Topics

شہید ِ عشق

 

 آفتاب جب چمکتا ہے تو باغ و چمن کو نہیں ڈھونڈتا کہ اپنی کرنوں کا انہیں نشیمن بنائے۔ اس کا فیضان ضوبخش مبدأ فیض کی طرح فیض عام ہے۔ محل سرائے شاہی کے کنگروں کے طلائی کلس اگر اس کی ضوفشانی سے چمک اُٹھتے ہیں تو کیا جنگل کے خشک درختوں کی شاخوں پر سنہری رنگ نہیں چڑھ جاتا؟ میرا مقصد نظام شمسی کے مرکز سے نہیں بلکہ آفتابِ اسلام سے ہے۔ جب اس کی تجلی کی لہریں اُٹھیں تو انہوں نے پہلے تو جسم و خون اور قوم و مَرزبوم کے قائم کئے ہوئے امتیازات کو خس و خاشاک کی طرح بہا دیا ۔پھر سیرابی کا وقت آیا تو احرا رِ قریش اور ارقائے حبش ،بطحا ویثرب اور عجم و فرنگ، تاجدارِ غسان اور باد یہ نشینانِ عرب، ادنی و اعلیٰ، دور و نزدیک سب کو یکساں طور پر شریکِ فیض کیا۔ صرف صلاحیت اور اثر پذیری معیار فیض رسانی تھی کہ ہر قوم اور ہر زمین بقدرِ صلاحیت حصہ یاب ہوئی۔ ابو جہل قریشی تھا اور خزانے کے پاس ، مگر مدت العمر محروم رہا۔  بلالؓ حبشی اور سہیلؓ رومی تھے، پھر کس قدر دور مگر ان کے دامن دیکھئے تو مالا مال تھے۔ ابرِ کرم کہاں نہیں برستا، مگر ہر زمین لالہ زار نہیں بن جاتی۔

 

 توفیق باندازۂ ہمت ہے ازل سے

 آنکھوں میں ہے وہ قطرہ کہ گوہر نہ ہوا تھا

 یہ اسی فیاضانہ فیض بخشی کا نتیجہ تھا کہ عرب گو  مبدأ ومنشائے اسلام تھا مگر اس کی کوئی خصوصیت نہیں رہی۔ مسلم قومیں جو دور دراز ملکوں سے آئی تھیں ہر علم و فن میں اس طرح دست بر علم ہوئیں کہ خود عرب کو ان کے لئے اپنی صفیں توڑ دینی پڑیں۔ یہاں تک کہ آج تراجم و رجال کی کتابیں اُٹھا کر دیکھتے ہیں تو کوئی علم و فن ایسا نظر نہیں آتا جس پر نو مسلم قوموں کا تسلط نہ ہو۔ حتیٰ کہ فقر و تصوف جس کی مذہب کے سائے میں پرورش ہوئی ہے اس کی تاریخ بھی نو مسلم اشخاص کی خود فروشیوں کی منت پذیری سے آزاد نہیں۔ بات یہ ہے کہ خدا کی محبت کی طرح اسلام کی بے دریغ فیض بخشی بھی اس طرح عام تھی کہ نسب و قومیت کے امتیازات کو اس میں دخل نہ تھا۔زرّیں کلاہوں اور ریشمی قباؤں پر نظر نہیں پڑتی۔ سر چشمہ فیضان ِ الٰہی بھی تشنگان ِ محبت کو ڈھونڈتا ہے۔ نسب و قومیت اور رنگ و خاندان سے کیا سرو کار؟

 اس عام فیض بخشی کی نمایاں نظیرحضرت سرمد ؒ  کی سوانح عمری بھی ہے۔ وہ ایران کے کسی ارمنی خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور مذہباً یہودی یا مسیحی تھے۔ آغازِ عمر ہی میں فیضانِ الٰہی کی نظر انتخاب پڑی اور جذب ہدایت کی کشش نے مشرف بہ اسلام کیا۔

 تحصیل علمی کا حال معلوم نہیں۔ لیکن تذکرے متفق اللفظ ہیں کہ علم و فضل اور عربیت میں درجہ ٔ  کمال رکھتے تھے۔ اس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ تحصیل علمی اس زمانے کے نصاب کے مطابق کامل ہوگی۔

 ابتدائی پیشہ تجارت تھا ۔ ایران سے تجارتی اموال لے کر ہندوستان کی طرف بڑھے۔ اس زمانے میں ایرانی سیاح عموماً سندھ ہو کر ہندوستان آتے تھے۔ سندھ کے شہروں میں ٹھٹھہ ایک مشہور شہر تھا جس کو اب نئے جغرافیہ میں گمنامی کا خانہ نصیب ہوا ہے، یہی ٹھٹھہ وہ سینائے مقدس تھا جو سرمد ؒ کے لئے تجلی گاہِ ایمن بنا اور لیلائے حُسن نے اول اول اپنے چہرے سے نقاب الٹی ۔ کہتے ہیں کہ ایک ہندو لڑکا تھا جس کی چشم کافر نےیہ فسوں طرازی کی اور ایسا ہونا کچھ مستبعد نہیں کیوں کہ عشق خیز دلوں کو دونیم کرنے میں بخیہ گر کی سوئی اور جلاد کی تیغ دونوں برابر ہیں۔ یہاں تجارت میں خریدار عموماً بے پروا و بے نیاز مگر صاحب ِ جنس غرض مند ہوتاہے۔ پھر جو لوگ کہ اپنے دلوں کو ہاتھوں پر بطور نذر رکھے ہوئے خریدار ڈھونڈتے ہوں انہیں تو حق ہی نہیں کہ خریدار میں خاص اوصاف کے طالب ہوں۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ سادہ لوح ایرانی تاجر بھی متاع ِدل کی کس مپُرسی سے تنگ آگیا تھا اور خود خریددار کو بے تابانہ ڈھونڈ ھ رہا تھا۔ جب خریدار مل گیا تو نظر اُٹھا کر دیکھا تک نہیں کہ کون ہے اور کیا لے کر آیا ہے۔ اسی کو غنیمت سمجھا کہ دل جیسی متاع ارزاں کی، ایک چشم سحر کار طالب ہے اور بلا تامل یہ سودا منظور کر لیا     ؎

