Topics

عشق اورحضوری

 

ہر ذی شعور اس بات سے واقف ہے یہ کائنات اللہ تعالیٰ کے علم میں ہمیشہ سے موجود تھی۔ جب اللہ تعالیٰ نے کُن کہہ کر صفت ِ علیم کے مظہرعلم کائنات کی تجلیوں کو حرکت میں آنے کا حکم دیاتو کائنات ظہور میں آگئی، علم کائنات کی وہ تجلیاں جو حکم کن سے حرکت میں آکر کائنات کے ظہور کا باعث بنیں اور کائنات کی بساط اول کی حیثیت سے مظہر کائنات کے باطن میں مخفی ہوگئیں۔ بندہ کائنات یا مخلوق یا مظہر ہے۔ کائنات یا مخلوق یا مظہر اسمائے الٰہیہ کے ظاہری خدوخال یا شکلیں ہیں۔ بندہ یا مخلوق جب خالق کو جاننے یا پہچاننے کی جستجو کرتا ہے تو اسے مظہر سے علم کائنات کی جانب لوٹنا پڑتا ہے۔ اورعلم کائنات سے گزر کر وہ دوبارہ اللہ تعالیٰ کی صفت ِ علیم میں  جذب ہوجاتاہے جہاں کن کہنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کی صفت ِ علیم  میں علم کائنات کے اندر اس کا وجود قائم تھا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں احسن الخالقین ہوں۔ علم الٰہی کے اندر کائنات اللہ تعالیٰ کےتفکر کا ایک خاکہ ہے۔ ان خاکوں میں اسمائے الٰہیہ کی روشنیاں جب رنگ بھرتی ہیں تو انسان کی نظر رنگوں کو دیکھتی ہے۔ اور روشنیاں ان رنگوں کے پردوں میں چھپ جاتی ہیں۔جمال الٰہی کی روشنیاں مشیت ایزدی کے اسرا ر بن کر مخلوق کی رگِ جان میں پیوست ہوجاتی ہیں۔ جب بندہ اپنے باطن میں نظر ڈالتا ہے تو جمالِ الٰہی کی صورت میں کائنات کا ہر رنگ اپنے باطن میں دیکھ لیتا ہے۔ باطن کی ہر روشنی اس کی خالقیت اور ربوبیت کی تجلی ہے ۔خالقیت کا عکس ذات ہے اور ربوبیت کا عکس صفات ہے ۔ علم کائنات کا ہر نقطہ ذات کی ایک تجلی ہے۔ ذات کی یہ تجلی اللہ تعالیٰ کی صفت خالقیت کا ایک عکس ہے ۔ تجلی کی روشنی روح کے نقطے پر جمع ہوکر روح کی صورت میں ڈھل جاتی ہے۔ روح صفتِ خالقیت کا وہ عکس ِتخلیق ہے جس کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کو احسن الخالقین کہا ہے۔ روح ربوبیت کی روشنی میں نشوونما پاتی ہے۔ ربوبیت کی تجلیاں روشنی کے ایسے دائرے ہیں جو ہر دم روح کو گھیرے ہوئے ہیں۔ روح کی حرکت روشنیوں کے ان دائروں کے اندر عمل میں آتی ہے اور یہی روشنیاں روح کی توانائی ہیں ۔ ذات کی تجلی کا نقطہ روح کی اصل ہے اور روح اپنی حیات کے لئے اپنی اصل کے ساتھ وابستہ رہنے پر مجبور ہے۔ تجلی ذات کے نقطے پر صفت ِ خالقیت  کاعکس روح کی نظر  سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ اس عکس کو روح کی آنکھ نور کے ان دائروں کے ذریعے دیکھتی ہے جو دائرے روح کو گھیرے ہوئے ہیں۔ نور کے یہ د ائرے خالقیت کا جمال ہیں۔ جس کے اندرخالق کی وہ مشیّتیں کام کررہی ہیں جو ایک قدم نیچے اتر کر روح کے سانچے میں ڈھل جاتی ہیں۔

