Topics

عشق کیا ہے؟

 


عشق کیا ہے ؟ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کی بنیاد انسان کو ایسے نقطہ میں لے آتی ہے جہاں وہ براہ راست قانون قدرت کی گہرائیوں سے ہم رشتہ ہو جاتا ہے۔

حَسن نے ابھی جوانی میں قدم رکھا تھا کہ ان کی والدہ اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔ والدہ کے انتقال کے بعد چھوٹے بہن بھائیوں کی معصوم نگاہیں بھائی پر ٹک گئیں۔کیوں کہ وہی اب ان لوگوں کی آنکھوں کا تارا تھا۔حَسن نے میٹرک تک تعلیم حاصل کی تھی اور وہ ایک عمدہ شاعرانہ ذوق رکھنے کے ساتھ ساتھ بے حد حساس طبیعت کے مالک تھے۔ سنجیدگی، بردباری ، معاملہ فہمی اور غوروفکر ان کی ذات کی نمایاں خصوصیات تھیں۔ حَسن نے بھائی بہنوں کی نگاہوں کو مایوس نہیں لوٹایا اور بلا تامل ان کی تمام ضروریات کی ذمہ داری اپنے کندھوں پرلے لی۔ انہوں نے بہن بھائیوں کو ماں بن کر اپنی آغوش شفقت میں لے لیا اور اپنی تمام توانائیاں ا ن کی تعلیم و تربیت کے لئے وقف کردیں۔حَسن نے سلسلۂ معاش جاری رکھنے کے لئے اپنی طبیعت کی مناسبت سے مختلف رسائل وجرائد کی صحافت اور شعرا کے دیوانوں کی اصلاح وترتیب کا کام اپنے لئے منتخب کیا۔یوں وقت گزرتا رہا اور حَسن اپنی ذمہ داری پوری توجہ کے ساتھ پوری کرتے رہے۔

ایک دن حَسن دلی کے چاندنی چوک بازار گئے اور وہاں کسی ضرورت کے تحت ایک بقال کی دکان پر جا کھڑے ہوئے ۔ کچھ دیر بعد ایک پاکیزہ صورت اور معصوم شکل لڑکا اس دکان پر آیا۔ حَسن میاں نے اس لڑکے کے چہرے کو دیکھا تو نہ جانے کیا دیکھ کر دماغ کو برقی رو کی طرح جھٹکا لگا اور لمحوں میں گردوپیش سے بے نیاز ہوگئے۔ شاید دست قدرت نے لڑکے کے چہرے کی نقاب اٹھا کر عالم ملکوت کے حُسن کا پَر                  تو           دکھادیاتھا۔

دن کا وقت تھا، سورج چمک رہا تھا، دنیا کی رونق اور گہماگہمی روزانہ کے مطابق تھی۔ لوگ حسب دستو راپنے اپنے خیالات میں مگن ادھر اُدھر آجا رہے تھے لیکن حَسن ہو ش و خرد سے بیگانہ رام داس بقال کی دکان کے آگے کھڑے تھے۔ انہیں ایک عجیب تجربہ ہوا تھا۔ حَسن ایک نیک نام اور معززگھرانے کے نوجوان تھے۔ ان کی مثبت اور تعمیری سوچ میں منفیت اور کج روی کو کوئی دخل نہیں تھا۔وہ اچھا برا خوب سمجھتے تھے۔انہوں نے کیا دیکھا اور کیا محسوس کیا،اس کو بیان کرنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔

رام داس بقال نے جب یہ دیکھا کہ ایک نوجوان اس کی دکان کے سامنے محو اور مستغرق کھڑا ہے توفوراً اٹھا اور نہایت احترام کے ساتھ کہا،  کیا ہی اچھا ہو   اگر آپ میری دکان پر تشریف رکھیں۔ حَسن اس درجہ محو تھے کہ بیرونی دنیا سے ان کا رابطہ وقتی طور پر منقطع ہوگیا تھا۔یہ دیکھ کر رام داس نے ان کا ہاتھ تھام کر دکان پر بٹھادیا۔ کافی دیر تک وہ گم سم بیٹھے رہے اور جب حواس میں جان آئی تو اٹھ کر گھر کی طرف چل دیئے۔گھر پہنچ کر چارپائی پر بیٹھ گئے۔ بھائی بہن جمع ہو کر باتیں کرنے لگے۔ کسی کو کچھ کہنے کی جلدی تھی اور کوئی کچھ بتانا چاہتا تھا۔ لیکن حَسن کی ذہنی غیر حاضری نمایاں تھی۔ بھائی کو کسی سوچ میں غرق پایا تو ان سب نے خیال کیا کہ شاید کام کی زیادتی سے ذہن تھک گیا ہے۔چنانچہ وہ الگ ہٹ گئے ۔ حَسن کے آگے کھانا رکھا گیا لیکن ان کو احساس ہی نہیں ہوا۔ توجہ دلانے پر تھوڑا سا کھالیا۔