 دلال عشق بود خریدار جانستاں

 خودرا فروخیتم، چہ سودا بما رسید

 سرمد ؒ کو آئندہ جس صحرا میں بادیہ پیمائی کرنی تھی یہ اس کی طرف پہلا قدم تھا اور کچھ سرمد ؒ ہی کی خصوصیت نہیں، عشق خواہ کسی عنوان ہو منزلِ حقیقت کا ہمیشہ سے پہلا قدم ہے، بلکہ یہ کہنا بھی تنزل ہے۔ منزلِ حقیقت کا کیا ذکر ، عشق تو وہ دروازہ ہے جس سے گزرے بغیر انسان انسان نہیں ہو سکتا۔ جس کے دل و جگر میں ٹیس اور آنکھوں میں تری نہیں اس کو معنی ِ انسانیت سے کیا واسطہ؟ تم نے اکثر دیکھا ہوگا کہ زاہد ِ معتکف بھی بایں ہمہ تعبس و تقشف جب اپنے زادیہ ، عبادت میں سر بہ زانو ہوتا ہے تو حورو غلمان کی مُسکراہٹ سے لطف لئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ یعنی جو خشک دماغ مسجد کے گوشوں اور ہجروں میں دوست ڈھونڈتے ہیں، انہیں بھی اس تصور کے بغیر چارہ نہیں   ؎

حور و جنت جلوہ بر زاہد دہد در راہِ دوست

اندک اندک عشق درکار آورد بیگانہ را

 یہی وجہ ہے کہ جو سودا زادگانِ حقیقت شاہد ازلی کے جاں دادہ ہیں انہیں بھی عشق ِ مجازی کےکوچوں میں درودیوار سے سر ٹکراتے دیکھا گیا ہے۔ کیونکہ دل جب تک لذت آشنائے درد نہ ہو برف کا ایک ٹکڑا ہے جس کو پانی بنتے دیکھا گیا ہےمگر برف آگ میں جلتے ہوئے کبھی نظر نہ آئی ۔حالانکہ انسانیت کا مفہوم یکسر سوزوگداز ہے اور عشق کا کلیسا آتش کدہ ہے۔ یہاں وہی آتش طلب قدم رکھ سکتے ہیں جو اپنے دلوں کو اس آتش کدہ پر نذرچڑھادیں۔ اورپھر دامن سے ہوا بھی دیتے جائیں کہ کہیں شعلوں کی بھڑک کم نہ ہوجائے۔

افسردہ را نصیب نباشد دلِ کباب

آں یابد ایں نوالہ کہ مہمان ِ آتش است

عشق الٰہی کی پہلی شرط یہ ہے کہ ماسوا کی طرف سے آنکھیں بند کرلی جائیں ۔مگر انسان آب و گِل کے تعلقات میں اس طرح پابہ گِل ہے کہ جب تک دل پر کوئی محکم چوٹ نہ لگے ادھر سے ٹوٹ نہیں سکتا۔ مکھی جب شہد پربیٹھ جاتی ہےتو جب تک اُڑائیے نہیں ،نہیں اُڑتی۔ انسان کا دل بھی جب تک چوٹ نہ کھائے دنیا کی لذتوں کو نہیں چھوڑتا۔یہ چوٹ صرف عشق ہی کے ہاتھوں لگ سکتی ہے۔ عشق کا فرشتہ اپنے بازوؤں میں وہ مافوق الفطرت طاقت رکھتا ہے کہ اس کی تیغ  کا پہلا ہی وار خون کے تاروں سے بندھے ہوئے رشتوں اور دنیا کی دل فریبیوں کی جکڑی ہوئی زنجیروں کے سو ٹکڑے کردیتا ہے، اور دل جب ہر قسم کی بندشوں سے آزاد ہوکر اپنے آپ کو دیکھتا ہے تو حلقۂ ازل کے سوا اور کوئی بیڑی پاؤں میں نہیں ہوتی۔ اسی درد کے لئے عارف عطار بے قرار نہ فغاں ساز ہے کہ

کفر کافر را و دیں دیندار را

ذرۂ دردے دل عطار را

غورکرو جس مردہ دل کو کبھی یہ وقت خوش  نصیب نہ ہواکہ کسی بند نقاب کے ٹوٹنے کے تصور میں اپنے خرمن ہوش وحواس پر بجلیاں گرائے، اس کو شاہد حقیقت کا نظارہ حواس ظاہری سے کب کھوسکتا ہے؟ جس افسردہ ٔتنفس نے اپنی عزیز اور شیریں باتیں کسی نرگسِ خواب آلود کی یاد میں نہ کاٹی ہوں ، اس کو معشوق حقیقی کی یاد میں بے چین راتیں کب نصیب ہوں گی؟ جس خیرہ دماغ نے اپنے سرمایۂ عجزو نیاز کو کسی مغرورناز کی کج ادائیوں اور بے نیازیوں پر نثار نہ کردیا ہو وہ خودپسندی اور خودآرائی کے بُت کو کیوں کر توڑ سکتا ہے؟ جس بے حس کو کسی پیکر حُسن کی صدائے شیریں نے مبہوت اور لایعقل نہ کردیا ہو، اس کو سازازلی کی نغمہ سرائی پر کیوں کر وجدآئے ، غرض کہ جس بدنصیب کو کسی مست حُسن کی نگاہ بے محابا بے خود نہ کرسکی اُسے جلوۂ طور پر کیوں غش آنے لگا؟ جو فتیلہ پہلے جل چکا ہو وہ فوراً آگ پکڑ لیتا ہے لیکن نئے فتیلے کو بہت دیر تک آگ دکھلانی پڑتی ہے۔

