یہ واقعہ میں نےدسمبر ۱۹۴۹ ء میں کسی رسالے میں پڑھا تھا اور اپنے فائل میں لگایا تھا۔
۷۴ سال کے بعد اب قارئین کی خدمت میں ہے۔ (خواجہ شمس الدین عظیمی)
بات جس قدر پُرانی ہے اسی قدر دل چسپ اور عجیب ہے۔
ضلع سیالکوٹ کے مضافات میں ایک خوبصورت نوجوان سید زادہ زمیندار تھا۔ اس کا اصلی نام تو کسی کو معلوم نہیں ہو سکا۔ لیکن جن بڑے بوڑھوں کی زبانی یہ داستان ہم تک پہنچی ہے ان کا کہنا ہے کہ نوجوان اپنے ظلم وجور ، تشدد و بربریت ، غارت گری اور لوٹ کھسوٹ کے لحاظ سے جابر کہلاتا تھا۔ وہ ایک قلعے میں اقامت گزیں تھا جہاں ہر وقت ایک مسلح دستہ اس کے حکم کا منتظر رہتا تھا۔ مال و اسباب لوٹنے کے علاوہ نوجوان اور خوبصورت عورتوں کو اُٹھا لانا اس کا محبوب مشغلہ بلکہ پیشہ تھا۔ اس کے ہوتے ہوئے کسی شریف بہو بیٹی کی عزت محفوظ نہیں تھی۔ باراتوں پر ڈاکے اس کے معمولات میں داخل تھا۔لیکن تمام خرابیوں کے باوجود اس میں ایک خوبی تھی کہ سوائے مزاحمت کے موقع کے وہ کسی پر تشدد نہیں کرتا تھا اور نہ آج تک اس نے کسی کو قتل کیا تھا ۔ مسلح سپاہی فقط حفظ ما تقدم اور ضرورت کے لئے رکھے ہوئے تھے۔طبقہ ٔعورت ومرد میں سے کوئی اس کا عزیز یا رشتہ دار زندہ نہ تھا لیکن حرم میں بے شمار عورتیں تھیں۔
قلعہ کے صدر دروازے پر دو مسلح پہرہ دار موجود رہتے تھے۔ اس لئے کوئی شخص اندر نہیں جا سکتا تھا۔ اگر سرکاری ہر کارے کوئی حکم نامہ لے کر آتے یا کوئی کارندہ محاصل کی وصولی کے سلسلے میں آتا تو یہ سپاہی بندوق کا ایک فائر کر دیتے تھے جس کی آواز سُن کر کیفیت ِ حال دریافت کی جاتی تھی۔ لیکن غروب آفتاب سے لے کر پو پھٹنے تک کسی قسم کی مداخلت بجا و بے جا کی مطلق اجازت نہ ہوتی تھی۔ باہر بالکل سناٹا ہوتا تھا اور قلعے کے اندر رنگ رلیاں رہتی تھیں۔
لوگ جابر کی چیرہ دستیوں سے تنگ آگئے۔ مساجد میں جلسے ہونے لگے اور اس کے پنجہ ٔاستبداد سے خلاصی پانے کے لئے طرح طرح کی تجویزیں اور تد بیریں زیرِ غور لائی گئیں۔ لیکن نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ ایک دفعہ مشورہ کیا گیا کہ گرد و نواح کے دیہات مل کر جابر کا مقابلہ کریں گے مگر اس تجویز پر بھی عمل نہیں ہو سکا۔
