Topics
عشق کا جذبہ سود و زیاں نہیں
دیکھتا۔ یہ عشق کا ہی زمزمہ اور سر مستی ہے جس نے انسانی شعور کو ارتقائی منازل سے
گزارا ہے۔ عشق کی جولانی نے علامہ اقبال ؔ کے کلام کو حیات جاوداں بخشی ہے۔
عشق کیا ہے۔۔؟ بے کلی ، بےقراری
، راحت و انبساط ، حاصل زندگی ، منزل مقصود یا دُکھ اور کرب کا اندھا صحرا۔۔؟؟؟عشق
سکون جان بھی ہے اور حرز جاں بھی!! عشق کا نشہ گہرا ہے خواہ وہ حقیقی ہو یا مجازی،
عشق ازل سے جاری ہے اور ابد تک جاری رہے گا۔ عشق زمزمۂ حیات اور کائنات کا فسوں
ہے اور انسان عشق کا اسیر ہے۔ عشق تو زمین کے ذروں سے آسمان کے تاروں تک پھیلا ہوا
ہے۔ عشق کے دم سے ہی دنیا کی کشش باقی ہے۔
پھر بھی یہ عشق کیا ہے۔۔۔؟ یہ
کیسے ہو جاتا ہے اور انسان کیا سے کیا ہو جاتا ہے۔آخر عشق میں ایسی کونسی تاثیر ہے
جو انسان میں ایک نئی روح پھونک دیتی ہے؟؟؟؟ اور عشق کا مقام کیا ہے؟؟؟ عشق کا رنگ
گہرا کس طرح ہوتا ہے؟؟؟ ان سارے سوالوں کے جواب ہمیں اقبال ؔ کی شاعری میں جا بجا نظر آتے ہیں۔ آج تک ”عشق“
کی جتنی بھی تعریفیں ہوئی ہیں ان میں سب سے جامع اور مستند تعریف اقبال ؔ کی ہے۔
عشق کی گرمی سے ہے معرکۂ کائنات
علم مقام صفات، عشق تماشائے ذات
عشق سکون و ثبات، عشق حیات و ممات
علم ہے پیدا سوال، عشق ہے پنہاں جواب
عشق کے ہیں معجزات، سلطنت و فقر و دیں
عشق کے ادنیٰ غلام، صاحبِ تاج ونگیں
عشق مکان و مکیں، عشق زمان و زمیں
عشق سراپا یقین اور یقین فتحِ باب
ہمارے ہاں اقبال ؔ کے فلسفۂ عشق پر بہت کم بحث ہوئی ہے۔ شاید اس
کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں اقبال ؔ کی
خودی پر ہی تحقیق و تالیف ہوتی رہی جبکہ اقبال ؔ نے خودی کے ساتھ عشق پر زور دیا ہے کیونکہ عشق
کے بغیر انسان ادھورا ہے۔ عشق تو انسان میں خون کی طرح موجزن ہے خواہ وہ عشق حقیقی
ہو یا مجازی۔ عشق کی عظمت اس کی گہرائی میں ہے۔
اقبال ؔ کے ہاں عشق کا مفہوم نہایت وسیع اور گہرا ہے۔ اقبال
ؔ نے عشق کو برتری اور اولیت دی ہے۔ انہوں
نے اپنے کلام میں جا بجا علم اور عشق کا موازنہ، عشق کی بڑائی بیان کی ہے۔ اقبال ؔ
کا کہنا ہے کہ علم کا بھی اپنا ایک مقام
ہے لیکن عشق کا پہلا درجہ ہے۔ عشق افضل ہے ، عشق برتر ہے۔ عشق دل ہے، عمل دماغ
ہے!! اقبال ؔ نے عقل کو عشق سے کم درجہ
دیا ہے ان کے خیال میں عشق کے بغیر عقل کی راہنمائی اور علم کا توسل ممکن نہیں۔
جوں جوں زمانہ ترقی کے مدارج طے کر رہا ہے ۔۔۔ مادیت کی طرف رحجان بڑھ رہا ہے۔
مادہ پرست علم اور عقل کو اولیت دیتے ہیں اور عشق کو ثانوی۔۔۔ جس کے نتیجے میں علم
محدود ،نامکمل اور خام رہتا ہے۔ دوسری جانب عشق کی عدم موجودگی نے موجودہ دنیا کو
