Topics

سمٹنا اور پھیلنا


حُب حُب حُب ۔ فَاحببتُ اَن اُعرَفَ۔ شدت حُب میں اپنا عرفان بے نام بے نشان، کنز مخفی،بے چون ، بے چگون، محجوب، ملفوف ، مرکوز ب کا نقطہ ھُوَ۔ وہ۔ واحدہ، لَا اِلٰہَ الّا ھُو۔ مگرنورِ سیاہ سے آفتاب نکلنے کے لئے مضطرب۔ نافۂ ذات اپنی خوشبوؤں میں پھٹ پڑنے کے لئے بے تاب۔ حُسن ازلی اپنی رونمائی کے لئے بے چین۔ ایک شدت ظہور کُن میں ذات نے لباس ِتعینات میں ظہور کیا۔ خَلَقتُ الخَلق کو عشق کی برق تجلی سے منور کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ اوّل  ماخلق اللہُ نُورِی ۔ اوّل اللہ نے میرا نور پیدا کیا۔ اسی نور سے تخلیق عالم ہوئی۔ اب خفا نے غیب میں ، شہادت نے شہود میں، باطن نے ظاہر میں رونمائی کی۔ حقیقت ِاحد ، ظہور نورِ احمد صلی اللہ علیہ وسلم  بنی۔ حقیقت ِ محمد رسول اللہ ؐ عینیت لَااِلٰہَ اِلّاَ اللہ ہوئی۔ نور محمدی ؐ نے وحدۃ الوجود کی شان میں جلوہ گری کی۔ وَسِعَ کُلَّ شَی ءکے پیرایہ میں ذات کا پھیلاؤ ہوا۔ ذات کے رموز اسماء و صفات میں نکھرے۔ ب کا نقطہ پھیل کر بسم اللہ بنا۔ اِقرَاءُ بِسمِ رَبِّکَ۔ قرآن قلب پر نازل ہوا۔ حقیقت ِ محمدی ؐ وجود پر جاری و ساری و طاری ہوئی۔ سفلی نے علوی کو، وجود نے نور کو سمو لیا۔ پہاڑ کو رائی نگل گئی۔ عَرَفَ نَفسہ فَقَدعَرَفَ رَبَّہ ۔ اپنی پہچان ہی رب کی پہچان ہے۔ ھوالظاہر ھو الباطن۔ حقیقت محمدیؐ کو سموئے بغیر، ذات کا عرفان کیسے ہو۔ باطن میں اسی حق کی جلوہ فشانی ، یہ حُب ، یہ عشق ، یہ تڑپ، یہ شوقِ نمود ، یہ آنا، وہی موج اوّل ہے۔ ھُوَالاَوّلُ ھُوَالاٰخِر۔ جب تک ذات میں نہ سمٹے صفات میں کیسے پھیلے۔ جب تک رائی پہاڑ کو نہ نگل لے، کیا اگل سکتی ہے۔ شاہ نیاز نے فرمایا،

نگل گئی پربت کو رائی دیکھو جی اب  اُگلے  ہے

نیاؔز کے پردے میں خدائی دیکھو جی اب نکلے ہے

اس حالتِ وحدۃ الوجود میں جیسے خدائی اس کھو کھلے وجود سے بہہ رہی ہوتی ہے اور یہ خود اَنَا دَھرُ کی کیفیت میں مست ہوتا ہے۔ اس کیفیت میں البتہ عاجزی ہوتی ہے۔ سرپائے ساقی پر ہوتا ہے۔ محبوب ہی کی جلوہ آرائی اس کائنات میں نظر آتی ہے۔ یہ عبد کا مقام ہے۔ میں فانی تو باقی ۔ نہ کوئی دوئی ، نہ وہم ، نہ شرک ، نہ انانیت، عشق اس وجود میں چھلک اُٹھتا ہے۔