اگلے دن سے حَسن روزانہ رام داس بقال کی دکان پر جانےلگے۔ وہاں جاکر بیٹھ جاتے اور راستے پر اس طرح سے نظریں جما دیتے جیسے کسی کو تلاش کررہے ہوں۔ہر آنے جانے والے کو غو ر سے دیکھتے ۔ ایک دن ان کی نگاہیں ٹھہر گئیں۔ وہی پاکیزہ اور معصوم صورت سامنے تھی جس کے دیدار کے بعد وہ ایک نئے احساس سے دوچارہوئے تھے۔ اس چہرے کو دوبارہ سامنے دیکھ کر دل سے ایک آہ نکلی اور رگ و پے میں گدازسرایت کر گیا۔وہ لڑکادکان کے سامنے سے گزر کر کچھ دور ایک دکان میں داخل ہوگیا۔ حَسن کو پتہ چلا کہ وہ اسی دکان پر کام کرتا ہےچنانچہ وہ اکثر اسے وہاں دیکھتے اور طلب ِدیدار کو پورا کرتے۔

حَسن ایک دن رام داس بقال کی دکان پربیٹھے تھے اور نگاہیں اس دکان پر مرکوز تھیں جہاں ان کا منظور نظر کام کرتا تھا۔ کئی دنوں سے اس کی صورت نظر نہیں آئی تھی۔ پہلے تو وہ اکثر نظر آجاتا تھا جس سے ان کے بے چین دل کو قرار آجاتا تھا لیکن ادھر کئی دنوں سے شوقِ دیدار کی آگ بدستور فروزاں تھی ۔ مضطرب ہو کر رام داس سے پوچھ بیٹھے۔”کئی دنو ں سے وہ لڑکا نظر نہیں پڑتا جو سامنے والی دکان پر کام کرتا ہے؟“

رام داس نے بتایا، ابھی کچھ دیر پہلے اطلاع ملی ہے کہ اس کا انتقال ہوگیا ہے، بے چارہ ! موت کےبے رحم ہاتھوں نے چھوٹی سی عمر میں آن دبو چا۔

یہ سننا تھا کہ حَسن کا دماغ سُن ہو گیا۔اس غیر متوقع خبر نے ان کے سوچنے سمجھنے کی قوتیں ختم کرکے رکھ دیں۔ چند لمحوں کے لئے یہ فراموش کر بیٹھے کہ وہ کہاں ہیں۔ غیر اختیاری طور پر اٹھ کر چل دیئے۔ وہ خالی ذہن کے ساتھ مشینی انداز میں چل رہے تھے۔ ان کےقدم مرگھٹ جاکر رُکے۔ نگاہیں ارتھی کی راکھ پر مرکوز تھیں جس کے اندر وہ چہرہ موجود تھا جس کو وہ ایک نظر دیکھنے کے لئے بے چین تھے۔ آج دستِ قدرت کا وہ شاہکار راکھ کا ایک ڈھیر تھا۔ موت نے ایک فصیل کھینچ دی تھی۔ انہوں نے خود سے جواب طلب کیا،آج کیا وجہ ہے کہ میں اس چہرہ کو دیکھنے کا طلب گار نہیں؟اندر سے جواب ملا، تو جسم ِ فانی کا پجاری نہیں بلکہ اُس حُسنِ لازوال کا پرستار ہے جس نے جسم پر سے اپنا سایہ ہٹالیا ہے۔

آواز کا سننا تھا کہ بند ٹوٹ گیا اور آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ دعائیہ کلمات پڑھے اور تھکے قدموں اور بجھے دل سے گھر روانہ ہوگئے۔اس حادثہ نے حَسن کے دل و دماغ کو حد درجہ متاثر کردیا تھا۔گزرتا ہوا وقت بھی اس کے اثرات کو نہ مٹاسکا ۔ ان پر باربار گہری سوچ کا غلبہ ہوجاتا ۔ دوست ، احباب اور رشتہ دار حیران تھے کہ یہ ہنستا مسکراتا چہرہ یاس و حسرت کی تصویر کیوں بن گیا۔

جب کسی طرح دل کو چین نہیں آیا تو حَسن نے فوج میں ملازمت اختیارکرلی ۔ان ہی دنوں دوسری جنگ عظیم کا آغا ز ہوا اور جنگ کے شعلےبڑھتے ہی چلے گئے۔ ایک دوسرے پر برتری دکھانے کی خواہش بے تحاشا انسانی جانوں کے ضائع ہونے کا باعث بن رہی تھی۔ ملک گیری کی ہوس میں انسان انسان کو ہلاک کرکے خوش ہورہا تھا۔ محض جغرافیائی تقسیم اور نظریاتی اختلاف کی وجہ سےلوگ ایک دوسرے کے سینے چھلنی کررہے تھے۔ حَسن برما کے محاذپر متعین ہوئے۔ لڑائی کے دوران ایک بم ان کے قریب پھٹا اور اس کے ٹکڑے جسم میں پیوست ہوگئے۔ وہ سخت زخمی حالت میں ہسپتال میں داخل کردیئے گئے۔لیکن علالت کے سلسلے نے طول پکڑا اور بالآخر فوج کی ملازمت کو خیر باد کہنا پڑا۔