ساتھ والے گاؤں میں ایک بیوہ رہتی تھی جس کا تمام کنبہ وبا میں مبتلا ہو کر ختم ہو چکا تھا۔ سوائے ایک نوجوان بیٹی کے جس کا نام حلیمہ تھا اس بیوہ کا کوئی قریبی نہیں تھا۔ بے چاری نے اپنے ہر عزیز کی خدمت و تیمار داری کی لیکن سب کے سب باری باری چل بسے۔ جب وہ مرنے والے اقارب کو رودھو کر بیٹھی تو اسے اپنے اور بیٹی کے گزارے کے لئے کام کاج کی فکر ہوئی۔ بیوہ خود سینے پرونے کا کام جانتی تھی ۔ لیکن حلیمہ معمولی درسی کتابوں کے علاوہ قرآن کریم بھی پڑھی ہوئی تھی۔گاؤں والوں نے اس کی سرپرستی کا بیڑا اُٹھایا اور اسے اپنے بچوں کی معلمہ مقرر کر کے ایک چھوٹا سا مدرسہ کھول دیاجس میں لڑکیاں اور چھوٹے چھوٹے لڑکے پڑھتے تھے۔ حلیمہ بڑے انہماک سے بچوں کو درس دیا کرتی تھی۔ گاؤں والے اس کی عفت و پرہیزگاری کی وجہ سے نہایت عزت کرتے تھے اور ہر چھوٹا بڑا اُسے ” استانی“ کہہ کر پکارا کرتا تھا۔
حلیمہ کے حسین و جمیل چہرے سے جلال ِعفت و عصمت ٹپکتا تھا۔ بیوہ جب اس کی طرف نگاہ بھر کر دیکھتی تھی تو اس کی آنکھوں میں آنسو آجاتے تھے۔ وہ دل میں سوچتی تھی کہ اس ” لالہ رُخ“ کو کس گنوار کے پلے باندھوں گی۔ اسے دن رات یہی فکر ہلکان کر رہی تھی مگربے چاری مجبور و بے بس تھی۔ سوچتی تھی اور سوچتی رہتی تھی۔
اسی گاؤں میں خضر صورت ایک بزرگ مولانا اشرف علی رہتے تھے۔ ان کے زہد و تقویٰ اور اطاعت و عبادت کا شہرہ دُور دُور تھا۔ یہ بزرگ بہت پائے کے متدیّن عالم اور پرہیز گار تھے۔ اور ایسے پہنچے ہوئےتھے کہ انہیں حضرت رسالت مابؐ کے دربار کی حضوری کا شرف حاصل تھا۔ تہجد کے بعد عام طور پر استراحت کے لئے لیٹ جایا کرتے تھے۔ اس وقت شرف حضوری سے نوازے جاتے تھے۔
انسان کسی معاملے میں جب جسمانی اور مادی جدو جہد میں ناکام ہو جاتا ہے تو اس کی توجہ فطرتاً روحانیت کی طرف مبذول ہوتی ہے۔ جب لوگ جابر کے ظلم و ستم سے بہت گھبرا گئے اور ہر قسم کی قانونی داد رسی سے مایوس اور نا اُمید ہوگئے تو مولانا کی خدمت میں حاضر ہو کر اپنی بپتا سنانے لگے۔
مولانا بہت ہی رقیق القلب اور رحم دل انسان واقع ہوئے تھے۔ مظلوموں کی لرزہ خیز داستانیں سُن کر بہت روئے مگر آپ نے معذوری ظاہر کرتے ہوئے فرمایا کہ” نہ تو میں مفتی ہوں نہ قاضی، نہ ہی میرے پاس قانونی طاقت ہے، جس سے میں جابر کے مظالم کا واجبی انسداد کرسکوں۔ آخر آپ لوگ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟“
لوگوں نے عرض کیا:
”حضرت! آپ دعا فرمائیں کہ خدائے تعالیٰ اس ظالم کو اُٹھا لے تاکہ ہم لوگوں کو اس کے ظلم و ستم سے رہائی ملے۔“
مولانا : یعنی بد دعا؟
لوگ: ” ہاں ، بد دعا۔ اور ایسی کہ مہلک دواسے زیادہ سریع الاثر اور پُر تاثیر ہو“