اس کیفیت میں اپنا شعور ، عکس ہی تو ہوتا ہے اس حقیقت کا جو جاری و ساری ہے۔ جب عکس سے نظر ہٹ کر اصل پر آجائے ، کُل کا شعور آجاتا ہے۔ بت پرستی اور وجود کے شرک سے آزاد ہو جاتا ہے۔ مجردات کے ہم کنار ہو کر اب کہیں یہ وہم دور ہوتا ہے کہ میں خود ایک منفرد چیز ہوں۔ جب کُل نظریہ اپنا کر کُل ہو جائے، تب صحیح معنوں میں تجرید حاصل ہوتی ہے۔ اب کہیں موحد بھی ہوئے اور رحمت و برکت کے دروازے کھلے۔ اب کہیں رحمت عالم کے انوار میں آئے۔ برکت کے دروازے کھلنے کی نشانی یہ پائی کہ ایسے معصوم ہوگئے کہ جو قدم اُٹھایا دوسرے اس پر چلنے لگے۔ بالکل اسی طرح جیسے نوجوان لڑکوں کی ٹولیاں بے حیل و حجت ایک دوسرے کے ساتھ چلنے لگتی ہیں۔ جمعیت میں یہ رنگ ، رحمت کے تجریدی انواروں میں ملتا ہے ۔ 

اب جمعیت کے معنوں میں ہر فرد اپنی انفرادیت سے پھیلا ہوا فرد ہوتا ہے۔ اب کہیں جانِ من جانِ عالم کے مصداق ہوئی۔ اپنی انفرادیت کا پھیلاؤ ایک تلوار کی دھار والی زندگی ہوئی جو میان سے باہر نکل آئے۔ کیونکہ جو میان میں پناہ لے کر بیٹھ جائے ، سمٹ جائے، وہ بھی کوئی زندگی ہوئی ۔ سمٹنا ہو تو ایسا مرد بنے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں جگہ ملے۔ یہاں زندگی کے سر چشمے ہیں۔ یہاں فقرِ غیور اور عشق و ایمان ایک کوندنے والی بجلی کی طرح ہوتا ہے۔ یہاں عاجزی، صبرِ و استقامت میں اپنی خودی کو اپنا لیا جاتا ہے۔ یہ فقر غیور اب کائنات میں پھیلتا ہے، انفرادیت کے جنجالوں سے نکل کر جمعیت کے رنگ میں اس عالم میں جلوہ آرا ہوتا ہے۔ اور اس طرح ذات میں سمٹا بھی اور جمعیت کے رنگ میں پھیلا بھی۔ ان دونوں کیفیات یعنی سمٹنے اور پھیلنے میں حیات ہے، دوام ہے۔ گویا سمٹنے کی شدت ہی ہوتی ہے جو پھیلنے کی محرک باطنی قوت بنتی ہے ۔ یوں صرف توحید کو لے کر سمٹنا ناکافی ہے۔

 منصور حلاج بھی صرف توحید کو لے کر سمٹے یعنی صرف آدھا کلمہ لَااِلٰہَ الَّا اللہ لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عینیت محمد رسول اللہ ؐ اور اصل سنت کو لے کر نہیں سمٹے۔ یہ سنت اُمتی اُمتی تھی جو معراج میں اپنی خودی کی تڑپ بنی رہی اور واپس آ کر جس کے ذریعہ شرعی زندگی کا اجراء ہوا۔ کلمہ کا یہ دوسرا حصہ محمد رسول اللہؐ ہی نشانی ہے ذات میں سمٹ کر پھیلنے کی۔ کلمہ کی پوری توحید کو اپنا کر سمٹے اور پھیلے تب کہیں وہ سادہ لوح بدو بن سکتا ہے جو قیصر و کسریٰ کے قالین اپنے نیزوں سے ہٹا پھینک کر خدا کے فرش پر بیٹھ کر متوکل ہو جاتے تھے۔ یہ بے نیازی اور سادگی ان کے حق الیقین کی نشانی تھی ، ان سادہ مزاجوں کی زندگیوں میں ملت اسلامیہ کے ہر اونچ نیچ ، نفسا نفسی کو ختم کر کے، اجتماعیت کے رشتے میں مضبوط بن کر، محبت کے میدان میں اُبھر رہی تھی۔