جسمانی قوت میں کمی کی وجہ سے بخار نے آلیا۔ مسلسل بیماریوں نے حَسن کی نقاہت میں بے حد اضافہ کردیا تھا اور وہ اپنے گھر میں بستر تک محدود ہوکر رہ گئےتھے۔ ایک دن کسی کام کے لئے بستر سے اٹھے لیکن چند قدم چل کر یکایک غشی آگئی۔ توازن کھو بیٹھے اور قریب رکھی ہوئی میز سے ٹکرائے ۔میزالٹ گئی ور اس پر رکھا ہو گلاس بھی فرش پر گر کر ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔ ساتھ ہی حَسن بھی فرش پر گرے اور ہاتھ کانچ کے ٹکڑے پرپڑا، ہاتھ میں گہرا زخم پڑ گیا۔ خون تیزی سے بہنے لگا۔  حواس مجتمع ہوئے تو حَسن نے دیکھا کہ زخمی ہاتھ سے خون ٹپک رہا ہے۔ پلنگ کا کونا پکڑ کر اٹھنا ہی چاہتے تھے کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور کوئی تیزی سے اندر داخل ہوا۔ سر اٹھا کر دیکھا تو ایک لڑکی دروازے پر کھڑی تھی۔ دوپٹے کے پیچھے سے اس کا چہرہ چاند کی طرح دمک رہاتھا۔بڑی بڑی گہری غلافی آنکھیں حَسن پر مرکوز تھیں ۔ اس کےجسم پر شاخ ِ گل کا گمان ہورہا تھا۔ حَسن کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں اور مبہوت ہوکر وہ دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے۔ لڑکی نے حَسن کے ہاتھ سے خون بہتے دیکھا تو اس کا چہرہ بجھ گیا۔ 

”آپ کا ہاتھ زخمی ہوگیا ہے! “

حَسن کی نظریں دوبارہ لڑکی کی طرف اٹھیں ۔ اس کے چہرے پر حوروں کا تقدس اور مریم کی معصومیت تھی اور اس کی نگاہیں اب بھی زخم پرلگی ہوئی تھیں۔

”زخم کا کچھ کیجئےنا، کتنا خون بہہ رہا ہے۔“  لڑکی نے کہا۔

”ٹھیک ہے ۔“ حَسن نے مختصر جواب دیا۔

”میں نے کسی چیز کے گرنے کی آوازسنی تو یہاں آگئی کہ خدانخواستہ کیا بات ہوگئی ہے“۔ لڑکی نے سر جھکا کر کہا۔

یہ لڑکی کوثر تھی جو حَسن کے پڑوس میں نئی نئی آئی تھی اور حَسن کی بہن سے اس کی گہری دوستی تھی۔کوثر نے پانی میں بھیگی ہوئی پٹی باندھی اور جس تیز رفتاری سے آئی تھی اسی تیز رفتاری سے واپس چلی گئی ۔

کوثر کے چلے جانے کے بعد حَسن اپنے بستر پر لیٹ گئے ۔لیکن باربار کی کوشش کے باوجود خیالات کا طوفان تھم نہ سکا۔ ان کا ذہن باربارکوثر کی طرف چلا جاتا تھا۔ کوثر جس تیزی سے کمرے میں داخل ہوئی تھی اسی تیزی سےان کے خیالات میں جگہ بنا چکی تھی۔دروازہ کھلنا ، اندرداخل ہونا، ا سکا بے مثال حُسن اور ہاتھ کے زخم کو دیکھ کر بے ساختہ چہرے پر تکلیف کے نقوش نمودار ہونا یہ سب مناظر حَسن کے ذہن پر نقش ہوچکے تھے۔ وہ جتنا ان خیالات سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کرتے وہ اتنی ہی شدت سے حملہ آور ہوتے تھے۔پانی کی پُر سکون سطح پر جب کوئی چیز گرتی ہے تو ہلچل برپا ہوجاتی ہے۔ پانی میں ایک طوفان سا آجاتا ہے۔ اور یہ تبدیلی لہروں کی شکل میں سطح پر نمودار ہوتی ہے۔کوثر نے بھی حَسن کے خیالات و احساسات کے دریا میں تموج پیدا کردیا تھا۔ 

بہن نے بھائی کو ایک کاپی اٹھاکر دی۔ کاپی میں ایک طرف کوثر کے کہے ہوئے اشعار اور دوسری طرف منتخب اشعار لکھے ہوئے تھے۔ کاپی کے رکھ رکھاؤ اور طرز تحریر سے نفاست اور پاکیزگی جھلک رہی تھی۔ حَسن نے اشعار پڑھے اور جہاں مناسب سمجھا اصلاح کی ۔شعروں کا انتخاب بھی خیالات کی بلندی اور عظمت کی عکاسی کررہا تھا۔

دن گزرتے رہے، حَسن اور کوثر کے درمیان اجنبیت کی دیواریں گرتی رہیں۔یوں تو حَسن نے کوثر کو پہلے دن ہی اپنے لئے اجنبی نہیں پایا تھا۔زمین کی کوکھ میں جب بیج ڈالا جاتا ہے تو وہ کئی دنوں تک زمین کے اندر مختلف مراحل طے کرکے کونپل کی شکل میں زمین سے سر باہر نکالتا ہے ۔ اسی طرح حَسن کے دل میں عشق کا بیج پرورش پاکر کونپل بن چکا تھا اور اس کی جڑیں دل کے اندر پھیل رہی تھیں۔

