Topics
وہ شام کو ساحل پر ٹہلنے کے بعد گیلی ریت پر بیٹھ کر گھروندے بناتا
تھا۔ پانی کی لہر آتی اور دیواروں کو بہالے جاتی ۔ نہ جانے پانی اور مٹی سے کیا محبت
تھی کہ یہاں آکر وہ ان دونوں کے درمیان تعلق تلاش کرتا اور تلاش سمندر کی لہروں
میں گم ہوجاتی ۔
وہ سوچتا تھا کہ پانی جب تلوے چھوتا
ہے تو ٹھنڈک پیروں سے ہوتی ہوئی سینے تک پہنچتی ہے جیسے مٹی سے بنے وجود کواپنے
اندر جذب کررہی ہو یا مٹی کے ذرّات کو یکجا رکھنے والے پانی کو سمندر سے جوڑ رہی
ہو۔ لہر سے مٹی کے گھروندے کی دیواریں بہہ جاتیں تو اسے خوشی ملتی تھی کیوں کہ
پانی کی لہر پانی کو مٹی سے آزاد کرکے ساتھ لے جاتی ۔مگرخوشی کے ساتھ پانی کی
پانی سے دوری مٹتے دیکھ کر اندر میں تشنگی بڑھ جاتی تھی۔ دراصل اس دوری کو وہ اپنے
اندر مٹتے دیکھنا چاہتا تھا۔ وہ کہتا تھا کہ مٹی پانی اور خشکی تری کا سنجوگ عجیب
ہے۔ یہ ساتھ رہتے ہیں ، ایک دوسرے میں ملتے ہیں لیکن اپنی اپنی شناخت قائم رکھتے
ہیں، نہ جانے انہیں فراق کیوں پسند ہے !
کسی کی موجودگی کا
احساس ہوا ۔ بھائی! جانتے ہو انجانے میں کیسا کھیل کھیل رہے ہو؟ لہروں کے بھنور
میں پھنس گئے تو نکلنا ممکن نہیں۔
سر اٹھائے بغیر جواب دیا، پانی اور
مٹی ایک دوسرے سے آزاد ہوکراپنی اپنی مقداروں میں ملنا چاہتے ہیں۔ ساحل وصل اور
فراق کا میدان ہے کوئی کھیل نہیں۔
نووارد بولا ، تم دیکھتے نہیں کہ
پانی—پانی سے مل رہا ہے پھر کیسا فراق —؟
نوجوان نے کہا، پانی ابھی پانی سے
کہاں ملا —؟
اگر مل گیا تو ساحل پر کیوں آتا ہے —؟
اس میں اٹھنے والا
مدوجزر کیا ہے—؟
نہیں معلوم سمندر خود کو پانی دیکھتا ہے
یاپانی خود کو سمندر دیکھتا ہے!
شاید پانی کومعلو م نہیں کہ سمندر
کیا ہے
یا سمندر پانی سے ناآشنا
ہے!
کبھی اسے باہر پھینکتا
ہے اور جب پانی دور ہوتا ہے تو اندر سمیٹ لیتا ہے۔اگر سمندر میں پانی وصل سے واقف
ہے پھر فراق کیا ہے اور فراق ہے کیوں —؟
نوواردنےآتی جاتی لہروں میں گھروندے
بنانے میں مشغول نوجوان کو کچھ دیر خاموشی سے دیکھنے کے بعد جواب دیا، ممکن ہے کہ
پانی آگہی کے مراحل سے گزررہا ہے اور ساحل پر آکر احساس ہوتا ہے کہ میں ہی
سمندر ہوں اس لئے لوٹ جاتا ہے۔نوجوان نے بے ساختہ سر اٹھاکر نووارد کو دیکھا اور
کہا، اور تم کہتے ہو کہ میں بھنور میں پھنس جاؤں گا۔
وہ خاموش رہا۔
یاد رکھو! بھنور میں وہ
شے پھنستی ہے جس کی سمت باقی لہروں سے جدا ہو۔ جس کو تم بھنور کہتے ہو، کبھی غور
کیا ہے کہ وہ ہے کیا ؟
لہجے پر زور دیتے ہوئے کہا، دائرہ ہے !
