Topics

رقص ِ ہجراں

 

سرمدؔ غم ِ عشق بوالہوس را نہ دہند

سوزِ دلِ پروانہ مگس را نہ دہند

 تمنائے وصلِ یار اور عاشق کی دیوانگی میں نہ جانے قدرت کے کون سے راز پنہاں ہیں کہ عارفوں نے عشق کو امام بنایا ۔

د عا کرو کہ محبوب مل جائے۔                           

 عامر نے سسکتے ہوئے کہا ۔

میں خاموش رہا ۔بھلا میری کیا مجال تھی جو عشق کے معاملات میں دخل دیتا البتہ دوست کی آنکھوں میں موجزن ہجر کے سمندر نے میرے اندر گدا ز پیدا کر دیا۔

وہ میرے ہاتھ پکڑ کر التجائیہ لہجے میں بولا، تم دعا کرو کہ حاضری ہو جائے۔

میں نے آہ بھرتے ہوئے کہا، دل کی پوچھو تو میں چاہتا ہوں کہ محبوب کے در پر تمہاری حاضری کبھی نہ ہو تمہارا سوز و گداز سداقائم رہے ۔

عامر نے شکوہ بھری نگاہوں سے مجھے دیکھا اور میں نے یہ سوچ کر آنکھیں موند لیں کہ وہ ان آنکھوں میں اُس عکس کو نہ دیکھ لے جسے میں خود سے بھی چھپا کر رکھتا ہوں۔

وصل کس کوکہتے ہیں ؟

 حاضری کی تمنا کیا ہے ؟

محب کو محبوب سے زیادہ قریب کون کرتا ہے ؟

وصل یا فراق ؟

محبوب سے چند ساعتوں کا قرب اہم ہے یا ہرگھڑی محسوس کرنا کہ زندگی محب کی ہو اور بسر محبوب کرے ؟

یہ سوز اور درد ہی ہے جو اُس بندھن میں پرو دیتا ہے جس میں جدائی نہیں۔ دردِ دل اور سوزِ دروں محض چند حرفی الفاظ ہیں۔ ان لفظوں کی کیفیت جس قلب پر وارد ہوتی ہے، وہی بتاسکتا ہے کہ درد کیا ہے اور سوزِ دروں کیا ۔

’’ماہنامہ قلندرشعور‘‘جون 2022ء کا سرورق دیکھ کرایسا لگا کہ عشق کی تمثیل تصویر میں پیش کی گئی ہے۔ گداز بھرے دل سے دیر تک دیکھتا رہا کہ پروانے کیسے دیوانہ وار چراغ پر نثارہو رہے تھے ۔ کتنے ہی جل کر روشنی پر قربان ہوچکے تھے، کچھ اس مرحلے سے گزر رہے تھے اور کتنے ہی جلنے کو تیار تھے۔ اس لمحے دل پر نہ جانے کیا انکشاف ہوا کہ آنکھوں کے کنارے درد کی لہر سے تر ہوگئے۔ اک ہوک سی اٹھی جس نے خون میں شامل ہوکر جسم کو خبر کردی ۔

سرمد غمِ عشق بوالہوس را نہ دہند

 سوزِ دلِ پروانہ مگس را نہ دہند

 

 رباعی نے دل کے تار چھیڑکر وہ سرُاور راگ پیدا کیے کہ میں پروانہ بن کر دیوانہ وار شمع کی جانب بڑھا مگر جل کر راکھ نہیں ہوا اور نہ دھواں اٹھا کہ میرے لئے یہی حکم تھا۔

 نظر چراغ کے دائیں بائیں فنا ہونے والے پروانوں پر تھی۔ ذہن میں تکرار ہونے لگی کہ

 پروانے جل کرراکھ کیوں ہوئے؟

 روشنی سے مل کر روشنی کیوں نہیں بنے؟

 چراغ بن کر کیوں نہ جلے؟

__________

رات کے کسی پہر موبائل فون کی گھنٹی بجی ۔ میں نے نیم بیداری میں فون اٹھایا اور بولا،

 السلام علیکم!