مولانا: ” دیکھو بھئی! زندگی اور موت خدا کے ہاتھ میں ہے۔ فقیر کا یہ منصب نہیں کہ خدا تعالیٰ کے کاموں میں دخل دے۔“
لوگ: تو پھر خدا تعالیٰ نے جہنم کیوں بنا رکھا ہے؟ دنیا کی عدالتوں میں مجرموں کو کیوں سزائیں ملتی ہیں؟ کبھی کبھی بے گناہ بھی اس بے رحمی سے دھر لئے جاتے ہیں کہ انسان کا ایمان متزلزل ہو جاتا ہے۔
مولانا: یہ مشیت ایزدی ہے ۔ ایسی صورت میں ہمارا کوئی نہ کوئی پچھلا گناہ ہوتا ہے جس کی پاداش میں یہاں ہمیں کسی نہ کسی طرح سزا مل جاتی ہے۔
لوگ: حضرت! پھر انسان فاعلِ مختار نہیں رہتا۔ پھر تو سزا و جزا کی بشارتیں بے معنی ہوجاتی ہیں۔ ایک انسان دوسرے انسان پر اتنے بے حد مظالم ڈھا رہا ہے اور اُسے سزا دینے کی کوئی تجویز کارگر نہیں ہورہی ہے۔ تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ خدا سے التجا نہ کی جائے ، اس سے مدد نہ مانگی جائے۔
مولانا: خدا حاضر و ناظر ہے۔ وہ خود دیکھ رہا ہے جب چاہے گا جابر کو اُٹھا لے گا۔ ممکن ہے ابھی اس کے پاپوں کی ناؤ نہ بھری ہو۔
لوگ:لیکن ایسے کاموں کی وجہ سے ہمارا ایمان متزلزل ہو رہا ہے۔ ہم نہایت پریشان ہیں۔ جب شریعت نافذ ہوئی تھی تو فاسق و فاجر سنگسار کر دیئے جاتے تھے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ جابر کی موت کے لئے بد دُعا نہ کی جائے جب کہ اسے سنگسار نہیں کر سکتے۔ آپ ہماری عرض داشت پر کان نہیں دھرتے۔ شریفوں کی عزت خاک میں مل رہی ہے، خاندانوں کے خاندان ذلیل ہورہے ہیں، آدمی کا کیا ہے— بے گناہ مارا گیا تو شہید ۔ لیکن عورتوں کی تذلیل بہت ہی مذموم فعل ہے۔ اس کا سدِ باب ، اس کا انسداد، اس کی روک تھام نہایت ضروری ہے جو ہم نہیں کرسکتے۔ کیا حرج ہے اگر خُدا سے فریاد و دعا کی جائے۔ہم آپ کو اپنا وکیل بناتے ہیں۔ آپ ہماری طرف سے بارگاہ ِ خداوندی میں عرض کریں۔
مولانا اس قدر روئے کہ آپ کی ریش مبارک آنسوؤں سے تر ہوگئی۔ آپ نے کچھ سوچ کر فرمایا:
”آپ لوگ تشریف لے جائیں ۔ میں غور کروں گا۔“
اس رات مولانا نمازِ مغربین کے درمیان وقفہ میں مصروف دُعا ہوئے اور نہایت خضوع و خشوع سے بارگاہ ِ رب العزت میں عرض کی۔
” یا مولا! تیری مشیت میں دخل دینا فقیر کو زیب نہیں دیتا۔ لیکن جابر کے مظالم حد سے بڑھ گئے ہیں ۔ تو حاضر و ناظر ہے۔ تو دیکھتا ہے کہ اس نے تیرے بندوں پر کیا کیا ظلم نہیں توڑے۔ بہتر ہے کہ تو اس کو اُٹھا لے تاکہ تیرے بندے امان پائیں، آمین ثم آمین!“