بغیر نسبتِ محمدیؐ صرف توحید کو لیں۔ جو دوسرے مذاہب والے بھی کوشش کرتے ہیں۔ تو رب العالمین تو نہ سمٹے ہیں نہ پھیلے ہیں۔ الانَ کما کان۔ ایسی خشک توحید سے کیا حاصل۔ یہ افیون کا سا نشہ ، بے فیض بے مقصد زندگی کی شدتوں کو بھی پھیکا کر دینے والا۔ اسی لئے بزرگان دین نے فرمایا کہ خلقت کو چھوڑا تو خالق کو چھوڑا ۔مقصد حیاتِ مسلم صرف خالق کی حمد وثناء میں محو ہو کر رہ جانا نہیں ہے  بلکہ اس ایمان اور محبوبیت کی خوشبو کو عملی زندگی کے پہلوؤں میں خلقت میں پھیلانا ہے۔ اسی کیفیت کو نصیب کرانے کے لئے قرآن کریم نے یَتَفَکَّرُون کی جانب توجہ دلائی ہے۔ یہ وہ حالت ہے کہ دل، دماغ عشق ، عقل ایک ہی یکتائی میں یک رُخی میں ہوتے ہیں۔ یہ وہ یکتائی ہے جو کائنات وجود میں ، نور عشق کی توحید، انوار محمدی کی صورت میں گامزن ہے ۔ یہ کیفیت اس استغراق سے بالکل جدا ہے جس کے ذریعہ کچھ آگہی نصیب ہو جاتی ہے ۔ اسماء اور روح اعظم سے بھی رابطہ ہو جاتا ہے۔یَتَفَکَّرُون کے پیچھے تو   ترغیب ہے کائنات میں پھیلنے کی۔ اپنے وجود سے صعود کرنے کی، محبوبیت کے انوار میں شدتیں حاصل کرنے کی،حقیقت محمدیؐ  تک رسائی کی جو وَسِعَ کُلَّ شی ہے۔ یہ مقام جبروت ہے، مقامِ رحمت ہے، مقام محبوبیت ہے۔ اس محبوبیت کے طفیل یہ مقام امر ہے، عالم کن کی بات ہے۔ محبوبیت میں ایک نظر کی بات ہے۔ یہ نظر پیدا ہوتی ہےتصور سے جو ذکر سے آگے کی بات ہے۔ تصور میں آگئے محبوب آنکھوں میں بسا ہے۔ جس کو دیکھا محبوب کی صورت نظر آئی۔ دوئی اور غیریت نہ رہی۔ اب یہ نظر جس پر بھی پڑ گئی کام کر گئی۔ یہ نظر ہی یَنظرُ بِنُورِ اللہِ ہے، یہ محبت کے سمندر کی موج ہے جو سب کو ہی بھگوتی ہوئی گزر جاتی ہے ۔ اپنا ہو ، اجنبی ہو، کوئی تفرقہ نہیں۔ اس لئے  کیا عبارت، کیا اشارت، کیا نظر کیا کلام۔ یہ ایک ہی کے بس کی بات ہے کہ مجسمہ محبت و رحمت ہو ،بحرِ علم و عرفان ہو، یہ ازلی چیز ہے، اپنے بس کی بھی بات نہیں۔ ان انوار میں کلام قلب پر نازل ہوتا ہے۔البتہ کلام کی حقیقت اسی وقت بنتا ہےجب بحرِ حقیقت انوار محمدیؐ سے رابطہ ہو، محبوب سامنے ہو، اور عاجزی اور توکل کی کیفیت ہو تو تختیاں بھی اترتی ہیں، آیات بھی قلوب پر نازل     ہوتی ہیں۔

