Topics
کارخانہ ٔقدرت میں کشش اور گریز کا
ایک عجیب کرشمہ برسر عمل ہے۔ کسی بھی حرکت کی گہرائی میں جائیے تو کشش کی قوت یا
گریز کا عمل کام کرتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ جسے گریز کہتے ہیں وہ بھی کشش کے ساتھ
پیوستہ ہے۔ جمادات، نباتات ، حیوانات کےاندر کام کرنےوالے تمام معاملات کشش کی ان
دیکھی قوت پر قائم ہیں۔ بطخ کا بچہ پیداہوتے ہی پانی کی طرف لپکتا ہے۔ بکری گھاس
کی طرف دوڑتی ہے۔ کبوتر کبوتر کے غول میں پرواز کرتا ہے اور باز باز کے ساتھ رہنا
پسند کرتا ہے۔ ہر نوع کا نر مادہ کی جانب ایک نامعلوم طاقت کے زیر اثر کھنچتا چلا
جاتا ہے۔ انتہا یہ ہے کہ مادے کے سب سے چھوٹے جزو ایٹم میں بھی ذرّات کشش کےایک
نظام کے تحت آپس میں بندھے ہوئے ہیں۔
کشش کی یہ عجیب و غریب قوت دراصل
خالق کائنات کی ایک صفت ہے جو تمام مخلوقات کے اندر کارفرما ہے۔ یہ قوت بندے اور
خالق کے درمیان ایک ربط ہے۔ اللہ تعالیٰ کے برگزیدہ بندوں پر جب یہ قوت رونما ہوتی
ہے تو ان کا شعور عالم قدس کی طرف صعود کرکے اللہ تعالیٰ کی صفات کا مشاہدہ کرتا
ہے ۔ خاصانِ خدا کی نظر میں کشش کے تمام کرشمے مجازہیں۔ مجاز میں ردوبدل ہوتا رہتا
ہے۔ مجاز فناہے لیکن مجاز جس حقیقت پر قائم ہے وہ اللہ تعالیٰ کی صفت ہے جو لافانی
ہےاور اسی صفت سے تمام مجازی کرشمے متحرک رہتے ہیں۔ عشقِ حقیقی اس خدائی صفت کا
دیوانہ ہوتا ہے اور اس کی نظر مجاز سے ہٹ کر حقیقت پر ہوتی ہے۔
انسانی زندگی خیالات پر رواں دواں
ہے۔ زندگی کی تمام حرکات خیالات سے شروع ہوتی ہیں۔ جس نقطے پر خیال مرکوز ہوجاتا
ہے وہ مظہر بن جاتا ہے۔ اولیاء اللہ علم ِ خیال کے ماہر ہوتے ہیں۔ انہیں خیالات کو
پڑھنے ، خیالات کو منتقل کرنے اور خیالات کو تبدیل کرنے میں یدِ طولی حاصل
ہوتا ہے۔ اہل اللہ جب اپنے شاگردوں کی روحانی تربیت فرماتے ہیں تو انسانی طبیعت
اور بشری خصائل ان کے سامنے ہوتے ہیں۔ کئی دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ شاگرد کو جوکشش
مجازی میں انتہا کو پہنچ جاتا ہے اس طرح کششِ حقیقی کا مشاہدہ کراتے ہیں کہ عشق
مجازی عشق حقیقی میں بدل جاتا ہے۔
اس ضمن میں ہم جس واقعے کو بیان کرنے
جارہے ہیں اس کی کئی باتیں منفرد حیثیت رکھتی ہیں۔ اس واقعے کی تفصیلات بھی زیادہ
ہیں ، اس میں دلچسپ مسائل بھی آتے ہیں۔ سادگی اور جذبات بھی اس میں موجود ہیں اور
سب سےاہم بات یہ ہے کہ اس واقعے کو خود اس کے مرکزی کردار نے اپنے الفاظ میں بیان
کیا ہے۔
یہ واقعہ حاجی وارث علی شاہ ؒکے ایک
شاگرد سے تعلق رکھتا ہے ۔حاجی وارث علی اولیاء اللہ میں بڑے صاحبِ حال و مقام
بزرگ گزرے ہیں۔ آپ کی پیدائش کی خبر پہلے سے کئی بزرگوں نے دے دی تھی۔ یو پی ،بھارت
میں پیدا ہوئے۔ شروع ہی سے طبیعت میں استغناء وتوکل حد درجہ غالب تھا۔ دس برس کی
عمر میں سلسلہ چشتیہ میں بیعت کی اور اپنے پیرومرشد کے حکم پرمختلف ممالک کی سیر
کی۔ نسبت اویسیہ کےتحت بہت سےبزرگوں سے فیض حاصل کیا۔ آپ کے اوپر نست عشق کا غلبہ
رہتا تھا۔ حج پر تشریف لے گئے تو احرام پہننے کے بعد کوئی اور کپڑا نہیں پہنا،ہمیشہ
احرام کو زیب تن رکھتے تھے۔لوگ بطور خدمت آپ کو احرام پیش کرتے تھے اور آپ کے نام
کے ساتھ حاجی کا لفظ استعمال کیا جاتا تھا۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ کے مزاج و
عادات میں حضرت عیسیٰؑ کی جھلک ملتی تھی۔ آپ کا قیام زیادہ تر یوپی کے شہر دیوا
میں رہتا تھا۔1904 ءمیں وصال فرمایا۔ آپ سے تعلق رکھنے والے لوگ وارثی کہلاتے ہیں۔
ایک مرتبہ حاجی وارث علی ؒکی خدمت
میں پندرہ سولہ برس کا ایک لڑکا حاضر ہوا۔اس لڑکے کا نام عبدالکریم تھا اورلکھنؤ
کے کسی مدرسہ میں پڑھتا تھا۔ لوگ اس کوحافظ
عبدالکریم کہتے تھے۔ حاجی صاحب نے گرم جوشی سے اس کا استقبال کیا اور فرمایا” عاشق
آیا، عاشق آیا۔“ حافظ عبدالکریم نے بیعت کی درخواست کی، جسے حاجی صاحب نے
فوراً قبول فرمالیا۔
کچھ عرصہ بعد حافظ عبدالکریم حاجی
صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے حافظ کو ایک کتاب دی اور فرمایا،اس کتاب
کو روزانہ دومرتبہ پڑھ لیا کرو۔ انہوں نے
حافظ کو شیرینی بھی دی۔ حافظ اس التفات سے بہت خو ش ہوا۔
اس کتاب میں ایک کہانی تھی جس کا خلاصہ کچھ اس
طرح تھا کہ ایک امیر کو کسی رئیس کی لڑکی سے عشق ہوگیا ۔اس معاملے میں اسے بہت سے
مصائب و تکالیف سامنا کرنا پڑا اور وہ رات دن لڑکی کے گھر کے چکر کاٹنے لگا۔ برسوں
اس کی یہی حالت رہی۔ اچانک اس کی ملاقات کسی درویش سے ہوئی اور وہ سکون کی حالت
میں ایک جگہ بیٹھ گیا اور فقیرانہ حالت اختیار کرلی۔لڑکی کو اس تبدیلی کی وجہ سمجھ
میں نہیں آئی، وہ اپنے مکان سے اس شخص کے پاس آئی تاکہ وجہ دریافت کرے۔ جواب میں
عاشق امیر نے نہ جانے کیا کہا کہ وہ بھی گوشہ نشین ہوکر فقیر مشرب ہوگئی۔
دیوا میں حافظ کے رشتے کے چچا رہتے
تھے۔ حافظ عبدالکریم خوشی خوشی یہ کتاب لے کر چچا کے مکا ن پر پہنچا اور سب کو
بتایا کہ آج حاجی صاحب نے مجھے شیرینی کے ساتھ یہ کتاب مرحمت فرمائی ہے اورکہا ہے