کوثر حَسن کے لئے خوشبو تھی،روشنی تھی۔جب وہ آتی تو اس کے وجود کی مسحور کن خوشبو پورے ماحول کو مہکا دیتی اور اس کے سراپا میں بند روشنی جب منعکس ہوتی تو درودیوار روشن ہوجاتے، کوثر نے شمع بن کر دل کے نہا ں خانے کو روشن کردیا تھا۔ حَسن اپنے دل کو ٹٹولتے تو اس کو کوثر کےلئے ایک ناقابل ِ بیان جذبہ سے سرشار پاتے تھے۔

نہ چاہنے کے باوجود کبھی کبھی وہ بے ساختہ اپنی پسندیدگی کا اظہار کر بیٹھتے تھے۔ حال دل بالواسطہ الفاظ میں زبان پر آجاتا تھا۔ ایک دفعہ کوثر کی کاپی میں انہوں نے ایک عبارت لکھی دیکھی جس میں کوثر نے فطرت کے حُسن کی تعریف کی تھی۔ لکھا تھا—

صبح کا سہانا پن، شام کا سنہرا رنگ، شفق کی سُرخی ، حدِنظر تک پھیلا ہوا آسمان، بل کھاتے دریا، گنگناتی ندیاں، موسیقی سے بھرپور جھرنے، سبزے اور درختوں سے ڈھکی ہوئی وادیاں ، پرندوں کے اڑتے ہوئے غول ۔فطرت کے یہ نظارے کتنے رُوح پرور ہیں۔ انہیں دیکھ کر دل بےاختیار گداز سے لبریز ہوجاتا ہے۔

حَسن نے یہ بیان پڑھا تو انہیں کوثر کے چہرے پر فطرت کے سارے رنگ مجتمع نظرآئے۔

عشق صادق کا معاملہ آکاس بیل کا سا ہے۔ آکاس بیل کسی درخت میں پیدا ہوکر اس کےو جود پر اس طرح پھیل جاتی ہے کہ درخت چھپ جاتا ہے۔درخت کی ساری توانائی آکاس بیل کےلئے وقف ہوجاتی ہے، اسی طرح عشق کی بیل سچے عاشق کے وجود پر چھاجاتی ہےتو عشق اور اس کی صفات باقی رہتی ہیں۔ عاشق کی ہستی فنا ہوکر عشق میں گُھل مل جاتی ہے ، تحلیل ہوجاتی ہے ۔ عاشق ِ صادق کے دل کی سرزمین سے بھی عشق کا بیج پھوٹ کر پروان چڑھا اور اس میں نہایت تیزی سے شگوفے اورپتے پھوٹ نکلے ۔ جیسے جیسےاس ننھے سے پودے نے تناور درخت بننے کے مراحل طے کئے۔ حَسن کا وجود اس کی شاخوں اور پتوں میں لپٹتا گیا، یہاں تک کہ چھُپ گیا۔

حَسن کو احساس ہوا کہ کوثر اس کی رُوح کا حصہ بن چکی ہے۔ رات ہو یا دن کسی وقت بھی اس کاخیال ذہن سے جُدا نہیں ہوتا۔ کوثر کا خیال مقناطیس کی طرح ذہن کی سوئی کا رُخ اپنی طرف رکھتا ہے۔ اٹھتے بیٹھتے، کام کرتے ، چلتے پھرتے اس کا طواف کرتا ہے۔ سپنوں کے عالم میں بھی وہ دونوں جدا نہ رہے۔ حَسن خواب میں دیکھتے —ہر طرف ہُو کا عالم ہے اور وہ کوثر کا ہاتھ تھامے کائنات کی وسعتوں میں پرواز کررہے ہیں۔ سفید لباس میں ملبوس کوثر کے چہرے پرملکوتی حُسن اور نور ہے اور اس کی بڑی بڑی غزالی آنکھوں سے اپنائیت کی شعاعیں نکل رہی ہیں۔ کبھی حَسن دیکھتے کہ وہ کوثر کے ساتھ ایک گھوڑے پر سوار ہیں اور یہ گھوڑا اپنے لمبے لمبے سفید پروں کی مدد سے آسمانوں میں پرواز کررہا ہے۔ فضا میں رنگ اور روشنیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ اور ان کے پیروں تلے ستارے موتی کی طرح چمک رہے ہیں۔ وہ کوثر کی طرف دیکھتے تو اس کا چہرہ ستاروں کی روشنی اور فضا کی نورانیت سے زیادہ روشن نظر آتا ۔ چاند ستارے اور پورا گردوپیش ان دونوں کو دیکھ کر ہنستا ، مسکراتا۔ شیریں اور مسحورکن خوابوں کا یہ سلسلہ طویل سے طویل تر ہوتا چلا گیا۔