دوسری طرف خاموشی تھی۔

ہیلو! کون ہے ؟

 دور سے سسکیاں سنائی دیں۔ موبائل فون کی اسکرین پر نام دیکھا تو گہرا سانس لیا اور فون دوبارہ کان سے لگا کر خاموشی سے عامرکا درد سنتا رہا،  وہ سسکیاں لے کر رو رہا تھا۔ میں نے کچھ نہ کہا اس کو رونے دیا ۔ کیا کہتا؟ میں محرم ِ راز تھا۔

 رسمی طور پر پوچھا، کیا بات ہے؟ کیوں جاگ رہے ہو، سوتے کیوں نہیں ؟

وہ بولا، نیند کہاں ہے؟

جواب سن کر دل پر ضرب لگی ۔

محب اپنے محبوب کا ذکرسننا چاہتا ہے اور جب کوئی محرم مل جائے تو سوزِ دل زبان سے بیان ہوتا ہے۔ عامر ان لمحوں کے حصار میں تھا جب اس کی ملاقات محبوب سے ہوئی تھی۔ میں اس کی باتیں ہوں ہاں کر کے سنتا رہا۔ بیچ میں ایک دو بول تسلی کے بول لیتا لیکن بقول شاعر،

دوست غمخواری میں میری سعی فرمائیں گے کیا

زخم کے بھرنے تلک ناخن نہ بڑھ جائیں گے کیا

عامر کا بھرم اس کی وضع قطع نے رکھا تھا۔ دیکھ کر کوئی کہہ نہیں سکتا تھا کہ یہ کیسا درد، دل میں بسائے بیٹھا ہے۔ جب افسردگی بڑھ جاتی تو وہ حال ِدل سنانے میرے پاس آجاتا۔ایک طرح سے وہ اپنے عشق کی آزمائش اور میرا امتحان بھی تھا۔ میرا امتحان کیسے؟ یہ آپ کو مضمون پڑھ کر علم ہوگا۔ حیرت مجھے اس بات پرتھی کہ محبوب کے ذکر پر جب خوشی کے لمحات محیط ہونے لگتے تو وہ زخم کریدنا شروع کر دیتا اور پروانے کی طرح آتشِ سوزاں تلاش کرتا تھا کہ جل سکے۔

مجھے لگا کہ عاشق وصل سے زیادہ فراق کو یاد کرتا ہے کہ فراق کے لمحات اسے وصل کے لئے مضطرب رکھتے ہیں۔وہ یادوں کے نام پر دکھ درد کی درجنوں لکڑیاں اکٹھی کرتا ہے اور ان سے اپنی چِتابنا کراس کو آگ لگا دیتا ہے۔

 میں نے پوچھا، جب محبوب تمہارا ہے اور وہ بھی تمہاری محبت کا دم بھرتا ہے پھرکس بات کا دکھ ہے، دل کیوں جلاتے ہو؟ ان لمحات کی چاشنی کو محسوس کرو جو قدرت نے نصیب میں لکھے۔ لوگ تو ایک جھلک کی خاطر عمریں گزار دیتےہیں۔ یہ کیسا عشق ہے جس میں شکوہ ہے ، بےصبری ہے ۔

 

عمرے باید کہ یار آید بہ کنار

 ایں دولتِ سرمد ہمہ کس را نہ دہند

اگر نصیب میں وصل کے لمحات نہ لکھے ہوتے تو تم کیا کر سکتے تھے؟ تمہارے پاس اللہ کا شکر ادا کرنے کے لئے اتنا کچھ ہے کہ راتیں سجدے میں گزار دو حق ادا نہ ہو گا۔

دوسری طرف کچھ دیر خاموشی تھی۔ میں سمجھا کہ لائن کٹ گئی ہے ۔ موبائل اسکرین کی جانب دیکھا تو رابطہ منقطع نہیں ہوا تھا۔

عامر نے مجھ سے کہا، تم سب کو خوش رہنے کی تلقین کرتے ہو اور خود بھی بھنورے کی طرح خوش رہتے ہو۔ پروانے کے دل کا سوز تم کیا جانو؟ جدائی کا ایک ایک لمحہ صدیوں طویل ہے جب کہ وصل کے لمحے اس قدرقلیل ہیں کہ ان کا آناجانا ایک لگتا ہے۔ سانسیں اکھڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اور دل پھٹنے لگتا ہے۔ ہجر کی ساعتیں عذاب ہیں۔