کہ روزانہ اسے دو مرتبہ پڑھا کر۔ تمام اہل خانہ کو اشتیاق ہوا اور انہوں نے کتاب
سننے کی فرمائش کی، حافظ نے کتاب سنائی اور پھر روزانہ اسے پڑھنے لگا۔
حافظ عبدالکریم کی چچی نے ایک روز
کہا،بچیاں بڑی ہوگئی ہیں اور باہر کے کسی شخص سے قرآن شریف پڑھوانا مناسب نہیں ہے۔
تم گھر کے لڑکے ہو ، انہیں قرآن شریف پڑھا دیا کرو۔ چچا کی لڑکیوں میں ایک لڑکی
تیسرا پارہ پڑھتی تھی اور اسے سب پیاری کہہ کر پکارتے تھے۔ یہ حافظ کی بے شعوری کا
زمانہ تھا لیکن اسے قرآن پڑھانے میں ایک خاص لطف آتا تھا۔ اس کا دل چاہتا کہ پیاری
قرآن شریف پڑھتی رہے اور وہ سنتا رہے۔ پیاری یہ چاہتی تھی کہ حافظ وہ کتاب جو اسے
حاجی صاحب نے عطا کی تھی، پڑھتا رہے اور وہ سنتی رہے۔
حافظ عبدالکریم نےکچھ عرصہ یہاں قیام
کیا اور پھر اپنے موضع بڑا گاؤں چلا گیا۔چند روز بعد حافظ کی بہن کی شادی طے ہوگئی
اور سب اعزاواقارب جمع ہوئے ۔ چچا صاحب بھی مع اہل خانہ تشریف لائے۔ تقریب
کے خاتمے پر سب نے جانے کا قصد کیا تو چچی صاحبہ اور اہل خانہ کو حافظ کے والدین
نے روکنا چاہا۔ چچی صاحبہ نے کہا کہ میرارُکنا تو ممکن نہیں ہے لیکن لڑکیوں کو اس
شرط پر چھوڑ سکتی ہوں کہ حافظ عبدالکریم قرآن شریف پڑھایا کریں۔ حافظ کی والدہ نے
فوراً کہا، وہ تمہارا ہی لڑکا ہے بسروچشم کلام پاک پڑھائے گا۔حافظ نے نہایت
جانفشانی سے کلام مجید پڑھانا شروع کیا اور بہت جلد ختم کرادیا۔ لیکن وقت گزرنے کے
ساتھ ساتھ حافظ عبدالکریم کی وارفتگی و شیفتگی میں برابر اضافہ ہوتا گیا۔ وہ چاہتا
کہ ہر وقت پیاری کی صورت اس کے سامنے رہے اور وہ قرآن شریف پڑھاتا رہے۔ حافظ کے یہ
جذبات چھپے نہ رہ سکے۔ لوگوں نے سامنے تو کچھ نہ کہا لیکن مخفی طریقے سے پیاری کے
والدین کو اس بات کی خبر کردی۔ ایک روز اچانک کہار سواری لے کر آپہنچے ، یہ وقت
حافظ پر قیامت سے کم نہ تھا۔ پیاری سے جدائی کا خیال اس کے دل پر نشتر کا کام
کررہا تھا۔ پیاری کی حالت بھی اس سے مختلف نہ تھی۔ تمام خواتین دونوں کی حالت دیکھ
کر حیران و پریشان ہو گئیں۔ پیاری نے حافظ عبدالکریم سے کہا آپ دیوا شریف کب آئیں
گے۔ حافظ نے بے قرار ہوکر کہا تمہارے جانے کے بعد میں پہنچوں گا۔
حافظ عبدالکریم اگلے ہی روز دیوا
شریف پہنچ گیا۔ حافظ اور پیاری کے درمیان پہلے یہ بات طے ہوچکی تھی کہ قرآن مجید
ختم ہونے کا تذکرہ اپنی والدہ سے نہ کرے بلکہ یہ کہے کہ ابھی کچھ پارے باقی ہیں۔
پیاری نے یہ بات حافظ کے پہنچنے پر اپنی والدہ کو بتائی تو حافظ نے کہا ، میں روز
آکر پڑھادیا کروں گا۔ چچی نے حیرانی سے کہا،اپنے گاؤں سے یہاں اتنی دور آکر تم
کیسے پڑھاؤ گے،لوگ کیا کہیں گے۔ حافظ نےکہا ، مجھے کوئی مشکل نہیں ہوگی اور لوگوں
سے کیا مطلب۔ اللہ تعالیٰ دلوں اور نیتوں کا دیکھنے والا ہے۔
حافظ عبدالکریم روزانہ بعد نماز مغرب
اپنے گھر سے چلتا اور نو بجے تک دیوا شریف پہنچ جاتاپھر قرآن مجید پڑھاتا ۔جب رات
کچھ باقی رہتی تو وہاں سے اپنے گھر کی طرف چل پڑتا اور نماز فجر گھر پر ادا کرتا
تھا۔دو ڈھائی سال تک یہ سلسلہ چلتا رہا ،اب دیوا شریف کے لوگوں میں اس بات پر چہ
میگوئیاں ہونے لگیں۔ پیاری کے والد عبدالرؤف ریاست جہانگیر آباد میں ملازم تھے۔
وہاں سے گھر آئے اور سخت تاکید کہ حافظ عبدالکریم ہمارے گھر نہ آئے۔ اس رات حافظ
قرآن پڑھانے پہنچا تو اسے منع کردیاگیا۔ پیاری کتاب دینےکے بہانے دروازے پر آئی
اور چپکے سے کہا، سب کاخیال ہے کہ اس مکان کے بالا خانے پر جن رہتے ہیں اگر تم
مجھے دیکھنا چاہتے ہوتو رات کو جن کا بھیس بدل کر آیا کرو لیکن کسی کو خبر ہوگئی
تو جان پر آبنے گی۔ حافظ نےکہا ، جان کی کوئی پروا نہیں ، میں دو تین دنوں میں
انتظام کرکے آتا ہوں ۔ حافظ عبدالکریم نہایت پریشانی کے ساتھ دل پر بوجھ لئے واپس
ہوا۔وہ دل ہی دل میں پیاری کی ذہانت کی داد دے رہا تھا جس نے یہ ترکیب سوچ کر
ملاقات کی راہ سجھائی تھی۔ اس نے دل میں ٹھان لی کہ وہ ضرور جن بن کر جائے گا چاہے
اصل جنات اسے مارہی کیوں نہ ڈالیں۔
حافظ عبدالکریم چپکے سے لکھنؤ پہنچا
اور مختلف قسم کے عطر ، اگر بتی ، شیرینی ، کوئلے اور دیا سلائیاں خریدیں۔ دو ہاتھ
لمبی موٹی موٹی سات آٹھ سلاخیں لوہے کی بنوالیں جس کے ذریعے بالا خانے پر چڑھ سکے۔
رات کے وقت وہ تمام سامان لے کے دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ بالا خانے
پر چڑھا ۔ بالا خانے پر کسی جگہ اگر بتی سلگائی ، کسی جگہ لوبان جلایا اور کہیں
عطر ، گلاب چھڑکا۔پورا بالا خانہ خوشبو یات سے مہک اٹھا۔اچانک حافظ کے ذہن میں یہ
خیال آیا کہ اگر وہ زینے کے راستے نیچے اترے گا تو جن بننے کےڈرامے میں اصلیت کار
نگ نہیں آئے گا چنانچہ وہ کوٹھے پر سےصحن
میں کود گیا۔ آواز سنتے ہی گھر والوں کی آنکھ کھل گئی۔ خواتین حواس باختہ ہو کر
چیخنے لگیں۔ پیاری کی والدہ نے چراغ گل گردیا تاکہ جن کی صورت دیکھ کر بچے ڈر نہ
جائیں۔ حافظ نے دالان میں پہنچ کر کہا — تم روز کہتی تھیں کہ جن کی صورت نہیں
دیکھی۔ چراغ جلاؤ اور ہماری شکل دیکھو۔پیاری کی والدہ نے کانپتے ہوئے کہا، خدارا !