محبت در دلِ غم دیدہ الفت بیشتر گیرد

چراغے راکہ دودے ہست در سر زود درگیرد

نظریں اگر جویائے حُسن ہیں تو روئے پنہاں کے نظارے کی کیوں منتظر ہیں  انہیں تو پردۂ نقاب کی زیبائی ہی پر لوٹ جانا چاہئے۔ کنعان کی گم کردہ پسر آنکھوں نے جلوہ ٔیوسفی کا انتظار نہیں کیا۔ پیراہن یوسفی کی بو پاتے ہی کھل گئیں کہ  إِنِّي لأَجِدُ رِيحَ يُوسُفَ لَوْلا أَنْ تُفَنِّدُونِ یہی وجہ ہے کہ میخانۂ حقیقت میں جب مجلس گرم ہوتی ہے تو پہلے جام ومینا کا دور چلتا ہے اور جب اس کے تلخ گھونٹ گوارا ہو جاتے ہیں تو پھر خودساقی اپنے چہرے سے نقاب اُلٹ دیتا ہے کہ اب جام وسبو کی ضرورت نہیں ۔ اس کی نگاہ ِنشہ خیز سے خود رفتگی و خودگزشتگی حاصل کیجئے۔

مے حاجت نیست مستیم را

در چشم تو تا خمار باشد

سرمدؒ کے آگے بھی یہ جام رکھا گیا اور جام کی خوبی بہت کچھ جام پیش کرنے والے ہاتھ کی رعنائی پر منحصر ہے۔ اس لئے ہم اس ہندو لڑکے کو بھولنا نہیں چاہتے جس کی نگاہ لیلیٰ ر وش نے سرمدؒ کو مجنوں بنایا۔ مگر افسوس کہ ہر  عاشق قیس و فرہاد کی قسمت کہاں سے لائے؟ سرمدؒ کے لیلیٰ کا زیادہ سے زیادہ حال جو معلوم ہوتا ہے یہی ہے کہ ایک ہندو لڑکا تھااور غور کیجئے تو یہ بھی بہت ہے کیونکہ بازارِ عشق میں جب سودا چکایا جاتا ہے تو یہ کب دیکھا جاتا ہے کہ خریدار کون ہے اور کیا قیمت مل رہی ہے۔   ؎

 مرا فروخت محبت ولے نمی دانم

 کہ مشتری چہ کس ست و بہائے ما چندست

 ارباب ِ تذکرہ اس میں بھی ہم آہنگ نہیں کہ یہ واقعہ کہاں ہوا۔ والہ دا غستانی لکھتا ہے کہ بندر سورت میں اور آزاد بلگرامی نے اپنے کسی تذکرے میں عظیم آباد (پٹنہ) لکھا ہے۔ لیکن ان سب میں  مراۃ الخیال قدیم العہد ہے۔ اور اس کا بیان ہے کہ در اثنائے تجارت بشہرتتہ افتاو برہندو پسرے عاشق گشت۔“ اس لئے ہم نے اس کو ترجیح دی ہے۔ بہر کیف بجلی کہیں گری ہو، دیکھنا یہ ہے کہ دہقان کے خرمن سو ختہ کاکیا حال ہوا؟

 عشق کی شورش انگیزیاں ہر جگہ یکساں ہیں۔ ہر عاشق گو قیس نہ ہو مگر مجنوں ضرور ہوتا ہے اور جب عشق آتا ہے تو عقل و حواس سے کہتا ہے کہ میرے لئے جگہ خالی کرو۔ سرمدؒ پر یہی حالت  طاری ہوئی اور جذب و جنون اس طرح چھایا کہ ہوش و حواس کے ساتھ تمام مال و متاعِ تجارت بھی غارت کر دیا۔ دنیاوی تعلقات میں سے جسم پوشی کی بیڑیاں باقی رہ گئی تھیں۔ بالآخر اس بوجھ سے بھی پاؤں ہلکا کیاکہ پابندیاں تو مدعیانِ ہوشیاری کے لئے ہیں۔ مجنونِ لا یعقل مرغوع القلم ہوتے ہیں۔  ؎

 خطا بمردمِ دیوانہ کس نمی گیرد

 جنوں نداری و آشفتۂ خطا اینجا ست

 بیاباں نوردی عالمِ عشق کی سیر و سیاحت ہے کہ اسی سے انسان کی عقل تجربہ کار وپختہ ہوتی ہے۔ ”مجنوں“ جو صف عشاق میں نمایاں نظر آتا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ صحرا گردی میں کوئی اس کا حریف نہیں۔ سرمد ؒ نے بھی مدتوں صحرا کی خاک چھانی۔ سندھ کے ریگ زاروں سے تلوے گرم کئے، ہندوستان کے گرم و سرد موسموں کو یکساں عُریانی میں کاٹ دیا اور بالآخر جب یہ عقدہ کھلا کہ   ؎