یہ کہا اور لائن کٹ گئی۔

——————

عامر سمجھتا تھا کہ میں ہجر سے نا آشنا ہوں۔

بھنورا ہوں جسے پروانے کے سوز کی خبر نہیں۔

 سوچنے لگا کہ میں کون ہوں؟

 میں پروانہ نہیں ہوں پھر میں کون ہوں؟

 عامر کی بات درست لگی کہ میں بھنورا ہوں ۔

——————

اب میری روداد پڑھئے۔

جب کبھی مرشد سے ملاقات ہوتی، آنسوؤں کی نذر ہوجاتی ۔ سر جھکائے خودکو چھپاتا رہتا۔ہجر کا دکھ میرے اندربھی ہے جو اپنا ا ظہار چاہتا ہے لیکن میں اسے تھپکیاں دے کر سلادیتا ہوں ۔ اک بے کلی ہے جو نہ جانے مجھے کہاں کہاں پہنچا دیتی ہے ۔ کوئی پل ایسا نہیں کہ چین نصیب ہو۔کسی کو بتا نہیں سکتا کہ محبت مجھے بھی ہے اور وصل کی آرزو میں شمع کی طرح بہہ رہا ہوں ۔

میں مثل ِ پروانہ مرشد کے آستانے پر جلنے جاتا تھا لیکن ایک حجاب تھا جو الفاظ کو زبان پر آنے سے روک دیتا تھا۔ کچھ کہے بغیر، حالِ دل سنائے بغیر آستانے سے تشنگی کو دو آتشہ بنا کر رخصت ہوجاتا ۔ہمیشہ کی طرح ضبط کے ان مراحل سے گزرتا جہاں آنسو آنکھوں کے رستے باہر نہیں آتے اندر بہہ جاتے ہیں۔

ایک دن رم جھم رم جھم ایسی برسات ہوئی کہ ضبط کے بندھن ٹوٹ گئے۔ جب آنسو گرتے ہیں تو کیا محبوب خوش ہوتا ہے؟ جواب فوراً مل گیا۔ مجھے تکلیف میں دیکھ کر ان کے چہرے پر بھی تکلیف کی لہریں تھیں۔

انہوں نے فرمایا خوش رہا کرو ۔

ایسا لگا کہ میں نے انہیں دکھ دے دیا ہے۔ عشق کے رموز فہم سے باہر ہیںعشق نے سمجھایا کہ تمہیں خوش رہنا ہے۔ اور میں نے اپنا حال کسی پر ظاہر کرنے کا خیال دل سے نکال دیا۔ میں بھنورا ہوں یا کچھ اور،نہیں جانتا ۔ بھنورے کا کام چمن کی خوب صورتی کو نہارنا ہے، ہر کلی، ہر پھول یہاں تک کہ ہر کانٹے میں محبوب کو دیکھ کر اس کے گرد دیوانہ وار رقص کرنا ہے ۔

 

چمن میں وہ ہے تو پھر پھولوں میں کون ہے؟

پھولوں میں وہ ہے تو خوش بو میں کون ہے؟

 خوش بو میں وہ ہے تو نزاکت کس کی ہے؟

نزاکت میں وہ ہے تو رنگوں میں کون ہے؟

بدلتے رنگوں میں وہ ہے تو چمن میں کون ہے؟

 بھنورا چمن چمن گھومتا ہے مجاز کی بھول بھلیوّں سے آزاد شےمیں یک رنگی دیکھتا ہے اور محبوب کو خود سے دور نہیں سمجھتا ۔

حکماً تو کسی کا گنگنانا بھی نہیں جائز۔۔یہ بھنورا کیوں بھلا پھر چپ نہیں رہتا

میں وہ بھنورا ہوں جسے اپنے ہونے نہ ہونے کی خبر نہیں۔محبوب کی نظر ِعنایت جس چمن میں لے جاتی ہے، میں وہاں خود کو موجود پاتا ہوں ۔

عامر ٹھیک کہتا ہے کہ ہجر کا عذاب تم کیا جانو۔ میں نے کبھی اس پر حال ظاہر نہیں کیا۔ میرے جذبات محبوب کی امانت ہیں، ان کی خبر کسی کو کیوں ہو؟ جب سے خوش رہنے کا حکم ملا ہے، میں وصل کے لمحات میں زندہ رہتا ہوں، پروانے کے دل کا سوز کیا جانوں! یہ سوچتے ہوئے میں زار و قطار رو پڑا۔ جب میں تھک جاتا ہوں تو محبوب کا تصور آغوش میں لے کر لوری سناتا ہے ایسی میٹھی نیند پر ہزاروں رت جگے قربان !