دائرے میں جولہر ایک بار آجائے، وہ
اسے اپنے محور سے نکلنے نہیں دیتا، دائرہ در دائرہ فاصلوں کو طے کرتا ہوا اندر میں
لے جاتا ہے اور خود سے متعارف کرادیتا ہے۔
میں تمہیں لہروں سے خبردار کرنے آیا تھا مگر خود اس قصے میں گم ہوگیا
۔بھائی خود بھنور بھی تو حرکت میں ہے۔ پھر وصال کیا ہے اور فراق کیا ہے —؟
نوجوان نے ریت کی دیواروں میں پڑنے
والی دراڑ کو درست کرتے ہوئے کہا، فراق بھی وصا ل ہے ۔ پانی میں رہ کر کوئی کیسے
بتائے کہ پانی کیا ہے ؟ پانی سے الگ ہوکر ہی وہ پانی کو دیکھتا ہے۔ پھر احساس ہوتا
ہے کہ کیا پانی کو پانی سے الگ ہوکر دیکھنا ممکن ہے ؟ اور وہ ایک بار پھر خود کو
پانی کے سپرد کردیتا ہے۔نوجوان نے بتایا، میں برسوں سے سمندر کی کہانی دیکھ رہا
ہوں، سن رہا ہوں اور محسوس کررہا ہوں۔کیا تم نے لہروں میں تلاطم دیکھا ہے —؟
نووارد نے سرہلایا کہ دیکھا ہے۔
نوجوان نے سر نفی میں ہلاتے ہوئے
کہا، تم نے نہیں دیکھا۔ اب میری نظر سے سمندر کودیکھو!
نووارد کی پشت سمندر کی جانب تھی، سر
موڑ کر آبی ذخیرے پر نگاہ کی تو نظر آیا کہ لہریں اٹھتی بیٹھتی اور لپٹتی ہوئی آگے
بڑھ رہی ہیں۔
کیا نظر آیا —؟
بے قراری ہے!
نوجوان نے تشنگی کو زبان پر لاتے
ہوئے کہا، یہ لہریں سمندر میں رہ کر فراق سے دوچار ہیں
!نووارد بولا، میرا ذہن اس بات کو قبول نہیں کرتا۔ پانی
اگر پانی میں رہ کر بے چین ہو تو وصل کیسے اور کہاں ملے —؟ اگر یہی وجہ ہے تو ان
لہروں کو وصل نہیں مل سکتا ۔مگر ایک بات غور طلب ہے۔
نوجوان نے پوچھا، وہ کیا —؟
اگر پانی کا وصل سمندر سے ہے تو پھر
پانی اوپر کیوں اٹھتا ہے۔ نووارد نے دور اٹھنے والی اونچی لہروں کو دیکھتے ہوئے
پوچھا۔ اسے تو اٹھنے کے بجائے بیٹھ کر نیچے تہ سے رجوع کرنا چاہئے۔
نوجوان کے چہرے پر گہری مسکراہٹ درآئی۔
کچھ دیر گزر گئی لیکن اس نے جواب
نہیں دیا۔
نووارد بھی نوجوان کے ساتھ ریت پر
گھر بنانے میں مشغول ہوگیا۔ سمندری ریت کی مخصوص مہک اندر سرایت کی توکچھ دیر بعد
مہک کا احساس ختم ہوگیا ۔یہ بھی یاد نہیں رہا کہ ہاتھ گیلے اور ریت سے لت پت ہیں۔ ریت میں جذب پانی سے نووارد کے ہاتھ گیلے ہوئے،
چمک ہاتھوں پر لگی، پانی جذب ہوگیا اور چمک ہاتھوں پر چپک گئی۔ نگاہ چمک پر مرکوز
کی — روزن کھلا اور اس روزن میں فضا کا عکس نمایاں ہوا، پھر بادل نظر آئے اور
بادل سے اوپر آسمان تھا۔
نووارد نے ڈوبتی ابھرتی سوچوں سے
گھبرا کر اچانک نوجوان کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا اور خبر دیتے ہوئے کہا، زمین پر سمندر
آسمان میں بادل ہے ۔
اور ان بادلوں میں پانی ہے ۔آسمان سے
توانائی بادلوں میں داخل ہوتی ہے تو بارش برستی ہے۔ لہریں اس لئے اوپر اٹھتی ہیں
کہ ان کا سورس سمندرکا آبی سانچہ یا تہ نہیں، آسمان سے برسنے والا پانی ہے ! نوجوان نے بات مکمل کی ۔
نووارد کو کچھ دیر پہلے اپنے سوال پر
اس کی خاموشی اور گہری مسکراہٹ کی وجہ معلوم ہوگئی تھی۔
نوجوان جانتا تھا کہ یہ شخص روز اسے یہاں آتے دیکھتا ہے اور اس کے معمول
سے واقف ہے۔ اسے علم تھا کہ میری طرح یہ بھی فراق میں مبتلا ہے اس لئے اپنے اندر