تہجد کے بعد اور نمازِ فجر سے پہلے مولانا پر ایک کیفیت طاری ہوجایا کرتی تھی۔ یہ وہ ساعت تھی جب آپ حضوری سے مشرف ہوتے تھے ۔ مگر آج وہ ایسی گہری نیند سوئے کہ نمازِ فجر بہ مشکل ادا کر سکے۔ دن بھر اپنی غفلت پر متاسف رہے۔ شام کو پھر وہی دعا مانگی۔ صبح پھر وہی ماجرا ہوا۔ تیسری شام دُعا کی مگر رات بھر نہیں سوئے ۔ صبح دربار میں حضوری ہوئی۔ مگر مولانا نے دیکھا کہ حضور رسالت مابؐ کے چہرۂ اقدس پر نقاب پڑی ہے اور رُخ دوسری طرف ہے۔ مولانا نے ڈرتے ڈرتے عرض کی۔
”یا حضرت! میں دو دن تک اپنی غفلت پر نہایت نادم ہوتا رہا اور اب جب کہ میرے خوابیدہ نصیب بیدار ہوئے ہیں میں پھر بھی دیدارِ فیض آثار سے محروم ہوں۔ ایک تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے چہرۂ اقدس پر نقاب ہے اس پر عبس و تولیٰ کی تجدید مستزا دہے۔ میرے ماں باپ حضورؐ پر فدا ، مجھ سے کیا قصور سرزد ہواہے؟“
حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ ارشاد نہ فرمایا ۔ صرف انگشتِ مبارک سے اپنی گود کی طرف اشارہ کیا۔ مولانا نے دیکھا تو ہوش و حواس مختل ہو گئے اور سکتے کا عالم طاری ہو گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد حواس بجا کر کے اور آنکھیں مل کر دیکھا مگر نگاہیں دھوکا نہیں دے رہی تھیں۔ جو کچھ دیکھا وہی دوبارہ نظر آیا۔
ایک چھوٹا سا بچہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں پڑا ہو ا تھا جس کا حُلیہ اور چہرہ مُہرہ سب جابر سے ملتا جلتا تھا۔
مولانا نے انتہائے حیرت سے عرض کی ” یاحضرت ؐ! یہ تو جابر ہے“
ارشاد ہوا ،” ہاں ۔“
عرض کی ” جابر اور یہ مقام ؟“
فرمایا،” میں جانتا ہوں جابر فاسق و فاجر ہے۔ عالمِ دین کا فرض ہے کہ وہ دنیا میں بھلائی چاہے۔ تم اسے ہدایت کرتے، نیکی کی طرف بُلاتے نہ کہ اس کی ہلاکت و موت کی دُعا کرتے۔“
مولانا کے جسم پر رعشہ طاری ہوگیا۔ ایک تھرتھری اور کپکپی مسلسل جاری ہوگئی۔ استغفار پڑھتے ہوئے اُٹھے اور تمام دن توبہ میں مصروف رہے۔
اسی دن جابر اپنے قلعے کے اندر ایک کمرے میں تخت پوش پر مسند لگائے بیٹھا ہواتھا۔ وہ جس قدر بدمعاش اور عیاش تھا اسی قدر وجیہہ و شکیل اور تنومند تھا۔ اس کے اعضاء مے نوشی کے باوجود متناسب تھے اور چہرے سے ایک قسم کی جلالت مترشح تھی، اس کے قریب ہی ایک اور نوجوان کرسی پر بیٹھا ہوا تھا۔ دونو ں ایک خطرناک سازش میں مشغول تھے۔