ہم پر رحم کیجئے ،ہم آپ کی صورت دیکھنا نہیں چاہتے ۔ حافظ نے آواز بدل کر تیز لہجے
میں کہا۔ہمارے آنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ تمہاری لڑکی قرآن پاک پڑھتی تھی تو ہم بھی
سنا کرتے تھے۔ کیا وجہ ہےکہ تین دن سے وہ لڑکا حافظ پڑھانے نہیں آرہا اور ہمیں
تلاوت قرآن سننے کو نہیں مل رہی۔
پیاری کی والدہ نے ہمت کرکے جواب دیا،
حافظ کو ہم نے اپنی بدنامی کی وجہ سے منع کردیا ہے۔اگر آپ قرآن شریف سننا چاہتے
ہیں تو جس وقت آپ حکم کریں لڑکی اسی وقت تلاوت کردیا کرے گی۔
حافظ نے جن کی آواز میں کہا، ہمیں
قرآن شریف سننے سے مطلب ہے، حافظ کے آنے سے کوئی غرض نہیں ہے۔ ہم روزانہ رات کو
آئیں گے اور تلاوت سنیں گے۔
حافظ روزانہ رات کو بالا خانے پر چڑھ
کر خوشبو جلاتا اور پھر نیچے کود پڑتا تھا۔ قرآن شریف سننے کے بعد زینے کے راستے
سے بالا خانے پر چڑھ کر واپس چلا جاتا تھا۔ جن کے واقعے کی شہرت تمام بستی میں
ہوگئی۔کسی نے حاجی وارث علی ؒکی خدمت میں بھی یہ واقعہ بیان کیا تو انہوں نے
فرمایا، ” ہاں ہاں پڑھا جن ہے، پڑھا جن ہے “ ۔ ان الفاظ سے سب نے یہی مطلب اخذ کیا
کہ کوئی عالم جن ہے اصل بات کی طرف دھیان نہیں گیا۔
ایک روز حافظ عبدالکریم نےتلاوت قرآن
شریف کے بعد پیاری سے کہا،میں چند روز کےلئے لکھنؤ جارہا ہوں تاکہ جن بننے کا
سامان لاؤں،تمہیں اگر کچھ منگانا ہوتو بتاؤ۔پیاری نے عقیق البحر کی تسبیح کی
فرمائش کی۔ حافظ کا خیال تھا کہ سب گھر والے سورہے ہیں لیکن پیاری کی والدہ جاگ
رہی تھیں اور انہوں نے یہ گفتگو سن لی۔ انہوں نے یہ سمجھا کہ بالاخانے کےجنات کو
حافظ عبدالکریم نے عملیات کے ذریعے قابو کیا ہوا ہے اور ان کی مددسے روزانہ یہاں
پیاری سے ملنے آجاتا ہے۔ انہوں نے یہ بات اپنے تک محدود رکھی اور حافظ سے اس کا
تذکرہ نہیں کیا۔ حافظ کئی دن تک جن کی شکل میں پیاری کے گھر جاتا رہا۔ تین ماہ بعد
مہمان بن کرچچا کے گھر پہنچا تو خلاف ِ معمول پیاری کی والدہ نے اسے حافظ کے سامنے
آنے سے منع کردیا۔ حافظ دس پندرہ منٹ تک پریشان بیٹھا رہا لیکن پیاری سامنے نہیں
آئی۔ اچانک وہ کمرے سے نکل کر حافظ کے سامنےکھڑی ہوگئی۔ اس کی بڑی بہن نے کہا، تم
کیوں باہر آئیں، اماں جان نے باہر آنے سے منع کیا تھا۔ پیاری نے کہا ۔اماں جان کی
بات خلافِ عقل ہے حافظ عبدالکریم رشتے میں میرے بھائی ہیں اور مجھے قرآن شریف
پڑھایا ہے۔ اگر اب ان سے پردہ کروں گی تو اس میں میری بدنامی ہے۔ اچانک پردہ کرنے
کی کیا وجہ ہے؟ پیاری کی یہ منطق سن کر تمام خواتین دم بخود رہ گئیں۔ یہ صورت حال
دیکھ کر حافظ کی طبیعت میں گھبراہٹ پیدا ہوئی اور وہ اُٹھ کر جانےلگا۔ پیاری کی
والدہ نے بہت روکا لیکن حافظ نہیں رکا، تمام راستے اس واقعہ کا خیال اسے پریشان
کرتا رہا۔اس نے سوچا کہ اب جن کی شکل میں آکر ان لوگوں کی اچھی طرح خبر لےگا۔
راستہ میں بے اختیار ہوکر واپس پیاری کے گھر آیا تو معلوم ہوا کہ حافظ کے جانے بعد
پیاری کی والدہ نے اس کی خوب پٹائی کی ہے۔یہ سن کر وہ مزید بدحواس ہوگیا۔
منصوبے کے مطابق حافظ اسی رات بالا
خانے پرچڑھ کر صحن میں کودا۔ اس نے گزشتہ دن اہلِ خانہ سے جن کی آواز میں یہ کہہ
دیا تھا کہ چند روز کے لئے ہم اجمیر شریف جارہے ہیں۔ اس لئے کہ وہ مہمان بن کر
اگلے روز چچا کے گھر جاناچاہتا تھا۔ اہلِ خانہ اس خلافِ اطلاع آمد پر حیران ہوئے،
حافظ نے جن کی آواز میں غصے کے تمام تاثر پیدا کرکے کہا،
تم نےلڑکی کا پردہ حافظ سے کیوں
کرایا اور حافظ کےجانے کے بعد اس کو کیوں مارا۔ ہمیں اس واقعے کی خبر ہوگئی ہے اس
لئے ہم اجمیر شریف سے فوراً واپس آئے ہیں۔ یہ بات جا ن لو کہ ہم حافظ کے قبضے میں
ہیں اور جو کچھ وہ حکم دے گا ہم اس کو بجا لائیں گے۔ ہمیں تمہاری اس حرکت سے بہت
رنج ہوا ہے، اب حافظ تمہارے گھر نہیں آئے گا۔
سارے گھر والوں کے اوسان خطا ہوگئے۔
طرح طرح سے خوشامد کرنے لگے تاکہ خطابخش دی جائے لیکن حافظ (بشکلِ جن) نہ
مانا۔اگلے دن حافظ عبدالکریم مہمان بن کر پیاری کےمکان کے برابر میں ایک اور عزیز
کے ہاں ٹھہرا ۔ پیاری کی والدہ کو جب معلوم ہوا کہ حافظ آیا ہے اور کسی دوسرے عزیز
کے ہاں ٹھہرا ہوا ہے تو جنات کے ڈر سے انہیں بہت پریشانی ہوئی۔ کئی بار خادماؤں کو
بھیجا کہ حافظ کو بلائیں لیکن حافظ نے آنے سے انکار کردیا۔ رمضان کا مہینہ تھا
چنانچہ جب افطار کا وقت ہوا تو انہوں نے افطار بھی بھیجا۔ حافظ نے افطار میں سے
روزہ کھولا اس خیال سے کہ افطاری کی تیار میں پیاری کے ہاتھ لگے ہوں گےپھراس افطار
میں کہیں اور سے آئی ہوئی افطاری ملا کر چچی صاحبہ کے گھر واپس کردی۔انہوں نے جب
یہ دیکھا کہ حافظ نے ان کے گھر کی افطاری نہیں کھائی تو ناراضی دور کرنے کے لئے
رات کو خود گئیں اور زبردستی ساتھ لے کر آئیں ۔ کھانے کے لئے بٹھایا اور پیاری سے
کہا کہ وہ حافظ کے لئے کھانا لائے۔ حافظ عبدالکریم نے پیاری کے خیال میں کھانا
شروع کیا تھا کہ اچانک چچی صاحبہ کی حالت پاگلوں جیسی ہوگئی۔وہ سب گھر والوں کو
مارنے لگیں لیکن حافظ اور پیاری کو انہوں نے کچھ نہیں کہا۔ مارتے مارتے وہ کنوئیں