 پھر جیسے ایک بجلی سی کوند گئی۔ اب یہ حال ہوتا ہے کہ جو اندر ہے وہی باہر اور اس کی تائید قرآن مجید سے ہوتی جاتی ہے۔ اس کیفیت میں قرآن کریم کو سمیٹو تو نافۂ ذات کی طرح بائے بسم اللہ کے نقطے میں مرکوز ہو کے رہ جاتا ہے۔ قطرہ میں دریا ، آنکھ کے تل میں کائنات۔قرآن کو پھیلاؤ تو کس کی بساط جو اس کی معنویت کو پھیلا سکے۔ یہ تو ہزار عالمین ، زمان و مکان کی حدود سے صعود کر جانا ہے۔ جیسے خوشبوئے دوست ، عکس رخسار، سرِّ کُن ظہور فیکون۔ اس سمٹنے پھیلنے کے درمیان برزخ محمد رسول اللہؐ ہے۔ اس برزخ حقیقت محمدیؐ کی تجلی تب ہی ہے جب آئینہ ملے۔ قلب مجلی آئینہ کے مقابل آئینہ ۔ ایک ہی عکس رخسار، وجود سے ماوراء ۔ نظارے اور نظر کی یکتائی۔ نہ دوئی، نہ غیریت اب کہیں اپنے باطن کا عرفان ہوتا ہے۔ عَرَفَ نَفسہُ کی تجلی ہوتی ہے۔اب کہیں ناسوت سے علیٰحدہ ہوئے، جبروت میں پہنچے۔

 یہ عَرَفَ نَفسہُ نفس کے عرفان تک کی بات رہی تو نسخۂ ولایت ضرور ہے۔ اپنے مقام تک پہنچا دیتا ہے، ایک جذب ایک گم شدگی پیدا کر دیتا ہے۔ مگر غور سے سوچیں کہ اللہ نے ہمیں کیوں پیدا کیاہے۔ تو معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے اندر ایک فطری تڑپ ہے، پھیلنے کی جو دراصل ظل ہے اسی حق کی خود نمائی کا۔ یہ پھیلنے کی بات ایسی ہے جیسے کہ شاعر کو بغیر کلام سنائے چین نہیں پڑتا یا پھر ایک معصومیت کے انداز میں پھول ، کہ خوشبو خود بخود پھیلتی ہے۔ ہر متلاشی حق کو، حقیقت کا نقطہ پا لینے کے بعد یہ تڑپ ضرور ہوتی ہے کہ جب تک اَلَم نَشرَح نہ ہو زندگی تو مکمل ہو جاتی ہے مگر حیات کی تکمیل نہیں ہوتی۔