جابر: رفیق ! جوکچھ تم کہتے ہو درست ہوگا لیکن سوال یہ ہے اس کو کیسے اُٹھایا جائے؟ تمام گاؤں والے اس کی عزت کرتے ہیں۔ وہ اس کے لئے جان لڑا دیں گے۔ اور مجھے یہ گوارا نہیں کہ کسی کی جان لوں۔ میں خون نہیں کرنا چاہتا۔
رفیق: آپ مختار ہیں۔ مگر حلیمہ کو آپ کے حرم میں ہونا چاہئے۔ وہ نہایت ہی حسین لڑکی ہے۔ میری رائے تو یہ ہے کہ دن کے وقت جب کہ لوگ کھیتی باڑی میں مصروف ہوں مدرسے پر یورش کی جائے اور حلیمہ کو اُٹھا لیا جائے۔
جابر: اگر اس ہڑبونگ میں کسی بچے کی جان ضائع ہوگئی تو اس کی ذمہ داری کس پر ہوگی؟
رفیق: بچے ہی تو ہیں، وہ ڈر کر بھاگ جائیں گے۔
جابر: پھر بھی میں یہ مناسب نہیں سمجھتا۔
رفیق:پھر آپ جانیں۔ بُڑھیا چاہتی ہے کہ حلیمہ کی شادی کسی نوجوان سے کر دے۔ شادی کے بعد یہ معاملہ ٹیڑھی کھیر ہو جائے گا۔ میرے خیال میں تساہل نہیں کرنا چاہئے۔
جابر: ہاں! اس صورت میں معاملہ غور طلب ہے۔
رفیق: آپ سب مجھ پر چھوڑ دیں۔ فقط بیس سوار میری تحویل میں دے دیں۔ میں گاؤں کے پنچوں کو بلاؤں گا اور زمینداری کے حسابات کے سلسلے میں مشورہ کے لئے ان کو ایک جگہ جمع کر لوں گا اور آپ اپنا کام کر لیں۔
اس کے بعد مجلس ِ سازش برخاست ہوگئی اور جابر اُٹھ کر چلا گیا۔
مولانا اشرف علی شام کی نماز کے بعد مصروفِ اوراد تھے کہ بہت سے لوگ چیختے چلاتے ہوئے آئے۔ انہوں نے فریاد کی کہ آج جابر ہمارے مدرسے کی معلمہ حلیمہ کو اُٹھا کر لے گیا ہے۔ آپ کیوں بددعانہیں کرتے۔ یہی مدد کا وقت ہے۔“
مولانا یہ واقعہ سن کر بہت محزوں ہوئے اور کہنے لگے” مجھے آپ لوگوں سے پوری ہمدردی ہے مگر اللہ اور اس کے رسول ؐ بددعا سے منع فرماتے ہیں۔ میں جابر کی اصلاح کے لئے دعا کروں گا۔“
لوگ: اُس کی اصلاح اس وقت ہوگی جب تمام گاؤں کی عزت بگڑ جائے گی۔“
مولانا : آپ گھبرائیں نہیں ، میں ابھی تدارک کروں گا۔“
لوگ: تدارک کیا ہوگا۔ تھانہ یہاں سے پانچ میل پر ہے۔“
مولانا: رپٹ وغیرہ نہ ہوگی۔ آج یا اشرف علی نہیں رہے گا یا جابر۔ چلو تم سب اپنے اپنے گھر کو لوٹ جاؤ۔ میں تن تنہا اس کے پاس جاتا ہوں۔“
لوگ: آپ ایسا نہ کریں۔ ہم بھی آپ کے ہمراہ چلتے ہیں۔
مولانا: ایسا کرنے سے ہنگامے کا خطرہ ہے۔ مفت میں جانیں ضائع ہوں گی۔
لوگ: ہمیں مرنا منظور ہے مگر اپنی عزت لٹتے نہیں دیکھ سکتے۔
مولانا: کچھ بھی ہو آپ میری واپسی کا انتظار کریں۔
لوگ واپس چلے گئے اور مولانا جابر کے قلعے کی طرف روانہ ہوگئے۔