جذبوں کی جدت سے دور اور عاری کر دیا ہے۔ خود فریبی ، نفسا نفسی اور بُعد انہی
عوامل کی پیدا وار ہیں۔ علامہ مرحوم نے عقل اور عشق میں امتیاز کیا ہے اور عشق پر
زور دیا ہے۔ اقبال ؔ سے قبل کسی شاعر نے
تصور عشق و عقل پر اتنی عرق ریزی سے کام نہیں کیا اور نہ دونوں کے اس طرح درجات
مقرر کئے۔ اقبال ؔ نے عشق اور عقل کی
انسانی زندگی میں اہمیت کو دو چند کیا ہے۔ عشق و عقل ہی انسانی زندگی کے راستوں کا
تعین کرتے ہیں۔ انہی کے توسط سے زندگی کی راہیں کھلتی ہیں۔
اقبال
ؔ کہتا ہے کہ عقل لاجواب ہے مگر زمان و
مکان کی حدود کی پابند ہے مگرعشق باکمال ہے جو زمان و مکان سے ماورا ہے۔ اسی لئے
عقل کو صرف ”خدا جُو“ اور عشق کو ”خدا نما“ قرار دیاہے۔
عقل نے ایک دن یہ دل سے کہا
بھولے بھٹکے کی رہنما ہوں میں
ہوں زمین پر، گزر فلک پہ میرا
دیکھ تو کس قدر رسا ہوں میں
دل نے سن کر کہا، یہ سب سچ ہے
پر مجھے بھی تو دیکھ، کیا ہوں میں
ہے
تجھے واسطہ مظاہر سے!
اور
باطن سے آشنا ہوں میں
اقبال ؔ عشق کو زندگی کا حاصل سمجھتے ہیں عقل گو انسان
کی بہت سے مقامات پر رہنمائی اور پاسداری کرتی ہے لیکن عشق میں جو جذبہ ٔحرارت تڑپ
، جرأت اور رسائی پائی جاتی ہے۔۔۔ عقل اس سے دور ہے۔ عقل منزل تک پہنچنے کے لئے
سوچتی اور تدبیریں کرتی ہے لیکن عشق سب مرحلوں سے بے چون و چرا گزر جاتا ہے۔۔ عشق
کا جذبہ سود و زیاں نہیں دیکھتا۔ جو شے سوچ
بچار اور فائدے نقصان پر آمادہ کرتی ہے وہ عقل ہے جو منفعت کو پیشِ نظر
رکھتی ہے لیکن عشق صلے سے بھی بیگانہ ہوتا ہے ۔انسان عمل کے لئے قدم اُٹھاتا ہے تو
عقل پاؤں پکڑ لیتی ہے مگر عشق آگ میں بھی پاؤں ڈال دیتا ہے۔ یہ عشق کا ہی زمزمہ
اور سر مستی ہے جس نے انسانی جذبوں کی کہانی اور ارتقاء کی منزلیں سر کیں۔ عشق نے
وہ کام کر دکھایا جو عقل نہ کر سکی۔
بے
خطر کود پڑا آتشِ نمرود میں عشق
عقل
ہے محو تماشائے لبِ بام ابھی
عقل اور عشق کے فرق کو اقبال ؔ نے ایک جگہ اور یوں واضح کیا ہے۔
عشق
فرمودۂ قاصد سے سبک گامِ عمل
عقل
سمجھی ہی نہیں معنیِ پیغام ابھی
غالبؔ کے ہاں عشق کی جو کیفیت ہے وہی رنگ اقبال
ؔ کی شاعری میں اپنی تمام تر شوکت کے ساتھ
جلوہ گر ہے۔۔۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اقبال ؔ کی شاعری نے عشق مجازی سے عشق حقیقی تک کا سفر
طے کیا ہے، زمان و مکان اور کسی بھی بندش سے ماورا ہے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو غالبؔ
کی اردو فارسی شاعری کا سرور دوسری زبان کے لوگ نہ لیتے۔ کسے خبر تھی کہ غالب ؔمرحوم
کے بعد ہندوستان میں پھر کوئی ایسا شخص پیدا ہوگا جو اردو شاعری کے جسم میں نئی