ہر حال میں بس پیش نظر ہے وہی صورت

میں نے کبھی روئے شب ِہجراں نہیں دیکھا

  اندر میں گم فراق اور وصل کے معانی تلاش کررہا تھا۔ ’’ماہنامہ قلندر شعور‘‘ کا سرورق ہنوز سامنے تھا جس میں چراغ کی لَو کے گرد پروانوں کا رقص ِ بسمل جاری تھا کہ نظر چراغ پر ٹھہری ۔

 خیال آیا کہ پروانے تو پروانے، چراغ بھی جل رہا ہے ۔ غور سے دیکھا تو اس کے دھاگے پر آگ لگی تھی۔ دھاگا جو اس کی لائف اسٹریم ہے، اس قدر خاموشی سے جل رہا تھا کہ کوئی اس پر نوحہ کناں نہیں ۔ یہ کون ہے اتنا باظرف کہ جلتا رہے اور حرفِ شکایت بھی لب پر نہ ہو؟ دونوں جل رہے تھے مگر ایک خاموشی سے جب کہ دوسرے کی بے قراری کے دنیا میں چرچے تھے۔ ایک کی زندگی جل کر روشن ہورہی تھی جب کہ دوسرے کی بجھ رہی تھی۔ ایک سے قرب کی چند ساعتیں برداشت نہیں ہوتیں جب کہ دوسرا جلتا رہتا ہے ۔

 آگہی کے لمحات نے منکشف کیا کہ چراغ بھی خود سے نہیں جلتا۔ تیل کے جلنے سے جلتا ہے۔ آخر تیل کیا ہے؟ تیل میں کیسی کشش ہے کہ ہر پروانہ نثار ہونے کی تمنا رکھتا ہے؟ یہ کیسی کشش ہے جو پروانے کو فنا کردیتی ہے مگر خود کو چھپانے کے لئے روشن پردے میں رہتی ہے۔

میں نے کرسی سے پشت لگا کر آنکھیں موند لیں ۔ تخیل میں دیکھا کہ چراغ کے اندر تیل میں دیا سلائی ایسی بھیگی ہوئی ہے کہ نہ تیل الگ ہے نہ دیا اور سلائی۔ تینوں ایک ہو گئے ہیں ۔ اس لمحے تصور میں اپنے محبوب کا چہرہ روشن ہوا اور میرے چہرے پر آسودگی پھیل گئی کہ انہوں نے مجھے ہجر میں وصل کو زندہ رکھنا سکھایا۔

عشق الہامی جذبہ ہے جو فرد کو نفی اثبات اور پھر نفی سکھاتا ہے۔ یہ چراغ میں اس تیل کی مانند ہے جو کسی نفس میں حلول کرتا ہے تو اپنی نفی اورمحبوب کا اثبات ہوتا ہے۔ نفی کی شدت بڑھتی ہے، اثبات کا غلبہ ہوجاتا ہے اور پھر یہ بھی ہوتا ہے کہ ہونا نہ ہونا بے معنی ہوجاتا ہے۔

چراغ لَوتیل روشنی اور پروانے نے مجھ پر وہ راز افشا کئے کہ قلم لکھنے سے قاصر ہے۔

جب تک کوئی اپنی نفی کر کے وصل میں نہیں ڈوبتا، وہ روشن ہونے اور روشن کرنے کی اہلیت سے محروم رہتا ہے۔روشن ہونے کی دیا سلائی سوز ِ جگر ہے۔ لوگ اسے تکلیف سمجھتے ہیں جب کہ میں اسے محبوب کی یاد کے تار جو مجھے ہر لمحہ خود سے باندھ کر رکھتے ہیں۔ میں بھی یاد میں جلتا ہوں مگر خوش رہتا ہوں کہ محبوب کی جانب سے میرے لئے خوش رہنے کا حکم ہے۔

محبوب نے اپنی محفل میں شامل کیا تو سکھایا،

’’یاد رکھیں شمع پہلے خود جلتی ہے اور جب وہ اپنی زندگی کا اک اک لمحہ آگ میں جلا کر خود کو فنا کر دیتی ہے تواس ایثار پر پروانے شمع پرنثار ہوجاتے ہیں ۔‘‘