہنچ جاتی ہے۔ نیویارک میں کام کرنے والی نرسیں نہیں جانتی تھیں کہ ایک ہفتہ بعد وہ اپنے ہم وطنوں کی مدد کے لئے نیپال کے زلزلہ سے متاثرہ پہاڑی علاقوں کا رخ کریں گی جہاں جگہ جگہ تباہی کے آثار ، اموات اور بکھرے ہوئے لوگ بذاتِ خود تصویرہیں کہ وہ کتنی بڑی آفت سے گزرے اور گزر رہے ہیں۔ مقامی افراد زلزلہ کے متواتر جھٹکوں سے اعصاب کھو بیٹھے تھے۔ قدرت کا اپنا نظام ہے جس میں تبدیلی یا تعطل واقع نہیں ہوتا۔ ۔۔ آدمی ، آدمی کی دوا ہے۔

گاؤں ”لانگ ٹانگ“  جانب سفر جاری تھا۔لینڈ سلائیڈز رکاوٹ تھیں۔۔ ٹیم کے افراد نے مل کر راستہ کو بس گزرنے کے لئے ہموار کیا۔ ایک طرف بلند و بالا پہاڑی سلسلہ دوسری جانب گہری کھائی۔۔۔بس پتھروں سے بنے راستہ پر آہستہ آہستہ آگے بڑھتی گئی اس دوران چھوٹے پتھر بس کے پہیوں سے پھسل کر نیچے گہری کھائی کی جانب لڑھکتے تھے۔ گاؤں پہنچے تو وہاں لوگوں میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ اجناس اور ضروری سامان تقسیم کیا گیا ۔۔ تین ہزار پاؤنڈ غلہ تقسیم ہوا۔ اعصاب متاثر اور چہروں پر زلزلہ کی دہشت کے آثار تھے۔ میڈیکل ٹیم اسے پوسٹ ٹراما کہتی ہے۔ اس کے اثرات سالوں تک ذہن پر جاری رہتے ہیں۔


پہاڑی مکین جانتے ہیں کہ زلزلہ کبھی بھی ایک جھٹکا نہیں دیتا بلکہ اس کی لہریں متواتر ، زیر زمین گونجتی  رہتی ہیں جو کبھی بھی سطحِ زمین پر ہلاکت و تباہی پھیلا دیتی ہیں۔ نیپال میں اسی نوعیت کا زلزلہ 1934ء میںریکارڈ کیا گیا تھا جس کی کہانیاں ابھی بھی بڑے بوڑھے اپنی اولادوں کو سناتے ہیں۔ اندازاً 8.0 شدت کا یہ جھٹکا موجود جائے مقام سے مزید مشرق کی جانب تھا۔ ماہرین ارضیات کے نزدیک خارج از امکان نہیں ہےکہ یہ جھٹکا سو سال قبل وقوع پذیر ہونے والے 1833ء  کے زلزلہ کا کوئی تسلسل تھا !!

جنرل آف ایشیا ٹک سوسائٹی طبع 1833ء کے ریکارڈ کے مطابق زمین ایسے ڈول رہی تھی جیسے کوئی بحری جہاز ۔زلزلہ پمزئی کے آلات اُس وقت تک ایجاد نہیں ہوئے تھے مگر ریکارڈ کے مطابق زلزلہ کے اثرات دو سال تک محسوس کیے جاتے رہے۔

ماہرین ماضی کے شواہد اور حالیہ لہروں کے پیٹرن کی گم شدہ کڑیاں تلاش کر رہے تھے۔ ان کے خیال میں اگر یہ 1833ء کے زلزلہ کا تسلسل تھا تو جو کچھ  ۲۵ اپریل ۲۰۱۵ ء تک رونما ہوا ، کیا وہ انڈین پلیٹ اور یوریشین پلیٹ کے مسلسل سرکنے کے بعد ٹکراؤ کا نتیجہ تھا؟ لیکن جواب ندارد ! کیوں کہ لہروں کے پیٹرن کی کڑیاں جوڑنے پر محققین 1833ء سے تاحال سرکتی ہوئی پلیٹوں کے مابین بے پناہ توانائی کے اجتماع کی پیشین گوئی کر رہے تھے۔ ماہرین کے مطابق توانائی کے اخراج کے  رجحان کو دیکھا جائے تو رونما ہونے والے واقعہ کے برعکس ۲۵ اپریل ۲۰۱۵ء کے جھٹکے کی شدت کئی گنا زیادہ ہونی چاہیئے تھی۔ اگر چہ زلزلہ پیما آلات نے صرف 7.8 شدت کا جھٹکا ریکارڈ کیا۔ ماہرین کی رائے اور زلزلہ کی شدت کے درمیان پر دہ تھا۔

ماہرین کی اکثریت اس بات پر متفق تھی کہ پلیٹوں کے سرکنے کے پیٹرن سے یہ انداز چنداں دشوار نہیں کہ اس سے زیادہ شدت کا زلزلہ متوقع تھا۔ سوال یہ ہے کہ بقیہ شدت کی توانائی کہاں گئی۔۔ کیا وہ اب بھی زیرِ زمین ہے۔۔۔ گزشتہ ایک سو بیاسی سال میں اٹھارہ ملی میٹر فی سال سے سرکنے والی یہ پلیٹیں اپریل ۲۰۱۵ ء تک تین میٹر آگے بڑھ چکی ہوں گی۔