پھیلنے کے بھی دو پہلو ہیں۔ ایک تفریدی ، ایک تجریدی ، طریقت کا راستہ تفریدی ہے اور حقیقت کا تجریدی۔ تفریدی پہلو میں اپنا وجود جاذبِ خلائق ہوتا ہے اور فرد سے فرد کو فیض یا روشنی ملتی جاتی ہے۔ بتّی سے بتّی جلتی جاتی ہے۔ اس تفریدی پہلو میں بھی پھیلنے سے سمٹنا ہے۔ مادی زندگی کو بجائے پھیلانے کے سمیٹنا ہر غیر اللہ کی لَا ۔ اپنے نفس اپنے وجود کی بھی لَا ۔ اس لئے یہ فنا، یہ مُو تُو ا قَبلَ اَن تَمُو تُوا۔ جس معنی میں بھی اور جس سطح پر بھی لو، صرف سمٹنے کا راستہ ہے۔ یہ مُردارکیفیت نہیں ہے بلکہ یہ بھی ایک مرد ہی کا کام ہے۔ ایک عاشق ہی کے بس کی بات ہے کہ سرِّخفا ، کنزِ مخفی سے روشناسی کے بعد بھی سر محبوب کے قدموں میں ہو۔ میں فانی تو باقی ۔ محبوب میں بقا۔ پھر اسی کیف ، اسی خوشبو میں پھیلنا، یہ اپنے نافۂ ذات کی خوشبو ہے جو درحقیقت اسی حق کی اپنےاندر تجلی ہے، جب تک عالم جبروت سے بارانِ رحمت نہ ہو۔ کس کی مجال کس کے بس کی بات کہ پھیلے۔ اس تفریدی راستے میں، بظاہر کتنا ہی عجز ہو۔ کہیں نہ کہیں ”میں “ ضرور شامل ہوتا ہے، اس کیفیتِ خود آگہی ، عَرَفَ نَفسہ میں سر پائے یار پر رہنا آسان بات نہیں۔ امام غزالی ؒ نے بھی اس کی تنبیہ کی ہے۔ یہ اَنَا ہوتی تو بڑی زبردست ہے کہ کسی معمولی بات پر کسی فقیر کی تیوری پر بل آئے تو بیڑہ ہی غرق ہو جاتا ہے، البتہ انفرادی خدمت کے مواقع بھی بہت ہوتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ لوگ کچھوے کی طرح اپنی ضرورت پوری کرنے کے بعد اپنے خول میں واپس ہو جاتے ہیں، مشکل سے ہی اپنے پر ہاتھ رکھنے دیتے ہیں۔ اور مرد میدان وہ ہوتے ہیں جن کی طاقت اپنی ریڑھ کی ہڈی یعنی باطن میں ہوتی ہے۔ یہ خلقت کے کام آتے ہیں۔ کم از کم انسان تفریدی راستے میں بھی اتنا تو ہو کہ پھیل سکے، دوسروں کے کام آسکے۔

تجرید میں تفرید کے بالمقابل نہ کوئی تیوری نہ کوئی بل، یہاں انفرادیت کا تو کوئی سوال ہی نہیں۔ ایک عالمی غم ہوتا ہے۔ نہ معلوم کیوں آنسو آتے ہیں۔ اگر اپنے آپ سے بھی پوچھیئے کہ کیا غم ہے تو کچھ پتہ نہیں چلتا کیونکہ یہ شعور سے بالا تر بات ہے ۔ یہ نا معلوم بے معنی سے آنسو درحقیقت عالمِ جبروت کی بارش ہوتی ہے۔ جہاں محبت ہی محبت ، رحمت ہی رحمت ہے نسبت محمدیؐ ہے۔

اس عالم ِ رحمت میں اِک ہوا سی چلتی ہے جس کو زمانہ اپنا لیتا ہے۔ اب رہا یہ کہ کیا یہ کیفیت اپنے بس کی بات ہے تو ہاں جب یہ لفظ اپنا تختی سے مٹ جائے تو اپنے بس کی بات ہے کیونکہ اب محبوب سے کوئی دوئی نہیں۔ جامع اور مکمل انسان وہی ہوا جو باطن میں سمٹا ہوا اور ظاہر میں پھیلا ہوا ہو۔ فطرت کے لیل و نہار کے ساتھ ہم آہنگی یہی ہے کہ دن دنیا کا، رات یارکی، دن میں طریقت کو اپنایا۔ رات کو حقیقت کے سمندر میں غوطے لگائے۔ کوئی موتی ملا نہ ملا، اپنا مقدر ہے۔