 بے ہودہ چرا درپئے او می گردی

 بنشیں! اگر او خدا ست خودمی آید

سرمدؔ

تو پھر ایک مستقر کی تلاش ہوئی جہاں بیٹھ کر عشق کے آخری امتحان کا انتظار کیا جائے۔ لیکن جب نتیجہ یہی تھا تو پھر یہ بیاباں نور دی کیوں تھی؟ مگر نہیں ،خود کہہ چکا ہوں کہ یہ بھی عشق کے قانون  کمال میں داخل ہے اور عشق کے قانون میں استثنا نہیں۔   ؎

 یکے از دستگیری ہائے عشق است

 عزیزاں را بخواری بر کشیدن

 یہ وہ زمانہ تھا کہ عنقریب بساطِ ہند پر عالمگیر ایک نئی چال چلنے والے تھے اور شاہ جہانی حکومت کاعہد آخری اور شہزادہ دارا شکوہ ولی عہدِ سلطنت تھا۔ سلسلہ مغلیہ میں دارا شکوہ ایک عجیب طبیعت اور دماغ کا شخص گزرا ہے ۔اور ہمیشہ افسوس کرنا چاہئے کہ تاریخ ہند کے قلم پر اس کے دشمن کا قبضہ رہا ہے۔ اس لئے اصل تصویر پولیٹیکل چالوں کے گرد و غبار میں چھپ گئی۔ وہ ابتدا سے درویش دوست اور صوفیانہ دل و دماغ کا شخص تھا اور وہ ہمیشہ فقرا اور ارباب تصوف کی صحبت میں رہتا تھا ۔ اس کی بعض تحریرات جو دست بُرد حوادث سے بچ گئی ہیں بتلاتی ہیں کہ ان کا لکھنے والا بھی ذوق و کیفیت سے خالی نہیں، اس کے صاحب ذوق ہونے کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ تلاش مقصد میں دَیر وحرم کی تمیز اُٹھادی تھی اور جس نیاز کیشی کے ساتھ مسلمان فقراء کے آگے سر جھُکا تا تھا ویسی ہی عقیدت ہندو درویشوں سے بھی رکھتا تھا۔ اس اصول سے کون صاحب حال اختلاف کرسکتا ہے کیونکہ اگر اس عالم میں بھی کفرواسلام میں تمیز ہو تو پھر اعمٰی اور بصیر میں کیا فرق باقی رہ گیا؟ پروانہ کو تو شمع ڈھونڈھنی چاہئے۔ اگر صرف شمع حرم ہی کا شید اہے تو سوز طلبی میں کامل نہیں۔

عاشق ہم از اسلام خرابست وہم ازکفر

پروانہ چراغ حرم و دیر نداند

سرمد ؒجوش جنوں میں پھرتا ہوا جب شاہ جہاں آباد، دہلی پہنچا تو قضانے اشارہ کیا کہ قدم روک لئے جائیں ،کیونکہ جس جام کی تلاش ہے وہ اسی مے خانہ میں ملے گا۔ مصنف مراۃ الخیال جو عالمگیر پرستی کے معبد میں صفِ اولین کا طالب ہے لکھتا ہے کہ ” چوں خاطرسلطان دارا شکوہ بجانب مجانین میل واشت صحبت بوے درگرفت “ ۔  بے چارہ علی شیربھی ہوشیاری و دیوانگی ہی کی بحث میں سرمار رہا ہے۔ اسے کیا خبر کہ دنیا میں ایسے ترازو بھی ہیں جن کے ایک پلے میں اگر دیوانگی رکھ دی جائے تودوسرا پلہ تمام عالم کی ہوشیاری رکھ دینے سے بھی نہیں جھک سکتا ۔اور پھر ایسے خریدار بھی ہیں جن کو اگر ہوش و حواس کا تمام سرمایہ دے دینے سے ایک ذرّہ جنون مل سکتا ہو تو بازار یوسف کی طرح ہر طرف سے ہجوم کریں۔ بہر کیف خواہ کچھ ہو، عالمگیر کی ہوشیاری سے تو ہمیں داراشکوہ کی دیوانگی اور جنون دوستی پسند آتی ہےکہ وہاں تو تیغ ِ ہوشیاری کشتگان حسرت کے خون سے رنگین ہے اور یہاں خود اپنے جسم کی رگ ہائے گردن سے خون کی نالیاں بہہ رہی ہیں۔

شاید داراشکوہ بھی عالمگیر جیسے ہوشیاروں کی ہوشیاری سے تنگ آگیا تھا اسی لئے اس نے مجانین کی صحبت کو ہوش والوں کی مجلس پر ترجیح دی۔

غرض کہ سرمد دارا شکوہ کی صحبت میں رہنے لگا اور اُسے بھی سرمدؒ سے کمال عقیدت تھی۔ اسی زمانے میں عشق کی شورش انگیزیاں اسے کبھی کبھی باہر نکلنے پر مجبور کرتیں لیکن چونکہ معلوم ہوچکا تھا کہ آخری امتحان گاہ یہی ہے اس لئے شاہجہاں آباد سے نکل نہیں سکتا تھا۔ یہاں تک کہ شاہجہاں کی علالت اور داراشکوہ کی نیابت نے عالمگیری ارادوں کے ظہور کا سامان کردیا۔ اور ایک عرصہ کی شورش و خون ریزی کے بعدسن1069 ھ میں عالمگیر اورنگ زیب تخت نشین حکومت ہوا۔یہ زمانہ داراشکوہ کے ساتھیوں اور ہم نشینوں کے لئے خود داراشکوہ سے کم مصبیت انگیز نہ تھا۔ بہت سے لوگ تو داراشکوہ کے ساتھ نکل گئے اور جو رہ گئے انہوں نے اپنے آپ کو کشتیِ طوفان میں پایا۔لیکن اس رہینِ بے خبر ی کو اپنے استغراق میں اس کی فرصت کہاں ملتی تھی کہ دنیا کو نظر اٹھاکے دیکھے اور اگر دیکھتا بھی تو وہاں سے کیوں کر نکلتا۔ کیونکہ بایں ہمہ بے خبری اس سے بے خبر نہ تھا کہ اب تک جو کچھ ہوا ہے عشق کی ابتدائی منزلیں تھیں، آخری منزل طے کرنی باقی ہے اور وہ یہیں پیش آنے والی ہے۔