بندہ جب اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے احسانات اورلطف وکرم اور اس کی نعمتوں کا شکر گزاربنالیتا ہے تو اس پر اللہ تعالیٰ کی صفت ِ خالقیت اور صفتِ ربوبیت کی تجلیوں کانزول ہونےلگتا ہے۔ یہ روشنیاں ان دائروں کے اندر منتقل ہوتی چلی جاتی ہیں جو دائرے روح کو چاروں طرف سے گھیرے ہوئے ہیں۔ صفتِ خالقیت کی روشنی سے روح کوذاتِ باری تعالیٰ کا تفکر عطا ہوتا ہے۔ جب کہ صفت ربوبیت کی تجلیوں سے کائناتی شعور پیدا ہوتا ہے یا اپنی ذات کا شعور ہوتا ہے۔جیسے جیسے روشنیوں کے دائروں میں ذات کی تجلیاں جذب ہوتی جاتی ہیں روح پر انوارالٰہیہ کا دباؤ ہوتا جاتا ہے۔ اسم ِ ذات یا اسم اللہ کی روشنیوں کا دباؤ روح کے اندر اللہ تعالیٰ کے عشق کی بنیاد ڈالتا ہے پھر جیسے جیسے بندہ اللہ تعالیٰ کی مہربانیوں میں شکر اور اس کی عنایتوں میں تفکر کرتا جاتا ہے۔ تجلی ذات کے نقطے سے انوارالٰہیہ نکل کر دائروں کے اندر پیوست ہوتے رہتے ہیں اور بندے کے دل میں عشق الٰہی جڑ پکڑنے لگتا ہےاور اس کا رابطہ نسبتِ عشق کےذریعے اللہ تعالیٰ کے ساتھ قائم ہوجاتاہے۔

روشنیوں کے دائرے کی فضا AURA کہلاتی ہے۔ تجلی کی روشنی جب نیچے اترتی ہے تو اس روشنی میں خالق کا تفکر کام کرتا ہے جو صفت تخلیق ہے۔ تجلی کی روشنی اورا کی فضا تخلیق کرتی ہے جو روشنیوں کے رنگین دائرے ہیں۔ تجلی کے ہر نقطے پر ذات کا ایک عکس ہوتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے تفکر کا ایک خاکہ ہے۔بندہ جیسے جیسے اللہ تعالیٰ کے عشق میں ڈوبتا جاتا ہے تجلی کے اس خاکے یا ذات کے انوار اس پر محیط ہوجاتے ہیں۔ تجلی کے انوار کا ہر دائرہ ذات کی صفات ہیں۔ روح ان روشنیوں کو جذب کرتی جاتی ہے اور بندے کے اندران کی صفات پیدا ہو جاتی ہیں۔ کائنات کا ہر قدم اپنے ارتقاء کی جانب رواں دواں ہے۔ کائنات کی ہر شے ایک خاکہ یا خلاہے۔ یہی خلاانسان کا شعور ہے ۔ان خلاؤں میں اورا کی روشنیاں آتی جاتی رہتی ہیں جن کے ذریعے شعوری حواس پیدا ہوتے ہیں۔ یہ حواس روشنی کے علوم ہیں جو کائنات کے تخلیقی فارمولوں کے علوم ہیں ۔تجلی ذات کا ہر نقطہ خالقیت کا وصف ہے۔ خالقیت کےوصف کی تخلیق روح ہے۔ روح کے اندر اللہ تعالیٰ کی تخلیقی صفات کام کررہی ہیں۔ روح ان صفات سے کام لے کر اپنا شعوری جسم تخلیق کرتی ہے۔ شعوری جسم روح کے تفکر کا ایک خاکہ ہے اس خاکے میں روح اورا(AURA) کی روشنیوں کو ذخیرہ کرتی ہے۔ یہ روشنیاں وہ فارمولے ہیں جو تجلی ذات کے نقطے سے روح کے اندر منتقل ہوئےہیں۔ روح شعور کے خلا میں یا خاکے میں آہستہ آہستہ خود اپنی ذات کے فارمولے کی روشنیاں منتقل کرتی رہتی ہے۔ کائنات کی روح کا ہر فارمولا ذات کا ایک تفکر ہے۔ شعور میں جیسے جیسے فارمولے کی روشنیاں منتقل ہوتی جاتی ہیں ذات کا تفکر بھی شعور کے اندر منتقل ہو جاتا ہے۔ اور جب تخلیقی فارمولے کی تمام روشنیاں جو تجلی سے روح کے اندر منتقل ہوئی تھیں روح کے ذریعے شعور میں منتقل ہوجاتی ہیں تو تفکر کا خاکہ مکمل ہوجاتا ہے۔ شعور کا یہی جسم انسان کا مادی جسم ہے جس کا دوسرا رخ تخلیقی فارمولوں کی روشنی ہے۔ مادی جسم جب دنیا میں ختم ہوجاتا ہے تو روشنیوں کا جسم ان حواس کے ساتھ حرکت کرتا ہے۔جوحواس اس کے اپنے اندر کی روشنیوں میں موجود ہیں۔ ان حواس کے ساتھ وہ روشنیوں کی فضا میں سفر کرتا ہے۔ عشق الٰہی کی روشنیاں شعور کے اندر نور اور تجلی کے حواس پیدا کرتی ہیں۔ بندے کے اندر جیسے جیسے اللہ کا عشق مستحکم ہوتا جاتا ہے وہ اپنی ذات کے تجلی کےنقطے سے قریب تر ہوتا جاتا ہے۔ اس کا ہر قدم ارتقاء کی منزل کی جانب اٹھتا ہے۔ جب بندے کے اندر تجلی کا شعو ر پیدا ہوجاتا ہے تو تجلی کا نقطہ اس کے لئے ایک ایسا آئینہ بن جاتا ہےجس کے اندر قلب کی نظر صفتِ خالقیت کے عکس کودیکھتی ہے۔ خالقیت کا ہر عکس اپنی ذات میں ایک کائنات ہے۔ پس بندہ عکسِ خالق کے ساتھ اپنی ذات کو اس کائنات میں چلتا پھرتا دیکھتا ہے۔ جوں جوں اللہ تعالیٰ کا عشق اس کے اندر سرایت کرتا جاتا ہے اسی مناسبت سے وہ اپنی کائنات میں اللہ تعالیٰ سے قریب تر ہوتا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ بندہ ذات کی روشنیوں کے اندر مکمل طورپر آجاتا ہےاور وہ محسوس کرلیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات ہر طرف سے اس کا احاطہ کئے ہوئے ہے۔