سائنس کے نقطہ ٔنظر سے اس سکڑنے پھیلنے کو دیکھیں تو جو زندگی ہے یا ارتقا ہے۔ اس میں بقا کے دو پہلو ہیں۔ ایک اپنی جان کی حفاظت ،دوسرے اس کی نشو ونما اور تسلسل کی پیہم کوشش، اس کے لئے تحت الشعور اور جبلتوں میں بقا کی وہ وہ قوتیں چھپی ہیں کہ انسان حیرت میں رہ جاتا ہے۔ مگر فرد تو ایک نقطہ ہے، نقطہ ہی سے لکیر بنتی ہے۔ اس طرح فرد کی اہمیت بقائے دوام کے اعتبار سے ہی ادنیٰ سہی مگر وہ ایک اہم کڑی ہےتسلسل ِنسل کی۔ اس سے ایک قدم آگے یا پیچھے جائیں تو یہ جو کائنات کا ارتقا ہوا ہے ،اس میں ستارے جو بنے وہ ایک عالمی غبار تھا جو سمٹتے سمٹتے مختلف سورجوں یا ستاروں میں تبدیل ہوا۔ بعض صورتوں میں یہ عالمی غبار سمٹتے سمٹتے اپنی کششِ ثقل سے اتنا ٹھوس بنتا چلا جاتا ہے کہ خود اپنی بے پناہ قوتِ ثقل سے کچلا جاتا ہے اور ایک دم پھٹتا ہے۔ پھر اس سے نظامِ سیارگان اس ستارے کے ارد گرد وجود میں آتا ہے، اسی طرح مَن عَرَفَ نَفسہ جب سمٹتے سمٹتے اپنی باطنی قوت کی شدت اپنے اندر جذب کرنے کی حد سے گزر جاتا ہے تو پھٹتا ہے اور اس کے گرد بھی نظامِ سیارگان کی طرح اس کے کئی بچے کائنات میں پھیل جاتے ہیں۔ اس نظریےکے تحت دیکھا جائے تو سمٹے بغیر اور شدتیں حاصل کئے بغیر پھیلنا کیسے۔ مگر کیا چیز سمٹے، کیا پھیلے، عَرَفَ نَفسہ جو سمٹ گیا، جس نے کائنات کو حق کو سمیٹ لیا، پھر وہی حق پھیلتا ہے۔ 

فرد ہے کہاں، غیر حق کی گنجائش کہاں۔ تو گویا سمٹنے کی حالت میں سب کچھ فنا۔ بس ایک محویت ذات ہے جسے خدا کہہ لو اور پھیلنے کی حالت میں خدائی ، تخلیق کائنات بھی اسی طرح ہوئی کہ سمٹی ہوئی ذات صفات میں پھیلی۔ سمٹنے میں حب کی بے پناہ قوت ، کُن کی قوت ہو کر پھیلی۔ غارِ حرا سمٹنے کا دور تھا، کوہ فاران پھیلنے کی نشانی۔ اُمّی ہونا، شدتوں میں سمٹنا اور قرآن،شدت کُن میں پھیلاؤ ہے۔لیلۃ القدر سمٹنا ہے۔ مطلع الفجر      ان انوار کا پھیلنا ہے۔ یہ مطلع الفجر ہی خلقت کے کام کی چیز ہے۔ اکثر طالبانِ حق کی سحر مطلع الفجر، وجود سے چھٹکارے کے بعد ہوتی ہے۔ خواہ جیتے جی یا مرنے کے بعد، اسی لئے یہ اس وقت گمنام ہوتے ہیں، نہ کوئی جانتا ہے نہ پہچانتا ہے۔ البتہ صبح وصال کے بعد پھر کہیں وہ پھیلتے ہیں، ظاہر ہوتے ہیں ، خلقت کے کام آتےہیں۔ 