روح پھونک دے گا جس کی بدولت غالبؔ کا بے نظیر تخیل اور نرالا انداز ِ بیان پھر
وجود میں آئے گا۔ غالبؔ اور اقبال ؔ میں
بہت سی باتیں مشترک ہیں خصوصاً عشق میں۔۔۔
اقبال ؔ کی شاعری میں عقل و دانش کا پر تو بھی ہے لیکن
عشق کی جولانی نے دراصل اقبال ؔ کے کلام
کو حیات جاوداں بخش دی ہے۔ ان کے ابتدائی کلام سے ہی اس کا آغاز ہو گیا تھا۔ ”بانگ
درا“ کا بیشتر کلام عشق و محبت کی چاشنی
سے لبریز ہے۔ ابتدا میں اقبال ؔ نے عشق
مجازی سے کام لیا جو عموماً ہر شاعر یا ہر عاشق کے ہاں نظر آتا ہے کہ عشق حقیقی تک
پہنچنے کے لئے عشق مجازی کے مرحلے بھی راستہ آسان کرتے ہیں۔ کیوں کہ جو شخص خدا کے
بندے سے محبت نہیں کر سکتا ۔۔۔ وہ خدا کی محبت کا اہل نہیں۔ عشق کا سفر انسان سے
شروع ہوتا ہے اور خدا پر ختم ہوتا ہے!! عشق کا جذبہ عمیق ہو، سچا ہو تو چاہے وہ
مجازی ہو یا حقیقی ہو۔۔۔ اپنا رنگ دکھاتا ہے اور منزل پاتا ہے، یہ عشق کی انتہا
ہے!
مرد خدا کا عمل، عشق سے صاحب فروغ
عشق ہے اصلِ حیات، موت ہے اس پر حرام
عشق کی تقویم میں، عصرِ رواں کے سوا
اور زمانے بھی ہیں جن کا نہیں کوئی نام
عشق کی طلب بڑھ جائے تو عشق بیکراں ہو جاتا ہے
جیسے اقبال ؔ نے اپنی والدہ مرحومہ کی یاد
میں کرب کے لمحوں سے گزرتے ہوئے کہا تھا کہ:
جوہرِ انساں عدم سے آشنا ہوتا
نہیں
آنکھ سے غائب تو ہوتا ہے فنا ہوتا
نہیں
اقبال ؔ عقل و عشق کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ عقل
کابھی ایک مقام ہے لیکن عقل عشق سے برتر نہیں ۔ جب عشق کے معاملات میں عقل کی
مداخلت ہونے لگے تو عقل کی پسپائی ہوتی ہے لیکن عشق خام ہو تو عقل حاوی آجاتی ہے
اور عقل کے فیصلے صرف مادیت کی راہ دکھاتے ہیں۔ اقبال ؔ کے نزدیک عقل کی کمزوری یہ ہے کہ اس میں جرأت
کی کمی ہے۔ اگر عشق علم کی پشت پناہی اور رہبری نہ کرے تو علم یا عقل منزل مقصود
سے دور رہے۔ یہ عشق ہی ہے جو سود و زیاں سے بے نیاز ہوتا ہے اور عشق کی حرارت سے
بے خطر انسان آگ میں کود جاتا ہے۔ یہ عشق ہی ہے جو آگ کو گلزار اور سمندر کو سبزہ
زار بنا دیتا ہے۔ جو انہونی کو ہونی کر دیتا ہےاور دکھ کو سکھ میں بدل دیتا ہے۔ عشق
کبریائی اور غرور کے بتوں کو پاش پاش کردیتا ہے۔یہ عشق ہی ہے جس کی رسائی آسمانوں
تک ہے۔ لیکن عقل اسباب وعلل کی بھول بھلیوں میں الجھ کر اصلِ حقیقت سے دور رہتی
ہے۔ عشق سے اشیا کا مکمل علم اور صحیح بصیرت حاصل ہوتی ہے۔
گزر
جا عقل سے آگے کہ یہ نور
چراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے
اقبال ؔ کہتے ہیں کہ عشق جوں جوں بڑھتا ہے وجدان اور
معرفت میں اضافہ ہوتا ہے اور جب انسان وجدان کی منزلوں میں پہنچ جاتا ہے تو پھر سب
کچھ اس کا ہو جاتا ہے۔