ایک دفعہ وہ دونوں مرغزاروں میں ٹہلتے ٹہلتے دورتک نکل گئے۔ فضا میں ہلکی ہلکی روشنی اور سبزہ کی مہک پھیلی ہوئی تھی۔ ٹھنڈی اور معطر ہوا کےجھونکےخوب صورت اوررنگ برنگ پھولوں کو جھولا جھلارہے تھے۔ خوب صورت پرندے چہک چہک کر فضا میں ترنم بکھیر رہے تھے۔ قریب ہی کسی جھرنے کے گرنے کی آواز سے فضاکی موسیقیت مزید بڑھ گئی تھی ۔ 

حَسن کبھی خوب صورت ماحول کو دیکھتے اور کبھی کوثر کے چہرے پر نظریں جما دیتے ۔ انہیں محسوس ہورہا تھا کہ فطرت کی تمام رنگینیاں کوثر کے حُسن سے آباد ہیں ۔ پھولوں نے اس کے لبوں کی سُرخی چرالی ہے۔ فضا کی خوش گواری اس کی سیاہ زلفوں کی مرہون منت ہے۔ خوش الحان طیور کے نغمے اس کی آواز کی کھنک کی بدولت زندہ ہیں۔ حَسن نے کہا،

کوثر تمہیں یاد ہے میں نے ایک دفعہ کہا تھا کہ فطرت کا حُسن تمہارے دم سے قائم ہے، کیا میں نے غلط کہا تھا،؟ دیکھو ، ان نظاروں میں تمہارے وجود سے روشنی ہے۔ یہ تمہارے حُسن سے زندگی پارہے ہیں۔ اگر تم نہ ہوتویہ سب ماند پڑجائیں۔ 

کوثر کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔ حَسن نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا،

کوثر ! تمہارے وجود کا احساس میرے اندر اس طرح پیوست ہے کہ جیسے پھول میں خوشبو، شہد میں مٹھاس اور سورج میں روشنی ۔ کیا پھول میں سے خوشبو ختم ہوسکتی ہے؟ کیا شہد سے مٹھاس کو چھینا جاسکتا ہے؟ کیا سورج کے ہوتے ہوئے اس کی روشنی فنا کی جاسکتی ہے؟

حَسن کے جذبات الفاظ بن کر چشمے کی طرح اُبل رہے تھے۔ ایک ایک لفظ پاکیزہ چاہت اور عقیدت میں ڈوبا ہوا تھا ۔وہ بولتے رہے اور یہ منظر دھندلا ہو کر ختم ہوگیا۔پھر ذہن کی اسکرین پر دوسرا منظر اُبھر آیا،

خوب صورت لباس میں ملبوس کوثر ایک چبوترے پر بیٹھی ہوئی تھی ۔ اس وقت وہ حُسن کی دیوی کا مجسمہ معلوم ہورہی تھی۔ حَسن اس کے قدموں میں پہنچ کر جُھک گئے۔ کوثر کی گہری آنکھوں میں ہزاروں دیپ جل اٹھے اور اس کے لبوں پر تبسم رقصاں ہوگیا۔ اس لئے کہ خلوص و محبت کا نذرانہ قبول کرلیا گیا تھا۔ فضا میں مدھُر گھنٹیوں کی آوازیں گونجنے لگیں۔

کہتے ہیں عشق اور مشک کی خوش بُو چھپی نہیں رہتی ۔ چنانچہ حَسن اور کوثر کی ذہنی اور جذباتی وابستگی لوگوں کی زبانوں پرآنے لگی۔ حَسن نے جب لوگوں کی باتیں سنیں تو ان کا دل چاہا کہ وہ لوگوں سے کہیں کہ وہ ان کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیں ، ان کی نگاہوں کو پرکھیں، ان کے دل میں طوفان خیز سمندر دیکھیں لیکن وہ یہ جانتے تھے کہ لوگ رشتوں ، ناطوں اور تعلقات کو ذاتی خواہشات کی عینک لگا کر دیکھتے ہیں، جو خامیاں ان کے اندر ہوتی ہیں وہ دوسروں کے اندر تلاش کرتے ہیں، جو کچھ ان کے اندر ہوتا ہے وہ اس کا عکس دوسروں کی ذات میں دیکھتے ہیں۔

ایک دن حَسن پر یہ خبر بجلی بن کر گری کہ کوثر کےگھر والے خاموشی سے کسی اور گھر میں منتقل ہوگئے ہیں اس لئے کہ جب لوگوں کی سرگوشیاں ان کے کانوں میں پہنچیں تو انہوں نے یہی مناسب سمجھا کہ وہ یہ گھر چھوڑ کر کہیں اور چلے جائیں ۔ اب نہ توکوثر کی موہنی صورت کا دیدار ہو سکتا ہے اور نہ اس کی میٹھی میٹھی باتوں کا سکون۔