معراج کے واقعہ کو لیا جائے تو معراج کا ایک پہلو سمٹنا ہے اور واپس خلقت میں آنا پھیلنا ہے۔ یہ معراج سے واپس لوٹ آنا کمالِ انسانیت ہے۔ شانِ رحمت کا ظہور ، نزول ہی میں ممکن تھا، عروج میں نہیں۔ اس لئے یہ معراج سے واپسی احسان ہے انسانیت پر اُدھر اللہ سے واصل ادھر مخلوق میں شامل۔ اس طرح ذات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حقیقت محمدی ایک سورج کی طرح سمٹی ہوئی بھی ہے اور دھوپ کی طرح پھیلی ہوئی بھی۔ تو یہ بڑا دھوکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وجود میں آئے، وصال ہوا،اور پردہ فرما گئے۔ نور محمدی ؐ تو ہمیشہ سے تھا ہمیشہ رہے گا۔ ایسا سمجھیں کہ و سِعَ کُر سِیہُ السمٰوٰت ذات ایک وجود کے آئینہ میں کچھ دیر کے لئے نظر آگئی۔ آئینہ ہٹا دیجئےتو جو ہمیشہ تھا وہ ہمیشہ ہے۔ 

اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ سکڑنے کے بغیر پھیلنا کیسے ہو۔ تفرید کے بغیر تجرید کیسے ہو۔ افلاطون کا کہنا ہے کہ پہلے خیال آتا ہے پھر وجود آتا ہے اس لئے پہلے تجرید پھر تفرید۔ اس نظریےکے تحت یہ کائنات پہلے پھیلے گی، پھر ایک حد کے بعد سکڑنا شروع ہو جائے گی۔ یہی کچھ ارتقائے حیوانی میں ہوگا پہلے پھیلنا ، پھر سمٹنا معنی خیز بات ضرور ہے۔ ابتدائے آفرینش سے لیا جائے تو ہر ذرہ ٔ   کائنات کی ابتداء اس کی حیات اور بالآخر اس کا انجام اِنَا لِلِّہ وَ اِنَّا اِلَیہ راجِعون ہے۔ پہلے چُھپا خزانہ، پھر اس خزانے کا اظہار ، پھر اس کا اپنے اصل کی طرف رجوع۔ یہی کچھ زندگی کی تمام منازلِ ظہور ، ارتقا اور اختتام میں نظر آرہا ہے، یہ سمٹنا پھیلنا ، ایک لازم و ملزوم سی صفت ہے۔ ایک سلسلہ ٔجاریہ ہے ۔ اِدھر ڈوبے اُدھر نکلے۔ ہر روز نئی آن نئی شان کُلَّ یَوم ھُوَفِی شَان۔ تفریدی اور تجریدی دونوں حالتوں میں یہ سکڑنا پھیلنا، حق کے نمود کی ایک شان ظہور بنا ہوا ہے ۔ کُلُّ مَن عَلَیھَا فَانٍ وَّ یَبقٰی وجہُ رَبِّکَ ذُوالجَلَالِ وَالاِکرَام۔     ہرلاالٰہ کی فنا ، وَجہُ ربّک کی بقا اس وجہ ربّک کی آئینہ داری جب قلب میں ہو تو کائنات کا ذرّہ ذرّہ اس تفرید، اس آئینہ کی آئینہ داری کرتا ہے۔

تجرید باطن کی بات ہے۔یہاں محبوب جلوہ افروز ہے۔ وہ عالم ِ شوق کی وارفتگی ، وہ عشق کی جنوں سامانیاں ایک کیفیت وصال دائم، ہوش کا یہاں دخل کہاں، نہ آرزو ہے، نہ تمنا ہے نہ خواہش ، بس طلب ہے تو محبوب کی۔ تصور ہے تو پائے ناز کا، دیدار کی تمنا بھی بے ادبی ہے۔ یہ برزخ محمدیؐ ہے۔ مقام جبروت ہے۔ پہلے ناسوت اور جبروت یعنی حقیقتِ محمدیؐ کے درمیان ، شیخ کی صورت برزخ تھی۔ اب محبوب ازلی کی طلب میں نئی حیات ہے۔ فیض و کرم مُوتوا قَبَلَ اَن تَمُو تُوا نصیب ہو چکا ہے۔ اپنا سب کچھ ختم، نہ دماغ نہ ارادہ، نہ نفس نہ قلب ، نہ وجود نہ جان۔ یہ اپنے میں موت، محبوب میں بقا۔ اب جیتے جی مرنے کے بعد شیطان کے دخل کی گنجائش کہاں۔ اب تو انواروں کی دنیا ہے۔ دل ودماغ ، وجود سب ایک رخ ہیں، ایک محویت ہے، اپنا پتہ نہیں۔ یار ہی کی کارفرمائی ہے۔ خیال کی طرح یار بھی ساتھ ہی ساتھ ہے۔