جابر کا خاص کمرہ آج معمول سے زیادہ مہک رہا تھا۔ جس میں کافوری شمعیں جل رہی تھیں۔ ایک طرف نواری پلنگ بچھا ہوا تھا دوسری طرف فرشِ مخملیں پر گاؤ تکیے رکھے ہوئے تھے۔ اسی کمرے کے ایک کونے میں حلیمہ گٹھڑی سی بن کر پڑی رو رہی تھی۔ اتنے میں دروازہ کھلا اور بند ہو گیا۔ ساتھ ہی جابر حلیمہ کے سر پر آ موجود ہوا۔ وہ نشے میں چور تھا۔ اس نے پلنگ پر بیٹھتے ہوئی شرارت آمیز لہجے میں کہا۔
” استانی جی ! چلو غصے کو تھوک ڈالو۔ آؤ کچھ باتیں کریں۔“
حلیمہ: خاموش بد قماش ڈاکو لٹیرے۔ میں تجھ ایسے پاجی سے بات کرنا نہیں چاہتی۔اگر اپنی جان کی خیریت چاہتے ہو تو فوراً دروازہ کھول دو۔
جابر نے ایک قہقہہ لگایا اور اُٹھ کر کہنے لگا۔
” استانی جی بہت بہادر معلوم ہوتی ہیں۔ کیا مدرسے میں آپ بچوں کو پہلوانی سکھاتی ہیں؟“
حلیمہ : نالائق ، منہ بند کر اور پیچھے ہٹ کر بات کر۔
جابر : شکر ہے کہ آپ بات کرنے پر تو راضی ہوگئیں۔ ( پیچھے ہٹتے ہوئے) لیجئے ایک دو اور تین ۔میں پورے تین قدم ہٹ گیا ہوں۔
رونے اور سسکیاں لینے والی حلیمہ اب تنگ آ کر سامنے کھڑی ہوگئی۔ اس نے چاروں طرف نگاہ دوڑائی۔ درو دیوار کی طرف دیکھا۔ دیواروں پر جانوروں کی کھالیں، بارہ سنگھوں کے سر اور نیزے آویزاں تھے۔ مگر یہ چیزیں اتنی بلندی پر تھیں کہ حلیمہ کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا تھا۔ وہ اپنے بچاؤ کی تد بیریں سوچ رہی تھی کہ جابر نے پھر مخاطب ہو کر کہا،
” کیا نیزہ بازی کا شوق ہے؟“
حلیمہ نے کوئی جواب نہیں دیا۔
جابر : دیکھئے استانی جی ! یہ قلعہ ایسی جگہ ہے جہاں رات کے وقت کوئی نہیں آ سکتا اور اس کمرے میں تو چڑیا بھی نہیں پھڑک سکتی۔ آپ نا حق پریشان نہ ہوں ۔ کھڑے کھڑے تھک جائیں گی۔
حلیمہ پھر خاموش رہی لیکن غصے کی وجہ سے اس کی آنکھوں سے چنگاریاں نکلتی معلوم ہو رہی تھیں۔ وہ دروازے کی جانب دیکھ رہی تھی۔
جابر: معلوم ہوتا ہے کسی کا انتظار ہے ، کیا گاؤں والے تمہیں بچانے کے لئے آئیں گے۔
حلیمہ: نہیں مجھےکسی غیبی امداد کی توقع ہے۔
جابر : جابر مدرسے کا طالب علم تو نہیں جسے ایسی باتوں میں اُلجھا سکو۔
حلیمہ : آخر تم کیا چاہتے ہو، تم نے مجھے کیوں قید کر رکھا ہے؟
جابر : میں کیا چاہتا ہوں یہ تمہیں پتہ ہے۔
حلیمہ: (تنگ آکر) جابر ، دیکھو، تم اپنے ناپاک ارادے میں کبھی کامیاب نہ ہو سکو گے۔ میں سیدہ ہوں۔
جابر: مضائقہ نہیں۔ میں بھی سید زادہ ہوں۔
حلیمہ : پھر تمہارے لئے اور بھی شرم کا مقام ہےکہ تم مرد ہو کر عورتوں پر دست درازیاں کرتے ہو اور اپنے جدِ بزرگوار ؐ کی آل کے نام پر بٹہ لگاتے ہو۔۔۔۔!