دوری اور فاصلے عشق کی آگ کو اور زیادہ بھڑکا دیتے ہیں۔ دوری جتنی بڑھتی ہے، کشش اور انہماک میں بھی اتنا ہی اضافہ ہوتا ہے۔ کوثر سے دوری عشق کی بھٹی کے لئے ایندھن ثابت ہوئی۔ شاید عشق میں جو کمی باقی رہ گئی تھی وہ جُدائی نے پوری کردی ۔ اس دور میں حَسن عجیب واردات و کیفیات سے گزرے۔ کوثر سے ذہنی ربط اور پھر جدائی نے ان کے دل کو سوزوگداز سے معمور کردیا۔ اندر جو آگ بھڑک رہی تھی وہ کبھی آنسوؤں کی صورت میں ظاہر ہوتی اور کبھی اشعار کا روپ دھار لیتی۔ ایک دن کہیں سے کسی گیت کی آواز آئی ۔ گیت کے الفاظ میں بلا کا درد تھا۔اور اس میں فراق کی کیفیات کو بیان کیا گیا تھا۔ گیت سن کر حَسن پر ایک عجیب کیفیت طاری ہوگئی۔ آنکھوں کے سوتے بہہ نکلے اور دل سوزوگداز کی لہروں سے کانپنے لگا۔

انہیں محسوس ہوتا کہ گھر کے درودیوار اور خود ان کی نگاہیں کوثر کے دیدار کی متلاشی ہیں۔وہ گھر کے ان حصوں کو دیکھتے جہاں کوثر کے قدم پڑ چکے تھے۔ انہیں احساس ہوتا کہ کوثر کے وجود کا نقش اب بھی ان جگہوں پر زندہ موجود ہے۔کہیں کھٹکا ہوتا تو ان کی نگاہیں آواز کی طرف بے اختیار اٹھ جاتیں جیسے کوثر آموجود ہوئی ہو۔ چلتے پھرتے انہیں ایسا لگتا جیسے کوثر ان کے ساتھ سائے کی طرح چل رہی ہے۔ ایک دن وہ کسی کام میں مصروف تھے کہ انہیں محسوس ہواکہ کوثر ان کے برابرمیں آکر بیٹھ گئی ہے۔ وہ چونک پڑے لیکن وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ ایک دفعہ اس کرسی کو دیکھ رہے تھے جس پر کوثر آکے بیٹھی تھی۔ دفعتاً انہوں نے دیکھا کہ کرسی پر کوثر بیٹھی ہے۔ اور پھر دوسرے ہی لمحہ وہاں کوئی نہ تھا ۔حَسن کے پاس کوثر کی نشانی ایک قلم اور ایک کتاب تھی جو کوثر نے انہیں تحفہ میں دی تھی۔یہ انہیں کتنی عزیزتھیں اس کا اندازہ کسی کو نہیں ہے۔ حَسن قلم اور کتاب کو ہاتھ لگاتے توا نہیں ان چیزں پر کوثر کی انگلیوں کا لمس محسوس ہوتا۔

ایک رات حَسن نے کھڑکی کھولی تو چودھویں کا چاند پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ چاند کو دیکھا تو کوثر کا خیال ذہن کی سطح پر نمودار ہوا۔کوثر جو چاند سے زیادہ خوب صورت اور فرحت بخش تھی ۔ حَسن خیالات کے تانوں بانوں میں الجھ گئے۔ ہوسکتا ہے کہ کوثر بھی چاند کو دیکھ رہی ہو کیوں کہ اسے فطرت کے نظاروں سے بے حد لگاؤ ہے۔ انہوں نے سوچا اور پھر سوچتے سوچتے کوثر کے خیال میں ڈوب گئے۔ یکایک چاند کی روشن ٹکیہ پر کوثر کا روئے تاباں ابھر آیا۔ کوثرکے حسین چہرے کے گرد روشنی کا ہالہ بہت بھلا معلوم ہورہا تھا۔ اس کے لبوں پر تبسم کھیل رہا تھا اور نظریں حَسن کی طرف متوجہ تھیں۔ حَسن کئی منٹ تک مشاہدے میں ڈوبے رہے۔دفعتاً ایک تیز آواز نے انہیں چونکا دیا اور وہ منظر ان کی نگاہوں سے اوجھل ہوگیا۔

ایک دفعہ حَسن کو کسی تقریب میں شرکت کی دعوت ملی، یہ ایک ایسی تقریب تھی جس میں ان کا موجود ہونا ضروری تھا۔ وہاں پہنچے اورتقریب کے انتظامات میں مشغول ہوگئے۔ کچھ دیر بعد ان کا گزر مہمان خواتین کے کمرے کے پاس سے ہوا۔ اندر نظر پڑی تو مبہوت ہوگئے۔ ان کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔سامنے کوثر بیٹھی تھی۔ وہی معصومانہ چہرہ ، وہی نازک سراپا ، جس کو دیکھنے کے لئے آنکھیں ترس گئی تھیں ۔ کوثر پوری محفل میں چاند کی طرح تھی جس کی روشنی کے آگے ستاروں کا حُسن ماند پڑجاتا ہے۔ حُسن کو سامنے پاکر عشق بے خود ہوگیا۔ آج وہ حُسن کی بارگاہ میں سرجھکا کر اپنی کامل سپردگی کا اظہار کرنا چاہتا تھا۔ اپنے تمام تر عجز کو حُسن کے قدموں میں نچھاور کردینا چاہتا تھا۔