ذات کی تجلی کو بندہ اس حد تک محسوس کرتا ہے کہ سانس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ اسے اپنے باطن میں داخل ہوتا ہوامحسوس ہوتا ہے۔ اس کا ہر رواں عشق کی ایک داستان بن جاتا ہے جس کے اندر وہ اپنے محبوب کے نت نئے جلوے دیکھتا رہتا ہے۔ انسان کی یہی حالت حضوری کہلاتی ہے۔ تجلی ذات کی فضا اللہ تعالیٰ کی صفت علیم کی تجلیاں ہیں جس کے اندر علمِ کائنات ہے۔ عشقِ الٰہی کی کشش بندے کو اس کی کنہ کی طرف کھینچتی ہے جہاں وہ تجلیوں کےعالمین میں کائنات کی وہ تصویر دیکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کےتفکر اور ارادے کی تخلیق ہے۔ سانس کے ذریعے اللہ کا تفکر اس کے اندر داخل ہوتا ہے۔ اور وہ اللہ کی نظر سے کائنات کا مشاہدہ کرتا ہے۔ اور براہ راست اللہ تعالیٰ کے ذریعے ان کے علوم حاصل کرتا ہے۔ اللہ کا عشق اس کے رگ و ریشے میں اس طرح سرایت کرجاتا ہےکہ اس کی ہر حرکت اور ہر فعل اللہ کا  امر بن جاتا ہے، اس کی زندگی کا ہر قانون  اللہ کا ارادہ اور اس کے امر کی حقیقت بن جاتا ہے۔ تب بندہ تجلی کے واسطے سے اللہ تعالیٰ کے کلام کوسنتا ہے اور تجلی کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کو دیکھتا ہے۔ اور تجلی کے حواس کے ذریعے اللہ کو پہچانتا ہے اور کائنات کےدائرے سے باہر نکل جاتا ہے۔

تجلی اللہ تعالیٰ کی ذات کا عکس ہے۔سالک نسبت ِ عشق کی منزلیں طے کرتا ہوا تجلی کے عالمین میں پہنچ جاتا ہےا ور عالمین کی ہر شے سے اسے اللہ تعالیٰ کا ادراک حاصل ہوتا ہے۔ سالک پر روح کایہ شعور جب غالب آجاتا ہے تو اسے حضوری حاصل ہو جاتی ہے۔ اس کے اندر صفات یا روح کے حواس پیدا ہوجاتے ہیں۔ اس کے شعور کی سطح روحِ حیوانی سے بلند ہو کر روح اعظم کی حدوں میں پہنچ جاتی ہے اور اس کے حواس اسفل سے گزر کر اعلیٰ علیین کی حدود میں کام کرتے ہیں۔ ایسی صورت میں بندے کے اندر حیوانی تقاضے مغلوب ہوجاتے ہیں اور انسانی تقاضے غالب آجاتے ہیں(بندہ اپنی توانائی براہ راست نور سے حاصل کرتا ہے جس کی وجہ سے مادیت کا احساس اس کے اوپر سے ہٹتا چلا جاتاہے)وہ کائنات کی ہر شے کو اس کےنوری فارم میں دیکھنے لگتا ہے اور اس کا ادراک ہر شے سے نوری حوا س کے ذریعے متعارف ہوتا ہے۔