کی طرف دوڑیں لوگوں نے فوراً پکڑا۔ نصف شب تک چچی کا دماغی توازن اسی طرح خراب رہا،پیاری
نے گھبراکر حافظ سے پوچھا ، کہیں آپ نے تو کچھ نہیں کردیا۔ حافظ عبدالکریم نے جواب
دیا، یقین جانو میں نے کچھ نہیں کیا۔ شاید حرارت قلب زیادہ ہونے سے حواس پر اثر
پڑا ہے۔پیاری کی بڑی بہن نے حافظ عبدالکریم سے کہا، آپ ایک خط والد صاحب کے نام
لکھ دیں تاکہ ملازم کے ہاتھوں بھیج کر جہانگیر آباد سے انہیں بلا لیا جائے کیوں کہ
والدہ کی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ حافظ نے خط لکھ دیا لیکن اس بات کا اندیشہ اسے پریشان
کئے ہوئے تھا کہ پیاری کے والد جہانگیر آباد سے آگئے تو نہ جانے کیا حالات پیش
آجائیں۔اس نے عظمت نامی ملازم کو الگ لے جاکر پوچھا، عظمت تم جانتے ہو یہ سب کیا
ہورہا ہے۔ عظمت نے کہا، مجھے سب معلوم ہے کہ یہ سب کیوں ہو رہا ہے۔ان لوگوں نے آپ
کو نا راض کردیا ہے اور آپ کے قبضے میں جو جنات ہیں وہ انہیں پریشان کررہے ہیں۔جب
تک یہ لوگ آپ کو راضی نہیں کریں گے اسی حالت میں رہیں گے۔
حافظ دل میں خوش ہوا کہ عظمت بھی
جنات کی کارروائی کا قائل ہے۔ اس نے کہا، میں جنات کو بہت سمجھا رہا ہوں لیکن وہ
مانتے نہیں۔ ایسا نہ ہو کہ تم خط لے جاؤ اور وہ تمہارے خلاف بھی کاروائی کریں۔عظمت
خوف کے مارے کانپنےلگا۔حافظ نے کہا، ایساکرو کہ جب تمہیں خط ملے تو تم باہر جاتے
ہی زمین پر گرکر لوٹنے لگنا گویا کہ تمہارے اوپر بھی جنات مسلط ہو گئے ہیں۔اس طرح
تم خط لے جانے سے بچ جاؤگے اور لوگ سمجھیں گے کہ تمہارے اوپر بھی جنات مسلط ہوگئے
ہیں۔
عظمت نے ایسا ہی کیا۔خط لے کر کچھ
دور چلا اور زمین پر گر کر لوٹنے اور چیخنے پکارنےلگا۔ جو قریب گیا اس کو زور دار
طمانچہ رسید کیا۔ پیاری کے ایک عزیز آئے ہوئے تھے اور پیاری کی والدہ کی طبیعت
بحال کرنے کی تدبیریں کررہے تھے، شور سن کے باہر آئے اور یہ منظر دیکھ کر کہا،
مستورات کی حالت پہلےسے خراب ہے، ایک مرد تھا اس کا بھی یہ حال ہوگیا ہے۔ حافظ نے
تو حد کردی ہے تمام گھر کو پریشان کررکھا ہے۔ وہ حافظ کے پاس آئے اورکہا، بھائی ان
کی غلطی کو معاف کرو۔کیا کسی کا خون کرکے خوش ہوگے۔ مستورات بے پردہ ہو جائیں گی تب
تمہیں چین آئے گا۔ ابھی یہ بات ہورہی تھی کہ عظمت اٹھ کر گھر میں آیا اورکہا، اگر
کسی نے حافظ عبدالکریم کے خلاف کوئی بات کی تو اچھا نہیں ہوگا۔ پیاری کی والدہ نے
جن کی طبیعت اس وقت کسی قدر بہتر ہوگئی تھی کہا، میں ان کے خلاف کچھ نہیں کروں گی
بلکہ جو وہ کہیں گے کیا جائے گا۔
حافظ عبدالکریم صبح کے وقت اپنے گھر
روانہ ہوا۔اس کےساتھ پیاری کے ایک قریبی عزیز بھی تھے۔ان سے حافظ کی تفصیلی بات
چیت ہوئی۔ انہوں نے کہا، میں جہانگیر آباد پیاری کے والد کے پاس جارہا ہوں تم بھی
چلو۔میں رات کے واقعہ کا ذکر کروں گا اور ان پر زور دوں گا کہ وہ اپنی لڑکی کی
شادی تم سے کردیں۔ اگر وہ ایسانہیں کریں گے تو رسوائی کے علاوہ کسی نہ کسی کا خون
ہو جائے گا۔
حافظ عبدالکریم ان کے ساتھ جہانگیر
آباد چلا گیا پیاری کےعزیز نے تمام واقعہ تفصیل سے بیان کیا اور کہا کہ حافظ کے
قبضے میں دو جن بھی ہیں۔پیاری کے والد تمام واقعہ اور جنات کاسن کر طیش میں آگئے،
کہا: ” چاہے کچھ ہو جائے، ہرگز شادی نہیں ہوگی۔ “
پھر حافظ سے نہایت برہمی میں انہوں
نے کہا،جنات کیا تم نے قابو میں کرلئے ہیں سمجھتے ہو کہ خدائی قبضے میں کرلی ہے،سارے
گھر کو پریشان کر رکھا ہے۔ہم اسی وقت گھر جارہے ہیں،دیکھتے ہیں کہ جنات ہمارا کیا
کرلیتے ہیں۔
حافظ عبدالکریم نے نہایت اطمینان اور
بے پروائی سے جواب دیا، وہاں جانے کی کیا ضرورت ہے۔جنات تو ہر وقت میرے ساتھ رہتے
ہیں۔ چاہیں تو ابھی اور یہیں تماشہ دیکھ لیجئے۔
غیر متوقع جواب سن کر پیاری کے والد
کا جوش وخروش ٹھنڈا پڑگیا۔ گھبراکر کہنے لگے، کیا یہاں بھی تم اپنے گھرانے کو بے
آبرو کروگے۔
حافظ نے کہا، آپ لوگ خود ہی جنات سے
مقابلہ کرنا چاہتے ہیں، میں نے تو انہیں روک رکھا ہے۔ اس وقت تو جنات میرے ساتھ
موجود ہیں اور اجازت طلب کررہے ہیں۔
پیاری کے والد نےکہا، خداکے لئے معاف
کرو،تین دن بعد مجھ سے ملنا۔ میں سوچ کرتمہیں جواب دوں گا۔
حافظ عبدالکریم تیسرے روز جہانگیر
آباد پہنچا۔پیاری کے والد کے پاس بہت سے لوگ مہمان تھے جو ان کےرشتے داربھی تھے،کسی
نے حافظ سے بات نہیں کی۔حافظ واپس اپنے گاؤں کے لئے روانہ ہوا تو پیاری کے ایک
رشتہ دار ساتھ ہوئے۔دوران سفر انہوں نے کہا ، بڑے افسوس کی بات ہےکہ تمہاری وجہ سے
ایک خون ہونے والا ہے حافظ کےدریافت کرنے پر انہوں نے بتایا، لڑکی کے والد اور چچا
کو تم دونوں کے جذبا ت کا علم ہوگیا ہے۔ شرفاء میں اس قسم کےواقعات سےبڑھ کر کوئی
بات باعث شرم نہیں ہوتی۔اس لئے تمام رشتہ داروں نے مل کر فیصلہ کیا ہے کہ لڑکی کو
ماردیا جائے تاکہ مزید بدنامی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس کام کے لئے ابھی ابھی
دونوں بھائی دیوا شریف گئےہیں۔
حافظ عبدالکریم کےپیروں تلے زمین نکل
گئی، اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کرنا چاہئے۔پیاری کے عزیز نے حافظ کو