کوثر کو دیکھ کر حَسن کے دل کی آگ اتنے زور سے بھڑکی کہ وہ خود کو فراموش کر بیٹھے اور اسی عالم میں کمرے میں داخل ہوکر بے اختیار کوثر کے قدموں پر سر رکھ دیا۔ چند لمحوں کے لئے پوری محفل پر سکوت چھا گیا اور اس سے پہلے کہ کوئی کچھ کہتا، حَسن نے کوثر کے سینڈل کو چوما،   سرپر رکھا اور اس محفل سے چلے آئے۔

اس واقعہ کے کچھ دنوں بعد ہندوستان کی تقسیم عمل میں آگئی اور پورے ہندوستان پر قتل و غارت گری کے سائے منڈلانے لگے۔ فسادات پھوٹ پڑے ، دھرتی انسانی لہو سے سُرخ ہوگئی۔ وحشیانہ قتل میں عورتوں اور بچوں تک کو نہیں چھوڑا گیا ۔ حَسن اپنے خاندان کے ساتھ پاکستان چلے آئے۔

فسادات کی ہولناکیاں اور زمانے کے نشیب وفراز بھی حَسن کےدل سے کوثر کی یاد کونہ مٹاسکے ۔کوثر اب بھی زندگی کا سرمایہ تھی اور اس کا تصور ان کے جسم وجان پر مسلط تھا۔

رفتہ رفتہ حَسن کے اندر ایک عجیب تبدیلی پیدا ہونے لگی۔وہ باربار خودی کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے تھے اور اس طرح گم سُم ہوجاتے کہ کسی طرح بھی ان کا انہماک نہیں ٹوٹتا تھا۔ بے خودی کے بعد وہ خودبخود ہوش کی طرف مائل ہوجاتے لیکن اس دوران ان کی حالت پورے طور پر معمول پر نہیں آتی ۔ گفتگو بھی بے ربط کرتے تھے۔ جذب کی یہ کیفیت حَسن پر کئی کئی گھنٹے طاری رہتی تھی۔ پھر حَسن کی شخصیت میں ایک حیرت انگیز انقلاب برپا ہوا کہ وہ جو کچھ کہہ دیتے وہ پورا ہوجاتا تھا۔ اب وہ لوگوں میں ایک صاحب ِکرامت بزرگ کی حیثیت سے پہچانے جانےلگے۔ اسی زمانے میں ایک صاحب حَسن کی خدمت میں آئے۔ حَسن پر جذب کی کیفیت طاری تھی ۔ کچھ دیر انتظار کے بعد حَسن نیم ہوش میں آئے تو اس شخص نے کہا—  میں آپ کے پاس جس مقصد سے حاضر ہوا ہوں اس کےلئے آپ کے ماضی کا سہارا لینا ضروری ہے۔ میں آپ کے ماضی میں سے کوثر کے نام کو سامنے لانا چاہتا ہوں جس کا آپ کی زندگی میں شاید کوئی بڑا مقام رہ چکا ہے۔

وہ صاحب رُک کر حَسن کی طرف دیکھنے لگے لیکن حَسن خاموش بیٹھے انہیں مخمور نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ ان صاحب نے سلسلئہ کلام دوبارہ جاری کرتے ہوئے کہا، میں کوثر کا شوہر ہوں۔ جب سے ہماری شادی ہوئی ہے میں نے ہمیشہ کوثر کو بے اطمینان دیکھا،کوئی بات ایسی ضرورتھی جو خلش بن کر اُسے بے چین رکھتی تھی پھر جوں جوں وقت گزرتا گیا اس کی یہ حالت کم ہونے کے بجائے ترقی کرتی رہی، اب حال یہ ہے کہ وہ تقریباً ہوش و حواس گم کرچکی ہے اور اس کی زبان پر صرف آپ کا نام ہے۔ وہ آپ کو ایک نظر دیکھ لے تو ٹھیک ہوجائے گی، اس کے اندر جو آگ جل رہی ہے اس کی تپش سرد پڑجائےگی۔

مہینوں بھٹکتا رہا ہوں ،پھر بڑی مشکلوں سے آپ کا پتہ معلوم کیا ہے۔ خدارا میرے حال پر رحم کیجئے، مجھ پر نہیں تو اس کے معصوم بچوں کے حال پر ترس کھا کر میرے ساتھ چلئے یاپھر مجھے اجازت دیجئے کہ میں کوثر کو آپ کے قدموں میں لا ڈالوں ۔

 حَسن پر سرشاری طاری ہوگئی اور انہوں نے ہاتھ جھٹک کر کہا،

نہیں، ہم تیرے ساتھ نہیں جائیں گے۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم اس کے قاتل کہلائیں۔ اب ہم وہ نہیں ہیں جو تم سمجھ رہے ہو۔ اب ہمارے دل پر کسی کی محبت غالب آجائے تو اس کا وجود باقی نہیں رہے گا۔

یہ کہہ کر حَسن پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ، آسمان کی طرف دیکھا اور کہا—

”اے خدا! میرے اوپر رحم فرما۔“

ایک صاحب جو اس واقعہ کے چشم دید گواہ ہیں، انہوں نے قلندربابااولیاء سے جب اس واقعہ کی علمی توجیہہ دریافت کی تو قلندربابااولیاءنے فرمایا،