باہر سے بندوق کے فائر کی آواز آئی۔ جابر گھبرا گیا۔ رات کے وقت کون آ سکتا ہے۔ اس نے سوچ کر کہا۔حلیمہ تمہارے مددگار آ پہنچے ۔
حلیمہ : سوائے ذاتِ خدا کے میرا کوئی مددگار نہیں۔ اتنا کہہ سکتی ہوں کہ کل رات میں نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر آدھی پوری ہو چکی ہے اور آدھی پوری ہونے والی ہے۔
جابر: خواب بیان کرو۔ میں سننا چاہتا ہوں۔
حلیمہ : رات میں نے دیکھا کہ مجھے بھیڑیا اُٹھا کر لے گیا ہے۔ ایک بزرگ اچانک اُدھرسےآنکلے۔ انہوں نے مجھے اس کےچنگل سے بچا لیا۔
دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔
جابر : کون ہے؟
آواز: حضور! میں ہوں آپ کا خادم۔ حضرت مولانا اشرف علی صاحب تشریف لائے ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں۔
جابر : اس وقت؟ تم نے بتایا نہیں کہ رات کو ملاقات نہیں ہو سکتی۔
آواز : وہ فرماتے ہیں کہ اسی وقت ملنا چاہتا ہوں
انسان کتنا ہی بد قماش اور بُرا کیوں نہ ہو۔ نیک بندوں کے سامنے اُسے جھکنا ہی پڑتا ہے۔ مولانا اشرف علی بڑے پائے کے بزرگ تھے ۔ لوگ ان کی بہت عزت و تکریم کرتے تھے۔ جابر ایسے وقت میں جب کہ وہ کسی کی مداخلت برداشت نہیں کر سکتا تھا ، مولانا کی ملاقات کے لئے راضی ہو گیا ۔ اس نے حلیمہ کی طرف مخاطب ہو کر کہا:
”حلیمہ تیرا دوسرا آدھا خواب پورا ہو گیا۔“
اور دروازہ کھول کر حلیمہ کو دوسرے کمرے میں بھجوا دیا۔ اور خود اسی حالت میں ننگے پاؤں مولانا کی پیشوائی کے لئے روانہ ہو گیا۔ تمام ملازم اور کنیزیں حیران رہ گئیں۔
مولانا اور جابر دونوں اسی کمرے میں آئے جہاں پہلے حلیمہ محبوس تھی۔جابر مولانا کے جِلو میں اس طرح کھڑا تھا جیسے عدالت کے کٹہرے میں خونی مجرم۔ اُس نے مولانا سے کہا،
”تشریف رکھئے۔“
مولانا: آپ بیٹھئے! میں کھڑا رہوں گا۔
جابر: میں یہ گستاخی کیوں کر کر سکتا ہوں
مولانا : جابر! آپ کا مرتبہ بہت بلند ہے آپ سادات میں سے ہیں۔
جابر: آپ عالمِ دین ہیں، میں گنہگار ہوں۔
مولانا: کاش! میں آپ کی طرح گنہگار ہوتا اور مجھے بھی وہ رتبہ نصیب ہو سکتا جو آپ کو ملا ہے۔
جابر : حضرت !مجھے شرمندہ نہ کریں۔۔۔ میں ایسا سیاہ کار ہوں کہ رحمت سے بھی مایوس ہوں۔
مولانا: (روتے ہوئے) اگر میں آپ کی بخشش کا ضامن بنوں تو؟
جابر: (حیران ہو کر) آپ رو رہے ہیں، میں کیسے بخشا جاؤں گا۔
مولانا: جابر! میں آپ کا گنہگار ہوں اس لئے رو رہا ہوں ،اسی لئے میں آپ سے معافی مانگنے آیا ہوں۔