کی تشنگی میرے اندر دیکھ کر آج یہ قریب آیا اور مجھے ان لہروں سے خبردار کیا ۔
ورنہ روزانہ کتنے لوگ یہاں سے گزرتے ہیں، کبھی کسی نے رک کر نہیں پوچھاکہ بار بار
گھر کیوں بناتے ہو۔ اس نے کہا،
آسمان، بادل، پانی، سمندر اور ساحل
ساحل، سمندر، پانی، بادل اور آسمان
سب فراق کا نظام اور وصال کے سلسلے
ہیں۔ یہ ایک دوسرے سے الگ لیکن ملے ہوئے ہیں۔ پانی کبھی ساحل پر جاتا ہے ، کبھی
نیچے بیٹھتا ہے اور کبھی اوپر اٹھتا ہے—بے قراری بتاتی ہے کہ پانی سفر میں ہے۔
نووارد ہنستے ہوئے بولا، میں تمہیں
خبردار کرنے بیٹھا تھا اور تمہارے پاس بیٹھ کر خود خبر بن گیا ۔ان لہروں اور گیلی
ریت میں تسکین کیسی ہے ؟
نوجوان نے متوجہ کیا ،
ریت میں چمک بھی تو ہے۔
ہاں! اس چمک میں ایک در کھلا اور میں
نے آفاق کو انفس میں دیکھا۔ اسی چمک میں مجنوں لیلیٰ کو دیکھتا تھا۔وہ بھی تمہاری
طرح سمندرکے کنارے بیٹھا ریت چھان رہا تھا۔میری طرح کسی نے ا س سے پو چھا ،
میاں مجنوں! ریت کیوں
چھان رہے ہو—؟
مجنوں نے خشمگیں نگاہوں سے دیکھا
اورجواب دیئے بغیر ریت چھاننے میں مصروف ہو گیا ۔ وہ بندہ اس کے پاس بیٹھ گیا اور
پوچھا ،مجنوں بھائی یہ کام کب سے کررہے ہو —؟
مجنوں بولا، پتہ نہیں ۔
ریت کیوں چھان رہے ہو —؟
اس بار مجنوں نے نہایت اشتیاق سے کہا
، لیلیٰ کو ڈھونڈ رہا ہوں ۔اسے تعجب ہوا کہ لیلیٰ! کیا لیلیٰ ریت میں رہتی ہے —؟
مجنوں کی نگاہیں یک لخت ریت کے ذرّات
میں گم ہوگئیں ۔ آنکھ کے ڈیلے ٹھہر گئے اور اس نے کہا، اگر ریت میں لیلیٰ نہیں ہے
تو پھر ریت میں چمک دمک کیسی؟ یہ لیلیٰ کے حسن کا جمال ہی تو ہے جس سے ریت میں
ذرّات چمک رہے ہیں ۔
کہانی سن کر نوجوان نے کہا، زمین بے
قرار ہے اور گردش میں ہے کہ اس کا مرکز آسمان ہے ۔آسمان بے قرار ہے ، ایسا بے قرار
کہ تکمیل کی تلاش میں نفی کرکے اپنی سمتیں گم کردی ہیں۔ آسمان کا دوسرا رخ زمین ہے
۔ پانی ، مٹی ،آسمان ، زمین اور جوکچھ ان میں ہے ، یہ سب ایک دوسرے سے ملنا چاہتے
ہیں۔ ان کے ملن اور دوری سے کائنات کا نظام قائم ہے۔
نووارد بولا، لگتا ہے تم قریب آ گئے
ہو؟
نوجوان نے بے نیازی سے کہا، دور میں
پہلے بھی نہیں تھا۔ بس ناواقف تھا اور ناواقفیت دوری بن گئی۔ جو پانی سمندر ہے ،
کیا یہاں بیٹھ کر میرے ہاتھوں میں جذب نہیں ہوگیا—؟ ریت میں چمک آئینہ ہے اور میں
اس آئینے میں کیا کیا نہیں دیکھتا۔ ریت میں ٹھنڈک جسم کا حصہ محسوس ہوتی ہے ۔ لگتا
ہے کہ کمہار نے اسی مٹی سے مجھے بنایا ہے ، ایک روز اسی میں مل جاؤں گا ، لہرآئے
گی اور مجھے سمندر سے آشنا کرے گی اور سمندر بخارات بن کر بادلوں تک پہنچا دے گا۔
پانی کی طرح میں بھی سفر میں ہوں !
وقت کے ابدال کا کہنا ہے،
دنیائے طلسمات ہے ساری دنیا
کیا کہئے کہ ہے کیا یہ ہماری دنیا
مٹی کا کھلونا ہے ہماری تخلیق
مٹی کا کھلونا ہے یہ ساری دنیا
گھروندا مکمل ہوا تو ایک بڑی لہرآئی اور
ریت کے ذرّات بہا لے گئی ۔جو باقی رہ گئے وہ ایک بار پھر قالب میں ڈھلنے کے لئے
کمہار کے منتظر تھے۔
وہ دونوں کچھ کہے بغیر اٹھے اور کل
پھر ملنے کے لئے متضاد سمتوں میں چل دیئے۔