Topics
چاروں طرف گھنے درخت تھے۔ پتوّں سے
چھن کر آنے والی سورج کی نارنجی دھاروں نے مکان کے گرد سحرانگیز ہالہ بنا دیا تھا۔
پرندے دن کو خیر باد کہہ کر آشیانوں کو لوٹ آئے تھے اور شاخوں پر بیٹھ کر مستی میں
شام کا گیت گارہے تھے جب کہ غذا کی تلاش میں بلوں سے باہر آنے والے حشرات الارض
اپنی آواز میں رات کو خوش آمدید کہہ رہے تھے۔ شام کے حسن ِ جہاں خیز کو چھپانے کے
لئے گہرے نیلے آسمان پر سیاہ بدلیاں چھاگئیں اور تھوڑی دیر میں بوندوں کی برسات
ہوگئی۔ ٹپ ٹپ کے ترنم میں آوازیں کیا خاموش ہوئیں کہ بَن میں بوندیں ساز بن گئیں ۔
میں
کرسی کھینچ کر برآمدے کے آخری سرے پر لائی اور منظر جذب کرنے کی کوشش کی۔
پھر ہتھیلی کھلی فضا کی طرف بڑھا دی تاکہ ابر ِ باراں کا لمس محسوس ہو اور خلیات
کی پیاس بجھے۔
ماحول پر ُاسرار مگر خوش گوار تھا ۔
اطمینان ِ قلب کی کوشش کی ضرورت نہیں تھی کہ پانی نہیں، سکون کی بوندیں برس رہی تھیں۔مناظر فطرت کا ہرعنصر ہماری تسکین
وتکمیل کے لئے تخلیق کیا گیا ہے بشرطیکہ ہم ان میں چھپی ہوئی تفصیل پڑھنے کی کوشش کریں۔ بارش ہر نوع کو اس لئے تسکین دیتی
ہے کہ نوعیں پانی سے تخلیق ہوئی ہیں۔ پانی جب بارش کے پانی سے ملتا ہے تو وصل کا
تقاضا بڑھ جاتا ہے۔
بادل برس کر خاموش ہوگئے تھے مگر
چاند اب تک بدلیوں میں چھپا ہوا تھا۔ گہرے بادلوں میں رخ ِ روشن کی دید کے آثار
نہیں تھے اس لئے رات تاریک ہونے سے پہلے تاریک نظر آرہی تھی۔ گھنے درختوں کے
درمیان یہ مکان اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ تاریکی پھیلتے ہی سڑک کے کنارے لگے ہوئے
بلب جل اٹھے۔ کچھ دیر میں چھوٹے بڑے کیڑے روشنی کے چاروں طرف اڑتے ہوئے نظر آئے—
یہ پروانے تھے۔
پروانوں کی کئی اقسام ہیں۔ کچھ دن میں جاگتے
ہیں، باقی رات کے راہی ہیں۔ تاریکی میں جہاں کہیں روشنی نظر آتی ہے، خود سے بے خود
ہوکر اس جانب لپکتے ہیں اور جب تک موت نہ آئے، روشنی کے ہالے سے نہیں نکلتے۔
انہماک گہرا ہوا تو پروانوں کو بلب
کے شیشے سے ٹکراتے اور قربان ہوتے دیکھا۔ وہ شیشے کے اندر موجود روشنی میں جذب
ہونا چاہتے تھے لیکن شیشہ راہ میں رکاوٹ بن گیا تھا۔ اس کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔
ملن کی چاہ میں ہر پروانے نے روشنی کی جان کو اپنی جان پرتر جیح دی۔ وارفتگی بتا
رہی تھی کہ پروانے جانتے ہیں،
’’جان جب جان سے ملتی ہے تو جان میں جان
آتی ہے۔ ‘‘
پروانوں کی موت میرے لئے معمہّ تھی۔
وہ بلب سے ٹکرائے تھے، روشنی تک نہیں پہنچے۔ منزل پر پہنچنے سے پہلےجان کی بازی
ہار گئے۔ اگر ان کو منزل نہیں ملی پھر موت کیا ہوئی؟
بانگ ِ درا میں حکیم الامت حضرت
علامہ اقبال ؒ نے پروانے اور شمع کے تعلق کو موتی کی طرح لڑی میں پرو کر خوب صورت
نذرانہ پیش کیا ہے۔
پروانہ تجھ سے کرتا ہے اے شمع پیار کیوں
یہ جان بے قرار ہے تجھ پر نثار کیوں
سیماب وار رکھتی ہے تیری ادا اسے