بیک دو زخم کہ خوردن زعشق امن مباش

کہ در کمیں گہے ابرو کمان کش ست ہنوز

سرمدؒ کی شہادت کے اسباب تذکرہ نویسوں نے مختلف بتلائے ہیں ۔ تذکرۃ الخیال میں ہے کہ سرمدؒ کی اس رباعی پر جُبہ پوشان شرع کے کان کھڑے ہوئے اور انہوں نے اسے کفر قراردیا کہ معراج جسمانی سے انکار لازم آتا ہے۔

ہرکس کہ سر حقیقتش پادرشد

او پہن تر از سپہر پہنا در شد

 مُلا گوید کہ بر فلک شد احمد ؐ

سرؔمد گوید فلک بہ احمدؐ درشد

 مگر اس تِرکِ سادہ کو فقیہانہ جنگ و جدل سے کیا سروکار تھا۔ اس نے نظر اُٹھا کے دیکھا تک نہیں کہ یہ کور بصر کیا شورو غو غا کر رہے ہیں۔ وہ تو اس عالم میں تھا جہاں اقرار و انکار کی بحثوں کی آواز بھی نہیں پہنچ سکتی۔  ؎

 در عجائب ہائے طورِ عشق حکمت ہا کم است

 عقل را با مصلحت اندیشی مجنوں چہ کار

 لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ عالمگیر کی نظروں میں تو سرمدؒ کا سب سے بڑا جُرم دارا شکوہ کی معیت تھی اور وہ کسی نہ کسی بہانے قتل کرنا چاہتا تھا۔ ایشیا میں ہمیشہ سے پالیکٹس مذہب کی آڑ میں رہا ہے اور ہزاروں خوں ریزیاں جو پالیٹیکل اسباب سے ہوئی ہیں انہیں مذہب ہی کی چادر اوڑھا کر چھپایا گیا ہے۔ جب کوئی اور بہانہ نہ ملا تو عُریانی اور برہنگی کو کہ خلاف رسم ِشرع ہے بنیاد قرار دیا اور مذکورہ بالا رُباعی سے نتیجہ نکالا کہ معراجِ جسمانی کا منکر ہے۔مُلا قوی اس زمانے میں قاضی القضاۃ تھے۔ عالمگیر نے انہیں سرمد ؒ کے پاس بھیجا کہ برہنگی کی وجہ دریافت کریں۔ مُلا صاحب نے کہا باوجود کمال علم و فضل برہنہ اور مکشوف العورۃ رہنا کس عذر پر مبنی ہے؟ سرمد ؒ نے کہا کیا کروں شیطان قوی ہے اور فی البدیہہ یہ رباعی پڑھی  ؎

 خوش بالائے کردہ چنیں پست مرا

 چشمے بدو جام بردۂ از دست مرا

 اور در بغل من است و من در طلبش

 دزدے عجبے برہنہ کردہ است مرا

 مُلا صاحب برہم ہوئے اور برہم ہونے کی بات ہی تھی کہ اسلام کی توہین نہیں کی گئی مگر خود ان کے وجود اسلام عبارت کی سخت اہانت ہوئی یعنی ان کا اسم سامی ابلیسِ لعین کا وصف قرار پایا۔ بہر کیف انہوں نے عالمگیر سے آ کر کہا کہ کفر کا کافی مواد ہاتھ آگیا ہے اور قلم دان کھولنا چاہا کہ علمائے ظاہر کی تیغ خوں آشام اسی نیام میں رہتی ہے لیکن عالمگیر کی عاقبت اندیشیوں نے صرف اس بہانے کو کافی نہیں سمجھا۔ وہ خوب سمجھتا تھا کہ سرمدؒ کوئی معمولی شخص نہیں ہے جس کا قتل ایک عامۃ الورود واقعہ سمجھا جائے گا۔ علم و فضل کے لحاظ سے کوئی اس کا ہمتا نہیں اور رجوع خلائق کا یہ حال ہے کہ سارا شاہجہاں آباد اس کا معتقد اور ہوا خواہ ہے ۔ اس لئے جب تک کوئی بہانہ قوی ہاتھ نہ آئے ،اس ارادے کو ملتوی رکھنا چاہئے۔

 اسلام کے اس تیرہ سو برس کے عرصے میں فقہا کا قلم ہمیشہ تیغ بے نیام رہا ہے اور ہزاروں حق پرستوں کا خون ان فتووں کا دامن گیر ہے۔ اسلام کی تاریخ کو خواہ کہیں سے پڑھو، سینکڑوں مثالیں کہتی ہیں کہ بادشاہ جب خوں ریزی پر آتا ہے تو دارا لا فتاء کا قلم اور سپہ سالار کی تیغ دونوں یکساں طور پر کام دیتے تھے۔ صوفیہ اور ارباب وطن پر منحصر نہیں، علمائے شریعت میں سے بھی جو نکتہ بیں، اسرار حقیقت کے قریب ہوئے فقہا کے ہاتھوں انہیں مصیبتیں اُٹھانی پڑیں اور بالآخر سر دے کر نجات پائی۔ سرمدؒ بھی اسی تیغ  کا شہید ہے۔  ؎