ہر مادی جسم کا دوسرا رخ روشنیوں کا جسم ہے۔ جب مادی حواس مغلوب ہوجائیں تو روشنیوں کے حواس غالب آجاتے ہیں۔ ایسی صورت میں بندے کے تقاضے ایک عام انسان سے مختلف ہوجاتے ہیں ۔ یہا ں مختلف ہونے سے مراد تقاضوں کا یکسر تبدیل ہونا نہیں ہے۔ اس لئے کہ انسان ایک مخصوص تقاضوں کا یکجائی  نام ہے۔ اگر یہ تقاضے انسان کے اندر سے نکال دیئے جائیں تو اس کی فطرت یا فارمولا ہی بدل جائے گا اور وہ انسان نہیں رہے گا۔ روشنیوں کے حواس یا نور کے حواس بندے کے اندر اسفل کی بجائے اعلیٰ احساسات کو متحرک کرتے ہیں۔ مثلاًایک عام آدمی کو کم از کم چھ سات گھنٹے روزانہ سونا ضرور ی ہے ورنہ اس کی صحت پر برا اثر پڑتا ہے۔ مگر بحالت حضوری بندے کے حواس اتنے طاقتور ہوجاتے ہیں کہ نیند اور اس کی ضروریات پر اسے پورا پورا کنٹرول حاصل ہوجاتا ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی حضوری میں اس درجہ جذب ہوجاتا ہے کہ اس کےاندر سوائے قرب الٰہی کے اور کوئی تقاضا پید انہیں ہوتا۔ اولیاء اللہ کے واقعات میں اکثر ایسی مثالیں ملتی ہیں۔

آج سے سات آٹھ سو سال پہلے حضرت مخدوم پاک علی احمد صابر کلیری  گزرےہیں جو حضرت بابا فرید گنج شکر  پاک پٹن شریف کے مرید خاص تھے۔ آپ کے متعلق یہ بات مشہور ہے کہ آپ طویل عرصے تک کلیر شریف میں جہاں آپ کا مزار شریف ہے ایک گولر کے درخت کے نیچے استغراق کی حالت میں کھڑے رہے تھے۔

حضوری ایسی حالت ہے جس میں اللہ تعالیٰ کا حکم بندے کے لئےقانون کی حیثیت رکھتا ہے۔ حضوری میں مصلحتوں کے اسرار سامنے آجاتے ہیں جس کی وجہ سے ہر حکم بندے کے لئے قانون کا درجہ رکھتا ہےجس میں بندےکے ارادے کو کوئی دخل نہیں ہوتا ۔ بندے کا ہر کام اللہ تعالیٰ کے امر یا حکم کی حرکت یا ارادے کی حرکت بن جاتا ہے۔ افعال کی یہ حرکت خواص کے دائرےمیں عمل میں آتی ہے اور عوام الناس اس کی حکمتوں سے بے خبر یا لاعلم رہتے ہیں۔ اور اس وقت تک لا علم رہتے ہیں جب تک کہ ان کے خواص اعلیٰ علیین کی سطحوں پر نہیں پہنچ جاتے ۔یعنی اللہ تعالیٰ کے اسرار کی حکمتیں اور مشیت ِ ایزدی کی مصلحتیں عوام الناس کی فہم سے بالا تر ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کائنات کے داخلی امور کی حقیقتوں سے بے خبر رہتے ہیں۔ اور جب حقیقت کے دائرے کی کوئی شے ان کی نظر میں آتی ہے توٌوہ اس کا مفہوم اپنے شعور کے دائرے میں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ قرآن پاک میں حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اللہ تعالیٰ نے کئی ایسے قوانین بیان فرمائے ہیں جو آپؐ کی بارگاہِ الٰہی میں حضوری اور محبوبیت پر دلالت ہے۔ مثلاً آپؐ کا چار سے زیادہ شادیاں عوام الناس کے شعوری دائرے سے الگ ہے۔ کوئی بھی بندہ اللہ تعالیٰ کے اس حکم کو اپنے قیاس سے ہرگز بھی نہیں سمجھ سکتا۔جب تک کہ اللہ تعالیٰ کے حکم کے پردے میں اس کی مصلحتوں کا ریکارڈ اس کے سامنے نہ آجائے ۔ پس راہِ عشق میں حضوری محبوبیت کا درجہ ہے اور محبوب کے لئے ہر قانون عشق کے دائرے میں ہے اور عشق لا محدود ہے۔ بندہ جب اللہ کو اپنامحبوب بنا لیتا ہے تو بندے کا ہر تقاضا اللہ کا ارادہ بن جاتا ہے۔ اور اللہ اپنے ارادے اپنی قدرت میں قادر مطلق ہے۔ مطلقیت کی یہ ڈورجب بندے کے اندر حرکت کرتی ہے تو اس کا ہر فعل مشیتِ ایزدی کے تابع ہوتا ہے اور مشیتِ ایزدی اللہ پاک کا ارادہ ہے۔