آداب عشق تو نے سکھائے ہیں کیا اسے
کرتا ہے یہ طواف تیری جلوہ گاہ کا
پھونکا ہوا ہے کیا تیری برقِ نگاہ کا
آزار موت میں اسے آرام جاں ہے کیا
شعلے میں تیرے زندگی ِ جاوداں ہے کیا
غم خانہ ٔ جہاں میں جو تیری ضیا نہ ہو
اس تفتہ دل کا نخلِ تمنا ہرا نہ ہو
گرنا تیرے حضور میں اس کی نماز ہے
ننھے سے دل میں لذت ِ سوز و گداز ہے
کچھ اس میں جوش عاشق حسن قدیم ہے
چھوٹا سا طور تو یہ ذرا سا کلیم ہے
پروانہ، اور ذوق تماشائے روشنی
کیڑا ذرا سا اور تمنائے روشنی
ذہن پر زور دینے سے عقدہ کھلا کہ
پروانے جانتے ہیں وہ شیشے سے ٹکرا رہے ہیں اور روشنی اندرہے ۔ ان کو معلوم ہےکہ
شیشے میں حرارت روشنی کا ہی لمس ہے۔ وہ مادی لباس کے ساتھ روشنی میں جذب نہیں
ہوسکتے اس لئے انہوں نے اس جہاں میں شیشے کی معرفت روشنی کی حرارت محسوس کی اور
اسی حالت میں جان دی ۔ یعنی پروانوں نے روشنی کا لمس ملتے ہی قفس عنصری چھوڑ دیا
تاکہ روشنی کے جہاں میں رکاوٹ کے بغیر روشنی سے ملاقات ہو۔
پروانوں کی جدوجہد دیکھ کر ذہن میں
اپنی فلم نشر ہوگئی۔ میں بھی پروانہ ہوں جو اپنے روحانی استاد کی روشنی پانا چاہتا
ہے۔ اس کوشش کی ابتدا میں مادی چیزوں کا سہارا لیا۔کبھی خط لکھا اورکبھی بالمشافہ
ملاقات کا انتظار کیا۔ نتیجہ وہی رہا جو پروانے کا ہے۔ پروانہ ابتدا میں شیشے کو
روشنی سمجھ کر دیوانہ وار آگے بڑھتا ہے اور ٹکرا ٹکرا کر خود کو زخمی کرلیتا ہے۔
اس جہدوجہد میں جز وقتی خوشی ملتی ہے مگر خوشی کی تکمیل نہیں ہوتی۔ پروانے کی طرح میں نے ظاہری وسائل کو روشنی تک
پہنچنے کا ذریعہ سمجھ لیا۔ ایک عرصہ خود کو زخمی کرنے کے بعد سمجھ میں آیا کہ یہ
اسباب کی دنیا ہے جہاں ہر شے معاشرتی قوانین میں بندھی ہوئی ہے اور ان قوانین
پراسپیس کی گرفت ہے۔
مثال کے طور پر روحانی استاد سے ملنے
کے لئے مجھے ذرائع آمد و رفت کے وسائل کے علاوہ قوانین کی پاسداری کے ساتھ ہوائی
وزمینی سفر کی پابندیوں سے گزرنا ہے۔ ویزا کی درخواست دینی ہے، درخواست جانچ پڑتال
سے گزرے گی، منظور ہوتی ہےیا نہیں، یہ بھی مرحلہ ہے۔ پھر امیگریشن کے کاؤنٹر سے
گزرنا اور اس کے بعد فضائی سفر ۔ اس طریقِ کار میں ہر مرحلے پر پابندی کی وجہ سے
آزادی کھوجاتی ہے۔
نشیب و فراز سے گزر کر جب میں تھک گئی تو روشن
لہروں نے سمجھایا کہ مرشد اور مرید کی اصل ملاقات دل میں ہوتی ہے۔ جب مرید اسباق
پر عمل کرتا ہے تو مرشد سے قریب ہوجاتا ہے پھر ملاقات میں وقت حائل ہوتا ہے اور نہ
فاصلہ رہتا ہے۔
اپنی جہد ِحیات کا پروانے سے موازنہ
کیا تو انکشاف ہوا کہ شیشے سے مسلسل ٹکرانے کے بعد جب پروانے پر یہ انکشاف ہوتا ہے
کہ میں مادی شے سے ٹکرا رہا ہوں تو وہ شیشے سے ذہن ہٹا کر اندر موجود روشنی پر
توجہ مرکوز کردیتا ہے اور جب اگلی مرتبہ ٹکراتا ہے تو روشنی کی حرارت محسوس کرکے
جان قربان کردیتا ہے۔ پروانہ اس وقت تک نہیں مرتا جب تک روشنی کا لمس نہ مل جائے۔