 چوں می رود نظیؔری خونیں کفن بہ حشر

 خلقے فغاں کنند کہ ایں داد خواہ ِ کیست

 آخر اُلا مریہ قرار پایا کہ سرمد ؒ کو علما ءوفضلائے عصر کے مجمع میں طلب کیا جائے اور تمام علما کی جو رائے قائم ہو اس کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔ چنانچہ مجلس منعقد ہوئی اور سرمدؒ کو بلایا گیا۔ سب سے پہلے خود عالمگیر مخاطب ہوا اور پوچھا،  لوگ کہتے ہیں کہ سرمد نے دارا شکوہ کو مژدہ ٔسلطنت دیا تھا۔ کیا یہ سچ ہے؟ سرمدؒ نے کہا ہاں ،وہ مثردہ درست نکلا کہ اُسے ابدی سلطنت کی تاج پوشی نصیب ہوئی۔ عمامہ بندوں نے کہا برہنگی شرع کے خلاف ہے اور اس کے لئے صاحب ِعقل و تمیز کا کوئی عذر مسموع نہیں۔ اس کا جواب تو سرمدؒ پہلے ہی دے چکا تھا   ؎

 دزدے عجبے برہنہ کردہ است مرا

 خلیفہ ابراہیم بد خشانی ، عہدِ عالمگیری میں ایک صاحب ِ طریقت بزرگ گزرے ہیں جو ابتدائے جوانی میں سپاہی پیشہ تھے اور فتح اللہ خاں کے ہاں کہ امرائے عالم گیری میں سے تھا، نوکر ہوگئے تھے۔ اتفاقاً میر جلال الدین بد خشانی نامی ایک صاحب ِ حال بزرگ کی ان پر نظر پڑ گئی اور ان کو فیض پذیردیکھ کر اپنی تربیت میں لے لیا۔ رفتہ رفتہ یہ خود بھی صاحبِ حال ہوگئے۔ علم ظاہری کی تحصیل کا گو موقع نہ ملا لیکن مذاق فطری کا یہ عالم تھا کہ مثنوی معنوی کا دفتر ہفتم چار حصوں میں نظم کیا جو درد ِ و کیفیت سے لبریز ہے، معز الدین جہاندارشاہ کو ان کی خدمت میں کمال اعتقاد تھا اور ہندوستان و دکن میں ہزاروں اشخاص ان کے معتقد حلقہ بگوش تھے۔

 والہ داغستانی انہیں بزرگ سے روایت کرتا ہے کہ جب مجمع علما میں سرمد  کو لباس پہننے کے لئے کہا اور مسموع نہ ہوا تو بادشاہ نے علما سے کہا کہ محض برہنگی وجہ قتل نہیں ہو سکتی۔ اس سے کہا جائے کہ کلمہ طیبہ پڑھیئے۔ اور یہ اس لئے کہا کہ بادشاہ سُن چکا تھا کہ سرمد  کی عادات عجیبیہ میں سے ایک یہ عادت بھی ہے کہ کلمہ طیبہ جب پڑھتاہے تو لا الہٰ سے زیادہ نہیں کہتا۔ علما نے سرمد ؒ سے کلمہ پڑھنے کی خواہش کی تو اپنی عادت کے بمو جب صرف لا الہٰ پڑھا کہ جملہ نفی ہے۔ اس پر علما نے شور مچایا تو کہا ” ابھی تک میں نفی میں مستغرق ہوں۔ مرتبۂ اثبات تک نہیں پہنچا۔ اگر الا اللہ کہوں گا تو جھوٹ ہوگا اور جو دل میں نہ ہو تو زبان پر کیسے آئے؟“

 علما نے کہا ایسا کہنا کفرِ صریح ہے۔ اگر تو بہ نہ کرے تو مستحق قتل ہے۔ یہ ظاہر پرست نہیں جانتے تھے کہ سرمد ؒ اس سے بہت اونچا ہے کہ کفر و ایمان کی بحثیں سنائی جائیں اور وہ قتل و خون کے احکام سے مرعوب ہو۔ کفر سازتو اپنے مدرسہ اور مسجد کے صحن میں کھڑے سوچتے تھے کہ اس کی کرسی اتنی اونچی ہے اور وہ اس منارہ ٔعشق پر تھا جہاں کعبہ اور مندر بالمقابل نظر آتے ہیں اور جہاں کفر و ایمان کے علم ایک ساتھ لہراتے ہیں   ؎

 کشورے ہست کہ دروے رود از کفر سخن

 ہمہ جا گفت و شنو بر سر ایمان نہ رود

 اور سرمد ؒنے اپنی اصلی حالت بے کم و کاست بیان کر دی تھی۔ایمان بالغیب پر جو لوگ قانع نہیں ہوتے( اور اس عدم قناعت ہی کا نام تلاشِ حقیقت ہے) وہ اپنے اقرار کو مشاہدہ عینی سے استوار کرنا چاہتے ہیں اور شاہد حقیقت کی رونمائی نقد شہادت ہے جو ابھی سرمد ؒ کو نصیب نہیں ہوئی تھی۔ پس جس چیز کو دیکھا نہیں تھا کس طرح کہہ دیتا کہ ہے اس ملک کے جتنے رہرو ہیں سب ہی کو اس منزل سے دوچار ہونا پڑتا ہے لیکن سرمدؒ کا جرم یہ تھا کہ وہ جس جام کو چھپ کر پیتے ہیں سرمد ؒ نے اعلانیہ اسے منہ سے لگایا اور درہ محتسب کا مستحق ٹھہرا  ؎