اب نہ صبح ہے نہ شام ، نہ فراق ہے نہ جدائی۔ نہ زمان ومکان کی پابندیاں ہیں نہ جسم ، جان ، روح کی قید ہیں، نہ کوئی اجنبیت ہے ، نہ غیریت ، نہ دوئی ہے نہ وہم ، نہ پردے ہیں نہ حجاب۔ جدھر دیکھو ایک ہی خورشید عالمتاب کی ضوفشانی ہے۔ رَفَعنَا لَکَ ذِکرَکَ اسی کا ذکر آسمانوں اور زمینوں، اپنی لطافتوں اور وجود میں بلند ہے۔ اسی کی ضو فشانی سے ذرّہ ذرّہ وجود کا چمک اٹھا ہے۔ روئیں روئیں سے ذکر چھلک رہا ہے۔ ایک سدا سہاگن کا روپ اپنی زندگی کا سہاگ بھی بنا ہوا ہے اور کائنات وجود کا بھی۔ اندر باہر ایک ہی جلوہ آرائی ہے۔ سمٹو ، پھیلو سب کچھ ایک ہی کیفیت ہے۔ نافۂ ذات میں دیکھو یا باہر گیسوئے مشکین کی خوشبو بن کر پھیلو ایک ہی بات ہے،یہ مقام تجرید ہے۔ اس کا سمٹنا بھی حسین، اس کا پھیلنا بھی حسین۔ جوخوشبو اپنے وجود کے باطن میں ہے، وہی باہر پھیل رہی ہے۔ جو خیال اپنے باطن کی گہرائیوں میں جاگ اٹھا ہے وہی عالم ِ امکان میں عملی پیرایہ میں لوگوں کی زندگیوں میں حیات نو کی شکل میں اُبھر رہا ہے ۔جو روشنی اپنے باطن وجود میں برق بن کر چمکی  وہی زمانے میں نئی تابندگی بن کر جلوہ فگن ہوئی، جو تلاطم اپنے مرکزِ وجود میں آیا وہی طوفا ن بن کر عالمِ امکان میں پھیلا۔ جو شکل اپنے باطن میں اُتری اسی کا عکس عالمِ امکان کے باہر آئینہ میں نظر آیا۔ اور آئینے سے آئینے بنتے چلے گئے۔ یہ تجرید میں سمٹنے اور پھیلنے کی بات ہے۔ سمٹنے میں شدتیں پھیلنے میں وارفتگیاں، سمٹنے میں کنزِ مخفی، پھیلنے میں خلقت الخلق ۔ سمٹنے میں کُن، پھیلنے میں فیکون۔ ایک ہی وحدتِ وجود، ایک ہی وحدتِ شہود، اسی شمس ِحقیقت میں سمٹنا اسی کی روشنی بن کر پھیلنا۔ محبوب میں سمٹنا ،عشق میں پھیلنا۔ عجز میں سمٹنا، رحمت میں پھیلنا۔ معنی قرآن ہو کر سمٹنا، تَخَلَّفُوابِاَخلَاق اللہ ہو کر پھیلنا۔ حقیقت میں سمٹنا، محمد رسول اللہؐ میں پھیلنا ۔ ذات میں سمٹنا، صفات میں پھیلنا ، ابتدا بھی اِنّا لِلّٰہ اور انتہا بھی اِلَیہِ رَاجِعُون۔