بلب سے ٹکرانا لاحاصل ہے، اس روشنی پر نگاہ مرکوز رکھنی ہے جس سے فضا روشن ہے۔
خیالات میں ڈوبی ہوئی تھی کہ کنکشن
منقطع ہونے سے بجلی چلی گئی۔ مکان سمیت پورا علاقہ مصنوعی روشنی سے محروم
ہوگیا۔ہمیں قبل از وقت اطلاع دی گئی تھی کہ بجلی جانے کا امکان ہے اس لئے ہم نے
موم بتیاں قریب رکھی تھیں۔ میں نے بڑی سفیدموم بتی جلائی۔ میرے اطراف روشنی کا
ہالہ بکھر گیا۔ کہیں روشنی کم تھی، کہیں زیادہ، کہیں بہت زیادہ اور کہیں بہت کم ۔
آنکھیں موم
بتی پر مرکوز ہوگئیں۔موم بتی کا جسم ساکن تھا، لو َحرکت میں تھی جس کی حرارت سے
موم بتی کی زندگی پگھل رہی تھی۔
پگھلتے ہوئے موم سے ماضی کے جھروکے روشن ہوئے۔
جب میں چھوٹی تھی تو لوَ کی حرارت سے ٹپکتی ہوئی موم میری توجہ اپنی جانب کھینچ
لیتی۔ میں مسرت میں گاتی اور تالیاں بجاتی تو دیوار پر بننے والالوَ کا عکس میرے
گیتوں کے ساتھ رقص کرتا تھا۔ اکثر ایسا بھی ہوتا کہ میں گرنے والے قطرے اٹھاتی جن
میں گرمائش موجود ہوتی تھی، ان سے موم کے پھول اور پتےّ بناتی اور پھر انہیں لوَ
کے قریب رکھ کر پگھلنے کا تماشا دیکھتی ۔ موم اور شعلے کاملن مسحور کردیتا۔ اپنے
قیام کے لئے دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت تھی۔ کچھ وقت ایک دوسرے سے دور رہنے کے
بعد ،جس کو دنیا کی زبان میں زندگی گزارنا کہتے ہیں، دونوں ملتے اور فنا ہوجاتے
۔تعجب ہوا کہ ہم دنیا کے لوگ دوری کو زندگی کہتے ہیں اور قرب کو دوری سمجھتے ہیں۔
خیالات میں ترتیب قائم ہونے لگی اور مرشد کا بتایا ہوا سبق یادداشت کے خانوں سے
نمودار ہوا،
’’ہم یہ فنا ہوجانے والا جسم نہیں بلکہ
ہماری اصل روح ہے جو جسم کو چلارہی ہے ۔ ‘‘
تفکر نے بتایا کہ جہانِ رنگ و بو میں
رہنے کے لئے روح (لوَمیں حرارت) اور جسم (موم) کو کچھ وقت کے لئے ساتھ رہنا
ہوگا۔مٹی کے جسم کی مثال موم کی ہے۔ حیات و زیست کا دور پگھلتے ہوئے موم جیسا ہے
جو چاہے کتنی شکلوں میں ڈھل جائے، مقدر بالآخر پگھلنا ہے۔
بلب روشن تھے تو پروانے بلب کے گرد
گھوم رہے تھے۔ موم بتی جلاتے ہی پروانوں نے اپنا رخ تبدیل کیا اور لو َکے گرد
گھومنے لگے۔ عقل انہیں شعلے سے دور رہنے کے لئے خبردار کرنا چاہتی تھی جب کہ دل ان
کی تڑپ کو محسوس کررہا تھا۔دل نے کہا ، ان کو روکو مت، جلنے دو کہ ہر ایک کو اپنا
سبق خود سیکھنا ہے۔ روشنی نے پروانوں کو مسحور کرلیا تھا۔ اب ان کے لئے اندھیرے
میں لوٹنا ممکن نہ تھا۔ اس خیال کے آتے ہی دل گداز ہوگیا۔ کیا روحانی مسافر کی
مثال پروانے جیسی نہیں؟ ایک مرتبہ روشنی نظر آجائے پھر وہ اندھیرے سے منہ موڑ لیتا
ہے اور دنیا کو دوبارہ اس نظر سے نہیں دیکھنا چاہتا جو فریب ِ نظر ہے۔ مسافر روشنی
میں فنا ہونے کی تمنا رکھتا ہے جیسے پروانہ شمع پر جاں نثار ہے۔
اس سے قبل کہ پلکیں جھپکتیں، ایک
پروانہ اڑتا ہوا آیا اور بلا خوف و خطر موم بتی کے شعلے میں اترگیا—آواز آئی — لوَ
تیز ہوئی جس کے بعد پروانے کا نام و نشاں نہ تھا۔ دل گداز ہوگیا۔ اس لئے نہیں کہ