خرقہ پوشاں ہمہ گر مست گزشتند گزشت

قصۂ ماست کہ در کوچہ و بازار بماند

 اور نظرِ تعمق سے دیکھئے تو یہ اعلان ضروری تھا کیونکہ جب اس سفر کی آخری منزل شہادت تھی تو خواہ ناقے کا  رُخ کسی طرف ہوتا، دست کارفرما کا فرض تھا کہ اسی طرف پھیر دے  ؎

 

 منصور را کہ رخصت اظہار دادہ اند

 غیر از قصاص ومحنت زنداں نبودہ شرط

 غرض کہ جب سرمدؒ نے توبہ نہ کی تو علما نے بلا تامل فتوائے قتل صادر کیا اور دوسرے دن قتل گاہ میں لے گئے ۔بموجب بیانِ مراۃ الخیال یہ واقعہ ۱۰۷۲ ھ میں ہوا کہ عالمگیر کی تخت نشینی کو تین سال سے زیادہ زمانہ نہ گزرا تھا  ؎

 موبہ مویم دوست شد ترسم کہ استیلائے عشق

 یک انا الحق گوئے دیگر برسردار آدرد

 شاہ اسد اللہ نامی ایک مرد درویش و حق آگاہ راوی ہیں کہ مجھے سرمدؒ کی خدمت میں کمال خصوصیت حاصل تھی۔ جب شورش و ہنگامہ شروع ہوا تو مجھ سے نہ رہا گیا۔ ایک دن موقع پاکر عرض کیا کہ اگر اپنی وضع و حالت بدل دیں تو بندگانِ الٰہی کی منت و سماجت دیکھتے ہوئے بظاہر کوئی نقصان نہیں، یہ سُن کر نظر اُٹھائی اور اپنا یہ شعر پڑھ دیا  ؎

 عمریست کہ آوازۂ منصور کُہن شد

 من از سرِ نو جلوہ دہم دار و رسن را

 جب سرمدؒ    کو شہادت گاہ لے چلے تو بیان کیا جاتا ہے کہ تمام شہر ٹوٹ پڑا تھا اور اِس قدر ہجوم تھا کہ راہ چلنا دشوار ہو گیا تھا ۔ عشق کی نیر نگیوں کو کیا کہئے جہاں کا عام پسند تماشہ خوں ریزی ہے ، جہاں قربانی سے بڑھ کر کوئی کوئی دل پسند کھیل نہیں۔ جب کوئی سردادہ سربکف بڑھتا ہے تو معلوم ہوتا ہے دولھا کی سواری جا رہی ہے اور براتیوں کا ہجوم ہے کہ شانے سےشانہ چھلتا ہے  ؎    

 بجرمِ عشق توام می کشند و غوغائے ست

 تو نیز برسرِ بام آ کہ خوش تماشائے ست

 مگر یہ عشق مجازی تھا کہ سرِ بام آنے کی خواہش کی گئی ورنہ سرمد ؒ کو سر اُٹھانے کی بھی ضرورت نہ ہوئی جب جلاد تلوار چمکاتا ہوا    آگے بڑھا تو مسکرا کے نظر ملائی اور کہا،

” فدائے توشوم،  بیا بیا کہ تو بہر صورتے کہ می آئی ،من ترا خوب می شناسم“

 صاحب ِ مراۃ لخیال راوی ہے کہ اس جملے کے کہنے کے بعد یہ شعر پڑھا اور مردانہ وار تلوار کے نیچے سر رکھ کر جان دے دی   ؎

 شورے شد و از خوابِ عدم چشم کشودیم

 دیدیم کہ باقی ست شبِ فتنہ غنودیم

 صاحب ِ مراۃ الخیال کو عالمگیر کی خوشامد سے اتنی فرصت کہاں تھی کہ سرمدؒ کی نعشِ خون آلود پر اشک افشانی کرتا ۔لیکن ستم یہ ہے کہ اس سنگ دلی پر قانع نہ ہو کر چاہتا ہے کہ کسی طرح یہ خوں ریزی بھی عالمگیر کے دفتر مناقب و فضائل میں جگہ پائے۔حالانکہ اس دفتر میں تو پہلے ہی ہر صفحہ رنگین ہے۔ اس کو بھی عشق کی شیوہ گری سمجھئے کہ یہاں کی قربانیوں سے جن کے ہاتھ خون آلود ہوتے ہیں وہ مجرم و خونی ہونے کی جگہ تحسین اور ثواب کا صلہ مانگتے ہیں۔ گویا میدانِ عشق بھی قربان گاہ منیٰ ہے کہ جس قدر خون بہائے ثواب ہے۔  ؎ 

 یہ عجیب رسم دیکھی کہ بروز عید قرباں

 وہی ذبح بھی کرے ہے وہی لے ثواب الٹا

 بعض لوگوں کا خیال ہے کہ سرمدؒ کی جہاں قبر سمجھی جاتی ہے یہ اس کا مدفن نہیں صرف مشہد ہے۔ لیکن والہ داغستانی نے تصریح کر دی ہے کہ ”درجنب مسجد جامع گردنِ اور ا زدند  ودر ہماں جا دفن کروند۔“ یہ مقام موجود ہ مقام ِ مزار کے سوا اور کون سا ہو سکتا ہے؟ پھر لکھتے ہیں کہ ”راقم ِ حروف بزیارت مزار وے مکرر مشرف است ۔ در چہار فصل سبزہ از تربتش کم نہ می شود۔ والحق فیض عجبے زیارت ِ آں منصور ثانی ہست “ ۔والہ داغستانی عہد ِ محمد شاہی میں تھا اور اس کے تذکرے کا سال ِ تصنیف ۱۱۶۰ھ ہے۔ لیکن آج بھی شہید سرمدؒ زیارت گاہ ِ عوام و خواص ہے اور ہمیشہ فاتح کے ہاتھ اس کے آگے رو بہ آسمان رہتے ہیں۔  ؎