اس کی تصدیق کے لئے مقام پیما یعنی GPS  استعمال کیے جاتے ہیں۔ ماہرین نے گتھی سلجھانے کے لئے تبت کے مقام پر ملنے والی انڈین پلیٹ کا رخ کیا ۔ جس کا جائے وقوع لانگ ٹانگ سے 33 کلو میٹر پر واقع ” دو نشے “ تھا۔ اس کے عین بیس کلو میٹر نیچے اندین پلیٹ مسلسل یوریشین پلیٹ کو دبا رہی تھی۔ ماہرین کے مطابق اسی مقام پر کروڑوں سال پہلے زمین کا ایک بڑا ٹکڑا جو انڈین پلیٹ پر بحر ہند میں تیر رہا تھا۔۔ زمین کی گردش کی وجہ سے بتدریج تبت کے مقام پر یوریشین پلیٹ سے جا ملا اور اسے دھکیلنا شروع کر دیا۔۔ کوہِ ہمالیہ کے سلسلے تبت کی سطحِ مرتفع بننا شروع ہوگئی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ جاننا ضروری ہے ”دو نشے “ کے مقام پر زیر زمین بیس کلو میٹر ایک دوسرے میں پیوست ہونے والی پلیٹیں کتنا آگے بڑھ گئیں۔ پلیٹ کا طے کردہ فاصلہ خارج اور Trap ہونے والی توانائی کا اندازہ لگانے میں معاون ہو سکتا ہے۔ بات بہت سادہ اور نتیجہ عیاں تھا کہ اگر وہ تین میٹر آگے نہیں بڑھیں تو بیس کلو میٹر زیرِ زمین تناؤ ابھی ختم نہیں ہوا!! یہ خطرناک الارم تھا۔۔۔ ابھی تناؤ ختم نہیں ہوا ۔ بعد کے واقعات نے تصدیق کر دی۔

ماہرین کا ڈیٹا وضاحت کر رہا تھا کہ توانائی کا ایک بڑا ذخیرہ زیرِ زمین مسلسل ٹائم بم کی طرح نامعلوم وقت پر پھٹنے کے لیے تیار ہو چکا ہے، کسی بھی لمحہ زلزلہ کا اگلا جھٹکا رونما ہو سکتا ہے۔ جائے وقوع پر متذکرہ بالا ایک GPS اسٹیشن نصیب کیا گیا جو زمین میں دو میٹر گہرائی تک گاڑا گیا۔ ماہرین کے مطابق اس کا کسی بھی ارضی جھٹکے کی صورت میں اُکھڑ جانا تقریباً ناممکن ہے۔ کرۂ ارض پر تقریباً ایسے پچاس GPSزلزلہ کی شدت ہمہ وقت ریکارڈ کر رہے ہیں۔ خلا میں موجود GPS مصنوعی سیارے لمحہ بہ لمحہ زیرِ زمین حرکات سے موصول ہونے والی مختلف لہریں ، کثیر تعدادِ میں ان نصیب شدہ ارضیاتی اسٹیشن کی جانب ترسیل کرتے رہتے ہیں۔ عموماً ایک اسٹیشن سے تقریباً چار یا زیادہ سیارے سگنل موصول کرتے ہیں۔ سطح ارض کا اپنے موجودہ مقام سے معمولی سرکنے کو بھی یہ سیارے لہر یا سگنل کی شکل میں ریکارڈ کر لیتے ہیں۔ نئے اسٹیشن کی تنصیب کے بعد حاصل ہونے والے ڈیٹا سے اندازہ لگایا گیا کہ 1833ء سے جاری پلیٹوں کی حرکات سے پیدا ہونے والے تناؤ کی صرف آدھی مقدار ۲۵ اپریل ۲۰۱۵ء کے مہلک زلزلہ کی صورت میں رونما ہوئی کیوں کہ یہ اسٹیشن تیم میٹر کے بجائے اپنی جگہ سے صرف ڈیڑھ میٹر سرکا تھا۔ ۲۵ اپریل کو زمین کی سطح اپنے پچھلے مقام سے صرف ڈیڑھ میٹر سرکی تھی ۔ یعنی ڈیڑھ میٹر سرکنے سے پیدا شدہ جھٹکے کا کچھ ارتعاش سطحِ زمین کی طرف صعود کر گیا اور بقیہ پلیٹ کے نیچے لاوے میں جذب ہو گیا۔ بات واضح تھی کہ ڈیڑھ میٹر زیرِ زمین تناؤ ابھی بھی باقی تھا جس میں کئی ایٹم بموں کی توانائی تھی۔ ماہرین نے سرکاری اداروں کو مطلع کر دیا تھا کہ اس مقام کے ارد گرد آبادی کو خالی کرایا جائے۔