جابر: آپ کیا فرمارہے ہیں؟
مولانا: آپ جانتے ہیں میں عالم ہوں۔
جابر: اس میں کوئی شک نہیں۔
مولانا: میں حکم دیتا ہوں کہ آپ بیٹھ جائیں۔ پھر عرض کروں گا۔
جابر پلنگ پر اس طرح بیٹھ گیا جیسے اُسے کسی نے کندھوں پر زور دے کر گرا دیا ہو۔ مولانا برابر کھڑے رہے اور کہنا شروع کیا۔
”جابر! سنئے اور غور سے سنئے ۔ آج سے کچھ دن قبل آپ کے جو روستم سے تنگ آ کر میرے پاس گاؤں کے لوگ آئے اور انہوں نے اصرار کیا کہ میں آپ کے حق میں ہلاکت کی دعا کروں۔ میں نے ہر چند ٹالنے کی کوشش کی لیکن ان کی اندوہگیں داستانیں سن کر مجھے آپ پر غصہ آگیا۔ میں نے بد دعا کی۔ دوسری صبح میں شرف حضوری سے محروم ہو گیا۔ دوسرے دن بھی اسی طرح ہوا۔ تیسری صبح کو جو کچھ میں نے دیکھا ،وہ عجیب منظر تھا یعنی آپ ۔۔۔۔۔“
جابر کی آنکھوں میں آنسو ڈھلک رہے تھے۔ اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
”آپ نے دیکھا کہ میں کتنا گناہ گار ہوں کہ آپ جیسے عالم بھی میری ہلاکت چاہتے ہیں۔ اچھا ، پھر کیا ہوا؟“
مولانا نے سلسلہ ٔبیان کو جاری رکھتے ہوئے کہا،
”میں نے دیکھا کہ حضور ؐ مجھ سے ناراض ہیں اور تعارض فرمارہے ہیں ۔ میں نے گھبرا کر وجہ دریافت کی تو حضورؐ نے اشارہ فرمایا۔ میں نے دیکھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی گود میں جابر ہے اور ۔۔۔۔“
جابر کھڑا ہوگیا اور دیوانہ وار پھرنے لگا ۔ مولانا کی آنکھیں اس کے ساتھ ساتھ کمرے میں گھوم رہی تھیں۔ اس نے یکایک اس زور سے چیخ ماری کہ تمام قلعہ گونج اٹھا۔ چاروں طرف سے مرد و زن سب بھاگ کر آ پہنچے۔ انہوں نے دیکھا کہ جابر بے ہوش ہو کر زمین پر گر چکا تھا۔ مولانا نے اس کا سر زانو پر رکھ لیا اور لوگ گرد جمع ہو گئے۔
اس نے یکا یک آنکھیں کھول دیں ،چاروں طرف دیکھ کر پھر اُٹھ بیٹھا اور مولانا کی طرف دیکھ کر کہنے لگا،
” میں اور رسول اللہ ؐ کی گود ! میں اور رسول اللہ ؐ کی گود ! میں اور رسول اللہ ؐ کی گود !!“
تین دفعہ کہا اور پھر دروازے میں کھڑے ہو کر زور سے آوازیں دینے لگا۔
” سپاہیو! لوٹ لو قلعہ ، تمام مال و اسباب لے جاؤ، سبھوں کو آزاد کر دو ، ان کے گھروں میں انہیں پہنچا دو۔“
اور خود ” میں اور رسول اللہؐ کی گود ! میں اور رسول اللہ ؐکی گود ! ۔۔ پکارتا اور چیختا ہوا باہر نکل گیا۔ اسے پھر کسی نے نہیں دیکھا۔ معلوم نہیں زمین کھا گئی یا آسمان نے اُٹھا لیا۔