مشورہ دیا، میاں! اب تو تمہارا زندہ رہنا لا حاصل ہے۔تمہیں بھی اپنی جان کا نذرانہ
دے دینا چاہئے۔
حافظ عبدالکریم نے اپنے گھر جانے کا
ارادہ ترک کیا اور اسی وقت دیوا شریف کو چلاجہاں پیاری کا گھر تھا۔راستے بھر طرح
طرح کے خیالات اس کے دل ودماغ پر چھائےرہے۔بارباراس کے دل سے یہی آواز آتی کہ
پیاری کے بعد رہنا بیکار ہے، تم کو بھی جان دے دینی چاہئے اور اسی کے گھر میں جو
کنواں ہے اس میں کود کر چراغِ زندگی گل کردینا چاہئے۔
حافظ عبدالکریم سہ پہر کو دیوا شریف
میں پیاری کے مکان پر پہنچا وہاں بالکل خاموشی چھائی ہوئی تھی اور دروازہ بند تھا۔
یہ خاموشی اسے موت کا سناٹا محسوس ہوئی اور یہ خیال بن گیا کہ پیاری اس دنیا میں
نہیں رہی۔ حافظ نے کئی چکر مکان کے لگائے لیکن کھڑکی کھلی دکھائی دی اور نہ کوئی
دروازہ، رمضان شریف کے دن تھے۔ بوقت افطار حافظ نے دیکھا کہ دروازہ کھلا ہوا ہے۔
حافظ عبدالکریم نے اِلا
اللہ کا نعرہ لگایا اور مکان
کے اندر داخل ہوکر سیدھا کنوئیں تک پہنچا اور سرکے بل کنوئیں میں چھلانگ
لگادی۔چھلانگ لگاتے ہی ایک عجیب معاملہ ہوا۔حافظ کو یوں لگا جیسے کسی نے اس کے جسم
کو سنبھال لیا ہے اور جب وہ نیچے پہنچا تو اس کا سراوپر اورپیر نیچے تھے۔ پھر بھی
اس کے دونوں ہاتھوں میں سخت چوٹ آئی۔ ایک ہاتھ کی تو ہڈی ٹوٹ کر باہر نکل
آئی۔اتفاقاً پیاری کی والدہ نے حافظ کو کنوئیں میں چھلانگ لگاتے دیکھ لیا،انہوں نے
شور مچاکررشتہ داروں اور پڑوسیوں کو جمع کرلیا ۔ رشتہ داروں نے پیاری کو ایک کمرے
میں بند کرکے قفل لگادیا اور کنوئیں میں اینٹیں اور پتھر برسانے شروع کردیئے،
شوروغل اتنا زیادہ ہوا کہ ہر طرف اطلاع پھیل گئی ۔ سید معروف شاہ وارثی دیگر
معززین شہر کو لے کرحافظ کی اعانت کےلئے پہنچے ۔ پیاری کی والدہ پر اظہار ناراضی
ہوا اور کنوئیں کے قریب پہنچ کر آوازیں دیں۔کنوئیں کے اندر حافظ گھٹنوں تک پانی
میں کھڑا ہوا تھا ۔اُدھر پیاری کمرے میں چیخ رہی تھی کہ آج تم لوگوں نے حافظ بھائی
کی جان لے لی،اب تو خدارا دروازہ کھول دو۔ یہ آوا ز حافظ کے کانوں میں پہنچی تو اس
کے اندر زندگی کی نئی لہر دوڑ گئی اس نے پوری قوت سے آواز لگائی، میں زندہ ہوں ،
جلدی سے نکالو۔
حافظ کو باہر نکالاگیا۔ باہر نکلتے
ہی اس نے ایک نعرۂ مستانہ لگایا — ” مزا ہے پیاری کا “ ۔ سید معروف شاہ حافظ کو
اپنے مکان پر لائے، دودھ پھٹکری پلائی اور کہا، میں کمہاروں کو بلاتا ہوں وہ تمہیں
پالکی میں بٹھا کر تمہارے گھر چھوڑ دیں گے۔ لڑکی کے والد جہانگیر آباد سے آنے والے
ہیں، نہ جانے تمہارے ساتھ کیا معاملہ پیش آئے۔لڑکی کا معاملہ ہے اس لئے تمام بستی
والے بھی اُن کا ساتھ دیں گے۔ حافظ نے کہا ، مجھے جان کی پرواہ نہیں ہے، میں نے تو جان دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی،
جان جانے سے رہ گئی تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں ۔ حافظ کے ایک رشتہ دار اسے
اپنےگھر لے گئے۔ اسی رات پیاری کے والد بھی جہانگیر آباد سے آگئے۔ حافظ کی حالت
عجیب تھی اسے نہ چوٹ کا احساس تھا اور نہ تکلیف کا خیال ،وہ پوری رات جاگتارہا۔
صبح کو یہ اطلاع زبان زدِ عام ہوئی
کہ حاجی وارث علی شاہ ؒدیوا تشریف لارہے ہیں۔ اس زمانے میں حافظ عبدالکریم کا حاجی
صاحبؒ کے بارے میں صرف یہ خیال تھا کہ حاجی صاحبؒ ایک پیر ہیں جن کا سب لوگ حکم
مانتے ہیں۔ حافظ، حاجی صاحبؒ سے بیعت تو ہو گیا تھا لیکن مرتبۂ ولایت کا ادراک و
احساس اسے نہ تھا۔ اسے اندیشہ ہوا کہ لوگ جب اس معاملے کی اطلاع انہیں دیں گے تو
ایسا نہ ہو کہ وہ اسے دیوا شریف سے باہر نکلوادیں۔ حافظ نے ان تمام لوگوں سے جو
حاجی صاحبؒ سے قربت رکھتے تھے۔ طرح طرح خوشامد کی اور بڑی منت سماجت سے کہا،
خداراسفارش کرکے مجھے دیوا شریف سے نہ نکلنے نہ دینا لیکن جو بھی یہ بات سنتا
کانوں پر ہاتھ رکھ لیتا تھا۔
صبح آٹھ بجے سید معروف شاہ وارثی اور
دیگر معززین شہر حاجی صاحبؒ کے استقبال کے لئے پہنچے۔ حاجی صاحبؒ ان لوگوں کی طرف
دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا:
” کیوں کیوں! حافظ کنوئیں میں کود
پڑا۔کیوں ایسا کہا جو وہ کود پڑا۔ “ پھر
سید معروف شاہ سے مخاطب ہوئے
— ” سناسنا محبت ایسی تو ہو جیسی حافظ کو ہے “ سید
معروف شاہ نے تمام روئیداد عشق بیان کی۔ حاجی صاحب نے فرمایا، پاک محبت ہے مگر
دنیا کے لوگ نہیں مانیں گے اور ان کی بدنامی ہوگی۔حافظ عاشق ہے ،حافظ عاشق ہے۔
جب لوگوں نے حاجی صاحب کی یہ باتیں
سنیں حافظ کی طرف داری میں بولنا شروع کردیا۔ حافظ کو جب اس بات کا علم ہوا تو ہمت
کرکے حاجی صاحب کے پاس پہنچا ۔ اقامت گا ہ کا دروازہ بند تھا۔ خادم نور محمد شاہ
نے حافظ کے آنے کی اطلاع دی۔ حاجی صاحب نے فرمایا — حافظ مستان ،حافظ مستان۔ حافظ اندر داخل ہوا تو حال یہ تھا کہ وہی خون
آلود کپڑے جسم پرتھے جو کنوئیں میں گرتے وقت پہنے ہوئے تھے۔ حاجی صاحب نے کہا، حافظ
،حافظ، ضبط نہیں ہوا، کنوئیں میں کود پڑے۔ کون ساہاتھ ٹوٹا، کون ساہاتھ ٹوٹا — ؟
یہ کہتے کہتے حاجی صاحب نے حافظ کا
ہاتھ پکڑ کر ایک جھٹکا دیا تو ہڈی اپنی جگہ بیٹھ کر بالکل جُڑ گئی ۔ چوٹ کا اثر