 بر سرِ تربت حافظ چوں گزری ہمت خواہ

 کہ زیارت گہِہ رندان ِ جہاں خواہد بود

 خلیفہ ابراہیم جن کے حالات اوپر گزر چکے ہیں راوی ہیں کہ سرمد  ؒنے زندگی میں کلمہ طیبہ لا الہٰ سے زیادہ نہیں پڑھا۔ لیکن جب شہادت پائی تو لوگوں نے سنا کہ سرِ کشتہ سے تین بار الا اللہ کی صدا بلند ہوئی۔ اس کے علاوہ والہ داغستانی لکھتے ہیں کہ ایک ثقہ جماعت سے سنا گیا ہے کہ سرمد ؒ کا سرِ مقتول کلمہ طیبہ پڑھتا رہا۔اور اتنا ہی نہیں بلکہ کچھ دیر مصروف ِ حمد الٰہی بھی رہا۔ موجودہ زمانے میں ایسی روایتوں پر لوگ بمشکل یقین لائیں گے اور سوانح نگار کا فرض ہے کہ خوش اعتقادی کی روایات اور تاریخ کو الگ الگ رکھے۔ لیکن ہمیں تو یہ بیان پڑھ کر کچھ بھی تعجب نہ ہوا کیوں کہ اگر خوش اعتقادی کے کان نہیں تو کیا حقیقت بینی کی آنکھوں سے بھی محروم ہونا چاہئے۔ ہم نے بہار میں شگفتہ و شاداب پھولوں اور خزاں میں افسردہ اور خشک شاخوں کو باتیں کرتے دیکھا ہے۔ پھر اگر ایک شہید ِ عشق کے سرِ مقتول کے لب ہلتے نظر آئیں تو کیوں تعجب ہو ۔ ممکن ہے کہ سرمدؒکے بے جان سر سے آواز  نکلی، مگر ارباب بصیرت نے اس کی زبان ِ حال کو تو ضرور متکلم دیکھا ہوگا اور ڈھائی سو برس سے زیادہ گزر گئے، ہمارے کانوں میں تواب تک مشہد ِ سرمد ؒ سے صدا آرہی ہے کہ   ؎

 کس چہ داند قدر مردن ہائے عشق

 منت ایں مرگ برجانِ من است

 عالمگیر ۱۰۶۹ ھ میں تخت نشیں ہوا اور تین سال کے بعد سرمد ؒ  کی شہادت کا واقعہ پیش آیا اور اس کے بعد ایک قرن سے زیادہ عرصے تک حکومت کی۔ اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ   ؎

 خونے کہ عشق ریزد ہرگز ہذر نہ باشد

یہ سرمدؒ کے خون ہی کی نیر نگیاں تھیں کہ اس تمام مدت میں عالمگیر کو کبھی راحت و اطمینان کے دن نصیب نہ ہوئے یہاں تک کہ پیغام ِ اجل بھی آیا تو عالمِ غربت و پریشانی میں۔ مگر سوانح نگار کے قلم سے ایسے جملے نہیں نکل سکتے۔ ہمارے لئے تو یہی بہتر ہے کہ ہو سکے تو عالمگیر کو بھی اس معاملے میں معذورسمجھیں۔ تاریخ قیاس و ظنون اور شخصی آراء کے پریشان مجموعے کا نام ہے۔ آج چند میلوں کے فاصلے پر ایک حادثہ گزرتا ہے تو اخباروں کے دو نامہ نگار  متفق البیان نہیں ہوتے۔ کس کو معلوم ہے کہ اس وقت کی  اصلی حالت کیا تھی اور عالم گیر کے گرد و پیش کن حالات و اسباب کا ہجوم تھا۔ پھر یہ بھی ہے کہ خون رفتگان ِ عشق جب اپنے قاتلوں سے گلہ مند جفا نہیں تو ہمیں کیا حق ہے کہ ان کی شکایت سے قلم آلودہ ہوں۔ جب سرمدؒ نے جلاد سے کہا کہ ۔” تو بہر صور تے کہ می آئی ،من ترا خوب می شنا سم۔“ تو اسے ان عالمگیری علما سے کیا شکایت ہوگی! بات یہ کہ دیار محبت میں انتقام و دعوے کی شنوائی نہیں اور عشق کے مذہب میں کینہ و عداوت سے بڑھ کر کوئی شے حرام نہیں۔ یہاں سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ قاتل تیغ لےکر آئے تو سر جھکا دیجئے اور ہو سکے تو اس کے ہاتھوں کو بوسہ دیجئے۔  ؎

 شد است سینہ ظہوری پر از محبت ِ یار

 برائے کینۂ اغیار در دلم جا نیست

 سرمد  کے کلام کا ایک صحیح اور قلمی نسخہ میرے کتب خانے میں موجود ہے مگر اس وقت پیشِ نظر نہیں۔ چند سطروں کا ارادہ تھا مگر کئی صفحے ہو گئے اور عشق کی حکایت ختم ہونے والی ہے۔ اس لئے چاہتا ہوں کہ روحِ سرمدؒ پر دستِ فاتحہ اُٹھا کر خاموش ہو جاؤں۔ افسوس ہے کہ یہ داستان مختصر نہ ہو سکی مگر شہید انِ محبت کی یاد میں جتنی دیر افسردہ رہ سکے بہتر ہے۔  ؎

 لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم

 چنانکہ حرفِ عصا گفت موسٰی اندر طور