کیا آپ نے حضرت ابراہیم ادھم کی سیرت کا مطالعہ نہیں کیا؟ حضرت ابراہیم ادھم ایک عرصے بعد اپنے بیٹے کو سامنے دیکھتے ہیں ۔ بیٹا لڑکپن کی حدود عبور کرکے جوانی میں قدم رکھ چکا ہے۔ جوان بیٹے کو سامنے پاکر یکایک ان کے دل میں بیٹے کی محبت غالب آجاتی ہے او ر وہ دوڑ کر اسے سینے سے لگا لیتے ہیں۔ اسی وقت ندائے غیبی آتی ہے:

ابراہیم! دعوائے دوستی تو ہم سے اور یہ کیا؟

حضرت ابراہیمؒ کانپ جاتے ہیں ، چہرہ فق ہو جاتا ہے ۔ اللہ سے فریاد کرتے ہیں:

اے اللہ ! میری مددفرما۔ اے اللہ! میری مدد فرما۔

بیٹا جھرجھری لیتا ہے اور دوسرے ہی لمحہ بے جان ہوکر زمین پر گرجاتا ہے۔ لوگ آگے بڑھ کر دیکھتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کی رُوح پر واز کرچکی ہے۔

”بے شک ! اللہ کی سنت میں تبدیلی ہوتی ہے اور نہ تعطل واقع ہوتا ہے۔“

غیبی دنیا میں سفر کرنے والے اکثر و بیشتر سالکین کے حالات ِزندگی کو کھنگالا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ انہوں نے عشق ِ مجازی سے گزر کر عشقِ حقیقی کی منزل میں قدم رکھا۔ اس کی کیا وجہ ہے؟

بابا صاحب نے فرمایا:

عرفان نفس حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ انسان کے اندر ذوقِ طبیعت اور عشق موجود ہو۔ عشق کیا ہے؟ اس کے بارے میں مختصراً یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ ایک ایسا جذبہ ہے جس کی بنیاد انسان کو ایسے نقطہ پر لے آتی ہے جہاں وہ براہ راست قانونِ قدرت کی گہرائیوں سے ہم رشتہ ہو جاتاہے۔ قانون ِ قدرت کی گہرائیوں سے ہم رشتہ ہونے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کی افتاد ِ طبع ایسی ہو کہ وہ اپنے ارادے اوراختیار کے تحت ذہنی یکسوئی حاصل کرسکے۔ذہنی یکسوئی حاصل کرنے کا ایک مؤثر راستہ کسی کے ساتھ ذہنی وابستگی ہے۔ جب یہ ذہنی وابستگی کسی انسان کے ساتھ ہوتی ہے تو یہ عشق مجازی کا رُوپ دھار لیتی ہے اور جب یہ ذہنی مرکزیت خالقِ کائنات کے ساتھ ہم رشتہ ہوجاتی ہے تو اس کا نام عشق ِ حقیقی ہے۔ تاریخ کے اورق پلٹنے سے جو بات سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ عشق ِ مجازی عشقِ حقیقی کے لئے پہلا قدم ثابت ہوتا ہے۔

عشق ِ مجازی کی دو قسمیں ہیں۔ ایک قسم یہ ہے کہ آدمی کے تمام ذہنی رشتے اپنے ہم جنس کے ساتھ استوار ہو جائیں۔ سرمدؔ       کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ اس کے برخلاف عشق ِ مجازی کی دوسری قسم یہ ہے کہ کوئی بندہ صنفِ نازک کی زلف کا اسیر ہو جائے اور شمع کے لئے پروانہ بن جائے۔ صنف ِ نازک کے ساتھ ذہنی وابستگی آدمی کو اس حد تک خود فراموش کردیتی ہے کہ وہ غیر اختیاری طور پر اپنی نفی کردیتا ہے۔ ہم جنس کے ساتھ ذہنی وابستگی رکھنے والا کوئی شخص جب عشق ِ حقیقی میں قدم رکھتا ہے تو عام طور سے مجذوب ہوجاتا ہےاورصنف نازک سے عشق کرنے والا کوئی بندہ اگر ہوس اور جنسی جذبات کے دھاروں میں خود کو نہ بہنے دے تواس کی شعوری صلاحیتیں سہ چند ہوجاتی ہیں۔ اس لئے کہ صنفِ نازک کے اندر اللہ تعالیٰ کے انوار کی دو لہریں ہمہ وقت اور ہر آن جاری وساری ہیں جب کہ مردکے اندر ایک لہر کام کرتی ہے۔

محبوبہ کے پیر چومنے اور جوتے سر پررکھنے کے بارےمیں ارشاد کیا: 

مشیت نے ایسے لوگوں کی افتاد طبیعت یہ بنائی ہے کہ وہ لوگوں کے کام آئیں، ان کی خدمت کریں ،ان کے ساتھ عجزوانکساری کے ساتھ پیش آئیں ۔ ان کی طبیعت میں یہ نقش اتنا گہرا ہوتا ہےکہ جب بندہ کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کا شرف نصیب ہوتاہے تو اس کے اوپر یہ احساس محیط ہوتا ہے:

”میرا سرخالقِ کائنات کے قدموں میں ہے۔“