ختم ہو گیا۔ حاجی صاحب نے کہا ،حافظ حافظ! وہ لوگ تمہارے دشمن ہوگئے ہیں، اب ان کے
گھر نہیں جانا۔
حافظ نے یہ حکم سن تو لیا لیکن دل نے
یہ گوارا نہ کیا کہ محبوب کےدر کو چھوڑدے۔اس نے دل ہی دل میں اپنے عزم کو دہرایا،میں
ضرورجاؤں گا چاہے کچھ بھی ہو جائے۔ابھی اس نے یہ سوچا ہی تھا کہ حاجی صاحب نے کئی
مرتبہ زور دے کر کہا،
” تم نہیں جانا، وہ لوگ مارڈالیں گے۔
“
حاجی صاحب سے رخصت ہوکر حافظ باہر
نکلا تودیوانگی ِشوق نے اس قدر شدت اختیار کی کہ بے تابانہ پیاری کے گھر میں داخل
ہوگیا۔ وہاں موجود لوگوں نے اس کی خوب پٹائی کی اور دھکے دے کر نکال دیا۔ بعد ازاں
پیاری کے گھر والوں نے کئی چوکیدار مقرر کردیئے تاکہ حافظ مکان کی طرف نہ آئے ۔
نیز کئی عورتیں بھی ہمہ وقت پیاری کے ساتھ رہتی تھیں۔ایک روز حافظ بے تابی کے عالم
میں صدا لگاتا ہوا پیاری کے گھر پہنچ گیا۔ اسی وقت پیاری بھی دوڑتی ہوئی چھت پر
چڑھ گئی۔ عورتوں نے اسے پکڑا اور کھینچتی ہوئی نیچے لےگئیں۔ مکان کے زینے کو توڑکر
گرادیاگیا۔
حافظ عبدالکریم کی حالت دیوانگی یہ
ہوگئی کہ اس کا نام حافظ پیاری رکھ دیا گیا۔لوگ اس سےمذاقاً کہتے حافظ!پیاری نے
کہا ہے کہ میرے نام سے سوجوتے مارو۔ پیاری کا نام سن کر حافظ بسرو چشم سرجھکا کر
بیٹھ جاتا اورلوگ اسے جوتے مارتے۔ حاجی صاحب کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو حافظ کو
بلاکرکہا،حافظ تم کسی کے کہنے سننے میں نہ آیا کرو اور نہ کسی کا اعتبار کرو، جب
وہ خود آکر کہے تو یقین کیا کرو۔
حافظ عبدالکریم پیاری کے مکان کے گرد
طواف کرتا اور مختلف صدائیں لگاتا رہتا۔ حاجی صاحب کی خدمت میں حاضر ہوتا تو آپ
ارشاد فرماتے ،جاؤ منعم صاحب کے مزار پر صدا لگاؤ۔چنانچہ حافظ اکثر شاہ منعم
صاحب کے مزار پر حاضر ہوکر صدائیں لگاتا اور دیوان حافظؒ کے اشعار پڑھتا ۔ایک روز
اس نے پیاری کے مکان کا طواف کیا اور صدالگائی تو پیاری کی والدہ دیگر عورتوں کو
ساتھ لےکر حاجی صاحب کے پاس پہنچیں اور کہا،حضرت!حافظ ہمیں بدنام کرتا ہے اور
ہماری لڑکی کا نام سب کے سامنے لیتا ہے۔ حاجی صاحب نے کہا، وہ ایسا ہے تو ہم اسے
ابھی دیوا سے نکلوادیتے ہیں۔ خادم نور محمد شاہ کو حکم دیا ، حافظ کو ابھی پکڑ کر
لاؤ۔ نورمحمد شاہ نے یہ واقعہ حافظ کو بتایا تو حافظ ایک چاقو اپنے ساتھ لے کر گیا
اور پختہ ارادہ کرلیا کہ اگر حاجی صاحب نے اسے دیوا شریف سے نکلنے کا حکم دیا تو
وہ اسی چاقو سے خود کو ہلاک کرلے گا۔ حافظ حاجی صاحب کےپاس پہنچا لیکن انہوں نے
کوئی ایسی بات نہیں کہی جس سے حافظ کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی ۔ اسی زمانے میں حافظ
اکثر پتنگ اڑاتا اور جان بوجھ کر پتنگ پیاری کے گھر میں گرادیاکرتا ۔ پھر یہ کہتے
ہوئے مکان پر جاپہنچتاکہ ہماری پتنگ آگری ہے۔ کئی بار وہاں سے خوب زدوکوب کرکے
باہر نکالا گیا۔حاجی صاحبؒ نے حافظ کو بلاکر کہا،حافظ! تم ہمارے کوٹھے پر پتنگ
اڑایا کرو۔
راہِ عشق میں مصائب و آلام برداشت
کرتےہوئے تین سال کا عرصہ گزر گیا۔ طرح طرح کےواقعات اور معاملات پیش آتے رہے ۔ایک
روز حاجی وارث علی نے حافظ عبدالکریم سے کہا — حافظ حافظ! تم ہماری صورت دیکھا
کروپھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی، ترجمہ:
ہم تمہاری رگ ِ جاں سے بھی زیادہ قریب
ہیں۔
حافظ نے کہا ، حضور ! دنیا میں اُس
سے زیادہ کوئی حسین نہیں ہے۔ کس کو دیکھوں ؟ اگر آپ اُس سے زیادہ حسین ہوتے تو آپ کو دیکھتا۔
یہ جواب سن کے حاجی صاحب مسکرائے
اور حافظ کو گلے لگا کر فرمایا، عاشق کے
سوا کسی کی جرأت نہیں کہ ایسی بات کہہ سکے۔
ایک عرصے بعد حاجی وارث علی نے حافظ سے کہا، حافظ
حافظ! خداو رسول تم کو ملیں۔ وہ لڑکی ملے یا نہ ملے۔
حافظ نے گھبرا کر کہا، نہیں حضور
!مجھے کچھ نہ ملے وہ لڑکی مل جائے۔ اگر خدا و ررسولؐ کو بھی اسی صورت میں دیکھوں
گا تو مانوں گا ورنہ میں سے باز آیا۔ یہ سن کرحاجی صاحبؒ نے فرمایا، عاشق کے سوا
کوئی یہ بات نہیں کہہ سکتا۔
حافظ عبدالکریم پرعشق کی کیفیت کا
غلبہ ہوتا تو بے اختیار اس کے منہ سے نکلتا — ”مزا ہے پیاری کا “ دیوان ِ حافظؒ کے اشعار اکثر
اس کی زبان پر ہوتے تھے۔ ایک روز حافظ کو معلوم ہوا کہ پیاری اور اس کی والدہ حاجی
صاحب کے پاس گئی ہیں۔ حافظ مکان کے زنانہ حصے میں پہنچ گیا اور صدالگائی۔ حاجی
صاحب نے ماں بیٹی کو رخصت کردیالیکن حافظ کو دروازے پر کھڑا دیکھ کر پیاری کی
والدہ نے مرزا منعم بیگ وارثی کو بلا کر کہا کہ حافظ کو دروازے سے ہٹایا جائے۔
مرزا صاحب نے حافظ سے کہا، یہ زنانہ دروازہ ہے ،اگر صدا لگانی ہے تو مردانہ حصے کی
طرف جاؤ۔ مرزا صاحب نے حافظ کو ملعون کیا اورکہا، میں حاجی صاحب سے تمہاری شکایت
کرکے تمہیں نکلواتا ہوں۔ حافظ نے کہا، جاؤ تم خد ا سے کہہ دو میں نہیں جاؤں گا ۔مرزا
صاحب کی عجیب حالت ہوگئی۔ کبھی اندر کی طرف جاتے اور پھر باہر آجاتے۔ اسی وقت
پیاری، حافظ کے پاس آئی اورکہا، حافظ
بھائی! کسی سے کچھ کہتے تھوڑا ہی ہیں ۔پیاری کو سامنے دیکھ کر حافظ کی حالت ناقابل