پروانے نے جان دے دی بلکہ اس خیال پر کہ اس کو منزل مل گئی، وہ جہاں سے آیا تھا،
وہاں لوٹ گیا۔
اگلے لمحے جس خیال نے دستک دی، اس نے دل کے
تاروں کو چھیڑ دیا، پروانے نے جب شمع دیکھی تو پھر کسی اور کو نہیں دیکھا۔ وہ یک
سُو ہوگیا۔ پروانے کی سی یکسوئی میرے اندر کیوں نہیں ؟ اس کا ذہن روشنی پر مرتکز
ہوگیا کہ شعلے کے قریب آنے کا خیال نہیں آیا۔ وہ کیا جذبہ تھا کہ اس نے شعلے اور
خود میں فرق محسوس نہیں کیا اوردونوں ایک جان ہوگئے۔ ایک میں ہوں ، ظاہری دنیا اور
فریبِ نظر میں مبتلا کہ ذہن روشنی کو پانا چاہتا ہے مگر پروانے جیسا گداز نہیں
تھا۔
پروانے نے زندگی کا اہم سبق
سکھایا۔اس راہ میں کام یابی کا طریقہ کثرت سے ذہن ہٹاکر خود کو روشنی میں مرکوز
کرنا ہے۔ اتنی دیر میں بجلی بحال ہوگئی۔ گھر اور اطراف میں موجود بلب جل اٹھے۔ میں
نے پھونک مار کر موم بتی بجھا دی۔ پروانوں نے رخ بدلا اور ایک بار پھر بلب کی طرف
بڑھ گئے۔ روشنی دیکھنے کے بعد ان کو کسی صورت اندھیرا قبول نہیں تھا۔ پروانوں کا
منظر دیکھ رہی تھی کہ ان کے گرد اڑنے والی کوئی شے نظر آئی۔ یہ چمگادڑ تھے جو نہ
جانے کہاں سے آئے اور ان کو کھانا شروع کردیا۔
دل میں درد کی لہر اٹھی آہ، بدقسمت پروانے۔ خیال
آیا کہ جب ہم روشنی کے قریب ہوتے ہیں تو منفی خیالات ہمیں اسی طرح جکڑ لیتے ہیں
جیسے چمگادڑوں نے پروانوں کو۔ جو پروانے بلب کے قریب تھے، وہ نمایاں ہونے کی وجہ
سے شکار ہوگئے۔ ایسے ہی منفی قوتیں روشنی کے قریب پہنچنے والوں کے دلوں میں شک ڈال
کر ان کو شکار کرتی ہیں۔ میں نے چمگادڑوں کو منفی سوچ سے تشبیہ دی جو ہمارے اندر
موجود ہوتی ہے اور روشنی سے بھٹکا کر تاریکی میں لانے کی کوشش کرتی ہے۔ لاشعور نے
متوجہ کیا،
۱۔ چمگادڑوں نے ان پروانوں کو لقمہ کیوں نہیں بنایا جو موم بتی کے گرد
گھوم رہے تھے؟
۲۔ صرف وہ پروانے شکار کیوں بنے جو بلب کے گرد جمع تھے؟
آگہی نے کہا، شعلے کا مطلب بلا واسطہ
روشنی اور بلب بالواسطہ روشنی ہے۔ چمگادڑ جانتے تھے کہ اگر وہ شعلے کے قریب گئے تو
انجام کیا ہوگا۔ دل نے سرگوشی کی، جب روشنی کے مسافر کو یکسوئی حاصل ہوجائے تو
اللہ کے حکم سے اسے کوئی شے نقصان نہیں پہنچاسکتی، منفی سوچ بے اثر ہوجاتی ہے۔ وہ
ایک مرکز پر یکسو ہوجاتا ہے اس لئے جیسے ہی منفی سوچ سراٹھاتی ہے، روحانی استاد کی
شفیق لہریں منفی لہروں کو تحلیل کردیتی ہیں۔ یہ استاد ہے جومحبت کی لہروں کے ذریعے
شاگردکو تاریکی میں واپس جانے سے روکتا ہے۔ میں نے نم آنکھوں سے دل کو مخاطب کیا،
انشاء
اللہ ایک دن تم دیکھوگے کہ ہم اس راستے میں پتھر سے موتی بن گئے۔ میں اور تم ایک
راہ کے مسافر اور ایک منزل کے متمنی ہیں۔ دونوں محبت کے اس سمندر کی لہریں ہیں جو
ہمارے استاد کے دل میں ٹھاٹھیں مار رہی ہے اور تب تک اے دل، روشنی سے ملنے کی کوشش
کرو اور مادی جسم (موم) کو خلق ِ خدا کی خدمت میں پگھلادو۔