بیان ہوگئی اور اس نے سر تسلیم جھکادیا۔
پیاری اور اس کی والدہ رخصت
ہوگئیں۔مرزا منعم بیگ صاحب نے حاجی وارث علی سے حافظ کی شکایت کی۔ حاجی صاحب نے
حافظ کی طرف ایک نگاہ کی اورمسکرا کر کہا، عبدالرؤف(پیاری کے والد) کے گھر میں کہہ
دو کہ اپنی لڑکی کو لےکر ہمارے پاس نہ آیاکریں۔ حافظ عاشق ہیں ،کسی روز پکڑ لیا تو
قیامت تک چھوٹنا مشکل ہے۔
حافظ عبدالکریم عشق کی سرمستی میں اس
حد تک پہنچ گیا کہ ہوش و خِرد رخصت ہوگئے۔ لوگ ان کی اس حالت کا نہ صرف مذاق اڑاتے
بلکہ طرح طرح سے فائدہ اٹھاتے۔۔۔ نائن پیاری کے ناخن اور بال لے کے آتی اور حافظ
کثیر رقم دے کر خرید لیتا تھا۔ دھوبن اس کےکپڑے لاتی حافظ اسے پیسے دیتا اور پیاری
کے کپڑوں کو دیکھتا اور اس کی خوش بو سونگھتا، اس طرح اس نے ایک بڑی رقم صرف کردی۔
حافظ اکثر حاجی وارث علی کی خدمت
میں طرح طرح کی مٹھائیاں اور تحائف پیش کرتا تھا۔ اس کاخیال تھا کہ حاجی صاحب ان
چیزوں کو تقسیم کریں گے تو کچھ نہ کچھ پیاری کے گھر بھی جائےگا۔ یہ خیال اس کی
قلبی تسکین کا باعث بنتا۔ حافظ جو تحفہ پیش کرتا حاجی صاحب اسے تقسیم کرنے کے
بجائے پورے کا پورا پیاری کے گھر بھجوادیتے تھے۔
ایک روز کسی شخص نے حافظ سے کہا،
حافظ اگر تم پانچ سو روپے مجھے دو تو تمہیں پیاری سے ملوادوں گا۔ حافظ کے پاس رقم
نہیں تھی اس لئے خاموش ہوگیا۔ ان صاحب نے متبادل راستہ بتاتے ہوئے کہا کہ فلاں
رئیس حاجی صاحب کے پاس آئے ہوئے ہیں، ان
کی جیب میں سونے کی ایک نہایت قیمتی گھڑی ہے۔ کسی طرح وہ گھڑی تم ہمیں لادو تو ہم
تمہارا کام کردیں گے۔ حافظ دن کے دس گیارہ بجے کوٹھے پر چڑھا ،سیدھے کمرے میں داخل
ہو کر جیب سے گھڑی نکالی اور تیر کی تیزی سے واپس ہوکر کوٹھے پر سے کود پڑا۔رئیس
چلائے کہ حافظ! گھڑی لے کہاں جارہے ہو۔ شور سن کر لوگوں نے حافظ کو پکڑ لیا اور
گھڑی سمیت حاجی صاحب کے سامنے پیش کیا۔ حاجی صاحب نے فرمایا، حافظ کو نکال
دو۔یہاں آنے نہ پائیں اور جہاں یہ ٹھہرے ہوئے ہیں ان سے بھی کہو کہ اپنے مکان
پرٹھہرنے نہ دیں۔ یہ ہمیں بدنام کرتے ہیں، لوگ کہیں گے کہ ہم لوگوں سے چوری کراتے
ہیں اور ہماری بھی شراکت ہوگی۔ چنانچہ حافظ کو شہر سے نکال دیا گیا۔
کچھ عرصے بعد حافظ کو معلوم ہوا کہ
حاجی وارث علی رودولی تشریف لے گئے ہیں۔ یہ بھی پتہ چلا کہ پیاری کے گھر والوں نے
منت مانی ہےکہ اگر حافظ کو نکال دیاجائےتو وہ حاجی صاحب کی دعوت کریں گے اور ان
کو نیا احرام پیش کریں گے اور جلد ہی وہ اس تقریب کا اہتمام کرنے والے ہیں۔ یہ خبر
سن کر حافظ کے دل کی حالت بُری ہوگئی۔ اس نے سوچا کہ وہ بھی حاجی صاحب کی دعوت
کرے گا اور خاص دیوا میں ، جہاں سے وہ نکالا جاچکا ہے۔ حافظ رودولی پہنچ کر حاجی
صاحب کے خادموں سے ملااور انہیں تحائف وغیرہ دیئےتاکہ وہ حاجی صاحب کو مناسب وقت
اطلاع کریں۔ حاجی صاحب نے فرمایا، وہ ہماری دعوت دیوا میں کیسے کرسکتے ہیں ۔وہ
چوری سے بدنام ہوگئےاور ہمیں بھی بدنام کیا ہے۔ رات کو پھر لوگوں نے حافظ کا مدعا
پیش کیا تو فرمایا، اچھا بلاؤ، حافظ ڈرتے ڈرتے اندر گیا۔ حاجی صاحب نے تمام حال
پوچھا اورکہا، اگر تم سے کوئی یہ کہے کہ
ہماری گردن مار دو تو ہم اس لڑکی (پیاری)سے ملادیں گے تو تم کیا کروگے؟
حافظ نے نہایت بےباکی سے کہا، حضور
میرے بس میں ہوتا تو ضرور ایسا کر گزرتا۔
حاجی وارث علی مسکراتے ہوئے اُٹھے
اور حافظ کو گلے لگا کر کہا ، جاؤدیوا میں تمہاری دعوت ہمیں منظور ہے۔
حاجی وارث علی دیوا تشریف لے گئے تو
پیاری کے گھر والوں نے دعوت کی اور احرام پیش کیا۔ حاجی صاحب کے سامنے شیرینی پیش
ہوئی تو حافظ یہ سوچ رہا تھا کہ اس شیرینی میں پیاری کے ہاتھ بھی لگے ہوں گے
خداکرے مجھے بھی نصیب ہو۔ عجیب بات یہ ہوئی کہ سب کو شیرینی تقسیم کی گئی لیکن
حافظ کو نہیں ملی۔اچانک حاجی صاحب نے کہا، حافظ حافظ! تم کو حصہ نہیں ملا پھر
اپنے ہاتھ سے مٹھائی دی۔ پیاری کے گھر سےکھانا آیا تو کھانے میں سے بھی عطا کیا
اور فیرینی کی رکابیاں بھی حافظ کو دیں۔ حافظ فیرینی کھانے کے بعد رکابیاں بھی توڑ
توڑ کر کھا گیا۔ بعد ازاں حافظ نے حاجی وارث علی کی دعوت کی اور احرام تبدیل
کرایا۔
کچھ عرصہ بعد پھر حافظ کی شکایتیں
حاجی وارث علی تک پہنچیں تو آپ نے حافظ کو دیواسے چلےجانے کا حکم دیا ۔ حافظ دیوا
سے باہر خستہ حال و پریشان پھرتا رہا۔ ایک روز حلوہ لے کے حاجی صاحب کے پاس پہنچا،
خادموں نے اندر اطلاع کرنے سے معذوری ظاہر کردی ۔ ایک نووارد شخص نے اندر جاکر
حاجی صاحب سے کہا، ایک عاشق آیا ہے۔ فرمایا، عاشق کو کون روک سکتا ہے، اندر آنے
دو۔
حافظ، حاجی صاحب کے پاس پہنچا تو وہ
مسکرائے۔ حلوہ پیش کیا تو اسی وقت سارا حلوہ پیاری کے گھر بھجوادیا۔ ان دنوں پیاری
کے چچا اپنے بھائی کے گھرآئے ہوئے تھے۔ انہوں نے حافظ کو بلوایا۔ حافظ خوشی خوشی
پیاری کے گھر پہنچ گیا۔ چچا صاحب نے پہلے تو حافظ کو سمجھایا کہ وہ پیاری کا نام
لینا ترک کردے اور دیوا سے چلا جائے لیکن حافظ نہ مانا۔ انہوں نے دست پناہ گرم
کرکے حافظ کو داغنا شروع کردیا۔ کسی شخص نے حاجی صاحب تک اطلاع پہنچائی کہ حضور!
آج فیصلہ ہوگیا۔ حافظ ان کے گھر میں بند ہے۔ ضرور مارڈالیں گے، حاجی صاحب اٹھ کر
دروازے تک آئے اور فرمایا، عاشق کو مارڈالنا دل لگی نہیں ہے۔ خدام نے گھبرا کر
کہا، حضور! عاشق ہیں، گھر میں گھس گئے ہوں گے۔ پھر خدام پیاری کے گھر پہنچے اور
حافظ کو نکال کر حاجی صاحب کے پاس لائے ۔ حافظ نے اس وقت پیاری کے ہاتھ کا سلا
ہوا کرتا پہنا ہواتھا۔کرتا جگہ جگہ سے پھٹ گیا تھا اور جسم زخموں سے داغدار تھا
لیکن حافظ کو صرف اس بات کاملال تھا کہ پیاری کے ہاتھ کا سلا ہوا کرتا پھٹ گیا
۔اپنے زخموں کی اسے قطعی پرواہ نہیں تھی۔ حاجی صاحب نے دیکھ کر فرمایا، ظلم کا
نتیجہ اچھا نہیں ہوتا، حافظ کو مارنے سے
کیا حاصل۔
حافظ اسی مجذوبانہ حالت میں زندگی گزارتارہا
ایک روز حاجی وارث علی نے حافظ کو بلایا اورکہا، تم بہرائچ جاؤ اور کل آکر ہم سے
پیتے پور میں ملو۔حافظ اس وقت پیدل بہرائچ پہنچا اور حضرت سید سالار مسعود غازی کے مزار پر بیٹھ گیا۔ بیٹھے بیٹھے غنودگی کی لہر
آئی اور اس نے دیکھا کہ وہ اپنے گاؤں میں مکان پر بیٹھا ہے۔ اتنے میں حاجی وارث
علی تشریف لائے اور فرمایا، حافظ! تم ہماری دعوت کرو تو پیاری تمہیں مل جائے گی۔
گیارہ تاریخ اور دن دوشنبے کا ہونا چاہئے۔اب ہم دیواجارہے ہیں تم بھی ہمارے ساتھ
چلو۔
غنودگی کی اسی کیفیت میں حافظ دیوا پہنچا
اور شاہ منعم صاحب کی درگا ہ میں حاضر ہوا۔ دیکھا کہ مزار کا تعویذ غائب ہے اور
شاہ منعم صاحب بیٹھے ہوئے قرآن مجید کی تلاوت کررہے ہیں۔ حافظ نے ان کا ہاتھ پکڑ
کر پوچھا،
یہ تو فرمائیے ، پیاری مجھے کب ملے
گی؟
شاہ منعم صاحب نے جواب دیا ، چادر
چڑھاؤگے تو ملے گی۔ یہ کہہ کر انہوں نے حافظ کو واپسی کا اشارہ کیا ۔حافظ کی آنکھ
کھل گئی ، دیکھا کہ وہ حضرت سید سالار ؒکے مزار پر بیٹھا ہوا ہے۔
حافظ مزار سے باہر نکلا تو ایک اجنبی
شخص آیا اور تین سو روپے حافظ کے ہاتھ میں پکڑا دیے۔ حافظ دوسرے دن پیتے پور پہنچا
۔حساب لگایا تو پیر کے دن گیارہویں تاریخ آنے والی تھی۔ چنانچہ حاجی صاحب کی خدمت
میں پہنچ کر کہا، گیارہ تاریخ کو پیر کے دن آپ کی دعوت کرنا چاہتا ہوں۔ حاجی صاحب
نے فرمایا، پیر کے بجائے جمعہ کو کردینا۔ حافظ نے کہا، حضور ہی نے پہلے پیر کا دن
مقرر فرمایاتھا۔ مسکرا کر جواب دیا، اچھا یہی سہی ۔
حافظ عبدالکریم دیوا پہنچا اور شاہ
منعم صاحب کے سجادہ نشین سے ملا۔ ان سے عالم رویاء کا تمام واقعہ بتایا۔ حافظ نے
جو شکل و شباہت شاہ منعم صاحب کی دیکھی تھی، سجادہ نشین نے اس کی پوری تصدیق کردی۔۔۔۔۔
گیارہ تاریخ کو صبح دس بجے حافظ نے
حاجی وارث علی کی خدمت میں کھانا پیش کیا۔حاجی صاحبؒ نے پوچھا ، شاہ منعم صاحبؒ
کے مزار پر چادر کب چڑھاؤ گے؟۔حافظ نے کہا، حضور کی دعوت کے بعد وہاں جاؤں گا۔
دعوت کے بعد حافظ شاہ منعم صاحب کے مزار پر حاضر ہوا اور چادر چڑھائی ۔ حاجی
صاحب کی دعوت کرنے اور شاہ منعم صاحب کے مزار پر چادر چڑھانے کے بعد حافظ کو
یقین ہو گیا کہ اب کوئی شخص پیاری کو اس سے نہیں چھین سکتا، اس کے دل کی حالت
ناقابل بیان تھی۔ اس کارواں رواں خوشی سے سرشار تھا۔ صبر کا دامن ہاتھ سے نکلا
جارہا تھا۔ بار بار یہی خیال آرہا تھا کہ اب وقت کا انتظا کرنا فضو ل ہے،گھر میں
جاکر اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے آنا چاہئے۔ یہ خیال اس کے دل میں راسخ
ہوگیا۔وہ کشاں کشاں پیاری کے گھر کی طرف چل پڑا ۔قدم رکھتا کہیں تھا اور پڑتا کہیں
تھا۔ راستے میں حاجی وارث علی کاآستانہ تھا۔ وہاں پہنچ کر اس کے بڑھتے ہوئے قدم
رُک گئے۔ خیال آیا کہ چلو پہلے قدم بوسی کرلیتے ہیں پھر پیاری کے گھر چلتے ہیں۔
دیکھا کہ آستانے کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ حافظ اندر داخل ہوکر حاجی صاحب کے کمرے
میں پہنچ گیا۔
حاجی وارث علی تو دکھائی نہ دئیے
البتہ ایک ایسا منظر اس کا منتظر تھا جو بجلی بن کر اسے کے ہوش وحواس پر گرا۔ حافظ
پتھر کا بت بن کر رہ گیا اور پلکیں جھپکانے کی طاقت تک باقی نہ رہی۔ کیا دیکھتا ہے
کہ وہی معصوم روپ ہے، وہی دلکش انداز ہےوہی رنگ ورعنائی ہے وہی پیاری ہے جس نے اسے
دنیا و مافیہا سے بےخبر کردیا تھا ۔پیاری کانوں میں بجلیاں اور گلے میں چندن ہار
پہنے گلابی دوپٹہ اوڑھے بیٹھی تھی۔ پیاری نے نظریں اُٹھاکر حافظ کی طرف دیکھا، ایک
برق سی حافظ کی نگاہوں کے سامنے کوند گئی۔ حافظ ہوش وحواس کھوبیٹھا اور بےاختیار
سر بسجود ہوگیا۔ چند ثانیوں کے بعد ہوش و حواس بحال ہوئے تو دل چاہا کہ دوبارہ اس
مجسمۂ حسن کو دیکھے ۔ سر جو اٹھایا تو عالم حیرت وتحیر میں ڈوب گیا۔ وہاں نہ
پیاری موجود تھی اور نہ اس کے حسن و جمال کی روشنی بلکہ حاجی وارث علی شاہ بیٹھے
ہوئے تھے۔ بےاختیار اس کی زبان سے نکلا، حضور یہ کیا؟۔فرمایا،
” یہی صورت ہے، اس کے ساتھ تمہارا
حشر ہےاور جہاں کہیں دیکھو گے اسی صورت کو دیکھو گے۔ “
اس مشاہدے اور ان الفاظ میں نہ جانے
کیا جادو تھا کہ حافظ عبدالکریم کے دل کی دنیا زیروزبر ہوگئی۔ ماضی کے تمام جذبات
و خیالات اس طرح ختم ہوگئےجیسے پانی ریت پر بنے نقوش کو مٹادیتا ہے۔ اسے یوں لگا
جیسے وہ خواب دیکھتا رہا ہے اور اب تک کچھ ہوا ہی نہیں ہے۔ اس کی نگاہوں نے حاجی
وارث علی کے اندر ایک ایسا نظارہ دیکھا تھا جس کی حقیقت ومعنویت اس کےقلب پرظاہر
ہوگئی تھی۔
اس منظر کو دیکھنے کے بعد حافظ
عبدالکریم عرف حافظ پیاری صاحب نےکبھی پیاری کے گھر کا رخ نہیں کیا اور نہ کبھی ان
کی زبان سے پیاری کا نام سنا گیا البتہ کبھی کبھی وہ کہتے ، ” مزا ہے پیاری کا اور
سب جھول ہے “ (یعنی بے معانی ہے)۔ جن لوگوں نے راہ عشق میں حافظ پیاری صاحب کی
وارفتگی و شیفتگی اور جذب و جنون کو دیکھا تھا یہ امران کے لئے ہمیشہ باعث صد حیرت
و استعجاب بنا رہا کہ آخر وہ کیا قوت تھی ، وہ کیا راز تھا جس نے ہفتوں مہینوں
سالوں نہیں بلکہ چشم زدن میں ان کو یکسر بدل دیا تھا۔
حافظ عبدالکریم ہمیشہ حاجی وارث علی
شاہ کے والہ و شیدا رہے اور جب حاجی صاحب نے اس دنیا سے انتقال فرمایا تو سال
میں دو مرتبہ خصوصی طور پر حاجی صاحب کے مزار پر چادر چڑھانے جاتے تھے۔ جب چادر
لے کر چلتے تو تن بدن کا ہوش نہیں رہتا تھا۔ دو آدمی ان کو سنبھالتے ہوئے چلتے
تھے۔ بے خودی کے عالم میں ایک بار ایسی حالت طاری ہوئی کہ منہ سے خون جاری
ہوگیااور تمام راستے بہتا رہالیکن ان کو احساس تک نہیں ہوا۔ چادر چڑھانے کے بعد ان
کی حالت مُردے کی سی ہوجاتی، گھنٹوں ہوادی جاتی ، گلاب سونگھایا جاتا تب کہیں جاکر
ہوش و حواس میں آتے تھے۔ واقف اسرارِ عشق حاجی وارث علی شاہ ؒنے حافظ
پیاری صاحب کو حسن ِازلی و جمالِ
لا فانی کا جو جلوہ مثلِ تجلی طُور دکھایاتھا اس نے حافظ پیاری صاحب کو کشش مجازی
سے آزاد اوررنگ و روپ سے بیگانہ کردیا تھا۔